Home / Humanity / Family / ازدواجیات !

ازدواجیات !

بیوی کی قدر اس وقت آتی ھے جب وہ روٹھ کر چلی جاتی ھے ،،،،،،،،،،،،،،
آپ نے فون کیا تو اس کے گنے جیسی مونچھوں والے بھائی نے اٹھایا ،،
ھاں جی کیا بات ھے ؟
جی کوئی بات نہیں ،،،
اچھا ٹھیک ھے ،،،،،،،،، فون ٹھک سے بند ،،،،،
اب بچے سے فون کروایا ،،،،،،،،،،،،،
پھر گنے والے نے اٹھایا ،،
بولو جی کیا بات ھے ؟
ماموں جی امی سے بات کرنی ھے ،،،،،،،،،،،
ماما آپ کیسی ھیں ،، ؟
ٹھیک ھوں بیٹا ،،،،
مما یہ پاپا سے بات کریں ،،،،،،،،،،،،
اور ماما نے فون گنے والے کو پکڑا دیا ،،،،،،،،،،
آپ نے شھد کا پورا کنستر اپنے لہجے میں بھر کر ،، ھیلووووووووووووووووو کہا ،،،
آگے سے گنے والے نے لہک کر کہا ھیلو جی ،، کیا بات ھے ،،، ؟
آپ جو ایک نرم و شیریں آواز کے منتظر تھے ،، پھٹے سائیلنسر کی آواز سن کر ہکا بکا رہ گئے ،،،
جی ان سے بات کرنی ھے ،،،،
وہ بات نہیں کر سکتیں مصروف ھیں ،،، مگر آپ نے ان سے بات کیا کرنی تھی ؟
جی وہ بچوں سے متعلق کوئی بات تھی ،،،
اچھا ! مگر ان کا بچوں سے کیا تعلق ، آپ نے ھی تو کہا تھا کہ بچے میرے ھیں ؟
جی میں نے تو کہا تھا مگر وہ بچے نہیں مان رھے وہ ماما کو مس کر رھے ھیں ،،،
کل بچے یہاں ڈراپ کر دیجئے گا ،، اور فون ٹھک سے بند ،،،،،،،،
آپ اگلے دن گاڑی چمکا کر اپنی تھریڈنگ کروا کر ،، ان کے پسندیدہ اسپرے میں نہا کر آپ پہنچے اور بچے سسرال ڈراپ کر دیئے ،، اور بچوں سے ویسی ھی درخواست کی جیسے حضرت یوسف علیہ السلام نے بچ جانے والے قیدی سے کی تھی کہ ” اپنے آقا سے میرا ذکر کر دینا ” اذکرنی عند ربک ،،،،، مگر بچوں نے بھی وھی کیا جو اس قیدی نے کیا تھا کہ اپنے رونے تو روتے رھے مگر آپ کا ذکرِ مبارک کہیں بھی نہ کیا ،،،،،،،،،،،،، اور آپ باھر سے ھی جھانکتے رھے کہ گھر کا کوئی پردہ ہلا یا نہیں ،، پھر ایک خیالی پردہ نشین کے لئے اپنے کالر درست کرتے رھے ،،
بچے واپس آ کر گاڑی میں بیٹھے تو اب آپ نے بچوں کو کریدنا شروع کیا ،،، کیوں بھئ اویس بیٹا ماما سے کیا کیا باتیں ھوئیں ،، ؟
کچھ نہیں پاپا بس ایسے ھی ،،،،،،،،
میرا بھی کوئی ذکر خیر ھوا یا نہیں؟
جی ھوا تھا ،،،، And Your Ears Stood up
آپ سراپا گوش ھوگئے ،، کیا کہہ رھی تھیں ماما ،،، ؟ اب تو ماما کہتے ھوئے آپ کا منہ آم کا مربہ ڈالنے والے شیرے کی طرح میٹھا ھوا جاتا ھے ،،
کچھ نہیں بس میں نے کہا تھا کہ ماما اپنے گھر چلیں تو وہ کہہ رھی تھیں کہ میرا کونسا گھر ھے ؟ وہ تو تمہارے پاپا کا گھر ھے بیٹا ،، جب چاہیں کان سے پکڑ کر نکال دیں ،، گھر میں صفائی کرنے والی ماسی کو بھی ایک ماہ کا نوٹس دیا جاتا ھے مگر مجھے تو ایک منٹ کے نوٹس پہ گھر چھوڑنا ھوتا ھے ،، ابو سے کہنا کہ وہ جو گالیاں میری ماں اور باپ کو دیا کرتے ھیں ذرا گھر کا کام والی ماسی کو بھی دے کر دیکھیں ،،،،،،،،،، جس گھر میں ھاؤس میڈ جتنی عزت بھی نہ ھو وہ گھر اپنا نہیں ھوتا بیٹا ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، میڈ کو گھر کا تھوڑا سا کام کرنے کے جتنے پیسے ملتے ھیں ،، مجھے رات دن کام کر کے بھی تیرے پاپا سے اس سے آدھے پیسے بھی کبھی نہیں ملے ، میں تو اس گھر میں ماسی سے بھی پرلے درجے کی نوکر ھوں جو صرف روٹی کپڑے پہ کام کرتی ھے اور ساتھ تیرے ابا کا خیال بھی رکھتی ھے ،،،
تم نے اپنا نہیں کہا کہ ماما ھمارے لئے واپس آ جائیں ھم تو آپ کی اولاد ھیں ؟
یہ بھی کہا تھا ،،،،،،،،،،، مگر وہ کہہ رھی تھیں کہ گھر کی طرح اولاد بھی پاپا کی ھے ،جب چاھیں لے لیں جب چاہیں پالنے کے لئے دے دیں ،، پاپا یہ تو بالکل سیما کی طرح کرتے ھیں آپ وہ جب ناراض ھوتی ھے تو اپنا کھلونا مجھ سے لے کر عمیر کو دے دیتی ھے اور جب عمیر سے ناراض ھوتی ھے تو جھٹ اس سے چھین کر مجھے دے دیتی ھے ،، پاپا کیا ھم بھی بس کھلونے ھیں جنہیں کبھی پاپا چھین لے اور کبھی ماما کو دے دے ؟
اب تو بھی ماما کی طرح وکیل نہیں بن ، ایک ھی وکیل کافی ھے گھر میں ،،،،،،،،،،!
جب والدین لاجواب ھو جائیں تو اسی قسم کا جواب وہ دیا کرتے ھیں ،،،
پاپا ایک اور بات بھی ماما نے کہی تھی کہ ابو سے کہنا اپنی مسجد کے امام صاحب سے پوچھنا کہ اولاد کی جائداد میں ماں اور باپ کا حصہ برابر ھے یا نہیں ؟
اور کیا اولاد ،باپ کی وراثت میں سے جتنا حصہ پاتی ھے ویسا ھی ماں کی وراثت میں سے بھی لیتی ھے یا نہیں ؟
اگر اولاد کی وراثت ماں کی ھے تو خود اولاد ماں کی کیوں نہیں ؟ اور اگر اولاد ماں کی وراثت بھی ویسے ھی لیتی ھے جیسے باپ کی تو پھر اولاد ماں کی کیوں نہیں ؟ اگر قانونی طور پہ دونوں برابر ھیں تو اخلاقی طور پر اللہ کے رسولﷺ نے اولاد پر 75٪ حق ماں کا بیان کیا ھے یا نہیں ؟ ،جب آپ ﷺ سے ایک بندے نے سوال کیا کہ مجھ پر سب سے زیادہ حق کس کا ھے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تیری ماں کا ، اس نے پوچھا پھر ؟ آپ ﷺ نے فرمایا پھر تیری ماں کا ،، اس نے پوچھا پھر ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر تیری ماں کا ،، اس نے چوتھی بار پوچھا پھر ؟ تو آپ نے فرمایا پھر تیرے باپ کا ،،،،،،،،

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *