Home / Islam /

انسانی فطرت کا خالق ” اللہ ” بھلا کیوں اپنے بندوں کی تعریف کرتا ھے ؟
مجھے نهیں معلوم اس تحریر میں ایسا کیا هے، بس اسکو پڑھتے هوئے میری آنکھیں نم هو گئیں….
مسز تھامسن امریکہ کے ایک چھوٹے سے شہر گارلینڈ میں پرائمری اسکول کلاس 5 کی ٹیچر تھیں۔ ان کی ایک عادت تھی کہ وہ کلاس شروع کرنے سے پہلے ہمیشہ “آئی لو یو آل” بولا کرتیں۔ مگر وہ جانتی تھیں کہ وہ سچ نہیں کہتیں۔ وہ کلاس کے تمام بچوں سے یکساں پیار نہیں کرتی تھیں۔ کلاس میں ایک ایسا بچہ تھا جو مسز تھامسن کو ایک آںکھ نہ بھاتا۔ اس کا نام جیڈی تھا۔ جیڈی میلی کچیلی حالت میں اسکول آ جایا کرتا۔ اس کے بال بگڑے ہوئے ہوتے، جوتوں کے تسمے کھلے ہوئے، قمیض کے کالر پر میل کا نشان۔ ۔ ۔ لیکچر کے دوران بھی اس کا دھیان کہیں اور ہوتا۔ مسز تھامسن کے ڈانٹنے پر وہ چونک کر انہیں دیکھنے تو لگ جاتا مگر اس کی خالی خولی نظروں سے انہیں صاف پتہ لگتا رہتا کہ جیڈی جسمانی طور پر کلاس میں موجود ہونے کے باوجود بھی دماغی طور پر غائب ہے ۔ رفتہ رفتہ مسز تھامسن کو جیڈی سے نفرت سی ہونے لگی۔ کلاس میں داخل ہوتے ہی جیڈی مسز تھامسن کی سخت تنقید کا نشانہ بننے لگتا۔ ہر بری مثال جیڈی کے نام سے منسوب کی جاتی ۔ بچے اس پر کھلکھلا کر ہنستے اور مسز تھامسن اس کی تذلیل کر کہ تسکین حاصل کرتیں۔ جیڈی نے البتہ کسی بات کا کبھی کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ مسز تھامسن کو وہ ایک بے جان پتھر کی طرح لگتا جس کے اندر احساس نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ ہر ڈانٹ، طنز اور سزا کے جواب میں وہ بس اپنی جذبات سے عاری نظروں سے انہیں دیکھا کرتا اور سر جھکا لیا کرتا۔ مسز تھامسن کو اب اس سے شدید چڑ ہو چکی تھی۔ پہلا سیمسٹر ختم ہوا اور رپورٹیں بنانے کا مرحلہ آیا تو مسز تھامسن نے جیڈی کی پروگریس رپورٹ میں اس کی تمام برائیاں لکھ ماریں۔ پروگریس رپورٹ والدین کو دکھانے سے پہلے ہیڈ مسٹریس کے پاس جایا کرتی تھی۔ انہوں نے جب جیڈی کی رپورٹ دیکھی تو مسز تھامسن کو بلا لیا۔ “مسز تھامسن پروگریس رپورٹ میں کچھ تو پروگریس بھی نظر آنی چاہیے۔ آپ نے تو جو کچھ لکھا ہے اس سے جیڈی کے والدین اس سے بالکل ہی نا امید ہو جائینگے۔” “میں معذرت خواہ ہوں مگر جیڈی ایک بالکل ہی بدتمیز اور نکما بچہ ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ میں اس کی پروگریس کے بارے میں کچھ لکھ سکتی ہوں۔” مسز تھامسن نفرت انگیز لہجے میں بول کر وہاں سے اٹھ آئیں۔ ہیڈ مسٹریس نے ایک عجیب حرکت کی۔ انہوں نے چپڑاسی کے ہاتھ مسز تھامسن کی ڈیسک پر جیڈی کی گزشتہ سالوں کی پروگریس رپورٹس رکھوا دیں۔ مسز تھامسن کلاس میں داخل ہوئیں تو رپورٹس پر نظر پڑی۔ الٹ پلٹ کر دیکھا تو پتہ لگا کہ یہ جیڈی کی رپورٹس ہیں۔ “پچھلی کلاسوں میں بھی اس نے یقیناً یہی گل کھلائے ہونگے۔” انہوں نے سوچا اور کلاس 3 کی رپورٹ کھولی۔ رپورٹ میں ریمارکس پڑھ کر ان کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی جب انہوں نے دیکھا کہ رپورٹ اس کی تعریفوں سے بھری پڑی ہے۔ “جیڈی جیسا ذہین بچہ میں نے آج تک نہیں دیکھا۔” “انتہائی حساس بچہ ہے اور اپنے دوستوں اور ٹیچر سے بے حد لگاؤ رکھتا ہے۔””آخری سیمسٹر میں بھی جیڈی نے پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔” مسز تھامسن نے غیر یقینی کی حالت میں کلاس 4 کی رپورٹ کھولی۔ “جیڈی نے اپنی ماں کی بیماری کا بے حد اثر لیا ہے ۔ ۔اس کی توجہ پڑھائی سے ہٹ رہی ہے۔” “جیڈی کی ماں کو آخری اسٹیج کا کینسر تشخیص ہوا ہے ۔ ۔ گھر پر اس کا اور کوئی خیال رکھنےوالا نہیں جس کا گہرا اثر اس کی پڑھائی پر پڑا ہے۔” “جیڈی کی ماں مر چکی ہے اور اس کے ساتھ ہی جیڈی کی زندگی کی رمق بھی ۔ ۔ اسے بچانا پڑے گا اس سے پہلے کے بہت دیر ہو جائے۔” مسز تھامسن پر لرزہ طاری ہو گیا۔ کانپتے ہاتھوں سے انہوں نے پروگریس رپورٹ بند کی۔ آنسو ان کی آنکھوں سے ایک کے بعد ایک گرنے لگے۔اگلے دن جب مسز تھامسن کلاس میں داخل ہوئیں تو انہوں نے اپنی عادت مستمرہ کے مطابق اپنا روایتی جملہ “آئی لو یو آل” دہرایا ۔ مگر وہ جانتی تھیں کہ وہ آج بھی جھوٹ بول رہی ہیں۔ کیونکہ اسی کلاس میں بیٹھے ایک بے ترتیب بالوں والے بچے جیڈی کے لیے جو محبت وہ آج اپنے دل میں محسوس کر رہی تھیں وہ کلاس میں بیٹھے اور کسی بچے کے لیے ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ لیکچر کے دوران انہوں نے حسبِ معمول ایک سوال جیڈی پر داغا اور ہمیشہ ہی کی طرح جیڈی نے سر جھکا لیا۔ جب کچھ دیر تک مسز تھامسن کی طرف سے کوئی ڈانٹ پھٹکار اور ہم جماعت ساتھیوں کی جانب سے ہنسی کی آواز اس کے کانوں میں نہ پڑی تو اس نے اچھنبے میں سر اٹھا کر ان کی طرف دیکھا۔ خلافِ توقع ان کے ماتھے پر آج بل نہ تھے، وہ مسکرا رہی تھیں۔ انہوں نے جیڈی کو اپنے پاس بلوایا اور اسے سوال کا جواب بتا کر زبردستی دہرانے کے لیے کہا۔ جیڈی تین چار دفعہ کے اصرار کے بعد آخر بول ہی پڑا۔ اس کے جواب دیتے ہی مسز تھامسن نے نہ صرف خود پرجوش انداز میں تالیاں بجائیں بلکہ باقی سب سے بھی بجوائیں۔ پھر تو یہ روز کا معمول بن گیا مسز تھامسن ہر سوال کا جواب اسے خود بتاتیں اور پھر اس کی خوب پذیرائی کرتیں۔ ہر اچھی مثال جیڈی سے منسوب کی جانے لگی۔ رفتہ رفتہ پرانا جیڈی سکوت کی قبر پھاڑ کر باہر آگیا۔ اب مسز تھامسن کو سوال کے ساتھ جواب بتانے کی ضرورت نہ پڑتی۔ وہ روز بلا نقص جوابات دے کر سب کو متاثر کرتا اور نئے نئے سوالات پوچھ کر سب کو حیران بھی۔ اس کے بال اب کسی حد تک سنورے ہوئے ہوتے، کپڑے بھی کافی حد تک صاف ہوتے جنہیں شاید وہ خود دھونے لگا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے سال ختم ہوگیا اور جیڈی نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی۔ الوداعی تقریب میں سب بچے مسز تھامسن کے لیے خوبصورت تحفے تحائف لے کر آئے اور مسز تھامسن کے ٹیبل پر ڈھیر کرنے لگے۔ ان خوبصورتی سے پیک ہوئے تحائف میں ایک پرانے اخبار میں بد سلیقہ طرز پر پیک ہوا ایک تحفہ بھی پڑا تھا۔ بچے اسے دیکھ کر ہنس پڑے۔ کسی
کو جاننے میں دیر نہ لگی کہ تحفے کے نام پر یہ چیز جیڈی لایا ہو گا۔ مسز تھامسن نے تحائف کے اس چھوٹے سے پہاڑ میں سے لپک کر اسے نکالا۔ کھول کر دیکھا تو اس کے اندر ایک لیڈیز پرفیوم کی آدھی استعمال شدہ شیشی اور ایک ہاتھ میں پہننے والا ایک بوسیدہ سا کڑا تھا جس کے زیادہ تر موتی جھڑ چکے تھے۔ مسز تھامسن نے خاموشی کے ساتھ اس پرفیوم کو خود پر چھڑکا اور ہاتھ میں کڑا پہن لیا۔ بچے یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے۔ ۔خود جیڈی بھی۔ آخر جیڈی سے رہا نہ گیا اور مسز تھامسن کے قریب آ کر کھڑا ہو گیا۔ ۔ کچھ دیر بعد اس نے اٹک اٹک کر مسز تھامسن کو بتایا کہ “آج آپ سے بالکل میری ماں جیسی خوشبو آ رہی ہے۔”وقت پر لگا کر اڑنے لگا۔ دن ہفتوں، ہفتے مہینوں اور مہینے سال میں بدلتے بھلا کہاں دیر لگتی ہے؟ مگر ہر سال کے اختتام پر مسز تھامسن کو جیڈی کی طرف سے ایک خط باقاعدگی کے ساتھ موصول ہوتا جس میں لکھا ہوتا کہ “میں اس سال بہت سارے نئے ٹیچرز سے ملا۔ ۔ مگر آپ جیسا کوئی نہیں تھا۔” پھر جیڈی کا اسکول ختم ہوگیا اور خطوط کا سلسلہ بھی۔ کئی سال مزید گزرے اور مسز تھامسن ریٹائر ہو گئیں۔ ایک دن انہیں اپنی ڈاک میں جیڈی کا خط ملا جس میں لکھا تھا:”اس مہینے کے آخر میں میری شادی ہے اور میں آپ کی موجودگی کے سوا شادی کا نہیں سوچ سکتا۔ ایک اور بات۔۔ میں زندگی میں بہت سارے لوگوں سے مل چکا ہوں۔ ۔ آپ جیسا کوئی نہیں ہے – ڈاکٹر جیڈی الفریڈ”ساتھ ہی ٹیکساس کا ریٹرن ٹکٹ بھی لفافے میں موجود تھا۔ مسز تھامسن خود کو ہر گز نہ روک سکتی تھیں۔ انہوں نے اپنے شوہر سے اجازت لی اور ٹیکساس روانہ ہو گئیں۔ شادی میں کچھ دن باقی تھے اور وہ جیڈی کو شادی کے دن ہی سرپرائز دینا چاہتی تھیں اس لئے ایک ہوٹل میں رک گئیں۔ عین شادی کے دن جب وہ چرچ پہنچیں تو تھوڑی لیٹ ہو چکی تھیں۔ انہیں لگا تقریب ختم ہو چکی ہو گی۔ مگر یہ دیکھ کر ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ شہر کے بڑے بڑے ڈاکڑ، بزنس مین اور یہاں تک کے چرچ کا پادری بھی اکتایا ہوا کھڑا تھا مگر جیڈی رسومات کی ادائیگی کے بجائے گیٹ کی طرف ٹکٹکی لگائے ان کی آمد کا منتظر تھا۔ ان کے پہنچتے ہی جیڈی نے ان کا ہاتھ پکڑا جس میں انہوں نے اب تک وہ بوسیدہ سا کڑا پہنا ہوا تھا اور انہیں سیدھا اسٹیج پر لے گیا۔ مائیک ہاتھ میں پکڑ کر اس نے کچھ یوں اعلان کیا “دوستو آپ سب ہمیشہ مجھ سے میری ماں کے بارے میں پوچھا کرتے تھے اور میں نے سب سے وعدہ کیا تھا کہ جلد آپ سب کو ان سے ملواؤں گا۔ ۔ ۔ یہ میری ماں ہیں!!”———————————————-
عزیز دوستو اس خوبصورت کہانی کو صرف استاد اور شاگرد کے رشتے سے منسوب کر کہ ہی مت سوچیے گا۔ اپنے آس پاس دیکھیے، جیڈی جیسے کئی پھول مرجھا رہے ہیں جنہیں آپ کی ذرا سی توجہ، محبت اور شفقت نئی زندگی دے سکتی هے

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *