Home / Humanity / Empathy Trap Victims

Empathy Trap Victims

ایک تو ھوتا ھے کسی سے کسی واقعے یا بیماری یا حادثے پر ھمدردی کرنا ، ھمدردی کا اظہار کرنا ، ھمدردی محسوس کرنا ،، اس کو ” سِمپیتھی ” کہتے ھیں ،،،،،، مگر ایک ھوتا ھے کہ وہ کیفیت جو کسی پہ گزری ھے وہ خود آپ پہ گزر جائے ،، کسی کا جوان بچہ کسی حادثے یا بیماری میں فوت ھو گیا ،، تو آپ نے وھی دکھ محسوس کیا جو اس کے والد یا والدہ نے محسوس کیا ،، اگر کسی کا بچہ یا شوھر یا بیوی پیسہ نہ ھونے کے سبب تڑپ تڑپ کر اس کے سامنے اللہ کو پیارا ھو گیا اور آپ نے اسے بالکل اپنے ذاتی دکھ کی طرح محسوس کیا ،،،،،،،،،،،،،، اس کو “Empathy ” کہتے ھیں ،،،، جو کہ ایک حد تک تو شاید قابلِ تعریف ھے مگر حقیقت میں یہ ایک بیماری ھے ، جو انسان کے دل و دماغ کو گھن کی طرح کھا کھا کر مار دیتی ھے ،،،
ایک دل پہ بس اپنا ایک دکھ وارد ھوتا ھے ، اور وہ دکھ اس کی استطاعت کے مطابق ھوتا ھے یہ اللہ پاک کا وعدہ ھے ،یعنی پہلے اس کے قلب کو مطلوبہ Amperes فراھم کیئے جاتے ھیں پھر مصیبت نازل ھوتی ھے ، جبکہ چونکہ وہ میرا دکھ نہیں لہذا مجھے وہ ایمپیئرز سپلائی نہیں کیئے جاتے ،چنانچہ جب میں اسے اپنے اوپر وارد کرتا ھوں تو قلب پر زیادتی کرتا ھوں اور اس پہ وہ بوجھ ڈالتا ھوں جو اس کی استطاعت سے بڑھ کر ھے ، پھر جب پانچ دس بارہ چودہ لوگوں کے دکھ ڈال دیتا ھوں تو خود بھی ھر وقت فرسٹریشن کا شکار رھتا ھوں اور اپنے گھر میں ھر ایک کو مارنے کو دوڑتا ھوں کہ
” اے کمبختو نہ چھیڑو ، نہ چھیڑو –
ھم جہاں کے ستائے ھوئے ھیں !
اسی کا رونا ساغر صدیقی نے بھی رویا ھے کہ ؎
دل ملا اور غم شناس ملا ،،،،،
پھول کو آگ کا لباس ملا ،،،،
اللہ پاک نے بھی اپنے نبئ ﷺ کو بڑا غم شناس اور رحیم و کریم قلب عطا فرمایا تھا جو ھر ایک کے دکھ کو اپنا دکھ بنا لیتا تھا ،، اور کسی کے مستقبل میں پیش آنے والے حالات کو اپنے حال میں محسوس کر لیتا تھا ، آپ ﷺ کا اپنے اعزاء و اقارب کا کفر پہ جمے رھنا اور پھر اس کے نتیجے میں آخرت کے اھوال کا ان پہ نازل ھونا گویا آپ اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے ،سسکتے تھے اور غمگین رھا کرتے تھے ، جس سے اللہ پاک نے قرآنِ حکیم میں آپ کو بار بار منع کیا کہ ، اس طرح گھُل گھُل کر آپ کی جان چلی جائے گی ،،
جب آپ کسی کی کوئی مدد بھی نہ کر سکیں پھر ھر ایک کے دکھ بھی لادتے چلیں تو نتیجہ نفسیاتی بیماری کی صورت میں نکلتا ھے ، اور انسان Sadist ھو جاتا ھے ،، وہ ھنسنے کھیلنے والوں کو بھی بے رحم اور مجرم سمجھنا شروع ھو جاتا ھے ، ھنستے لوگ اسے اچھے نہیں لگتے چاھے وہ گھر کے بچے ھی ھوں ،،،،،،،
اللہ پاک نے یہ دنیا دکھ اور سکھ سے آزمانے کے لئے بنائی ھے ،، آپ جتنی مدد کر سکتے ھیں بس اتنا ھی آپ کا امتحان ھے ،، اس سے زیادہ اپنے اوپر لادنا اپنے آپ سے زیادتی ھے ،،
اگر آپ صحتمند اور خوشگوار زندگی گزارنا چاھتے ھیں تو ،،،،،،،،
Never Be Victim Of empathy,s trap
شوھر پریشان ھے کہ گھر میں صورتحال ٹھیک ٹھاک ھے ،جاب کو کوئی خطرہ نہیں ، ابھی پچھلے ھفتے ھی گفٹ میں نیکلس لے کر دیا ھے ،بچے صحتمند ھیں ،خرچہ پورا ھے ، ابھی آؤٹنگ کر کے واپس آئے ھیں ،سسرال میں نہ کوئی بیمار ھے اور نہ فوت ھوا ھے ، پھر میری بیوی کا منہ کیوں لٹکا ھوا ھے ؟ وہ بار بار پوچھتا ھے کہ تمہیں ھوا کیا ھے ؟ کیا امی نے کچھ کہا ھے ؟ بیوی کو بتاتے ھوئے بھی شرم آتی ھے کہ اس نے کسی خاتون سے کوئی غمناک قصہ سن لیا ھے اور اب اسے دل پہ رکھ کر پکا رھی ھیں ،جس طرح مرغی انڈا پکاتی ھے ،،،،،،، یہی معاملہ شوھر کے ساتھ بھی ھو سکتا ھے کہ اس نے مسجد کی تعلیم میں کسی بزرگ کا دلدوز واقعہ سن لیا ھے اور اس کا دل ساری رات رونے کو چاہ رھا ھے ، جبکہ بیوی بچے اس سے دل لگی کی توقع رکھتے ھیں ،، وہ غمناکی کا سبب پوچھتے ھیں اور ان کو بتاتے ھوئے بھی شرم آتی ھے کہ صدیوں پہلے کے کسی واقعے کو وہ دل پہ رکھے آملیٹ بنا رھے ھیں ،،
جب ھمارا حقیقی غم آئے گا تو اللہ پاک ھمارے دل پہ ھاتھ رکھ کر سہارہ بھی دے گا اور اس کو جھیلنے کا حوصلہ بھی عطا فرمائے گا اور بیوی بچوں سمیت سارے دوست و احباب اور محلہ ،گاؤں ، سماج سب ھمارے شانہ بشانہ کھڑے ھونگے ،، جبکہ یہ خفیہ لاوہ جو ھم پالتے بھرتے ھیں اس میں نہ اللہ ھماری مدد کرتا ھے اور نہ لوگ ھی کچھ کر سکتے ھیں ،، الٹا سب ھم کو مردم بیزار سمجھتے ھیں ،، ایسی منہ لٹکائے رکھنے والی عورت چاھے خود کو بہت نیک سمجھتی ھو مگر شوھر ،بچے اور ساس سسر اس سے تنگ ھی ھوتے ھیں کہ سارے سال کو عاشورہ محرم بنا کر رکھتی ھے ،،،،،، یہ اوقات بار بار نہیں آتے ،، شکر کی روش یہ ھے کہ ان خوشی کے لمحات کو خوب انجوائے کیجئے ،، خوب ھنسیئے کھیلئے ھنسی نہیں آتی تو ھنسنے والا منہ ھی بنائے رکھئے اس کے لئے کونسا الگ کارڈ بنانا پڑتا ھے ، اور جب کو مصیبت آئے تو اس کا سامنا ایک مومن کے شایانِ شان صبر کے ساتھ کیجئے ،، اپنے پہ مصنوعی غم طاری رکھنے والوں پہ جب اپنا چھوٹا سا غم بھی وارد ھوتا ھے تو ھمت ھار دیتے ھیں اور اللہ سے شکوے کرتے ھیں کہ کیا اسے پتہ نہیں تھا کہ میں پہلے ھی کتنا دکھی ھوں ،،

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *