Home / Humanity / دین

دین

المیہ در المیہ !!
آج کے انسان کی عقل سابق انسانوں سے زیادہ اور جامع ھے ، وہ ان علوم سے واقف ھے جن کا پچھلے تصور بھی نہیں کر سکتے تھے ، اس کے پاس پچھلوں کا علم بھی ھے اور خود اپنا بھی ھے ، وہ پہاڑ پہ کھڑے ایک شخص کی طرح ھے جو دونوں طرف دیکھ رھا ھے ، وہ پچھلوں کے علوم ایک ھارڈ ڈسک کی صورت جیب میں لئے پھرتا ھے ، آج اس پر سچ اور جھوٹ پچھلوں کی نسبت زیادہ واضح ھے اور جرأت بھی پچھلوں سے زیادہ ھے ،رہ گئ بات گناھوں کی کثرت کی تو گزارش ھے کہ معصوم صرف نبی ھی ھوتا ھے ،، گناہ ھر زمانے میں رھا ھے ، یہ الگ بات ھے کہ مقدس لوگوں کے گناہ بھی مقدس ھوتے ھیں ،، آج بھی پرانے لوگوں سے زیادہ نیک لوگ ھیں جو کروڑوں اور اربوں کے مدرسے بنا کر دیتے ھیں ،طالبِ علموں کو گوشت کھلاتے ھیں ،اگر ایسے نیک لوگ پہلے زمانوں میں ھوتے تو امام بخاری اور دیگر ائمہ کو گھاس نہ کھانی پڑتی ،کوئی تو بتلائے کہ پچھلوں میں کوئی ملک ریاض کی طرح دیالو اور سخی شخص بھی تھا ؟ ملک ریاض پچھلے زمانے میں ھوتا تو صحاحِ ستہ کا راوی ھوتا ،، اگر کچھ لوگ یہ چاھتے ھیں کہ پرانے نیک بزرگوں کی لاشیں حنوط کر کے رکھ لی جائیں اور ان پر ان کی روحیں حاضر کر کے انہی نیک بزرگوں سے مسائل کا حل اور استنباط کرایا جائے تو یہ دین کے ساتھ تمسخر کے سوا کچھ نہیں ائمہ اربعہ سے پہلے قدیم بزرگ بہت سارے گزرے تھے ،،مگر ائمہ اربعہ ان سب کی فقہوں کو کھا گئے ، آج کسی صحابی کے نام پر کوئی فقہ نہیں اور کوئی نہیں کہتا کہ صحابہ چونکہ ائمہ اربعہ سے زیادہ نیک اور نبی ﷺ کے قریب تھے لہذا فقہ ان کے نام پر رجسٹر کی جانی چاھیئے ، آخر اس کی وجہ اس کے سوا اور کیا ھے کہ جن سوالوں کا سامنا ائمہ کو تھا صحابہ کے وھم و گمان میں بھی وہ نہیں تھے ،اور چونکہ ائمہ نے اس زمانے میں ان سوالوں کا حل ڈھونڈا جرأت سے کام لیا انکساری کے نام پر چلتی پھرتی ڈھائ ڈھائ من کی لاشیں نہیں بنے ،تقدس اور تقلید کے اژدھے نے انہیں نہیں نگلا اپنے اساتذہ اور شیوخ سے اختلاف کی جرأت کی لہذا وقت نے امامت کا ھار ان کے گلے میں ڈال دیا ،شافعی نے امام مالک کے احترام کے علی الرغم ان سے اختلاف کیا اور امام یوسف اور امام محمد نے ابی حنیفہ کی فقہ کو تبدیل کر کے رکھ دیا ، اس کے بعد عجمی عبقریوں نے احادیث کا ڈول ڈالا اور وہ کچھ کر دکھایا جس کو کرنے سے صحابہ بھی ڈرتے رھے ،، اس کے بعد کس کے پاس آسمانی نوٹس موجود ھے کہ اللہ نے Disable عقول والے انسان پیدا کرنے شروع کر دیئے ھیں ،، جب بھی کسی مسئلے پہ بات کی جائے تو سوال کرتے ھیں کہ ثابت کرو یہ بات پچھلوں نے کہی تھی ،، اگر پچھلوں نے کہی ھوتی تو اس کوکہنے کی ضرورت ھی کیوں پڑتی ؟ کیا امام ابوحنیفہ پر یہی الزام نہیں لگتا تھا کہ یہ احادیث کے بالمقابل اپنی آراء پیش کرتا ھے ؟ پھر اعتراض کرنے والوں کو وقت نے تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا اور امام ابوحنیفہ آج بھی سینہ تانے کھڑا ھے ،، جس قدر نقد و جرح امام ابوحنیفہ پر کی گئ ھے اور جو جو الزام ان کو دیا گیا اور جس قدر ان کو بدنام کیا گیا اتنا مواد تو مسیلمہ کذاب کے بارے میں بھی دستیاب نہیں ،، مگر تاریخ متعصب نہیں ھوتی اسی بھروسے پہ نبوت کا دروازہ بند کیا گیا تھا کہ آنے والی عقلیں اسی وحی سے اپنے مسائل کا استنباط کر لیا کریں گی ،، تقدس نے آنے والی عقلوں کو پہلوں کے آگے گروی رکھ کر بھٹے والوں کی طرح صرف انیٹیں تھاپنے پہ زور رکھا ھوا ھے اگر اپنی سوچ سے کام نہیں لینا تو سابقہ لوگوں کا ریکارڈ ھی Save کرنا ھے تو جناب پھر چھ فٹ کی چَرتی پھرتی ھارڈ ڈسک کی بجائے پلاسٹک کی چند انچ کی ڈسک کیوں نہ رکھ لی جائے جس میں نہ صرف صحاح ستہ بلکہ تاریخ بخاری کی 12 جلدیں اسماء الرجال کی ساری شرحیں اور تہذیبیں بھی سما جائیں ،
دین اور عقل !!
اللہ پاک نے جس طرح ھمارے اسلاف کو عقل سے نوازا تھا ، اسی طرح قیامت تک ھر پیدا ھونے والے انسان کو نوازتا رھے گا ،، اس کے اسٹور میں عقل کی شارٹیج نہیں ھو گئ ،، اور نہ وہ ھمارے اسلاف کا رشتے دار ھے کہ ان کو تو ایک چیز دی اور ھمیں اس سے محروم رکھا ،، امتحان عقل والوں سے ھی لیا جاتا ھے پاگلوں سے نہیں ،، ھم نے بھی اپنے آپ کو انڈر اسٹیمیٹ کیا اور ھمارے علماء نے تو ھمارا چھوڑا ھی کچھ نہیں ھے ، وہ خود بھی فیلش ڈرائیو سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے جس میں سابقہ ادوار میں لکھی گئ کتابوں کا ڈیٹا محفوظ ھے ،، اس فلیش ڈرائیو کو لیپ ٹاپ پہ کھولو ،، یا کمپیوٹر پر ، دبئ میں کھولو یا نیویارک اور ٹرانٹو میں ،، اس فلیش ڈرائیو کے Contents میں رائی کے دانے کے برابر فرق نہیں پڑتا ،، انجیکشن سے روزہ نہیں ٹوٹتا ،، جواب عالمگیری سے لکھیں گے گویا عالمگیر کے زمانے میں انجیکشن اور ویکسین دلی میں بنتے تھے ،، روزہ مرہ کے مسائل جو ھمیں پیش آتے ھیں کسی بھی عقلِ سلیم والے کو انہیں سمجھنے اور ان پر حکم لگانے میں کوئی دقت نہیں ھوتی ، دین عقل کے مطابق ھے تو ” لقومٍ یعقلون” کے لئے ھے ،، ھر انسان کی عقل کو اپیل کرتا ھے تو ھی اللہ پاک سوال کرتا ھے ” افلا تعقلون؟ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟
اب آیئے اس واقعے کی طرف جس کی وجہ سے میں نے شرابی اور پاگل کی طلاق کی بات کی ھے ،، اور ذرا بتائیے کہ آپ کی عقل اس کو سمجھنے اور حکم لگانے میں کہاں عاجز ھوتی ھے ،
ایک 24 سال کی لڑکا ھے ،انتہائی خوبصورت،نیلی آنکھیں گورا رنگ بھورے بال اور 6 فٹ 4 انچ قد ،، بالکل انگریز لگتا ھے ،،مگر اسے پاگل پن کے دورے پڑتے ھیں ، اس دورے میں وہ اپنی دکان کا سامان اٹھا اٹھا کر ھر گزرنے والے کو دینا شروع کر دیتا ھے ،، اس کے والدین لوگوں سے واپس لیتے ھیں کچھ ملتا ھے کچھ لوگ دبا لیتے ھیں ، یہ سلسلہ کوئی دو تین سال مسلسل چلتا ھے ،اس لڑکے کو زنجیروں سے باندھا بھی جاتا ھے ،جلایا بھی جاتا ھے ،لوھے کے راڈ سے مار مار کر زخمی بھی کر دیا جاتا ھے کیونکہ والدین جاھل دیہاتی ھیں وہ سمجھتے ھیں یہ مکر کرتا ھے ،انہیں ڈیپریشن نام کی کسی بیماری سے واقفیت ھی نہیں ھے ، زیادہ سے زیادہ کسی پیر کو بلا لیتے ھیں کہ اس کو جن ھے ، اور پیر صاحب اس کو گرم لوھے سے جلا کر جن بھگانے کی سعی نامشکور فرماتے ھیں ،، اسی دورے کے دوران جبکہ وہ دکان کا سامان اٹھا اٹھا کر لوگوں کو دے رھا تھا ، اس کی 20 سالہ بیوی نے اسے روکنے کی کوشش کی جس پر اس نے اسے بول دیا کہ تمہیں تو طلاق ھے ،،
مولوی صاحب نے گواھوں سے پوچھ کر طلاق کنفرم کر دی ،، جبکہ دورے کی کیفیت ختم ھو جانے کے بعد لڑکا قرآن اٹھا کر کہتا ھے کہ اسے یاد ھی نہیں کہ اس نے بیوی کو طلاق دی ھے ،، لڑکی کے والدین فتوے کی بنیاد پر نہ صرف لڑکی واپس نہیں بھیجتے بلکہ اسے آگے بیاھنے کی تگ و دو میں لگ جاتے ھیں ،، چھ ماہ کی مسلسل کوشش کے باوجود جب لڑکی والوں نے لڑکی واپس نہیں بھیجی تو اس نے اپنے گلے میں رسہ ڈال کر خود کو کیکر کے درخت سے لٹکا لیا ،،،،،،،،،،، اگلے دن اس کی لاش ملی ،، اور اس کی والدہ نے صدمے سے زھریلی گولیاں کھا کر خود کشی کر لی ،،،،،،،، اب آپ حضرات عقل سے کام لیجئے ،، اسے ڈبل کلک کر کے پوچھئے کہ اس مولوی کو اس کے پاگل پن کی گواھیاں لینی چاھئیے تھیں جیسا کہ نبئ کریم ﷺ کیا کرتے تھے یا طلاق کی گواھیاں لینی چاھئے تھیں ؟؟؟

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *