Home / History / Biography / غریب کی جورو سب کی بھابھی

غریب کی جورو سب کی بھابھی

مولوی یا غریب کی جورو

November 29, 2013 at 10:14pm

کچھ لوگ ھوتے ھیں مگر مسلمان ھو کر مولوی پر احسان کرتے ھیں،، وہ چاھتے ھیں کہ مولوی ان کو مسلمان رکھنے کے لئے،ھمیشہ دوڑ دھوپ کرتا رھے،اور ان کی مسلمانی کی قوتِ باہ کو بڑھانے کے لئے سانڈھے کا تیل اور سلاجیت بھی فراھم کرتا رھے،،مسئلہ پوچھیں گے تو انداز کچھ ایسا ھو گا جیسے نالائق بچہ سکول جانے سے بچنے کے لئے کوئی نہ کوئی بہانہ تلاش کر رھا ھوتا ھے،، قرآن ان کی نفسیات بتاتا ھے کہ،،یمنون علیک ان اسلموا ،، اے نبیﷺ یہ اپنے لانے کا آپ کو احسان جتلاتے رھتے ھیں،، قل لا تمنوا علی اسلامکم،،ان سے کہہ دیجئے اپنے اسلام کا میرے پر احسان مت دھرو،، پھر جواب میں چاپلوسی بھی درکار ھوتی ھے کہ جب تک ان کو راجہ صاحب،،چودھری صاحب نہ کہا جائے، جواب سے خوش نہیں ھونگے بلکہ ان کے الفاظ نہیں ھوتے بلکہ کسی گلوکارہ کے گانے کے بول ھوتے ھیں،، میرا دل چناں کچ دا کھلونا تے ویکھیں اینہوں توڑ نہ دیویں،، ھـــــــــــــــــــــوووووووو ! فوراً کہہ دیں گے ایک تو آج کل کے مولویوں نے خراب کر کے رکھ دیا ھے،،ایمان نہ ھوا چوسنی ھو گئی جو مولوی ھر وقت ان کے منہ میں دے کر رکھا کریں،، میری مسجد میں 24 صفیں ھونے کے باوجود تراویح میں لوگ باھر بھی صفیں لگاتے تھے،، ایک دن ایک سری لنکن ھاؤس میڈ اپنے جنپر چولے میں ( جسے غالباً اسکرٹ کہتے ھیں ) گزر رھی تھی،پاس سے گزری تو ایک صاحب نے ھاتھ تکبیرِ تحریمہ کے لئے اٹھائے ھوئے تھے کہ نظر پڑ گئ،، جب تک وہ سری لنکن لیڈی پاکستان سنٹر کی باؤنڈری کا موڑ مڑ کر اوجھل نہیں ھوئی ان صاحب نے نہ تو اللہ اکبر کہی اور نہ ھی ھاتھ نیچے کیئے،،جونہی وہ نظر سے اوجھل ھوئی وہ ٹرانس سے نکلے اور ایک نعرہ مستانہ مارا ،، بے غیرت ھمارا ایمان خراب کرنے آتی ھیں،الــلـــہُ اکــــــــــــــــــــــــــبر ! بالکل اسی طرح ان احسان جتانے والوں کا ایمان صرف مولوی کے ھاتھ سے خراب ھوتا ھے، کیونکہ وہ یہ ایمان مولوی کے لاکر میں جمع کرا دیتے ھیں، تا کہ خراب ھو تو مولوی کے ھاتھ سے ھو،،اور وہ قیامت کے دن مولوی کو ذمہ دار ٹھہرائیں،، یہ لوگ چاھتے ھیں کہ ان کی طرف سے مطالعہ بھی مولوی کرے اور پھر جب ان کو کی کوئی بات بتائے تو یہ اس کو پیار سے کہہ سکیں،، چل جھـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــوٹے ! مولوی حضرات “غریب کی جورو ” کا کام بھی آسانی سے کرتے ھیں،، جس کو بیوی پہ غصہ آئے وہ پہلی فرصت میں مسجد پہنچ جائے اور جماعت سے پہلے پریشر بناتا رھے ،جیسے موٹر مکینک کی دکان کا چھوٹو کھڑے موٹر سائیکل کو ریس دیتا رھتا ھے،، جونہی جماعت ختم ھو آپ کسی چیز کو بھی بہانہ بنا کر اس کی بے عزتی کر سکتے ھیں،،بلکہ اس میں جلدی کرنی ھو گی ورنہ دوسرے نے بےعزتی کرنی شروع کر دی تو آپ والی بے عزتی اگلی تک باسی ھو جائے گی ! عشاء کی نماز کے بعد درسِ قرآن تھا، لالٹین کی ھلکی ھلکی روشنی میں ماحول ویسے بھی کچھ خوفناک لگ رھا تھا اوپر سے مولوی جعفر حسین صاحب کا درس اور انداز دونوں بہت خوفناک تھے،جہنم کی سزاؤں کا ذکر اتنی تفصیل سے کر رھے تھے کہ ،، ادھر انہوں نے تھوڑا سا سانس کا وقفہ لیا اور ادھر ایک 11 یا 12 سال کے بچے کا وضو ٹوٹ گیا،، آواز بھی کچھ اتنی رونے والی تھی کہ مجمع مزید غمزدہ ھو گیا،مگر لڑکے کا باپ بپھر کر کھڑا ھو گیا،، اس نے کہا بس وی کر اوئے مولوی میرا پتر مارنے لگے ھو ! گویا وضو ٹوٹنے کا ذمہ دار بھی مولوی ھو گیا ! لوگ سمجھتے ھیں کہ مولوی ھونا خالہ جی کا گھر ھے،،بھائی جس کو گھر والی دوسری بار دال نہیں دیتی وہ بھی مولوی صاحب کو اپنا سمجھتا ھے،، ھمارے مرحوم عاشق نمبردار صاحب تو مسجد مین گھستے ھی جونہی مولوی صاحب کو رکوع میں دیکھتے تو نعرہ مارتے ” مولوی جی اوکڑے رھویئے ” مولوی جی جھکے رھنا،، اب مولوی صاحب اٹھ کے دکھائیں ! وہ پاز موڈ میں چلے جاتے،،

 

تو کچھ لوگ جن کی ذھنیت ابھی تک پینڈو ٹائپ ھے وہ فیس بک پر آ کر بھی مولوی کو اپنا کمی ھی سمجھتے ھیں،،

 

کوئی بتائے کہ ھم جائیں کہاں ؟؟

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *