حدیں وہ کھینچ رکھی ھیں اھلِ حرم نے ! November 6, 2014 at 9:23am Public Friends Friends except Acquaintances Only Me Custom Family Acquaintances Go Back آج کچھ درد میرے دل میں سوا ھوتا ھے ! احباب مفتی فیصل جاپان والا صاحب نے مجھے شرفِ میزبانی بخشا ھوا ھے ،، دین اور دنیا کا ایسا … Read more

ناک کی کیمسٹری اور بائیوگرافی ! August 9, 2014 at 5:58am   PublicFriendsOnly MeCustomFamilyGo Back ناک انسانی چہرے پہ لگا تقریباً تین بھائی پانچ سینٹی کا ایک معصوم سا عضو ھے ،، جو دیکھنے میں انتہائی خوبصورت لگتا ھے ،، بلکہ چہرے کی خوبصورتی میں اس کا وھی کردار ھے جو سب کو معلوم ھے … Read more

تقدیر کے کھیل ! نازیہ کا باپ ایک کامیاب وکیل تھا ،، ایل ایل بی کے ساتھ اس نے اسلامیات میں ماسٹر بھی کیا تھا اور عملی زندگی میں بھی ایک نیک اور اچھا انسان سمجھا جاتا تھا ، محلے کی مسجد میں امام صاحب جب بھی چھٹی پہ جاتے تو امامت اور خطابت کی … Read more

چھیڑے نہ ھمیں دنیا ، ھم ھیں مصطفی ﷺ والے !

چھیڑے نہ ھمیں دنیا ، ھم ھیں مصطفی ﷺ والے ! August 1, 2014 at 11:32pm PublicFriendsOnly MeCustomFamilyGo Back  ! کوئی تو جگہ ایسی ھوتی ھے جہاں اعتبار کرنا پڑتا ھے ! ھماری مائیں ھم سب کو معلوم ھے کہ جھوٹ بولتی ھیں ،ھمیں زندگی میں کئ بار ان سے جھوٹ کا تجربہ ھوا ھے … Read more

دل کے دروازے اندر سے کھلتے ھیں

دل کے دروازے اندر سے کھلتے ھیں ! August 3, 2014 at 5:29am   PublicFriendsOnly MeCustomFamilyGo Back وہ دارالعلوم دیوبند کے قریب میں ایک محلے میں ایک امیر ھندو گھرانے میں پیدا ھوا تھا اور ھندؤں کے اس مکتبہ فکر سے تعلق رکھتا تھا جو سورج کی پوجا کرتے ھیں !بچپن گزرا تو جوانی شروع … Read more

اتمامِ حجت میں کتاب اللہ کا فیصلہ کن کردار !

May 1, 2014 at 11:12pm

اللہ پاک نے دعوی کیا ھے کہ وہ اپنی مخلوق کو مقصد بھی خود ھی سجھاتا ھے اور سمجھاتا ھے ! جب فرعون نے موسی علیہ السلام سے پوچھا کہ ” اے موسی تم دونوں کا رب کون ھے ؟ قال فمن ربکما یا موسی ؟ ( طہ 49،) تو جواب میں موسی علیہ السلام نے جواب دیا ” ربنا الذی اعطی کل شئٍ خلقہ ثمہ ھدی ( طہ 50) ،، ھمارا رب وہ ھے جس نے ھر چیز کو اس کی صورت بخشی پھر اس کو اس کا کام سجھایا ! اللہ پاک نے اپنے سر ذمہ لیا ھے اور یہ ذمہ قیامت تک ھے کہ ،ان علینا للھدی ،، یقیناً یہ ھماری ذمہ داری ھے کہ ھم ھدایت پہنچائیں ( الیل 12 ) جب ابراھیم علیہ السلام کا مکالمہ اپنے والد اور قوم سے ھوا تو انہوں نے رب کا تعارف ھی اس ذمہ داری کے ساتھ کیا کہ جب مجھے پیدا اس نے کیا ھے تو اسی کی ذمہ داری ھے کہ وہ مجھے ھدایات دے کہ میں نے کیا کرنا ھے اور میرا فرض ھے کہ میں اس ھدایت کی پیروی کروں ! الذی خلقنی فھو یھدین (شعرآء 78 ) آدم علیہ السلام کو واضح طور پر بتا دیا گیا تھا کہ ان کے لئے اور ان کی اولاد کے لئے ھدایات آتی رھیں گی جو ان ھدایات پر چلے گا وھی فلاح پائے گا اور اصحاب الجنہ میں سے ھو گا،جب کہ ان کی مخالفت کرنے والے آگ کا ایندھن بنیں گے ،، فاما یاتینکم منی ھدی ،فمن تبع ھدای فلا خوفۤ علیھم ولا ھم یحزنون ، والذین کفروا و کذبوا بآیاتنا اولئک اصحاب النار ھم فیہا خالدون ( البقرہ 38،39 ) سابقہ امتوں میں یہ کام نبیوں نے ھی کیا ھے اور امتوں نے ھاتھ بٹایا ھے،مگر نبی سے نبی ھی ٹیک اوور کرتا تھا، بیک وقت کئ کئ نبی بھی موجود ھوتے تھے ! مگر نبئ کریم ﷺ پر نبوت کے اختتام نے یہ ذمہ داری مجموعی طور پر اس امت کے کندھوں پہ لا ڈالی ! جب ھر پیدا ھونے والے کو ھدایت پہنچانا نبئ پاک کی ذمہ داری ھے اور پیدا ھونے والے تو پیدا ھوتے چلے جا رھے ھیں جبکہ پہنچانے والا نبوت کا ادارہ ندارد ھے ! تو پیدا ھونے والوں کا کیا قصور ھے ؟ جس نےوعدہ کیا تھا ان علینا للھدی ،، یہ ھمارے ذمے ھے کہ ھم ھدایت پہنچائیں،، یہاں ھدایت کے منتظرین کروڑوں کی تعداد میں منتظر ھیں اور وعدے کے ایفا کا اتنظار کر رھے ھیں ،، اگر یوں کہا جائے کہ نبی کی عدم موجودگی میں اتمامِ حجت نہیں ھو سکتی ،، اور اتمام حجت اللہ کا وعدہ ھے کہ قیامت کے دن لوگ یہ نہ کہیں کہ ھمیں خبر ھی نہ ھوئی ! تو پھر اللہ کو ھی اپنے اس اصول کے سائڈ ایفیکٹ کا پتہ نہ چلا ؟ اور اللہ رسالت کے ادارے کو ڈس مس کر بیٹھا،، کیا اللہ ھی کو پتہ نہ تھا کہ چند لاکھ لوگوں کے لئے تو میں نے ایک لاکھ چوبیس ھزار پیغمبر لا کھڑے کیئے اور بیک وقت کئ کئی نبی اٹھا کھڑے کیئے ،،جبکہ اربوں انسانوں کو بغیر کسی پیغمبر کے بے یارو مددگار چھوڑ دیا اور ان پر اتمام ِ حجت ھی نہ ھوا ! حالانکہ وہ زیادہ ذھین و فطین تھے !! اب قیامت کے دن اللہ پاک ان کو کیا جواب دے گا ! 1- اصل میں مجھے احساس ھی نہیں تھا کہ یہ دنیا اتنی لمبی چلے گی،،میں نے سمجھا کہ 100 سال کے اندر بس قسطنطیہ فتح ھو گا اور قیامت آ جائے گی،لہذا میں نے نبوت کی بساط لپیٹ لی ! ( معاذ اللہ ) 2- دراصل میں دھڑا دھڑا بیک وقت سیکڑوں نبی بھیجتا رھا مگر جب آخر میں دیکھا تو ایک ھی بچتا تھا ،، اب کیا ھو سکتا تھا ( ثمہ معاذاللہ ) اس کا نتیجہ یہ نکلتا ھے کہ غیر مسلموں کو مسلمانوں پر واک اوور مل جاتا ھے ،اور یوں جگجیت سنگھ کی فلائیٹ سیدھی جنت میں لینڈ کرتی ھے ، کیونکہ غیر مسلموں پر نبی کی عدم موجودگی میں اتمامِ حجت نہیں ھو سکتا،،جبکہ ھم جو مسلمان کے گھر پیدا ھونے پر شکر بجا لاتے رھے،،پھنس کر رہ گئے کہ پہلے نماز روزے کا حساب چکاؤ ،،جب کہ کافر کس چیز کا حساب دیں گے ؟ نہ نماز روزہ ان پر فرض اور نہ شراب ان پر حرام ،، وہ تو بغیر حساب جنت میں داخل ھوں گے،، ! اتمام حجت کی دو اقسام اور دو انجام ! جو اتمام حجت رسول کی موجودگی میں ھوتا ھے ،اس کا نتیجہ یہ ھوتا ھے کہ ان کی منکر قوم کو کافر قرار دے کر ان کی جڑ کاٹ دی جاتی ھے ! لہذا اب اس قسم کا اتمام حجت تو قیامت تک نہ ھو گا ! اتمام حجت کی دوسری قسم وہ ھے جو صرف ھدایت پہنچا کر رہ جاتی ھے اور اس کے منکروں کا فیصلہ قیامت کے دن کیا جائے گا اور ان کو کافر کی بجائے غیر مسلم کے نام سے یاد کیا جائے گا ! انہوں نے سیدھی راہ کی تلاش کی یا نہیں کی اس کا فیصلہ رب کریم بہتر کر سکتا ھے اور حشر کا دن اسی قسم کے فیصلوں کے لئے ھی رکھا گیا ھے ! پہلی قسم کے ھادی بطور نبی حشر کی عدالت میں آئیں گے ! جبکہ دوسری قسم کے اتمامِ حجت کرنے والے بطور گواہ کے عدالت میں آئیں گے،، وکذالک جعلناکم امۃ وسطا لتکونوا شہداء علی الناسِ و یکون الرسول علیکم شہیدا ً ،، ( البقرہ ) لیکون الرسول شہیداً علیکم و تکونوا شہداء علی الناس ! ( الحج ) اسی دوسری قسم کے تابع صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے لاکھوں مربع میل تک اتمام حجت کیا اور فلیبلغ الشاھد الغائب ،، کا حق ادا کرتے ھوئے ھدایت کی مشعل تابعین کے سپرد کر دی ! سورہ الزمر میں اللہ پاک نے انبیاء اور شہداء کے عدالت میں حاضر ھونے اور فیصلے کرنے کی بات کی ھے،،و وضع الکتاب و جئ بالنبیین و الشہدآءِ و قضی بینھم بالحق و ھم لا یظلمون ،،کا نقشہ کھینچا ھے ( الزمر69 ) کتاب اللہ کو محفوظ ھی اتمام حجت کے لئے کیا گیا ھے ! رب کا پیغام پہنچ گیا تو اتمام حجت ھو گیا ،اب قیامت کو فیصلہ ھو جائے گا ! اس پر اعتراض یہ کیا جاتا ھے کہ جناب مسلمان کو تو مسلمان کے گھر میں پیدا کر دیا ،،اسے گھڑی گھڑائ
ی ھدایت پیدائشی طور مل گئ جبکہ دوسروں کو ھندؤں سکھوں کے گھر میں پیدا کر کے کہا گیا کہ ھدایت کما کے کھاؤ ! یہ بے انصافی نہیں ھوگئ ؟؟ پہلی بات یہ ھے کہ کیا واقعی پیدائشی مسلمان سارے توحید پر قائم ھیں،،یا عصمت لٹا چکے ھیں،،اور تڑوا کے کھا بیٹھے ھیں ؟ دوسری بات یہ کہ اللہ پاک نے قرانِ حکیم میں دو جگہ یہ ھی مسئلہ اٹھایا ھے کہ میں نے یہ عہدِ الست تم سے اس لئے لیا ھے ،اور اسے تمہاری فطرت و ضمیر میں امانت کے طور پر رکھ چھوڑا ھے کہ تم کل کلاں یہ نہ کہو کہ ھم تو اس توحید روبیت سے غافلل تھے یا یہ کہو کہ ھم تو پیدا ھی مشرکوں کے گھر ھوئے تھے اور باپ دادا کو شرک کرتے پا کر شرک اختیار کیا ،، کیا تو ھمیں دوسروں کے کیئے پر پکڑے گا،،ان تقولوا انا کنا عن ھٰذا غافلین او تقولوا انما اشرک آبائنا من قبل و کنا ذریۃً من بعدھم ،افتھلکنا بما فعل المبطلون ( الاعراف 172،173 ) اب وعدہ کیا کہ ایک طرف تمہیں تمہارا ضمیر اور فطرت ھدایت اور میری تلاش کے لئے اکسائے گئے ،، دوسری جانب وعدہ کیا کہ تم جب میری تلاش میں نکلو گے تو یقیناً میں تمہارا ھاتھ پکڑوں گا یوں ڈیمانڈ اور سپلائی کا نظام قیامت تک برقرار رھے گا،، والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا و ان اللہ لمع المحسنین (العنکبوت 69 ) ادھر امت کو یہ ھدایت دی گئ کہ تم دوسرے لوگوں تک ھدایت پہنچانے کی ذمہ داری سے سرفراز کئے گئے ھولہذا تم میں سے کچھ لوگ اس کام کے لئے مستعد رھیں کہ کوئی خیر سے خالی ھاتھ نہ جائے ،،ولتکن منکم امۃۤ یدعون الی الخیر و یامرون بالمعروف و ینہون عن المنکر و اولئک ھم المفلحون( آلعمران 104) ،کنتم خیر امۃ اخرجت للناس ، تامرون بالمعروف و تنھون عن المنکر و تومنون باللہ ،، ( آل عمران 110 ) اب اگر آپ ٹینشن فری ماحول چاھتے ھیں جس میں آپ کے ضمیر پر کوئی بوجھ نہ ھو ،، اور غیر مسلم سارے جنت میں چلے جائیں کیونکہ اتمام حجت کے بغیر تو ان کو سزا نہیں دی جا سکتی ،،تو پھر قرآن کو صرف نبوی دور کی روزمرہ کی سرگرمیوں کی روداد سمجھ لیں،، جسے سرگزشتِ انذار کہا جاتا ھے ،،کہ یہ تو ایک ارکائیو ھے جس میں اس زمانے کی activities کو اللہ کے الفاظ میں قلمبند کیا گیا ھے اور بس ،، یہ کنتم خیر امۃ بھی صرف صحابہ ھی تھے، ولتکن منکم امۃ کا حکم بھی ان کو تھا،، پردے کا حکم نبی کی بیویوں سے شروع ھو کر ان پر ھی ختم ھو گیا تھا اور دعوت و تبلیغ کا کام بھی ابوبکرؓ و عمرؓ سے شروع ھو کر ان پر ھی ختم ھو گیا تھا،، آپ یہ سرگزشتِ انذار قدرت اللہ شہاب کے شہاب نامے کی طرح پڑھئے اور بند کرنے سے پہلے نشانی رکھنا مت بھولئے گا ! ( معاذ اللہ ) اللہ کی کتاب کو محفوظ رکھنے کا مقصد ھی اتمام حجت تھا ،جب اس کتاب کو اس ذمہ داری سے ھی سبکدوش کر دیا گیا تو اب یہ ھدی للناس نہ رھی،، بلکہ صرف مسلمانوں کی ایک رسمی کتاب رہ گئ،جیسے دیگر مذاھب کے پاس ان کی رسمی کتابیں ھیں ! اللہ اللہ خیر صلا ایک منطقی سوال کیا جاتا ھے کہ جو مذھب باپ کا ھو گا وہ بیٹے کا ھونا ایک فطری بات ھے ! مگر یہ ایک بودا سوال ھے ! جو پیشہ باپ کا ھے وہ بیٹے کا کیوں نہیں ھے ؟ باپ گاؤں میں تیل بیلتا تھا اور بیٹا نہ صرف ایم بی بی ایس ڈاکٹر ھے بلکہ سیدپور روڈ پر بہت بڑا کلینک بنائے بیٹھا ھے،،جو عقل پیشے کی اچھائی اور برائی تک رسائی رکھتی ھے وہ دین کی اچھائی اور برائی کو محسوس کیوں نہیں کر سکتی ؟؟ اب اللہ کی کتاب کا مقصد دیکھئے کہ اس کی موجودگی کے بغیر نبی ھوتے ھوئے بھی گویا کہ نہیں تھے ! نبی ﷺ کے ایمان اور قیامت تک آنے والے انسانوں کے ایمان کا منبع قرآن ھے،، نبی ﷺ کو باقاعدہ مخاطب بنا کر فرمایا گیا،، ما کنت تدری ما الکتاب ولا الایمانُ ولٰکن جعلناہ نوراً نھدی بہ من نشاء من عبادنا ،و انک لتہدی الی صراطً مستقیم ( الشوری 52 ) اے نبی آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ھے اور ایمان کیا ھے ،،مگر ھم نے بنایا اس کتاب کو نور جس کے ذریعے ھم بندوں میں سے جس کو چاھتے ھیں ھدایت دیتے ھیں،، اور ( اسی کے ذریعے ) آپ یقیناً سیدھی راہ دکھاتے ھیں ! کتاب کے نزول کا سبب بیان کیا تو ارشاد فرمایا ” شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ” ھدی للناسِ و بیناتٍ من الھدی والفرقان ! ( البقرہ 185 ) رمضان وہ مہینہ ھے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو ساری نوعِ انسانیت کے لئے ھدایت ھے اور ھدایت کے کھلے کھلے دلائل سے بھرا پڑا ھے اور حق و باطل میں فرق کرنے والا ھے ! اب دیکھ لیجئے یہ صرف بنی اسماعیل کی کتاب نہیں ،نہ صرف بنی اسماعیل ھی اس کے مخاطب ھیں،، بلکہ یہ رھتی دنیا تک کے ھر آنے والے انسان کے لئے ھدایت کا سر چشمہ ھے اور ھدایت کے رستے کے ھر سوال کا جواب دیتا ھے اور الفرقان ھے،، قیامت تک اس کی موجودگی میں حق و باطل گڈ مڈ نہیں ھو سکتے ،، اگر کوئی جان بوجھ کر اندھا پن اختیار کرے تو وہ نبی ﷺ کی عدم موجودگی کو اپنی گمراھی کا جواز نہیں بنا سکتا ،، جبکہ یہ کسوٹی اور فرقان موجود ھے ! قد جاء کم بصائر من ربکم فمن ابصر فلنفسہ و من عمی فعلیہا ،،( الانعام 104 ) اے نبی فرما دیجئے کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے چشم کشا حقائق آ چکے ،، تو جو بصیرت اور بصارت سے کام لے گا تو وہ اپنی جان کا بھلا کرے گا اور جو اندھا پن اور دیکھا ان دیکھا کرے گا وہ اس کا وبال بھی اپنے سر لے گا ،اور میں تم پر داروغہ نہیں ھوں ! قل یا ایہاالناس قد جاء کم الحق من ربکم ،، فمن اھتدی فانما یھتدی لنفسہ، ومن ضل فانما یضل علیہا وما انا علیکم بوکیل ( یونس 108 ) اے نبی کہہ دیجئے ” اے لوگو ! تمہارے رب کی طرف سے تم تک حق پہنچ گیا ( یعنی قرآن ) تو جو ھدایت پائے گا تو در حقیقت اپنی ذات کے نفعے کو ھدایت پائے گا،، اور جو گمراھی کو اختیار کرے گا تو اپنی جان پر وبال
اٹھانے کو گمراہ ھو گا ، اور میں تمہارا ذمہ دار نہیں ھوں ! ان تمام آیات میں اولین مخاطب بنی اسماعیل ھونے کے باوجود انہیں یا بنی اسماعیل کی بجائے یا ایہاالناس سے خطاب کرنا ھی ثابت کرتا ھے کہ اس کا خطاب پوری نوع انسانیت ھے ، اور وہ یہی بات پوری انسانیت سے کہنا چاھتا ھے جو بنو اسماعیل سے کہہ رھا ھے اور وھی تقاضہ پوری انسانیت سے کرنا چاھتا ھے جو بنی اسماعیل سے کر رھا ھے ،، پھر اس کتاب کے تراجم اللہ کی توفیق اور حکمت کے ساتھ دنیا کی ھر زبان میں دستیاب ھیں ،، اب کسی کے پاس اللہ کے خلاف کوئی حجت باقی نہیں،، دنیا میں ھر نسل کا شخص مسلمان ھے اور ان میں اسی نسل کا مولوی موجود ھے جو اللہ کی یہ سنت پوری کر رھا ھے کہ ،، و ان من امۃٍ الا خلا فیہا نذیر ،،کوئی قوم ایسی نہیں گزری جس میں خبردار کرنے والا نہ گزرا ھو ،، اور بلسان قومہ ،، اسی قوم کی زبان میں سمجھانے والا بھیجا گیا ! فاین تذھبون ؟ اگر الفرقان حق و باطل میں فرق نہیں کر پا رھا ،، شرک اور توحید کو الگ الگ بیان نہیں کر پا رھا تو پھر اس کو الفرقان کہنے کا مقصد کیا تھا اور اس کی حفاظت کا جوکھم ھی کیوں پالا گیا

سنتِ رسول ﷺ کی اقسام اور خلفاءِ راشدین کے اختیارات !

April 27, 2014 at 8:01pm

ھمارا اصل المیہ یہ ھے کہ ھمیں اسلام ایک ریاست اور نظام کی بجائے ،سپیئر پارٹس کی شکل میں ملا ھے ! جسے ھر مکتبہ فکر اپنی ھر مسجد میں اپنی اپنی مرضی سے جوڑ رھا ھے ، یہ الگ بات ھے کہ ایک مسجد کا اسلام دوسری مسجد کے اسلام سے نہیں ملتا ! قرآن کی ھر آیت اور ھر حدیث کو اس کی پراپر جگہ سے نکال دیا گیا ھے یا ھمیں نکلی ھوئی ملی ھے ،،اور ایک پزل یا Jigsaw ھے کہ ھم اسے جوڑنے بیٹھے ھیں ! نتیجہ یہ ھے کہ ھر مسجد کا امام نبی پاک ﷺ کے فیصلوں کو ایک مولوی کے فیصلے سمجھ کر اپنے فیصلوں جیسا بنا بیٹھا ھے ! آپ ﷺ کے فرامین کو ایک مولوی کی تقریر سمجھ بیٹھا ھے، اور نبی ﷺ کے حکم پر کسی کو قتل کر دینے کو جواز بنا کر اپنی تقریر کے رد عمل میں بندے مارے جانے کو درست قرار دے رھا ھے ! اور جیسا کہ میں نے عرض کیا اس کا واحد سبب یہ ھے کہ اسلام ھمیں مسجد میں ھی روتا دھوتا ،منہ بسورتا ،، ملا ھے ،مسجد میں ھی ھم نے اسے جوان ھوتے دیکھا ھے اور مسجد میں ھی ھم اسے دفنانے کا ارادہ رکھتے ھیں،، باھر کی دنیا سے اسلام کا تال میل بٹھانا اور لوگوں میں وہ ویژن پیدا کرنا کہ جس میں اسلام کو عالمگیر تناظر میں رکھ کر دیکھا جائے اس کے گلے میں کسی خاص ملک کی ثقافت کی بلی باندھ کر دوسروں کو مجبور کرنا کہ اس ثقافت کی بلی کو اونٹ سے بھی مہنگا خریدے ورنہ اسلام کے بھی قریب نہ آئے ! میں یہ بات متعدد بار لکھ چکا ھوں اور اپنے دروس مین بھی واضح کر چکا ھوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ریاست قائم کر کے اس دنیا سے تشریف لے گئے تھے ،اور ایک ریاست مین جتنے بھی ادارے ھوتے ھیں ، وہ ساری حیثیتیں نبی کریمﷺ کی اکیلی ذات میں مرتکز تھیں ! 1-آپ ﷺ نبی تھے ! 2- آپ ریاست کے سربراہ تھے ! 3- آپ اتنظامی سربراہ تھے ! 4- آپ چیف جسٹس تھے ! 5- آپ چیف آف آرمی اسٹاف تھے ! 6- آپ اس ریاست کے عام شہری اور ایک شوھر، باپ اور پڑوسی تھے ! ان میں سے ھر حیثیت میں آپ کا کیا گیا کام اور دیا گیا حکم اسی حیثیت کی سنت ھے ! ان میں سوائے نبوت کے ھر حیثیت آنے والے خلیفہ کو منتقل ھوئی ھے ! اور وہ سوائے نبی کی حیثیت کے باقی ھر حیثیت میں آزادی کے ساتھ فیصلے کرنے کا مجاز ھے ! اگر وہ دیکھتا ھے کہ ثبوت کی عدم دستایبی کی وجہ سے حضورﷺ نے بطور چیف جسٹس جو فیصلہ دیا ھے،، اسے اس فیصلے کے خلاف ثبوت دستیاب ھو گئے ھیں تو وہ بطور چیف جسٹس اس فیصلے پر نظرثانی کر سکتا ھے ! اس کی اجازت نبی کریمﷺ نے خود اپنی حدیث میں دی ھے کہ ؛ اگر کوئی چاپلوس شخص اپنی چرب زبانی سے مجھے قائل کر کے فیصلہ اپنے حق میں کرا لیتا ھے تو بھی میرے اس کے حق میں فیصلہ کر دینے کے باوجود وہ چیز اس کے لئے آگ کا ٹکڑا ھے ! اسے کھا لے یا چھوڑ دے ! گویا اگر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کسی فیصلے کے بارے میں یہ آگاھی ھو جاتی ھے کہ نبی پاکﷺ سے لیا گیا فیصلہ غلط ثبوت اور دلائل کی بنیاد پر لیا گیا تھا تو اس فیصلے پر نظر ثانی اور اس آدمی کو اس آگ سے بچانا ان کا فرضِ منصبی تھا ! یہی اصول آپ کی تمام حیثیتوں پر لاگو ھو گا ! اور اس کی بنیاد پر خلفاء راشدین نے فیصلے کیئے ! اور نبی پاک کا یہ فرمانا کہ علیکم بسنتی و سنۃ خلفاء الراشدین المھدیین من بعدی ،، اصلاً نبوت کے علاوہ باقی حیثیتوں میں خلفاء کو فری ھینڈ دینا تھا کہ وہ باقی حیثیتوں میں آزادی کے ساتھ فیصلے لے سکتے ھیں،، اس میں نہ تو وہ نبیﷺ کے فیصلوں کے تابع ھیں اور نہ ان میں نبی پاک ﷺ کے فیصلے کے خلاف ان کا فیصلہ توھین رسالت اور بدعت ھے ! جس طرح پاکستان کا پہلا چیف جسٹس فیصلے لینے میں آزاد تھا ،اس کرسی پر بیٹھنے والا ھر چیف جسٹس ویسی ھی حیثیت کا حامل ھو گا اور ویسے اختیارات استعمال کرے گا ،، وہ اپنی ذات مین الگ ھو گا ،قوم میں الگ ھو گا،،مگر ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے وھی مقام رکھے گا ! سوائے نبی ﷺ کی حیثیت کے باقی حیثیتوں میں خلفاء راشدین نبیﷺ کے تابع نہیں بلکہ حالات اور وقائع ( circumstances & Evidence ) کے تابع ھیں ،انہیں نبی ﷺ کے کسی قول کا پابند کرنا درست نہیں جبکہ وہ قول انتطامی سربراہ کی حیثیت سے دیا گیا ھو ! وہ صرف بحیثیت نبیﷺ حضور کے دیئے گئے حکم کے پابند ھیں ! باقی حیثیتوں میں وہ احوال و دلائل کی بنیاد پر فیصلہ لینے کے لئے ویسا ھی برابر کا اختیار رکھتے ھیں جیسا کہ حضور ﷺ اپنی اس حیثیت میں رکھتے تھے !

 عرض ھے کہ نبی کریم ﷺ کو انسانوں نے نہیں چنا تھا بلکہ آپ ﷺ اللہ کا انتخاب تھے ! اور باقی ساری حیثیتیں اسی رسالت کا لازمہ تھیں ،، یعنی ایسا نہیں تھا کہ آپ ﷺ نبی تو اللہ کے منتخب کردہ تھے مگر منتظم اعلی لوگوں کے ووٹوں سے بنے تھے ! مکے میں آپ ﷺ داعی کی شان کے ساتھ تھے ،جیسا کہ تمام نبیوں کا معاملہ تھا ۔ آپ ﷺ کی مکے سے ھجرت نبیوں کی تاریخ کے بیک گراؤنڈ میں دعوت کی ناکامی تھی اور انجام کار مکے والوں کو ھلاک کر دیا جانا چاھئے تھا ! بالکل ایسا ھی ھونا چاھئے تھا اور ایسا ھی ھوتا اگر آپ ﷺ سابقہ نبیوں کی طرح صرف اپنی قوم الی الامیین رسول ھوتے ! مگر نبیوں کی تاریخ کے برعکس آپ ” فی الامیین ” تو تھے مگر ” الی الامیین ” نہیں تھے بلکہ ” الی کافۃ الناسِ بشیراً و نذیراً ” تمام نوع انسانیت کی طرف بشارت دینے والے اور خبردار کرنے والے تھے ،یوں نبوت کا قومی phase فیل ھونے کے بعد بین الاقوامی Phase مدینے سے شروع ھوا ،، دینیات
کے طالب علم غیر مسلم محققین یہاں آ کر کنفیوز ھو جاتے ھیں کیونکہ آپ ﷺ سے پہلے ایسی کوئی مثال نہیں ھے ! وہ کہتے ھیں محمد ﷺ داعی کی حیثیت سے تو ناکام ھو گئے مگر مدبر اور سیاستدان کی حیثیت سے کامیاب رھے کہ آپ نے اپنی نبوت کی ناکامی کو سیاسی تدبیروں سے کامیابی میں تبدیل کر لیا ! دوسری بات جس کی کوئی نظیر ان محققین کو نہیں ملتی وہ عام لوگوں کا نبی کے خلیفہ successor کو چننا ھے ! ھمیشہ نبی سے نبی Takeover کرتا رھا ھے ! اور نبی ھی اقتدار کے لیئے یا بادشاھی کے لئے بندہ وحی کے ذریعے منتخب کرتا رھا ھے ! جبکہ نبی کریم ﷺ بغیر کوئی بندہ منتخب کیئے اس کام کو اللہ کے بندوں کے باھمی مشورے پر چھوڑ کر چلے گئے ،،ظاھر ھے یہ ھی اللہ کی مرضی تھی،کہ انسانوں پر انسانوں کے اقتدار کی بنا خود انسانوں کے مشورے سے کی جائے اور پہلی خلافت ھی اس کی سنت بنے ! بنے یوں انسانوں کے ھاتھوں انسان خلیفہ چننا خلفائے راشدین کی پہلی سنت ھے ! یہ نبی ﷺ کی سنت نہیں ھے ! یہی خلافت ھی ان ساری حیثیتوں کی قائم مقام بنی ھے جو نبوت کے علاوہ نبی ﷺ کو حاصل تھیں ،،یوں انتخاب انسانوں کا تھا ،مگر اختیارات اللہ کے ودیعت کردہ تھے ! اور اللہ کی مرضی اور انسانوں کی مرضی کے مکسچر یا combination کا نام خلافت تھا ! اگر خلافت کے انتخاب کا طریقہ توقیفی ھوتا یعنی نبی سے شروع ھو کر نبی پہ ختم ھو جاتا ،اور اس طریقہ انتخاب میں تبدیلی دین کی خلاف ورزی قرار دی جاتی تو اگلا ھی خلیفہ نئے طریقے سے منتخب نہ ھوتا ،،گویا یہ امر توقیفی یا دین کے طے کردہ اصولوں میں سے نہیں تھا،،جس کو لوگ آج کل ثابت کرنے کی کوشش کر رھے ھیں کہ جو اس طریقے سے آئے گا اسی کا نام خلیفہ ھو گا ، تو یہ ایسا ھی ھے کہ نارمل ڈیلیوری سے پیدا ھونے والا ھی انسان کہلا سکتا ھے، بڑے آپریشن سے پیدا ھونے والے کو انسان نہیں کہا جا سکتا ! جو ووٹ سقیفہ بنو ساعدہ میں ھوا ، اور جس کے بعد مسجد نبوی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کیا گیا وہ وھی طریقہ ھے جو آج کل رائج ھے،، متخب نامزد کرنا ابوبکر صدیقؓ کی سنت ھے ،، اور مختلف لوگوں پر مشتمل پینل نامزد کرنا عمر فاروقؓ کی سنت تھی،، عشرہ مبشرہ کو خلافت کے لئے نامزد کیا گیا تھا ،اب اصولی طور پر یا تو اگلا خلیفہ طریقے میں تبدیلی لاتا جو کہ نہیں لائی گئ اور خلیفہ شہید ھو گئے ! گویا اب عمر فاروقؓ والی بنائی گئ عشرہ مبشرہ کی کمیٹی خلافت کی امیدوار تھی،، چاھے جس طرح بھی یہ سیٹ خالی ھوئی تھی،، اس کا انتخاب کے طریقے سے کوئی تعلق نہیں تھا ،، حضرت علیؓ نے انتہائی دیانتداری کے ساتھ عشرہ مبشرہ میں سے بچنے والےباقی دیگر دو ساتھیوں طلحہؓ اور زبیرؓ کو بیعت کی پیشکش کی ،، اب ان دونوں کے انکار کے بعد سوائے حضرت علیؓ کے اور کوئی امیدوار بچتا ھی نہیں تھا،پھر ان دونوں کو دیانتداری کے ساتھ حضرت علیؓ کی بیعت کر لینی چاھئے تھی،جو کہ ھوا نہیں اور یہ غلطی غزوہ احد کی غلطی سے بڑی غلطی تھی،نتیجہ بھی اس سے زیادہ ھولناک نکلا ! الغرض فرد پر محنت کے نتیجے میں ایک صالح معاشرہ قائم ھوا ،، ان لوگوں نے یعنی افراد نے نبی کو دعوت دے کر بلایا ،، جب نبیﷺ کو اقتدار حاصل ھو گیا ،تو جہاد اور جنگ کے قوانین نازل ھوئے ،،جب ریاست بن گئ تو ریاستی احکامات نازل ھوئے ،، نہ کہ آپ ھاتھ پاؤں کاٹنے اور سنگسار کرنے کے احکامات لے کر گلی گلی پھرتے تھے کہ لوگو ! آؤ میرا ساتھ دو میں نے لوگوں کو سنگسار کرنا اور ان کے ھاتھ کاٹنے ھیں،،جیسا کہ آج کل لوگو اپنا موٹو بنائے پھرتے ھیں، اور جو بستی بھی دس دن کے لئے قبضہ کرتے ھیں،، وھاں ھاتھ کٹے لوگوں کی کھیپ چھوڑ کر پسپا ھو جاتے ھیں،، بجائے لوگوں کو کھانے کو کچھ دینے کی فکر کرنے کے، کھانے کی چوری کرنے والوں کے ھاتھ کاٹ کر آسمان کی طرف منہ کر کے دیکھتے ھیں کہ اب اللہ خوش ھو کر من و سلوی نازل کرے گا ! جبکہ عمر فاروقؓ نے قحط سالی میں ھاتھ کاٹنے کی سزا معطل کر دی تھی کہ لوگ چوری پر مجبور ھو گئے ھیں اور مجبوری میں ان پر کوئی گرفت نہیں،، رفع عن امتی ثلاث،، الخطا والنسیان وما استکرھوا علیہ ! اسی طرح سرحدی علاقوں میں لوگوں کے غیر مسلموں کے ساتھ کثرت سے میل جول رکھنے کی وجہ سے ان میں دینی تعصب کی کمی کی بدولت وھاں حدود کا نفاذ روک دیا گیا،، فوج میں دوران جنگ حدود کا نفاذ روک دیا گیا،،کہ سزا مومن کی بہتری کے لئے ھے اسے کافر بنانے کے لئے نہیں،، سزاؤں سے مطلوب و مقصود مومن کا فائدہ ھے،نقصان نہیں،مومن مطلوب ھے سزائیں مطلوب نہیں ھیں ۔۔لوگ فسق کے ساتھ جی لیں مگر مسلمان رھیں یہ بہتر ھے اس سے کہ اسے سزا دے کر کافر کر دیا جائے ! اور آج یہ دینی تعصب بہت کمزور پڑ گیا ھے،، نیز غیر مسلموں کے ساتھ انٹرایکشن اور لین دین فاروقؓ کے زمانے سے کروڑ گنا زیادہ ھے،مسلمان کمزور تر ھوگئے ھیں غیر مسلموں کی شان بڑھ کر پرکشش ھو گئ ھے ،، اور غیر مسلم دنیا صرف ایک کلک کے فاصلے پر ھے سفر کرنے کی بھی ضرورت نہیں ھے ،بندہ حرم میں سنت پڑھ کر جماعت کے انتظار میں بیٹھا ھوتا ھے تو اپنا بلیک بیری کھول کر دنیا کے کسی ملک میں بھی جا سکتا اور وھاں کی خبریں پڑھ سکتا ھے ! آج مسلمان جتنا پیار اور محبت کا مستحق ھے اتنا کبھی بھی نہیں تھا ،،، کٹے ھاتھ اور اڑے ھوئے سر دکھا کر مسلمان میں اسلام کی محبت نہیں ڈالی جا سکتی !

آسمــــانی جــــوڑے !

April 20, 2014 at 7:54pm

 

 

عراق نے کویت پر قبضہ کیا تو وھاں سے بے روزگار ھونے والے واپس اپنے اپنے وطن میں پہنچے جہاں لوگوں نے انہیں دنیا کے دونوں رخ مرنے سے پہلے ھی دکھا دیئے  ورنہ یہ رخ مرنے کے بعد ھی سامنے آتے ھیں     !

 

مــرنے والا قـبر میں کیا چین پائے بعـدِ دفن     !

موت نے دنیا کے دونوں رخ دکھائے بعدِ دفن     !

 

مٹھیوں میں خاک لے کر دوست آئے بعدِ دفن     !

زندگـــی بھــر کی محبت کا صــلہ دینے لگے     !

 

لوگوں نے منگنیاں توڑ دیں،رشتے ناتے ختم کر دیئے ،،وہ جو دعوتوں پہ دعوتیں کیا کرتے تھے انہوں نے مانگے کا کمبل بھی ادھار نہ دیا ! پانچ سات سال کے بعد وہ مہاجرینِ کویت واپس کویت تو آگئے مگر اپنے ساتھ تجربوں کی دنیا اور کہانیوں کے انبار بھی سمیٹ لائے     !

 

ان میں وقاص صاحب کی فیملی بھی تھی،جس میں ان کی بیوی فرح دیبا اور اکلوتا بیٹا فرحان بھی تھا ! فرحان سے پہلے ان کے تین بچے مس کیریج ھو چکے تھے اور اس کے بچنے کے بعد ڈاکٹروں نے آپریشن کے ذریعے مزید اولاد کی امید پر پانی پھیر دیا تھا،یوں گھوم پھر کر فرحان ھی ان کی دنیا تھا ! پاکستان جاتے ھی انہوں نے اسے اپنے گھر کے سامنے چکلالہ اسکیم نمبر 3 میں  ایک اکیڈیمی میں آٹھویں کلاس میں ڈال دیا ! وہ فرحان کا کلاس میں پہلا دن تھا جب مس طیبہ کلاس میں داخل ھوئی ! تمام بچوں کے ساتھ فرحان بھی ان کے استقبال کے لئے کھڑا ھوا،، پھر سارے بچے بیٹھ گئے مگر فرحان کھڑے کا کھڑا رہ گیا، وہ ٹرانس میں چلا گیا تھا ! مس طیبہ جو صرف ایف اے کر کے اکیڈیمی جوائن کرنے پر مجبور ھو گئ تھی کیونکہ اس کے والد جو سی ڈی اے میں ملازم تھے اپنی موٹر سائیکل پہ ڈیوٹی پہ جا رھے تھے کہ ایک ویگن کی ٹکر نے ان کی دنیا اندھیر کر دی ،، ان کی کہولے کی ھڈی کچھ اس طرح ٹوٹی تھی کہ اسے دوبارہ ٹھیک طرح سے جوڑنے کے لئے ڈھائی تین لاکھ کا خرچہ آتا تھا جو ان جیسے دیانتدار شخص کے لئے ناممکن تھا،، ان کے دو چھوٹے بیٹے اور ایک بڑی بیٹی تھی جو سیکنڈ ایئر میں تھی،، حادثے کے بعد انہیں کام سے فارغ کر دیا گیا یوں ان کی روزی روٹی کا ذریعہ جاتا رھا ! کسی دوست نے مہربانی کر کے ان کی سیکنڈ ایئر کرنے والی بیٹی کو کام دلوا دیا یوں ، کم ازکم فوری ضرورتوں کا سامان ھو گیا ! مس طیبہ فرحان سے عمر میں کچھ زیادہ  بڑی نہیں تھی، فرحان کے لئے مسئلہ ان کی معصوم اور بھولی بھالی صورت تھی جس کے بیک گراؤنڈ میں انجانے درد کی کسک نے ان کی صورت میں مزید کشش پیدا کر دی تھی،، اور سب سے بڑی قیامت ان کے دونوں گالوں پہ بننے والے ھلکے ھلکے گڑھے تھے! جنہیں ڈمپل کہا جاتا ھے ! بس یہیں فرحان ٹریپ ھو گیا تھا یا انہی گڑھوں میں ڈوب مرا تھا،، اسے مارنے کے لئے ایک ھی گڑھا کافی تھا،،مگر دوسرے گڑھے کی موجودگی نے اس کے نکلنے کے تمام  امکانات ختم کر دیئے تھے ! کہتے ھیں اللہ کچھ لوگوں کو تو دھن کی دولت دیتا ھے تو کچھ کو تن کی دولت دیتا ھے اور کچھ کو من کی ! مس طیبہ کو اللہ پاک نے تن کی دولت کے ساتھ من کی دولت سے بھی نوازا تھا ،وہ نہایت پاک فطرت لڑکی تھی، جسے صرف اپنے والد اور بہن بھائیوں کی فکر تھی ، اس سے آگے کی فکر اس نے کبھی سوچی بھی نہیں تھی     !

فرحان جونہی کلاس روم کے  دروازے پہ پہنچتا اور کہتا ” مِـس ” اور مس طیبہ اس کی طرف دیکھتی تو وہ ” مے آئی کم ان ” کہنا ھمیشہ بھول جاتا اور بس ان کے "یـس ” کہہ دینے پر اندر داخل ھو جاتا،، وہ کوشش کرتا کہ مس طیبہ کو خوش رکھے اور ان کی ھر ضرورت پوری کرے ! وہ خود  گھر سے دوڑ کر نیل کٹر لے آتا ،، امی کے ھیئر بینڈ جو ابھی پیک پڑے تھے اٹھا لاتا اور اچھا کھانا پکا ھوتا تو لنچ بریک کے دوران مس طیبہ کو لا کر دے دیتا،، مگر وہ یہ سب کچھ امی کے نام سے کرتا ،مس امی نے یہ کھانا بھیجا ھے،،مس امی نے یہ ھیئر بینڈ دیئے ھیں وغیرہ وغیرہ ،جبکہ مس طیبہ کے فرشتوں کو بھی علم نہیں تھا کہ کیا ھو رھا ھے ! جب کبھی مس طیبہ کسی دوسرے بچے کو توجہ دیتی تو فرحان کو ھمیشہ برا لگتا ،وہ جیلس ھو جاتا ،،بعض دفعہ مس کی توجہ حاصل کرنے کے لئے وہ کوئی ایسی غلطی کر جاتا ،جس پر وہ اسے خوب ڈانٹتی تو وہ سر جھکا کر نہایت اطمینان سے ان کی ڈانٹ ڈپٹ سنتا ،صرف اس احساس کے ساتھ کہ وہ اس وقت اپنی پوری ھستی پورے دل و جان سے اس کی طرف متوجہ ھیں     !

 

عـــــــشق کے مراحــــل میں وہ بھی مقام آتا ھے     !

آفـــتیں برســـــــتی ھـیں، دل سکــــــون پاتا ھے     !

 

سال پلک جھپکتے گزر گیا اور فرحان کو ھائی اسکول میں داخل کرا دیا گیا ! فرحان تو اکیڈیمی سے نکل گیا مگر مس طیبہ فرحان کے اندر سے نہ نکل سکیں ! وہ آتے جاتے جان بوجھ کر اس وقت اکیڈیمی کے پاس سے گزرتا جب مس طیبہ اکیڈیمی کی وین میں بیٹھ رھی ھوتیں یا اتر رھی ھوتیں وہ پیپلز کالونی ٹینچ بھاٹہ سے آتی تھیں جہاں ان کا دو کمرے کا مکان تھا اور فرحان وھاں جا چکا تھا، وہ ابو کے ساتھ مس طیبہ کے معذور والد کے لئے الیکٹرک وھئیل چیئر لے کر گیا تھا جس کے لیور کے ذریعے وہ خود ھی چیئر کو آگے پیچھے چلا لیتے تھے  !

فرحان نے جب بی – اے کر لیا تو کویت کے حالات بھی نارمل ھو گئے تھے جہاں اس کے والد آئل ریفائنری میں کیمیکل انجیئنر تھے ! وزارتِ پیٹرولیم نے اس کے والد کو دوبارہ کال کر لیا تھا یوں فرحان واپس کویت آ گیا اور پیٹرولیم انسٹیٹیوٹ میں انجیئرنگ میں داخلہ لے لیا،مگر اس نے ھمیشہ کسی نہ کسی طرح مس طیبہ سے رابطہ برقرار رکھا اور والد یا والدہ کے نام پر انہیں تحفے تحائف بھی بھیجتا رھا ،،مگر یہ بات طے تھی کہ طیبہ کو فرحان کے ارادوں کی کوئی خبر نہ تھی !

 

فرحان خاندانی لڑکا تھا کوئی لچر یا لوفر لفنگا نہیں تھا ! مس طیبہ کے متعلق وہ بےبسی کا شکار تھا ! پتہ نہیں اس کے دل کو کیا ھو گیا تھا ،وہ سوتے میں بھی مس طیبہ کے ڈِمپلز پر ارتکاز کر کے سوتا تھا،، نمازی تو وہ شروع سے تھا جب کے-جی ٹو میں پڑھتا تھا تو بھی نماز گھر کے باھر والی مسجد میں بستہ رکھ کر وضو کر کے پڑھ کر گھر آتا تھا ،، اب تو اسے اللہ سے خاص کام پڑ گیا تھا لہذا اس کی نماز میں گداز پیدا ھو گیا تھا ! وہ اللہ سے رو رو کر عرض کرتا کہ جب تک وہ پاؤں پہ کھڑا نہ ھو جائے ،مس طیبہ کا کوئی پروپوزل نہ آئے اور اگر آئے تو اللہ اس کے دل کو پھیر دے تا کہ وہ اسے ریجیکٹ کر دے ! بس اللہ ھی اس کی پہلی اور آخری امید تھا، انجینئرنگ مکمل کرنے کے بعد انسٹیٹیوٹ نے اسے جاب یا پھر برطانیہ میں اسپیشلایئزیشن کرانے کی پیشکش کی ! والدین کا اصرار تھا کہ وہ برطانیہ جائے مگر فرحان اب اس سے زیادہ دور جانا نہیں چاھتا تھا اس نے فی الحال جاب کو ترجیح دی ، اسپیشلایزیشن زندگی میں کبھی بھی کیا جا سکتا تھا،جبکہ اس کے لئے مس طیبہ کو مزید لمبا کھینچا مناسب نہیں تھا ،، وہ ڈمپلز تک جلد از جلد رسائی چاھتا تھا ! جاب جوائن کر لینے کے بعد والدین اس کی شادی کے پروگرامز بنا رھے تھے کیونکہ اس کے سوا کوئی اور ان کا تھا نہیں ایسے بچے کی نسل چلانے کی والدین کو بہت فکر ھوتی ھے ! والد صاحب اپنے بہن بھائیوں میں سے کسی کے گھر کرنا چاھتے تھے تو والدہ اپنوں کے لئے اسے رام کرنے کے چکر میں تھیں !

 

آخر والدہ نے ھی پریشر ککر سے ڈھکن اٹھایا اور وہ بھی اسٹیم نکالے بغیر !

 

دیکھو بیٹا ھم پاکستان تمہاری شادی کرنے جارھے ھیں ! تم اتنے سال وھاں رہ کر آئے ھو اور دوست دشمن سے آگاہ ھو، تم ان کو بھی جانتے ھو جو مخلص ھیں اور ان کو بھی جو پیسے کے ھیں ! اس لئے اب تم ننہیال میں سے چنو یا ددھیال میں سے مگر مخلص گھرانے پہ ھاتھ رکھنا ! مما اگر آپ لوگوں نے معاملہ میرے اوپر چھوڑا ھے تو پھر یہ برادری کی شرط بھول جائیں ! اگر شادی خوشی کو کہتے ھیں تو پھر شادی کو شادی ھونا چاھئے ! نہ کہ برادری کو ٹانکے لگانی والی کاپر کی تار ! مما میں نے لڑکی چن لی ھے اور بہت عرصہ پہلے چن لی تھی ،، میں اسی سے شادی کرنے جا رھا ھوں ! اچھا وہ لڑکی ھے کون ؟ مس طیبہ !! فرحان نے دھماکہ کیا ،، دیبا فرح کے ھاتھ سے وہ کنگھی گر گئ،، مس طیبہ وہ لڑکی جو تجھے اکیڈیمی مین پڑھاتی تھی؟ ماں نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھتے ھوئے کہا ! جی وھی ،، فرحان نے اطمینان سے جواب دیا ! مگر ،،مگر بیٹا وہ تو تم سے پانچ سات سال بڑی ھے اور پھر ،،،،،

مما یہ زندگی انسان سے کتنی بڑی ھے ! ھزاروں لاکھوں سال ناں ؟ مگر کسی نے آج تک اس زندگی کو اس لئے اپنانے سے انکار نہیں کیا کہ وہ اس سے بڑی ھے ! زندگی تو زندگی ھے بڑی ھو یا چھوٹی ،،مما مس طیبہ میری زندگی ھے، میں ایک ایسی چلتی پھرتی لاش ھوں جس میں زندگی کی رمق بھی نہیں ،،میں اپنی روح پاکستان چھوڑ آیا ھوں ،، ماما آپ ایک کہانی سنایا کرتی تھیں ناں کہ دیو کی جان طوطے میں ھوتی ھے اور اس طوطے کی گردن مروڑ دو تو دیو مر جاتا تھا،، مما وہ طوطا مس طیبہ ھے،، جس دن مجھے یقین ھو گیا کہ وہ مجھے نہیں مل پائے گی یا وہ کسی اور کے لئے ڈولی میں بیٹھ جائے گی،، اس دن آپ کو یقین آ جائے گا کہ فرحان میں روح نہیں تھی وہ ایک بےروح لاش تھا !

دیبا دھشت زدہ ھو کر یہ سب کچھ سن رھی تھی ! وہ تو سمجھتی تھی کہ اس کا یہ نمازی پرھیزگار بچہ جو کسی عورت کو آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا ،، یہ بھی نہیں جانتا ھو گا کہ عورت کیا ھوتی ھے اور کس چیز کے ساتھ کھائی جاتی ھے !! وہ بچہ اس کے سامنے کھڑا فلسفہ بیان کر رھا تھا،، مگر خاندانی عورت تھی اور عقلمند بھی تھی،، اس نے بیٹے کو گلے سے لگا لیا،،بیٹا تم ھی تو ھماری دنیا ھو،، بھلا ھمیں تمہاری خوشی کے سوا اور کیا چاھئے،،میں جاؤں گی ان لوگوں کے گھر تیرے رشتے کے لئے اور تیرے پاپا کو بھی میں راضی کروں گی ،، بس تم اب ٹینشن مت لینا !

 جس دن فرحان کی امی رشتہ مانگنے طیبہ کے گھر گئ ،، فرحان کے پاپا بھی اس کے ساتھ تھے جنہوں نے طیبہ کے والد سے ان کے حالاتِ زندگی معلوم کیئے تو انہیں افسوس ھوا کہ اتنی ضرورتمند فیملی کیوں ان کی نظروں سے اوجھل رھی،، اگرچہ یہ لوگ غریب تھے،مگر بات چیت سے سادہ دل اور مخلص لگتے تھے ! طیبہ کے چند رشتے آئے تھے جو طیبہ ھی کے اصرار پر رد کر دیئے گئے تھے کیونکہ وہ اپنے بھائیوں کے بارے میں متفکر تھی کہ ان کی کفالت کون کرے گا !

طیبہ فرحان کی امی کو ماں کے پاس چھوڑ کر کچن میں چائے بنا رھی تھی جب دیبا نے فرحان کے رشتے کی بات چلائی کہ وہ فرحان کے لئے طیبہ کا رشتہ مانگنے آئے ھیں،، وہ چمچ جس سے طیبہ چائے میں پتی ڈالنے جا رھی تھی اس کے لئے شہتیر بن گئ جسے سنبھالنا اس کے لئے مشکل ھو گیا،، اس نے بمشکل چولہا بند کیا اور سر پکڑ کر بیٹھ گئ !

 

اس نے نہ تو کبھی فرحان کو اس نظر سے دیکھا تھا اور نہ وہ امید کرتی تھی کہ وہ ایک دن اس کے لئے پروپوزل لیئے آ پہنچے گا ! وہ ایک حقیقت پسند لڑکی تھی اور دو باتوں کو بخوبی جانتی تھی،،پہلی بات سوشل اور فائنانشیل اسٹیٹس ،، دوسری بات لڑکے کی عمر ، وہ چائے چھوڑ کر اندر چلی آئی اور اس نے کہا کہ آنٹی میں اس سلسلے میں فرحان سے بات کرنا چاھتی ھوں،، یقیناً اس نے آپ کو مجبور کیا ھو گا ورنہ کوئی ماں اپنے بیٹے کے لیئے اس کی عمر سے بڑی عمر کی لڑکی  پسند نہیں کرتی خاص طور پر جب کہ وہ ایک غریب اور لاچار گھرانے سے تعلق رکھتی ھو ! آپ یقین کریں میں نے فرحان کو سوائے ایک اسٹوڈنٹ کے اور کچھ نہیں سمجھا اور نہ میں اس قسم کی ڈورے ڈالنے والی لڑکی ھوں ! آپ مجھے اس سے بات کرنے دیں،، میں اسے اس رشتے سے انکار پر راضی کر لونگی !

وہ ھیسٹیریا کے مریض کی طرح بولے چلے جا رھی تھی یہ دیکھے بغیر کہ اس کے اس بولنے کا اثر فرحان کی امی پر کیا پڑ رھا ھے ! انہوں نے اسے پکڑ کر کھینچا اور سینے سے لگا کر بھینچ لیا ،، وہ بھی مسلسل روئے چلے جا رھی تھیں ! تھوڑی دیر کے بعد انہوں نے اس الگ گیا،، طیبہ نیم مدھوشی کی کیفیت میں تھی،، دیکھو طیبہ امیری غریبی تو اللہ کے ھاتھ میں ھے، چند سال کے لئے اس نے ھمیں امیروں میں سے نکال کر غریبی کی کیفیت میں اسی لئے مبتلا کیا تھا کہ ھم جان سکیں کہ غریبی نہ کوئی ذات ھوتی ھے اور نہ کوئی جرم،،یہ صرف امتحان ھوتا ھے،، بیٹا آپ نے امتحان پاس کر لیا ھے ،،میرے بیٹے کو بھی امتحان میں کامیاب ھونے دو آخر کو وہ بھی تمہارا اسٹوڈنٹ ھے،،میں اس سے تجھے ضرور ملاؤں گی مگر یہ بات نوٹ کر لو کہ جو اور جس طرح تم نے میرے سامنے بات کی ھے،ویسے اور ویسی بات میرے فرحان سے مت کرنا وہ میرا اکلوتا بیٹا ھے اور میں اسے کھونا نہیں چاھتی،، وہ تمہیں اپنی جان کہتا اور سمجھتا ھے اور اپنے اپ کو تمہارے بغیر بے روح کا لاشہ سمجھتا ھے،، اس سے بات کرنے سے پہلے اس کی بات سن لینا ،، شاید پھر تمہیں بات کرنے کی ضرورت بھی نہ رھے،میں کل تم لوگوں کی دعوت کر رھی ھوں ، وھاں تم اس کے ساتھ تسلی سے بات کر لین گھر واپس آ کر دیبا نے فرحان کو مناسب انداز میں طیبہ کے ردعمل سے آگاہ کر دیا ،، تا کہ جب طیبہ اس سے بات کرے تو وہ ذھنی طور پر تیار ھو اور کوئی شدید رد عمل ظاھر نہ کرے ! مگر ان کا یہ خدشہ عبث تھا کیونکہ فرحان مس طیبہ کے سامنے شدید یا خفیف کوئی رد عمل دینے کی پوزیشن میں نہیں تھا ! وہ کسی اور غیر شعوری کیفیت کا شکار تھا ! جس میں شاید اذیت بھی لذت دیتی ھے،ھم نے کئ نشہ بازوں کو اپنے آپ کو بلیڈ مارتے بھی دیکھا ھے ! اگلے دن طیبہ کی پوری فیملی فرحان کے گھر آئی سب باھر بیٹھ کر گپیں لگا رھے تھے جبکہ فرحان اندر اپنے کمرے میں لیٹا ھوا ٹی وی دیکھ رھا تھا ! دیبا نے طیبہ کو آنکھ سے فرحان کے کمرے کی طرف اشارہ کیا اور دیبا اپنے آپ کو سنبھالتی ھوئی فرحان کے کمرے کی طرف چل دی ! دیبا بھی اس کے پیچھے پیچھے تھی مگر وہ کمرے میں جانے کی بجائے باھر کھڑکی کے ساتھ پڑی کرسی پر بیٹھ گئ ! طیبہ نے دروازے کو ھلکا سا کھٹکا دیا ، کم اِن ،، اندر سے فرحان کی آواز آئی ،شاید وہ نوکر کے چائے لانے کا منتظر تھا مگر طیبہ کو دروازے سے داخل ھوتے دیکھ کر گویا اسے بجلی کا جھٹکا لگا ،، وہ بالکل 10 سال کے بچے کی طرح اچھل کر اپنے بیڈ پہ اس طرح کمبل لپیٹ کر بیٹھا جس طرح مرغی انڈے سمیٹ کر بیٹھتی ھے ،، طیبہ اس کے بیڈ کے پاس پڑی کرسی پر بیٹھی تو فرحان نے غیر محسوس انداز میں اپنے آپ کو ٹوئیسٹ کیا کہ اس کی نظر طیبہ کے چہرے پہ نہ پڑے،، آپ کب تشریف لائیں ؟ اس نے طیبہ سے سوال کیا ! جب سے آپ کو ھماری آوازیں آ رھی تھیں، طیبہ نے ھلکی سی مسکراھٹ کے ساتھ جواب دیا ،، وہ تو ٹھیک ھے ،مگر میرا مطلب ھے میرے کمرے میں ،،،، وہ امی جان ،، کیا وہ باھر نہیں ھیں ؟ جی امی جان تو باھر ھیں مگر میں آپ سے کچھ عرض کرنے آئی تھی اگر آپ سننے کی زحمت کریں گوارہ کریں تو ؟ جی مس آپ ضرور بات کریں مگر پلیز مجھے آپ مت کہیں ،فرحان نے گڑگڑا کر کہا ،، فرحان میری طرف دیکھیں میں بہت سیریس ھوں آپ میری بات کو توجہ سے سنیں ،،جی مس جب آپ بولتی ھیں تو پھر میرے کان اس کائنات میں کسی اور آواز کو قبول ھی نہیں کرتے ،، رہ گئ بات آپ کی طرف دیکھنے کی تو اگر آپ چاھتی ھیں کہ میں آپکی بات کا جواب بھی دوں تو پلیز مجھے اپنی طرف دیکھنے پر مجبور مت کریں ،،آپ کو دیکھتے ھیں میرا اسپیچ سنٹر ڈس ایبل ھو جاتا ھے،،میں کچھ بھی نہیں بول پاتا ،،شاید آپ کو اس کا کوئی اندازہ بھی ھو گا ! دیکھو فرحان تم اب میرے شاگرد نہیں ھو اور نہ میں تمہاری ٹیچر ھوں ،تم ایک جوان مرد ھو اور تعلیم کے لحاظ سے بھی تم مجھ سے بہت آگے ھو ! میں تو ایک مجبور لڑکی تھی جسے ضرورت وقت سے پہلے اکیڈیمی لے گئ تھی ! میری آپ سے یہ گزارش ھے کہ آپ حقیقت کا سامنا کریں اور وہ انتخاب کریں جو کل کلاں آپ کے لئے اور آپ کے والدین کے لئے خفت کا باعث نہ ھو ! کمال ھے ایک انجینئر مڈل کلاس کے ایک لڑکے کے ھاتھوں مجبور ھو گیا ھے اور اسے سمجھانے سے عاجز ھے کہ آج کل کے سماجی رویئے کیا ھیں ؟ یہ عشق اور محبت کا بھوت بہت جلد اتر جاتا ھے، کل کلاں لوگ آپ کو شرم دلائیں گے کہ اپنے سے بڑی لڑکی سے شادی رچا بیٹھے ! اور آپ گھر آ کر مجھ پہ غصہ اتاریں گے یا مجھے کوسیں گے یا اپنے آپ کو کوسیں گے !! طیبہ پریشر بڑھاتی جا رھی تھی اور باھر بیٹھی دیبا کا دل بیٹھا جا رھا تھا،، وہ ماں تھی ، اس کا جی چاھتا تھا وہ جھٹ سے اندر جا کر اپنے بیٹے کے تاثرات کو چیک کرے ،، وہ کہیں سکتے میں مبتلا نہ ھو جائے،کیونکہ وہ ابھی تک صرف سن رھا تھا پلٹ کر کچھ کہہہ نہیں رھا تھا ! طیبہ نے بات ختم کی اور ایک لمبی سانس لے کر فرحان کی طرف دیکھا جو ٹکٹکی باندھ کر سامنے کی دیوار کو دیکھے چلے جا رھا تھا ! چند منٹ خاموشی میں گزر گئے تو دیبا نے اندر جانے کا من بنا لیا جونہی وہ اٹھی اسے فرحان کی آواز آئی اور وہ پھر بیٹھ گئ ! مس طیبہ ،، آپ نے کبھی یہ جملہ سنا ھے کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ھیں اور دنیا میں ملتے ھیں ! میں نے جب آپ کو پہلی دفعہ دیکھا تھا تو بخدا میری اندر کی سانس اندر اور باھر کی باھر رہ گئ تھی،،یہ میرا سوچا سمجھا ردعمل نہیں تھا اور نہ میں نے ایک عاشق کی نظر سے آپ کو دیکھا تھا اور نہ وہ میری عمر عشق کمانے کی تھی ! بس وہ کوئی عجیب چیز تھی ،اگر آپ اس دن مجھے سٹ ڈاؤن کی کمانڈ دے کر حرکت پر مجبور نہ کرتیں تو شاید میں اسی دن مر گیا ھوتا ،، آپ نے کبھی بلیو ٹوتھ ڈیوائس پیئر کی ھو گی ! وہ آپ سے ایک سوال کرتا ھے کہ کیا آپ اس کو اپنی ڈیفالٹ ڈیوائس بنانا چاھتے ھیں،، ؟ آپ کے یس کرنے کے بعد وہ آپکی ڈیفالٹ ڈیوائس بن جاتی ھے،پھر آن ھوتے ھی خود بخود اپنے جوڑے کو تلاشنا شروع کرتی ھے اور ملنے پر خود ھی کنکٹ ھو جاتی ھے،، مس طیبہ آپ کو میری ڈیفالٹ پارٹنر بنا کر بھیجا گیا تھا،، اس دن کلاس میں جوڑے نے اپنے جوڑے کو تلاش لیا تھا،، قصور نہ آپ کا تھا اور نہ میرا ،،، یہ سیٹنگز ،، شاید فیکٹری سیٹنگز تھیں ،، امی بتا رھی تھیں کہ آپ نے بہت اچھے دو رشتے ری جیکٹ کر دیئے تھے،، آخر اس کی وجہ کیا تھی ؟ شاید آپکی فیکٹری سیٹنگز نے انہیں قبول نہیں کیا تھا ! میں خود غرض نہیں ھوں ، اگر آپ اپنے آپ کو میرے ساتھ ایزی فِیل نہیں کرتیں تو میں قطعاً اصرار نہیں کرونگا کہ آپ میری پروپوزل کو قبول کریں،، مگر یہ بات طے ھے کہ میں کسی اور عورت کے ساتھ ظلم نہیں کرونگا کہ میرا دل تو کہیں اور ھو اور میں اسے اپنی مادہ کے طور پر اپنے کھونٹے سے باندھ لوں،، نیور ،،، رہ گئ بات آپ کے عمر میں کچھ بڑا ھونے کی تو بحیثیت مسلمان ھمیں اس بات کو کبھی ڈسکس ھی نہیں کرنا چاھئے ،کیونکہ یہ تو ھمارے نبی پاک کا اسوہ ھے ! اپنی بات ختم کر کے فرحان نے ایک گہری سانس لی گویا کوئی بوجھ اس کے سر سے اتر گیا ھو ! طیبہ نے اب ایک عورت کی نظر سے فرحان کو دیکھا ،، وہ ایک خوبصورت اور باوقار نوجوان تھا جس کے چہرے پہ ھلکی ھلکی داڑھی کے پس منظر میں معصوم مگر اداس چہرہ بہت پرکشش نظر آرھا تھا،، تو آپ باز آنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے ؟ طیبہ نے ھلکی سی مسکراھٹ کے ساتھ کہا،، تو آواز کی ٹون اور لہجے کی تبدیلی نے مایوس بیٹھے ھوئے فرحان کو چونکا دیا ! اس نے بے ساختہ طیبہ کی طرف دیکھا اور پھر وھی ھوا جو پہلے دن کلاس روم میں ھوا تھا،، وہ بس دیکھتا رہ گیا اور طیبہ مسکراتی ھوئی دھیرے دھیرے باھر کی طرف چل دی ! باھر بیٹھی دیبا کا دوپٹہ بھیگ چکا تھا اور وہ دونوں ھاتھ آسمان کی طرف اٹھائے ، اللہ کا شکر ادا کر رھی تھی ! طیبہ نے انہیں پکڑ کر اٹھایا اور گلے سے لگا لیا ! ھفتے کے اندر اندر شادی ھو گئ ! باراتیوں کا رش کم ھوا تو دیبا ، فرحان کو ساتھ لے کر عجلہ عروسی کے دروازے تک آئی اور اسے وھاں چھوڑ کر اس کا ماتھا چوم کر چلتی بنی ! فرحان تھوڑی دیر اپنے حواس درست کرتا رھا ،پھر اس نے دروازے کو ھلکا سا دھکا دیا تو وہ کھلتا چلا گیا ! مـِـس ! فرحان نے آئستہ سے کہا ! شاید سنا نہیں گیا تھا یا سننے والی کو یقین نہیں آرھا تھا ،، مِس ! دوسری دفعہ کہا گیا اور گونگھٹ کے پیچھے سے اک شرمیلی سی آواز نے کہا ” yes ” فرحان اندر داخل ھوا اور دروازہ آئستہ سے لاک کر دیا،، زندگی بند درازوں کے پیچھے ھی جنم لیتی ھے !! اگلے ھفتے طیبہ کے والد صاحب کا آپریشن کرایا گیا جو کامیاب رھا ،، ایک ماہ کے اندر اندر وہ چلنا پھرنا شروع ھو گئے تھے !ایک واقف کی سفارش سے وہ نوکری پر بھی بحال ھو گئے تھے ! فرحان نے کویت آ کر تین ماہ کے اندر طیبہ کو بھی بلوا لیا تھا،، آج کل فرحان اپنے دو بیٹوں اور ایک بیٹی کے ساتھ ابوظہبی مقیم ھیں جہاں وہ ابوظہبی کی پٹرولیم کمپنی اڈناک میں چیف انجینئر ھیں ،، بچے بہترین اداروں میں آخری سالوں میں ھیں ،، مگر سب سے عجیب بات یہ ھے کہ فرحان آج بھی طیبہ کو مس ھی کہتا ھے،،

ھم تو قفس میں کاٹ چکے دن بہار کے

ھم تو قفس میں کاٹ چکے دن بہار کے ! April 18, 2014 at 5:41pm اگست کی تپتی دوپہر ، تندور کی طرح لـُـو کی لپٹیں اٹھاتی گلیوں میں سے وہ دوڑتا ھوا ماں کے پاس پہنچا جو ایک تالاب پر کپڑے دھونے آئی ھوئی تھی ! امی ، امی ابو کا خط اس نے … Read more

نکاح کی کم سے کم عمر اور قرآن !

April 11, 2014 at 9:34pm

وسعت اللہ خان کا وہ سوال جس کے جواب کے بعد ان کی طرف سے کیئے گئے باقی ضمنی سوالات کی ضرورت ھی نہیں رھتی،،مندرجہ ذیل ھے !!

سوال !

کچھ عرض کرنے سے پہلے یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ ایک عام سے مسلمان کی طرح میں بھی دین کے بنیادی اصولوں سے واقف ضرور ہوں مگر ان کی باریکیوں اور شرح سے نابلد ہوں۔چنانچہ اسلامی نظریاتی کونسل کے واجب الاحترام علمائے کرام سے بلا تخصیصِ فرقہ و فقہ رہنمائی کا طلب گار ہوں۔ A-کیا شادی کے لیے لڑکے اور لڑکی کی کم ازکم عمر متعین ہے یا پھر اس بارے میں احکامات ِشرعیہ کا لبِ لباب یہ ہے کہ جنسمانی بلوغت کا معلوم ہوتے ساتھ ہی لڑکے لڑکی کا نکاح پڑھا دیا جائے یا پھر مراد یہ ہے کہ شادی کے لیے جسمانی بلوغت کی شرط لازم ہے ؟ A/1 -کیا نکاح کے لیے جسمانی بلوغت کو ہی معیار بنایا گیا ہے یا ذہنی بلوغت کو بھی اس ضمن میں ضروری اہمیت دی گئی ہے ؟ اگر ایسا ہے تو پھر جس طرح جسمانی بلوغت کا ایک پیمانہ رکھا گیا ہے کیا ذہنی بلوغت کا بھی کوئی پیمانہ مقرر ہے کہ جس پر پورا اترے بغیر شادی میں جلد بازی نہ کی جائے ؟ اور یہ کہ شادی کے لیے لڑکے اور لڑکی کی رضامندی سے کیا مراد ہے ؟ کیا یہ رضا مندی بلا دباؤ ہونی چاہیے ؟ اگر ہاں تو پھر جبری رضا مندی اور اس کے نتیجے میں ہونے والے نکاح کے بارے میں شرعی احکامات کیا ہیں ؟ اور شرعاً ایک لڑکے اور لڑکی کو عمر کے کس دور سے باہوش و حواس عاقلانہ و آزادانہ فیصلہ کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرنے کے قابل سمجھا جا سکتا ہے لیکن اگر محض جسمانی بلوغت ہی نکاح کا پیمانہ ہے تو ایسے بچے جو روزمرہ ضروریات یا حصولِ تعلیم یا کسی اور سبب والدین یا رشتے داروں کے زیرِ کفالت ہیں ان کی بعد از نکاح کفالت کے تقاضوں کے بارے میں کیا احکامات ہیں ؟ کیا جسمانی بلوغت کے فوراً بعد شادی شدہ زندگی کا معاشی بار وہ خود اٹھائیں گے یا اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے تک یہ ذمے داری والدین اور دیگر رشتے داروں پر عائد ہوگی ؟ الجواب ! حامداً و مصلیاً !! گزارش یوں ھے کہ یہ کس طرح ممکن ھے کہ ایک ایسا دین جو رھتی دنیا تک کے لئے آخری دین ھے ،، اور ایک ایسی کتاب جو انسانیت سے اللہ پاک کا آخری خطاب ھے ،،وہ اللہ جو آنے والے زمانوں سے بھی اسی طرح واقف ھے جس طرح گزرے زمانوں سے واقف ھے،، جس کے لئے آنے والا مستقبل بھی ویسا ھی اٹل اور دو ٹوک ھے،، جس طرح گزرا ماضی !! وہ اللہ ایک ایسے معاملے میں جو کہ ھر گھر کا ، ھر فرد کا اور ھر روز کا معاملہ ھے ،،کوئی واضح ھدایت نہ دے ،، اور معاملہ بھی وہ جس پر نوع انسانیت کی بیخ و بنیاد رکھی گئ ھے ! اللہ پاک نے یہ مسئلہ سورہ النساء کی ابتدا میں ھی حل کر دیا ھے اور اس شان سے بیان کیا ھے اور اتنے ذومعنی الفاظ استعمال فرمائے ھیں کہ ان میں ھر اس سوال کا جواب دے دیا گیا ھے کہ جو کسی عاقل شخص کے ذھن میں پیدا ھو سکتے ھیں ! اورجو ایک ایک کر کے وسعت اللہ خان نے پوچھے ھیں ! سب سے پہلی بات یہ کہ اللہ پاک نے وراثت کی تقسیم کی عمر کا پیمانہ نکاح کی عمر کو بنایا ھے کہ !! یتیموں کو تقسیم وراثت سے پہلے آزماتے رھو یہانتک کہ وہ ” نکاح کی عمر ” کو پہنچ جائیں ! (سورہ النساء 6 ) اگر نکاح کی عمر ھی نامعلوم تھی اور معاشرے میں کسی کو پتہ ھی نہیں تھا کہ "کم سے کم "نکاح کی عمر کیا ھے تو اللہ پاک کا اس کو پیمانے کے طور پر استعمال کرنا ” چہ معنی دارد ؟” اللہ کوئی پاکستان سے تو سعودیہ نہیں گیا تھا کہ وہ وھاں کے معاشرتی حالات کو نہیں جانتا تھا ،، نیز اس پر بہت سارے سوال آنے چاھیئے تھے کہ جناب یہ نکاح کی عمر کتنے سال سے شروع ھوتی ھے ؟ اور جب اس بارے میں کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا تو اس کا مطلب یہ ھے کہ یہ عمر لوگوں میں اتنی معروف تھی کہ اللہ نے اسی کو پیمانہ ٹھہرایا ! پھر لفظ بلوغ اور بالغ بھی اسی وجہ سے مستعمل ھے کہ کسی کا کسی مقصد یا مطلوب تک پہنچ جانا ،،، اور وہ مقصود یا مطلوب یا منزل معلوم ھونا ضروری ھے ! مثلاً حتی یبلغ الھدیُ محلہ ” یہانتک کہ ھدی یعنی قربانی اپنے محل کو پہنچ جائے ! یعنی حلال ھونے کی جگہ پہنچ جائے ،، اب یہ ھی معلوم نہیں کہ قربانی کا محل کیا ھے تو ساری زندگی بکرا ساتھ لئے پھرتے رھو ؟ یا جہاں چاھے حلال کر دو ؟ گویا بلوغ کے لئے منزل کا معلوم ھونا ضروری ھے،، احرام میں جانور کے قتل کرنے پر کفارے میں ویسا ھی جانور کا کعبے پہنچا کر ذبح کرنا ضروری ھے،، الفاظ استعمال فرمائے ” ھدیاً بالغ الکعبۃ،، وہ ھدی جو کعبہ پہنچائی جائے ،، اب کعبہ ھی نامعلوم ھو گا تو انسان اس جانور کو لئے بھٹکتا رھے گا ! بایں معنی اللہ پاک کا یہ فرمانا کہ حتی اذا بلغوا النکاح ” یہانتک کہ وہ یتیم نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں ،،اتنا ھی معلوم تھا جتنا قربانی کے لئے منی اور کعبہ معلوم تھے،، اگر ان میں کوئی شک نہیں تھا تو نکاح کی عمر میں بھی کوئی شک نہیں تھا ! پھر نکاح کی عمر آخری حد ھے ! یتیموں کے عقل و فراست اور رشد و ھدایت کا امتحان اور ٹیسٹ اس سے پہلے لیتے رھنا ھے ،،جب ان میں عقل و فراست اور معاملہ فہمی معلوم ھو جائے تو ان کا مال اسی وقت ان میں بانٹ دینا چاھئے ،، مگر نکاح کی عمر تک پہنچ کر تو ھر حال میں ان کو سونپ دینا چاھئے ! پہلے اس آیت کا انگریزی ترجمہ پڑھ لیجئے تا کہ بات مزید واضح ھو جائے پھر بقیہ نکات کی طرف چلیں گے ! Make Trail of Orphans until they reach the Age of marriage, If then you find sound judgement in them,release their property to them,( al,nisaa-6 ) translation of Abdulla Yousaf, اس آیت کے تحت حاشیہ نمبر 512 میں وہ لکھتے ھیں ! the age of marriage is the age when they reach their majority, سید ابوالاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے ترجمے میں کچھ یوں ھے ! and go Observing and Testing The Orphans until they reach the marriageable age , then if you Perceive That They have become capble,, اسی آیت کی تشریح میں حاشیہ نمبر 4 میں وہ لکھتے ھیں ! That is ” when they approaching puberty,keep an eye on them to assess their mental development in Order to see how Far they are becoming responsible and capable of managing and looking After their own affairs, اس انگریزی ترجمے اور پھر تشریح کو آپ پڑھیں گے تو آپ کو نکاح کی عمر اور عقلی بلوغت کی شرائط صاف صاف نظر آئیں گی اور ان سارے سوالوں کا جواب صرف اس ایک آیت کے ترجمے پر غور کرنے سے ھی مل جاتا ھے ! پھر اللہ پاک نے وراثت اور نکاح کی عمر کو اس طرح جوڑا ھے کہ اللہ پاک کی حکمت پر دل عش عش کر اٹھتا ھے ! وراثت ذمہ داریوں کا سلسلہ ھے،، اھم فیصلے لینے کا معاملہ ھے،، یہ ایک مردے کی اتاری ھوئی قمیص سے شروع ھوتا ھے اور لاکھوں کروڑوں کی جائداد تک جاتا ھے،،کون کس طرف والی دکانیں لے گا،، کون کسی حصے کو لے کر باقی سے دستبردار ھو گا،، یہ سب فیصلے عقل و شعور کے طالب ھیں،، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ھے کہ علم الفرائض یعنی وراثت کا علم دین کے علوم کے تین حصے ھیں ! ( میرا تخصص وراثت ھی ھے ) باقی سارے علوم چوتھا حصہ ھیں ،، اسی طرح نکاح کا معاملہ بھی کئ زندگیوں اور نسلوں کا معاملہ ھے یہاں نہایت سوچ سمجھ کر اور مشورہ کر کے فیصلے لینے ھوتے ھیں ! ایک چھ سالہ لڑکی اپنے باپ کی اتاری گئ قمیص کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں لے سکتی جب تک کہ وہ نکاح کی عمر کو نہ پہنچ جائے تو اپنی اور اپنی نسلوں کی زندگی کا فیصلہ کیسے کر سکتی ھے ؟ وراثت کے تین فرض ھیں یا تین شرطیں ھیں ! 1- وجود الکل،، سارے وارث موجود ھوں یعنی زندہ ھوں ! 2- بلوغ الکل ،، سارے وارث بالغ ھوں ،،ایک کے نابالغ ھونے کی صورت میں بھی وراثت کی تقسیم رک جائے گی ! 3- رضا الکل- کسی بھی تقسیم میں سب کی رضا شامل ھو، ایک بھی راضی نہ ھوا تو تقسیم رک جائے گی ! مردے کی جو قمیص یا بنیان اتاری جاتی ھے وہ بھی جس کو دینی ھے، چاھے امام صاحب کو صدقہ کی جائے یا مسجد کے پانی بھرنے والے کو ،،یہ سب کی رضا سے ھو گا ! اگر بچی اپنے والد کی قمیص نشانی کے طور پر لینا چاھتی ھے تو اسے صدقہ نہیں کیا جا سکتا ! یاد رکھئے کہ یتامی صرف لڑکے نہیں لڑکیاں بھی یتیم ھیں اور ان کا بھی ٹیسٹ اور امتحان لیا جاتا رھے گا جب تک کہ وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں،، جیسا کہ قرآن کا حکم ھے،، اب کیا کوئی چھ سال کی بچی جائداد کی وارث بن سکتی ھے ؟ اگر نکاح چھ سال کی عمر میں ھو گیا ھے تو پھر طے ھو گیا کہ جائداد کی تقسیم کی عمر چھ سال ھے ؟ میں نے پانچ سال ایک لڑکی کی وراثت کا کیس گجرات کچہری میں لڑا ھے،، ایک پلاٹ لیا گیا تھا روات پولیس ھاؤسنگ اسکیم میں 90 ھزار کا ،، لڑکی کا والد فوت ھو گیا تھا،، پلاٹ نام لگوانے کے لئے لڑکی کا consent درکار تھا،،جج صاحب مان نہیں رھے تھے،، بچی کی شادی 13 سال کی عمر میں کر دی گئ اس کے دو بچے ھو گئے ،، 2 بچے بھی ثبوت کے طور پر ساتھ لے کر عدالت میں پیش کر دی کہ جج صاحب یقین کر لو ” کُڑی ” بالغ ھو گئ ھے،مگر جج صاحب نے 16 سال پورے کر کے ڈگری دی ، اس دوران وہ پلاٹ 10 لاکھ کا ھو چکا تھا،، جو کہ منت ترلا کر کے 5 لاکھ ادا کر کے نام لگوایا گیا ! جن لوگوں نے بھی قرآن کے اس واضح حکم کو گڈ مڈ کیا اور خود بھی مخمصے میں پڑے اور پوری امت کو بھی مخمصے میں ڈال رکھا ھے ،، انہوں نے صرف ایک حدیث کی بنیاد پر قرآن کو مفلوج کر کے رکھ دیا ھے ! اور طے نہیں کر پا رھے کہ نکاح کی کم سے کم عمر کیا ھے ! ان کے نزدیک اس حدیث کی بنیاد سے ثابت ھوتا ھے کہ قرآن کے اس حکم کی سب سے پہلی اور آخری خلاف ورزی ( معاذاللہ ) اللہ کے رسول ﷺ نے ھی کی ھے ،، اس کے بعد پوری 1434 سالہ اسلامی تاریخ میں کوئی اور مائی کا لعل یہ کارنامہ سرانجام نہیں دے سکا ! نہ خود عمل کرتے ھیں اور نہ اس کو قرآن پر پیش کر کے رد کرتے ھیں،، یہ ان کے گلے کا چھچھوندر بن کر رہ گئ ھے ،، حدیث قرآن کو ماننے نہیں دیتی اور ضمیر اس حدیث پر عمل نہیں کرنے دیتا ! اب ولی کے کندھے پر بندوق رکھی گئ کہ جناب ولی تو بالغ ھوتا ھے لہذا وہ اپنی بیٹی کا نکاح جب چاھے کر سکتا ھے !( جیسا کہ ابوبکر صدیقؓ نے اپنی بیٹی کا چھ سال کی عمر میں کر دیا ، یہ عرب کی تاریخ میں پہلا اور آخری ولی تھا جس نے یہ کام کیا ،، آج تین تین من کی چلتی پھرتی لاشیں جن کی ڈگریوں کے لئے بینر چھوٹے پڑ جاتے ھیں ،،پتہ نہیں کیوں ایسے فیصلے نہیں کرتے اپنی بیٹیوں کے بارے میں ؟؟) خیر یہاں بھی ان کو چین نہیں آیا کیونکہ یہاں دوسری حدیث یہ کہہ رھی ھے کہ ایک لڑکی نے نبی کریمﷺ سے آکر شکایت کی کہ میرے والد نے میری مرضی کے خلاف میرا نکاح اپنے بھائی کے بیٹے کے ساتھ کر دیا ھے،،جس پر آپ نے اس کے والد کو بلا کر تحقیق کی اور پوچھا کہ تم نے بیٹی سے پوچھے بغیر اس کا نکاح کر دیا ھے ؟ اس نے کہا کہ بیٹی سے پوچھنے کی بھلا کیا ضرورت تھی ؟ میں اس کا باپ ھوں ! آپ ﷺ نے رخِ انور لڑکی کی طرف پھیرا اور فرمایا کہ اگر تجھے قبول ھے تو یہ نکاح ھے اور اگر قبول نہیں ھے تو اس نکاح کی کوئی حیثیت نہیں ھے ! حضور ﷺ نے فرمایا ” کنواری سے اذن لیا جائے گا اور بیوہ یا مطلقہ اپنے آپ کی خود مالک ھے ” پوچھا گیا اللہ کے رسولﷺ کنواری تو شرماتی ھے ،، فرمایا اس کی خاموشی اس کا اذن ھے ! جب ثابت ھو گیا کہ اب لڑکی سے پوچھے بغیر چارہ کوئی نہیں ،، اور پوچھنا بھی اس وقت ھے جب بچی زندگی کا فیصلہ کرنے کا شعور پا چکی ھو تو اب اک نیا ضابطہ بنایا گیا جس میں لڑکی کو خواہ مخواہ  افراتفری میں ڈالنے کی کوشش کی گئ کہ ” لڑکی نے اگر مکرنا ھے تو حیض آنے کے بعد اگلی نماز کے وقت تک مکر سکتی ھے ،، اس کے بعد اس کے مکرنے کی کوئی حیثیت نہیں ھو گی ،، دوسرے صاحب نے مہربانی فرما کر حیض کے بعد پانچ نمازوں کا وقت دیا کہ ان کے اندر اندر مکر لے اگر مکرنا ھے ! مسئلہ یہ ھے کہ انسانیت کے خیر خواھو ! یہ حق آپ کو کس نے دیا ھے کہ آپ لڑکی کو ٹائم فریم دو کہ وہ زندگی بھر اور آنے والی نسلوں کا فیصلہ گھنٹے دو گھنٹے میں کر لے ؟ کیا قرآن میں کوئی ایسا حکم آیا ھے ؟ یا اللہ کے رسولﷺ نے کوئی ایسا حکم دیا ھے ؟ صرف اللہ کے رسول ﷺ سے دلیل نہیں مانگی جائے گی ،،باقی سب سے دلیل مانگی جائے گی چاھے وہ عمر ابن الخطاب ھی کیوں نہ ھوں جن سے بر سرِ منبر دلیل طلب کی گئ ! جب اللہ کے رسول ﷺ کی عدالت میں لڑکی نکاح کا شکوہ کرنے آئی تھی تو کیا ،اللہ کے رسول ﷺ نے اس سے پوچھا تھا کہ تمہیں حیض آیا ھے یا نہیں اور آیا ھے تو کتنی نمازیں گزری ھیں ؟ پھر جب فیصلہ اس بچی نے ھی کرنا ھے تو ولی کیوں تتے توے پر کھڑا ھے؟ ،اسے جوان ھو لینے دے باپ بیٹی مشورے سے فیصلہ کر لیں گے ! اس کے لئے پھر ایک دلیل بیع و شراء سے لائی گئ! سودا کرنے والے مجلس برخواست ھونے تک مکر سکتے ھیں،جب مجلس برخواست ھو گئ تو پھر مکرنے کا اختیار ختم ھو جاتا ھے،، یوں نکاح کو خرید و فروخت پر قیاس کر کے لڑکی کے لئے ٹائم فریم طے کیا گیا ! کسی کے نزدیک چونکہ اذان کے بعد مجلس برخواست ھو جاتی ھے تو نماز سے نماز تک کا وقت مجلس کا ٹائم سمجھ کر حاتم طائی کی قبر پر لات مار کر لڑکی کو دے دیا گیا کہ ھمارے نماز پڑھ کر آنے سے پہلے پہلے مکر لو ،، ھم آ گئے تو تیری مہار دوسرے کے ھاتھ میں پکڑا دیں گے ! ھوئے مر کے ھم جو رسوا ! ھـوئے کیــوں نہ غــرقِ دریا ! نہ کــــوئی جــــــنازہ اٹھتا ! نہ کہــــــــیں مــــــزار ھوتا ! اس کو کہتے ھیں دین کی مردانہ توجہیہ یا Interpretation