دعا کے آداب و مضمرات

دعا کے آداب و مضمرات

July 31, 2013 at 7:28am

دعا ایک مستقل عبادت ھے جس طرح نماز روزہ زکوۃ اور حج ھے – اللہ سے دعا کرنا بھی اسی طرح فرض کیا گیا ھے جس طرح اللہ کی نماز پڑھنا فرض کیا گیا ھے- قال ربکم ادعونی،استجب لکم،، تمہارا رب کہتا ھے کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا( المومن ) اس میں دعا کا حکم بلا امتیاز سب کو دیا گیا ھے،یعنی نیک و بد سب کو ،جسطرح نماز روزے کا حکم سب کے لئے ھے،نیک ھو یا بد،، اس  آیت میں قبولیت کا وعدہ بھی سب سے بلا امتیاز کیا گیا ھے،،نیک ھو یا بد – ماں جس بچے سے ناراض ھوتی ھے،اس کا حصہ ضرور دوسروں سے چھپا کر رکھ دیتی ھے- محروم کبھی نہیں کرتی پھر جو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ھے وہ کیسے اپنے بندے کو محروم کر سکتا ھے،، دعا کا حکم نماز سے زیادہ بار دیا گیا ھے،، بلکہ دعا ھر عبادت کا جوھر ھے، الدعاء مخ العبادہ اور الدعاء ھو العبادہ ،، ارشادات نبوی ﷺھیں ! ھمارے یہاں ھر چیز کی طرح دعا کے بارے مین بھی عجیب عجیب تصورات قائم ھیں،، 1- دعا کے لئے ایک نیک انسان کی تلاش – یہ بالکل ایسے ھی ھے جیسے بیمار تو میں ھوں مگر دوا کے لئے مجھے کسی صحتمند آدمی کی تلاش ھے تا کہ اسے دو ڈھکن دوا پلا سکوں،،دعا تو پکار ھے وہ پکار جو ماں سے سرِ بازار بچھڑ جانے والے بچے کے منہ سے نکلتی ھے،،وہ دردناک پکار فلم مین بھی سنی جائے تو رونگھٹے کھڑے ھو جاتے ھیں،، وہ درد بھری پکار کسی گنہگار کے منہ سے ھی نکل سکتی ھے،، میں نے پہلی دلی دعا میدانِ عرفات میں الیاس کاشمیری اداکار کے پیچھے 1982 میں کی تھی،، میں عصر کے بعد خیمے سے جبلِ رحمت جانے کے لئے نکلا ،ابھی تھوڑا دور گیا ھوں گا کہ رونے اور ڈکرانے کی آواز آئی ،، ساہڈ پر دیکھا تو ایک لمبا دھڑنگا آدمی مچل مچل کر رو رھا تھا،اور لوگ بھی اس کے پیچھے آہ و زاری میں مشغول تھے،، میں نے اس کا مچلنا تڑپنا اور اس کے الفاظ سنے ،فریادوں کی بے ترتیبی بتا رھی تھی کہ کسی مولوی سے قافیے سیکھ کر نہیں آیا،، سب کچھ اندر سے نکل رھا ھے،میں سمجھ گیا کہ رحمت ادھر برس رھی ھے،، میں نے خاک کی مٹھی اٹھائی اور اپنے سر پر ڈال لی اور پھر اس کے پیچھے کھڑا ھو گیا،، کیا آپ یقین کریں گے کہ مین آج تک اس دعا کے ثمرات لوٹ رھا ھوں ؟ اس کے بعد میں حج اور عمروں پر بار بار گیا ھوں مگر الیاس کاشمیری مرحوم کی دعا والی فریکوئنسی مجھے پھر نہیں ملی،، اگر عرش ھلانے والی دعا کرنی ھے تو کسی نیک کی تلاش نہ کریں کسی گنہگار کی تلاش کریں،منت ترلا کر کے اسے دعا پر آمادہ کر لیں اور پھر اس کے ہیچھے صرف آمین کریں،دیکھیں وہ کیسے عرش کو ھلاتا ھے ! جس درد سے بیمار اور گنہگار روتا ھے، اس درد سے صحتمند اور پرھیزگار رو ھی نہیں سکتا،،اور آپ کو پتہ ھے کہ ماں بچے کی تکلیف کا اندازہ اس کے رونے کی کیفیت سے لگاتی ھے،،اسے پتہ ھوتا ھے کہ یہ رونا دودھ کا رونا ھے،بچے کو بھوک لگی ھے اور یہ رونا کوئی اوپرا رونا ھے ،تکلیف کا رونا ھے،،گنہگار کے رونے سے صرف رحمان نہیں چونکتا،فرشتوں کی بھی دوڑیں لگ جاتی ھیں ! میں نے دوران طواف ایک گونگے کو دیکھا جو گوں گوں کر کے رو رھا تھا کچھ کہنے کی کوشش کرتا تھا،،وہ جب اپنے اردگرد لوگوں کو ٹولیوں میں قافیوں کے ساتھ مانگتے دیکھتا تو اسے احساس ھوتا کہ یہ بولنے والے تو سارا لوٹ کر لے جائیں گے،میری کون سنے گا ،میرے پاس تو الفاظ ھی نہیں ھیں- اس کے بعد وہ بےساختہ آسمان کی طرف بے بسی سے دیکھتا اور دردناک فریاد کر کے پاگلوں کی طرح غوں غاں کرتا تھوڑی دور تک دوڑتا،، میں سمجھ گیا کہ رحمٰن نے بولنے والوں کو تو فرشتوں کے حوالے کر دیا ھے اور خود اپنی رحمت سے اس گونگے کی طرف متوجہ ھے جس کی اس کے سوا کوئی نہیں سمجھ سکتا ،میں پورا طواف اس گونگے کے پیچھے دوڑتا رھا اسی کی غوں غاں پر آمین کرتا رھا،اور ثمرات سمیٹتا رھا ! اللہ پر نیکیوں کی دھونس نہین چلتی،،نیکیاں ھم اپنے بھلے کو اپنے اکاؤنٹ مین بھیجتے ھیں رب پر کونسا احسان ھے کہ بندہ ادائیں دکھاتا پھرے، تازہ تازہ گولڈن کارڈ چلا تھا،، جو پاکستان تین لاکھ اپنے اکاؤنٹ میں بھیجے گا گولڈن کارڈ ملے گا اور کسٹم مین چھوٹ ھو گئی، نیز پاسپورٹ فری بنے گا،،گولڈن کارڈ لے کر اسلام اباد ایئرپورٹ پر اترے، کسٹم پر گزر ھوا ، ھاتھ والی سلائی مشین پاس تھی،، کسٹم لگایا گیا،، اسے کارڈ بتایا،،کہنے لگا یہ کیا ھے؟ بڑے فخر سے بتایا پاکستان 3 لاکھ روپیہ بھیجا ھے،، پلٹ کر کہنے لگا مولوی صاحب اپنے اکاؤنٹ میں بھیجا ھے، مجھ پر کوئی احسان کیا ھے؟ کسٹم والا نہین مانا،، رب کو کوئی چار سجدے کر کے تھلے کیسے لگا سکتا ھے،، ؟ دعا کا فوری اور نقد فائدہ ھی یہ ھے کہ سب سے پہلے آپ کے گناہ معاف اور صاف کیئے جاتے ھیں،،پھر آپکی دعا کا جائزہ لیا جاتا ھے کہ آپ کے لئے فوری قبولیت ٹھیک رھے گی یا اسے مؤخر کر لیا جائے یا آخرت کی ضرورت کے لئے فکس ڈیپازٹ کر لیا جائے جو بھی فیصلہ ھو گا،،آپ ھی کی فیور میں ھوگا،، آپ کی بہتری کے لئے ھو گا،،اللہ پاک کا اپنا مفاد ھے ھی نہیں کہ وہ اپنے فائدے کا سوچے گا،، ھماری عبادت اس کا کوئی فائدہ نہیں کرتی اور ھمارے گناہ اس کا کوئی نقصان نہیں کرتے،،دونوں چیزیں ھم اپنے اکاؤنٹ میں بھیجتے ھیں،، گناھوں سے شرما کر جو لوگ اللہ سے مانگنے سے رک جاتے ھیں،،انہیں وہ بار بار کہتا ھے ،میری رحمت سے مایوس مت ھو جاؤ، اللہ سارے گناہ معاف کر دے گا،، تم ان کی وجہ سے میرے پاس آنے سے کتراتے ھو ناں؟ یہ لو میں نے سارے ڈیلیٹ کر دیئے ،بلکہ ھر گناہ کے بدلے نیکی لکھ دی "یبدل اللہ سیئاتھم حسنات،، اللہ ان کے گناہ لے کر نیکیاں پکڑا دیتا ھے،،ایک ٹوکری مین گناہ ڈالو اور دوسری سے نیکی اٹھا لو،، یہ دعا کے نقد فائدے ھیں،، جب کوئی کسی بڑے سے ملنے جاتا ھے تو پتہ ھے کیا ھوتا ھے؟ بیوروکریسی کے کارندے اسے اس کے دربار کے قابل بناتے ھیں،، یہانتک کہ اگر شیخ صاحب کو سفید بال ناپسند ھوں تو مہمان کے بال سیاہ کیئے جاتے ھیں ،اسی طرح رب کے دربار کے تقاضوں سے آگاہ فرشتے اس کے حکم اور پسند کے مطابق آپ کو گناھوں سے صاف ستھرا کر کے رب کے حضور پیش کرتے ھیں !پھر بھی آپ سوزوکی بک کر کے دعا کروانے نیک کے پاس جاتے ھو،،بھائی وہ بکنگ کے پیسے کیسی مریض کی دوا کے لئے دے دو،، اور ھاتھ کھڑے کر لو،اپنے نبیﷺ کی بات کا اعتبار کرو ،،وہ عرش والا کبھی کسی کے اٹھے ھوئے ھاتھ خالی نہیں لوٹاتا ،اسی لئے تو حکم دیا گیا ھے کہ ھاتھ چہرے پر پھیر کر رب کی عطا پر شکر گزاری کا اظہار کرو ،،تیرے ھاتھ خالی نہیں لوٹے اس لئے اس بھرے ھوئے خزانے کو نیچے نہ گراؤ بلکہ ھاتھ چہرے پر مل کر نیچے کرو،، دعا کے آداب میں پہلے اللہ پاک کی تعریف پھر نبی پاکﷺ پر درود پھر اپنی بات پھر درود پر بند کر دو،، نبیﷺ فرماتے ھیں اللہ بڑا بامروت ھے ممکن نہیں کہ وہ دعا کا پہلا اور آخری حصہ تو قبول فرما لے اور درمیان والا چھوڑ دے !

دعا کے مضمرات !

 

دعا کر کے ھضم کر لینا خالہ جی کا گھر نہیں اس کے لئے یا تو ھمالیہ جیسا ایمان چاھئے یا کے -ٹو  جتنا گناہ -جو

انسان کی گردن جھکا کر رکھے-گنہگار جب دعا مانگتا ھے تو ڈر ڈر کے مانگتا ھے،اسے اپنے گناھوں کے کلپ بار بار نظر آ رھے ھوتے ھیں،، پوری ھو جائے تو فبہا ،، نہ ھو تو وہ اپنے آپ کو ھی کوستا ھے کہ تو نے بھی کونسا کوئی اچھا کام کیا ھوا ھے ! یہ تو ھونا ھی تھا،، وہ مزید مسکینی اور عاجزی کا شکار ھو جاتا ھے ۔۔ اللہ معاف کرے نیک آدمی جب دعا مانگتا ھے تو دعا نہین مانگتا وہ تو الٹی میٹم دیتا ھے،،اپنی نمازوں ،اشراق و اوابین،، حج اور عمرے کے کلپ بار بار لگ رھے ھوتے ھیں،، جوں جوں قبولیت میں دیر ھوتی ھے موڈ خراب ھوتا جاتا ھے،، اور وہ سمجھتا ھے کہ اس کی انسلٹ کی جارھی ھے،، اور آخر بول پڑتا ھے، یار نمازیں بھی پڑھتے ھیں، صدقہ خیرات بھی کرتے ھیں مگر مصیبت نے ھمارا ھی گھر دیکھ لیا ھے،، یہ گلے شکوے کا انداز دعا کو کیا قبول کرائے گا عبادت کو بھی بے کار کر دیتا ھے،، دعا کر کے رب کی مرضی پر چھوڑ دینا چاھئے، یاد رکھئے دعا میں ٹائم فریم نہیں ھوتا،،منگتا کسی کو الٹی میٹم نہیں دیتا،، منگتا یہ نہیں کہتا کہ سرکار اتنے دو،، ڈالرز ھی دو،، وہ کشکول آگے کر دیتا ھے جو آپ کے جی میں آئے ڈال دو ،، موسی علیہ السلام کا دعا کا ادب دیکھا ھے،، درخت کے نیچے کھڑے ھو کر فرمایا ” ربِ انی لما انزلتَ الی من خیر فقیر ( القصص ) ائے میرے پالنہار میں ھر اس چھوٹی سے چھوٹی خیر کا محتاج اور قدردان ھوں جو تو میری جھولی مین ڈال دے، اس ادا پر رب کی رحمت کا ٹوٹ پڑنا دیکھو،، گھر بھی دے دیا، نوکری بھی دے دی، بیوی بھی اسی دن دے دی،، یہ ھے ھمارے رب کا مزاج ،،بلیک میلنگ اسے بالکل پسند نہیں ،، نہ وہ نسب سے بلیک میل ھوتا ھے نہ عبادت سے،، سر جھکا دو، آنکھیں نیچی کر لو، رو لو،، نہیں تو رونے کی صورت بنا لو،، پھر دیکھو وہ خود تمہاری ضرورتوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کے پورا کرے گا ! اللہ آپ کو سلامت اور اپنے در کا محتاج رکھے ! آمین

خود کو دیکھ کے ڈر لگتا ھے

خود کو دیکھ کے ڈر لگتا ھے

August 29, 2013 at 6:33am

ھمارا چہرہ اتنا خوفناک ھے کہ خود ھی دیکھ کے ڈر لگتا ھے ! ایک نورانی چہرہ استاد کا سیاہ کردار سامنے آتے ھی ھم کہتے ھیں اس کا مقصد کیا ھے؟ کیا یہ برائی کی تشہیر نہیں ھے؟ کیا برائی کو چھپانے کا حکم نہیں ھے ؟؟؟ اللہ پاک جو ھمارا خالق ھے وہ ھم سے بڑھ کر ھمارا واقف ھے،، ماں باپ نے ھمیں پیدا کر کے جانا ھے،، مگر اس ھستی نے ھمیں جان کر پیدا فرمایا ھے ” وہ تم سے اس وقت بھی واقف تھا جب اس نے تمہیں زمین سے (آدم) بنانے کے لئے اٹھایا تھا اور جس وقت تم رحم مادر میں جنین تھے وہ تم سے اس وقت بھی وقف تھا،، سو اپنے آپ کو زیادہ پاکیزہ نہ بیان کیا کرو وہ اچھی طرح جانتا ھے کون کتنا متقی ھے ( والنجم ) ھم مختلف مورچوں کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتے ھیں ،، کیا چھپانے کو صرف یہی برائی رہ گئی ھے؟ یہ جو پورا سوشل اور پرنٹ میڈیا بھرا پڑا ھے، نواز شریف، عمران خان، پرویز خٹک، فضل الرحمان، طاھر القادری،گیلانی، پرویز اشرف اور دیگر لوگوں کے خلاف !! کیا قرآن و حدیث کے حکم کے مطابق ھی ان کے کپڑے اتارے جارھے ھیں؟؟ کیا یہ وھی دور نہیں جب زمین اپنے راز اگل دے گی،جو کرو گے اگلے دن دیکھ لو گے؟؟ کیا اقرار حسین ھی جو کچھ نشر کرتا ھے وہ اسلام ھے،، اور کیا اس نشر کرنے پر قصائی اور دیگر ملاوٹ مافیا اس کی جان کے درپے ھے تو کیا ھمارا رد عمل بھی ملاوٹ مافیا والا نہیں ؟؟ جو ھم کریں تو حلال ھے ،جو وہ کریں تو حرام ھے،، ؟؟ صرف معلم کے کرتوت کو چھپانا ھی واجب کیوں ٹھہرا؟؟ کیا اس لئے کہ پھر مائیں اپنے بچے قسائی کے پاس نہیں بھیجیں گی؟

میں نے یہ تصویر کیوں لگائی ھے     !!

1- اس لئے کہ آپ دیکھ لیں کہ جو تشدد اس بچے میں بھرا جا رھا ھے،کل یہ تشدد ھی جوان ھو کر آپ سے کسی جگہ ملاقات کرے گا     !

2- جن لوگوں کو آپ تشدد ترک کرنے کے مشورے دیتے ھیں انہوں نے تشدد کے سوا کچھ دیکھا اور سیکھا ھی نہیں ھے،یہ تشدد ان میں بڑے نورانی چہروں والوں نے بھرا ھے   !

3- اس بچے کو سکولوں میں ھنستے کھیلتے  جاتے اور آتے بچے زہر لگتے ھیں،اس لئے یہ اسکول اڑا دیتا ھے!

4- آپ جن کی عقل کو خطاب فرماتے ھیں وھاں میموری کارڈ ھے ھی نہیں،،انہیں کہیں کسی اور جگہ سے علم بھرا گیا ھے،، سر کے راستے سے نہیں ! اس لئے آپ وقت ضائع کر رھے ھیں،

5-  اس کے اندر کا بچہ سسک کر مر گیا ھے، اب جب یہ دھماکہ کرے گا تو سسکتے بلکتے بچوں،مردوں اور عورتوں سے اسے کوئی ھمدردی نہیں ھو گی اس لئے کہ جب وہ سسک رھا تھا تو کوئ چھڑانے نہیں آیا تھا،

6- ھمیں سکھایا گیا ھے کہ بچہ بڑوں کی نسبت زیادہ حساس ھوتا ھے اور عزت بے عزتی کو زیادہ اھمیت دیتا ھے،، جب اپنے ھم جولیوں کے سامنے اس کی یہ دھرگت بنتی ھے تو وہ ان سے نظر ملا کر بات نہیں کر سکتا،

7- اب آپ مطالبہ کرتے اور امید رکھتے ھیں کہ کل یہ بچہ کسی قسم کی کوئی تحقیق کرے گا اور وہ بھی اپنے ان بزرگوں کی تحقیق کے خلاف ؟

8- یہ بچہ مولوی صاحب کو اس معاھدے کے تحت دیا گیا تھا کہ  گوشت آپ کا اور ھڈیاں ھماری،، مولوی صاحب حسبِ معاہدہ اپنا حصہ وصول کر رھے ھیں،، 9- جتنا بڑا یہ مجرم ھے اس سے بڑے مجرم اس کے ماں باپ ھیں جو اسے مولوی صاحب کے حوالے کرنے کے بعد ،، ان  رشتے داروں کی لسٹ بنانا شروع کر دیتے ھیں جن کو یہ بچہ بخشوائے گا ! وھاں تو پتہ نہیں بخشوائے گا یا نہیں مگر یہاں سے درجنوں ساتھ لے کر جائے گا !

10- والدین اپنے بچوں کو 3000 کلومیٹر دور کراچی چھوڑ آتے ھیں اور پھر سالوں کے بعد کہیں بچہ واپس آ جائے تو آ جائے کبھی جا کر دیکھتے بھی نہیں کہ ان کے بچے کو کیا بنایا جا رھا ھے، جبکہ مرغی کے انڈے ھر دوسرے دن چیک کرتے ھیں کہ بچے نکلنے میں کتنی کسر رہ گئی ھے،، یہ بچہ جب واپس آتا ھے تو کبھی کسی نے اس سے نہیں پوچھا کہ ” کیا گزری ھے قطرے پہ گہر ھونے تک ! لہذا والدین اور استاد دونوں معاشرے کو ایک مسخ شدہ ، متشدد فرد فراھم کرتے ھیں،،یہ مسجد جاتا ھے تو بھی آگ لگاتا ھے،کسی مذھبی جماعت کا سربراہ بنتا ھے تو بھی آگ لگاتا ھے،،، بچہ وھاں داخل کرائیں جہاں وہ پڑھ کر رات کو گھر آ جائے،، تا کہ نہ اس کا جسمانی استحصال ھو نہ جنسی،، ورنہ اتنے دور تک رکھیں جہاں  آپ ھفتہ دو ھفتے بعد چکر لگا لیں!

11- مدارس میں دو قسم کے بچے پڑھتے ھیں ،اور دو ھی قسم کے رویئے پلتے ھیں،، وہ بچے جن کے اخراجات اس کے والدین ادا کرتے ھیں،، اسے کھانا بھی ڈیسک پر ملتا ھے،، صرف ھاتھ دھو کر جا کر ٹیبل مین کا انتظار کرنا ھوتا ھے،، دوسرے وہ جن کے غریب والدین خرچ برداشت نہیں کر سکتے اور وہ لوگوں کے صدقات اور نذرانوں پر پلتے اور پڑھتے ھیں،، ان کو لائن میں لگ کر کھانا لینا پڑتا ھے اور جب تک وہ کھانا وصول کرتے تب تک خوشحال بچے کھانا کھا کر  آرام کرنے جا چکے ھوتے ھیں،، اب پہلی قسم کے بچوں کی سزا میں بھی تخفیف ھوتی ھے کیونکہ ان کے پوچھنے والے سر پر ھوتے ھیں،، اور باڈی لینگویج میں اعتماد بھی ،، یہ بچے ھی اساتذہ سے سوال جواب بھی کر لیتے ھیں جبکہ دوسری قسم کے بچے ھر قسم کے تشدد کا نشانہ بنتے ھیں کیونکہ ان کے والدین مفت پڑھائی کے احسان تلے دبے ھوتے ھیں لہذا وہ احتجاج بھی نہیں کر سکتے،، اور سوال جواب سے انہیں کوئی دلچسپی بھی نہیں ھوتی وہ سال گن رھے ھوتے ھیں اس طرح دو قسم کے طلباء فارغ ھو کر آتے ھیں، آسودہ اور پراعتماد،، پزمردہ ،اور بدحال،، آسودہ حال کو اگر اپنے معیار کی نوکری نہ ملے تو عموماً کسی بزنس کی طرف جا نکلتے ھیں،، جبکہ مساجد کے مقدر میں 90٪ یہی کچلی ھوئی انا والے تار تار بچے ھی ھوتے ھیں، ، مدرسہ ھو یا سکول تشدد کا نشانہ غریب کا بچہ ھی بنتا ھے، اسکول ماسٹر بھی کسی بڑی قوم کے بچے کو مارنے سے کنی کتراتا ھے،کیونکہ تھوڑی دیر بعد اس کے وارث پہنچ جاتے ھیں،، اور یہ ھی حال حافظ صاحب کا ھے وہ بھی اپنا غصہ غریب کے بچوں پر اتارتے ھیں،، امیر اور بڑی قوم والا صرف ڈانٹ ڈپٹ پر ھی چھوٹ جاتا ھے،،  آج متشدد تنظیموں میں 99 ٪ وھی غریب کے بچے ھی ھیں جو اپنی شخصیت کو ری پروڈیوس کر رھے ھیں،، کمانڈر وھاں بھی امیر کا بچہ ھی ھوتا ھے

خدا را میرے سر پر ھاتھ رکھئے

خدا را میرے سر پر ھاتھ رکھئے

September 17, 2013 at 11:34pm

سلیم نے جب سے ھوش سنبھالا تھا، سوائے اپنے نابینا دادا کے کسی کو نہیں دیکھا تھا،، اسے دادا نے ھی بتایا تھا کہ ماں اسے پیدا کرنے کے جوکھم میں ھی زندگی کی بازی ھار گئی تھی ، اور پھر جلد ھی باپ بھی ایک حادثے میں اللہ کو پیارا ھو گیا، ایک دادا تھا جو آنکھوں کی کسی بیماری میں مبتلا ھو کر نابینا ھو چکا تھا،، یتیم پوتے کا بوجھ پڑا تو دادا پوتے کا سر پکڑ کر فٹ پاتھ پر آ کھڑا ھوا،، اور بھیک مانگ کر اپنا اور پوتے کا پیٹ پالنا شروع کر دیا، صبح دادا اسے اٹھاتا،، وہ چائے بناتا جسے دادا اور پوتا دونوں پی کر اپنی ڈیوٹی پر نکل کھڑے ھوتے،، سلیم نے اپنا سر ھمیشہ دادا کے قبضہ دست میں پایا،، عید ھو یا شب برأت کوئی چھٹی نہیں،، اب وہ دادا کا ھدایت کار بھی بن گیا تھا،وہ دادا کو بتاتا کہ آنے والا پینٹ شرٹ میں ھے،، اچھے کپڑوں والا امیر لگتا ھے،، بیوی کے ساتھ ھے یا اکیلا ھے،، صرف میاں بیوی ھیں یا ساتھ بچے بھی ھیں،، دادا ھمیشہ موسم کی پیش گوئی کے مطابق صدا دیتا،، سلیم غریب تھا مگر ایک بچہ بھی تھا،، بچہ تو صرف بچہ ھوتا ھے، نہ امیر نہ غریب،، اس کا بھی دل کرتا کہ کبھی بچوں کے ساتھ بے فکری سے کھیلے کودے،، عید والے دن اچھے کپڑے پہنے ، شب برات کی رات پٹاخے کی ھر آواز کے ساتھ اس کے اپنے اندر کوئی چیز ٹھاہ کر کے ٹوٹ جاتی اور وہ اٹھ کر بیٹھ جاتا،، دادا سے دبے لفظوں پٹاخے کی فرمائش کرتا تو دادا ھمیشہ ایک رٹا رٹایا جملہ بول دیتا” لوگ کہیں گے بھکاری ھو کر پٹاخے چلاتا پھرتا ھے،،اس طرح بھیک کا رستہ کھوٹا ھوتا ھے،،جس طرح مولوی کے بیٹے کو ھمیشہ اپنے ابا کی عزت کا واسطہ دے کر بچپن سے محروم کر دیا جاتا ھے،،تو قاری صاحب کا بیٹا ھے ،لوگ کیا کہیں گے؟ تو ممتاز مفتی کا بیٹا ھے لوگ کیا کہیں گے؟ عید کے دن اس نے دادا سے نئے کپڑوں کی فرمائش کر دی تو گویا زلزلہ آ گیا، دادا نے اسے دھنک کر رکھ دیا،، نواب صاحب کا بیٹا نئے کپڑے پہن کے بھیک مانگے گا تو کیا تیرا باپ قبر سے آ کے بھیک دے گا ؟ صبح بچے کرکٹ کھیل رھے تھے اور سلیم کا جی بھی کرکٹ کھیلنے کو چاہ رھا تھا،مگر سر تھا کہ دادا کی گرفت میں تھا،، جو اسے فٹ پاتھ پر ایک کھمبے کی چھاؤں میں لئے کھڑا تھا،، اپنی طرف آنے والی گیند کو اس نےجو ایک دو دفعہ پاؤں کی ٹھوکر سے واپس کھلاڑی کی طرف پھینکا تو شوق بھڑک اٹھا،، 2 بجے جب دادا نے کھانا کھانے کا وقفہ کیا تو سلیم نے کرکٹ دیکھنے کی فرمائش کر دی،، اور وعدہ کیا کہ وہ چار بجے ڈیوٹی پر حاضر ھو جائے گا،،مگر دادا کو ھمیشہ اس بات کی فکر رھتی تھی کہ ،بھکاری کا امیج خراب نہ ھو جائے،،اس نے اپنی لاٹھی جو اندازے سے گھمائی تو بے دھیانے سلیم کی کنپٹی پر جا لگی،، سلیم کا دماغ لٹو کی طرح گھوما اور وہ گر گیا،، اپنی 10 سالہ زندگی میں سلیم کے دل سے پہلی بار دادا کے لئے بد دعا نکلی کہ اللہ دادا سے اس کی جان چھڑا دے،، پتہ نہیں سلیم نے کس دل سے دعا مانگی تھی یا وہ وقت ھی قبولیت کا تھا کہ دادا کو کچھ اس طرح سے بخار ھوا کہ صبح ھوتے ھوتے جان دے دی،، سلیم جو خود ساری رات روتا رھا تھا، صبح دیر سے جاگا،اسے تعجب یہ تھا کہ اتنی دیر کیسے ھو گئی جبکہ اس کا دادا ھمیشہ صبح صبح اسے اٹھا کر تیار کر دیتا تھا، تاکہ ڈیوٹی پر جانے والوں سے کچھ نہ کچھ بٹور لیا جائے،، سلیم نے دل نہ چاھتے ھوئے بھی دادا کو آواز دی پھر پاس جا کر ھلایا تو دادا نے کوئی حرکت نہ کی،،سلیم جلدی سے کھوکھے والے کو بلا کر لایا جس نے دیکھتے ھی کہہ دیا کہ بڑے میاں چل بسے ھیں،، یہ سلیم کے لئے 14 اگست 1947 کا دن تھا،،یومِ آزادی،، اس کا دل بلیوں اچھل رھا تھا مگر اس نے مصنوعی غم کا غلاف اپنے چہرے پر چڑھائے رکھا،پھر جب لوگوں نے اس کے دادا کو دفن کر دیا اور اس کو لاوارث جان کر لوگوں نے کافی مدد بھی کر دی تو سلیم نے سکھ کا سانس لیا اور اس رات سکون کی نیند سویا، اگلی صبح وہ خوشی خوشی گھر سے نکلا، سکول کے گراؤنڈ میں کھیلتے بچوں کے ساتھ فیلڈنگ کرتا رھا،، ادھر ادھر گھوم پھر کے کھاتا پیتا بھی رھا،،مگر بارہ بجے کے لگ بھگ اس کا جی کھیل کود سے بھر گیا،اور اسے اپنے اندر کسی کمی کا احساس ستانے لگا،، اسے بار بار لگ رھا تھا کہ اس کے ساتھ آج کچھ غلط ھو گیا ھے،،مگر کہاں ؟ یہ اسے اس وقت سمجھ لگی جب اس کا سر درد سے پھٹنے لگا،، سالوں سے کسی کی گرفت میں رھنے والا سر آزادی کے بوجھ کو سنبھال نہیں پا رھا تھا ،، وہ کسی گرفت کا تقاضا کر رھا تھا،، دو بجے چھٹی کر کے آنے والوں کا رش شروع ھوا تو سلیم اپنی مخصوص جگہ پر جا کھڑا ھوا،مگر آج اسے پیسے کی بھیک نہیں چاھئے تھی ،،پیسہ اس کے پاس گزارے کے قابل ھو گیا تھا،، آج وہ کسی اور چیز کو ترس رھا تھا،،ایک پینٹ شرٹ مین ملبوس جوان کو دیکھ کر سلیم بلکتا ھوا اس کی طرف لپکا،بابو جی ، بابو جی ، جوان پلٹا اور سلیم کو روتا بلکتا دیکھ کر پہلے تو ٹھٹکا اور پھر اس کا ھاتھ جیب کی طرف بڑھا،، مگر سلیم چیخ پڑا ، بابو جی مجھے بھیک نہیں چاھئے ” اللہ کے واسطے تھوڑی دیر میرے سر کو پکڑ کر کھڑے ھو جایئے،، خدا را میرے سر پر ھاتھ رکھئے ” انسان والدین کی پابندیوں اور ھر وقت کی ناصحانہ گفتگو سے تنگ ھوتا ھے،سوچتا ھے کوئی دن ھو گا جب اسے ڈانٹنے والا کوئی نہ ھو گا،،پھر جب ڈانٹنے والے چلے جاتے ھیں تو اس کے اندر کا سلیم روتا پھرتا ھے،، شوھر ھر وقت کی چخ چخ سے تنگ ھوتا ھے،،یہ اخبار نیچے سے اٹھائیں،، کمبل تہہ کیا کریں،، یہ پلیٹ اٹھا کر ادھر رکھ دیں،، اور سوچتا ھے کوئی دن ایسا بھی ھو گا جس دن
میں جتنا گند چاھوں گا ڈالوں گا ،کوئی ٹوکنے والا نہیں ھو گا ،پھر گھر والی کے جانے کے بعد چند دن خوب گند ڈالتا ھے،، برتنوں سے سینک بھر دیتا ھے،، دو دو دن کمبل تہہ نہیں کرتا،، اخبار جہاں چاھے پھینک دے،،مگر پھر اس کے اندر کا سلیم کسی حکم دینے والی، کسی ڈاننٹنے والی کے لیئے سسکنا شروع کر دیتا ھے،، پھر فون پر ھی بتانا شروع کر دیتا ھے کہ وہ اب کمبل خود ھی وقت پر تہہ کر دیتا ھے،، اور برتن تو جُڑنے ھی نپیں دیتا، فوراً دھو دیتا ھے،، بس اب تم خدا را میرے سر پر ھاتھ رکھنے آ جاؤ ! کچھ قومیں بھی سلیم ھوتی ھیں،، چار دن آقا ناراض ھو جائے،، تو آزادی کا احساس ان کے سر میں درد پیدا کر دیتا ھے،وہ خود درخواست کرتی ھیں کہ

” خدا را ھمارے سر پر ھاتھ رکھیں ”

مســـلح گـــروپوں کے مــذھبی ونگ ! ھماری مذھبی جماعتیں !!

مســـلح گـــروپوں کے مــذھبی ونگ ! ھماری مذھبی جماعتیں !!

September 22, 2013 at 9:46pm
  • پوری دنیا میں ھم قتل و غارت گری کا سبب بن گئے ھیں، غیروں نے اسلام کیا لانا  تھا جو مسلمانوں کے پاس تھا وہ بھی مشکوک کر دیا گیا ، اسلام  نے لوگوں کے درد کا مداوہ کیا کرنا تھا  جو لوگوں کے پاس تھا وہ سب کچھ بھی چھن گیا،، گھر بار سے محروم ھوئے، وطن چھوٹا،کیمپوں میں در بدر ھوئے،، دو وقت کی روٹی کے لئے بھی بائبل والوں کے محتاج ھوئے کہ جن سے جزیہ لینے نکلے تھے،، صومالیہ میں اسلام کے نام پر ،ایک قائم مستحکم حکومت کو گرایا گیا،حالانکہ صومالی معاشرہ انتہائی نیک نام معاشرہ تھا،،ھمارے ساتھ رھنے والے 100٪ صومالی نمازی تھے،، پھر القاعدہ نام کا فتنہ پرور گروہ افغانستان میں تباھی و بربادی کا تحفہ دینے کے بعد صومالیہ میں داخل ھوا اور وھاں کی حکومت کا تختہ الٹ دیا،، ھزاروں جانوں کی بلی لی گئی اور پھر آپس مین گروپوں کی جنگ شروع ھوئی،،نتیجہ یہ کہ صومالیہ نام کا ملک اب دنیا میں کوئی نہیں ،نہ ان کی حکومت نہ پاسپورٹ،، ایک خطہ زمین ھے جہاں بھیڑیوں کے گروپ پھرتے ھیں،،اور انسانی خون پانی سے بھی ارزاں ھے،، ذرائع آمدنی ختم ھوئے تو بین الاقوامی لٹیروں کے گروہ سمندروں کی طرف نکل کھڑے ھوئے،،جہازوں کے بیگناہ عملے کو یرغمال بنانا بھوکا پیاسا مارنا،، ان کے گھر والوں کو ذلیل خوار کر کے بھیک پر مجبور کرنا،، یہ وھی طریقہ ھے جو اپنے یہاں کراچی میں کیا جا رھا ھے،، جہاد جب ریاستی ذمہ داریوں کے بغیر گروپوں کے زور پر شروع کیا جاتا ھے تو پھر اس کے سائڈ افیکٹس سے بچنا محال ھوتا ھے،خوب اسلام کا نام روشن ھوا ، اور ھو رھا ھے،، صومال کی زمین پر کوئی بھوکا چوری کر لے تو اس کا ھاتھ کاٹا جاتا ھے،، مگر یہ ھاتھ کاٹنے والے جب سمندر میں جاتے ھیں تو پھر ڈاکا حلال ھو جاتا ھے،، اسلام کی اتنی دوغلی تعبیرو تفسیر ان کو بھی نہ سوجھی ھو گی جنہوں نے یہ سوچ پروان چڑھائی تھی ! کہتے ھیں قرآن میں نہیں لکھا،،احل لکم صید البحر و طعامہ؟ سمندر کا شکار اور وھاں سے جو ملے وہ تمہارے لئے حلال کر دیا گیا ھے ؟ بجا کہتے ھو ،سچ کہتے ھو،پھر کہیو کہ ھاں کیوں ھو  
  •     ! یمن میں یہی داستان دھرائی جا رھی ھے وھاں بھی کل اتنے ھی مرے ھیں جتنے آج پشاور میں مرے ھیں،، یمنی اسلام کے معاملےمیں  سخت ترین اور متشدد مسلمان ھیں ان کی خواتین حج عمرے میں بھی نقاب اور دستانے پہنے ھوتی ھیں،مگر وھاں بھی القاعدہ والا نیا ورژن انسٹال کرنے کی کوشش میں ھزاروں جانیں جا چکی ھیں،بھوک اور افلاس نے ڈیرے ڈال لیئے ھیں اور لوگ اپنی آٹھ آٹھ سال کی بچیاں عیاش عربوں کو بیچنے پر مجبور ھیں، جو دو چار دن میں ان کو ویاگرا سے مار کر واپس آ جاتے ھیں،، یہی کچھ لیبیا میں اور یہی کچھ اب شام میں دھرایا جا رھا ھے،، آپس میں بھی لڑ رھے ھیں اور ابھی حکومت کافی دور ھے،جس دن حکومت ملی تو کیا ھو گا،، یورپ جو مدد کو دوڑا تھا،، ٹھٹک کر کھڑا ھو گیا ھے،، اسرائیل کے پڑوس میں صومالیہ کوئی بھی نہیں چاھتا،، بھوک و افلاس ،کشت و خون اور فتنہ فساد اسلام کے نام کے ساتھ کچھ یوں جڑ گیا ھے کہ اسلام کے نام کے ساتھ ھی دھماکے۔،کٹی پھٹی لاشیں بین کرتی مائیں ،سہمی بچیاں اور ماتم کرتی بیوائیں ذھن میں ابھرتی ھیں،، کیا اب بھی دینی جماعتوں کی انکھیں کھلیں گی یا نہیں،،، ؟؟ نبی رحمت ﷺکے دین کو کیا سے کیا بنا دیا گیا ھے؟ بخدا سینٹ پال نے وہ حشر عیسائیت کا نہیں کیا ھو گا جو ھمارے علماء نے اسلام کا کر دیا ھے کہ پہچانی ھوئی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی !  
  • اس مسئلے کا حل یہ ھے کہ ھمارے علماء دوغلی پالیسی کو ترک کریں،، لنچ یزید کے ساتھ اور نماز حسین کے پیچھے پڑھنے کی اس پالیسی نے اس ملک کو برباد کر دیا ھے اور اب صومالیہ اور افغانستان کا سا انجام نوشتہ دیوار ھے، بہتر یہ ھے کہ یہ علماء لوگ یہ فیصلہ کریں اور اس فیصلے کا اعلان کریں کہ القاعدہ اور ٹی ٹی پی والے جو کر رھے ھیں یہ شرعی جہاد ھے، اور اس اعلان کے بعد آرام سے کراچی  بیٹھ کر اپنی علمی جاگیریں  وسیع نہ  کریں بلکہ وزیرستان جا کر اس جہاد کی کمان سنبھالیں تا کہ جہاد کے دوران حلال و حرام کو خیال رکھا جا سکے اور اللہ کی حدوں کو ٹوٹنے سے بچایا جا سکے،جہاد جیسی جان لیوا ذمہ داری کو مرنڈے بیچنے والے اور ویگنوں کے کلینرز  کے حوالے نہیں کیا جا سکتا ،

 

  • وزیرستان جانے کے بعد سب سے پہلے جس صدمے کا سامنا ھمارے بزرگوں کو کرنا پڑے گا وہ یہ ھو گا کہ طالبان  انہیں کمان سونپنے کو کبھی بھی تیار نہیں ھوں گے،اس دن ھمارے علماء کو شاید احساس ھو کہ جن کی خاطر وہ اپنی نبیﷺ کی امت کے قتل عام پر بھی خاموش رھے، وہ بھی اصلاً ان کو اپنی مطلب براری کے لئے استعمال کرتے رھے،یہ پرانی بات ھے کہ مذھبی جماعتوں کے مسلح ونگ ھوا کرتے تھے،،آج کل مسلح گروپوں کے مذھبی ونگ ھوتے ھیں جو معاشرے میں چلتے پھرتے ان کی صفائی پیش کرتے ھیں،،منابر پر بیٹھ لگوں کو برین واش کرتے اور ان کے دل و دماغ میں ان کے جرائم کو خوشنما بنا کر پیش کرتے ھیں،، یہ منی لانڈرنگ کی بجائے کریکٹر لانڈرنگ کرتے اور سیاہ کو سفید کر دکھلاتے ھیں   !

آخر کفر کی اتنی سخت سزا کیوں !

آخر کفر کی اتنی سخت سزا کیوں !

June 4, 2013 at 10:37pm

سوال: ہمارا عقیدہ ہے کہ اگر ایمان کی حالت میں موت آ جائے تو صحیح ہے، ورنہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم ہے۔ جبکہ انسان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اتناروایت پسندہے کہ اگر عیسائی کے ہاں پیدا ہوتا ہے تو ساری عمر عیسائی ہی رہتا ہے، اور اگر ہندو کے ہاں پیدا ہوتا ہے تو ساری عمر ہندو ہی رہتا ہے اور کسی دوسرے کے ایمان و عقیدے کی طرف نہیں دیکھتا۔ جب انسان اتنا روایت پسند ہے تو پھر اتنی سخت سزا کیوں رکھی گئی ہے کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں جائے گا؟ جواب: آخرت میں جس بنیاد پر مواخذہ ہو گا وہ یہ ہے کہ ایک مسیحی ، ہندو یا مسلمان جس چیز پر اپنی زندگی بسر کر رہا تھا جو اس نے اپنے والدین سے پائی تھی تو کسی خاص موقع پر اس کی عقل یا اس کے علم نے اس کے سامنے ایک سوال رکھ دیا تو اس نے اس موقع پر کیا رد عمل ظاہر کیا؟اسی طرح سے اگر کوئی دعوت یا کوئی پیغام ،کوئی نئی بات اس تک پہنچی، دین اور مذہب کے بارے میں کوئی حقیقت اس کے سامنے آئی تو اس نے کیا رد عمل ظاہر کیا؟ یہ ہے وہ بنیاد جس پر اللہ تعالیٰ مواخذہ کریں گے۔قرآ ن نے بڑے مذاہب کا نام لے کر یہ اعلان کر دیا ہے کہ اگر لوگوں کا اللہ پر سچا ایمان ہے، وہ قیامت کی جواب دہی کے احساس کے ساتھ جی رہے ہیں اور اچھا عمل کر رہے ہیں تو اللہ کے لیے ان کے ہاں نجات کی ضمانت ہے بشرطیکہ انھوں نے کسی بڑے جرم کا ارتکاب نہ کیا ہو ۔جس طرح قتل ایک بڑا جرم ہے، بدکاری کو زندگی کا وطیرہ بنا لینا ایک بڑا جرم ہے۔ اسی طرح ایک بہت بڑا جرم یہ ہے کہ ایک پیغمبر کے بارے میں جب آپ پر واضح ہو گیا کہ وہ خدا کا سچا پیغمبر ہے اور آپ نے اسے ماننے سے انکار کر دیا۔یعنی جب آپ پر یہ بات واضح ہو گئی کہ مسیح علیہ السلام خدا کے سچے پیغمبر ہیں، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے سچے پیغمبر ہیں، پھر بھی آپ نے جانتے بوجھتے ، ضد کی وجہ سے ان کو ماننے سے انکار کر دیا تو تب آپ مواخذے میں آئیں گے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ دنیا کے تمام لوگوں سے جتنی حقیقت ان تک پہنچی ہے، اس کی بنیاد پر مواخذہ (جواب دہی)کریں گے۔اس کو قرآن اس طرح بیان کرتا ہے کہ جس کو جتنا علم ملا ہے، اس کی بنیاد پر خدا اس سے پوچھے گا۔ 

یہ سوال اور اس پر غامدی صاحب کا جواب ملاحظہ فرما لیجئے،یہ ایسا جواب ھے جس سے ملحد بھی شادکام ھو سکتا ھے اور مومن بھی  خوش گمان ! حالانکہ غامدی صاحب پنجابی ھیں مگر ان میں پنجابیوں کی سی دو ٹوک بات کرنا ناپید ھے، لکھنؤ والوں کی طرح اتنے اگر مگر لگا دیتے ھیں کہ ھر ذھن کا بندہ یہ گمان کرتا ھے کہ یہ میرے موقف کی تائید کر رھے ھیں،، عقیدے میں کوئی اگر مگر اللہ نے نہیں لگائے اور نہ ھی عقیدے کے معاملے کو مبہم چھوڑ کر سلسلہ نبوت کو ختم کیا ھے،،قرآن اور اسلام میں اگر کوئی چیز روزِ روشن کی طرح واضح ھے تو وہ عقیدہ ھی ھے، جس کے بارے میں نبی کریمﷺ کا ارشاد

گرامی ھے کہ اس کی راتیں بھی اتنی ھی روشن ھیں جتنا دن روشن ھوتا ھے،، دوسرا مسئلہ جو غامدی صاحب کو درپیش ھے وہ ان کا حافظِ قرآن نہ ھونا ھے،،اگر وہ حافظِ قرآن ھوتے اور پورا قرآن ان کے سامنے کھلا ھوتا تو کسی ایک آدھ آیت پر اپنے موقف کی عمارت تعمیر نہ کرتے !

جیسا کہ میں عرض کر چکا ھوں کہ  قران میں عبادات تو بالکل واضح نہیں ھیں اور ان کی تفصیل نبی ﷺ کے حوالے کر دی گئی ھے،،مگر عقیدے کے ھر اس پہلو کو بڑی تفصیل سے واضح کیا گیا ھے جہاں قیامت تک کوئی ٹھوکر کھا سکتا تھا،، انسان کے روایت پسند ھونے کی بھی بات بھی ایک لطیفے سے کم نہیں،، اگر انسان روایت پسند ھوتا اور اپنے عقل کو استعمال نہ کر سکنے والا ھوتا تو،،پھر قومیں پیشوں کی بنیاد پر بنا کرتیں،،ایک نائی کی ساری نسلیں قیامت تک نائیوں کا کام ھی کرتی رھتیں اور ایک موچی کی نسلیں ساری زندگی موچی،، کسان کا بیٹا کبھی پروفیسر نہ بنتا اور نہ بزنس مین کا بیٹا ڈاکٹر ،، آخر یہ کیا ھے کہ باپ کی کچے گارے کی کٹیا تھی اور روایت پسند بیٹا  کروڑوں کی کوٹھی  بنا کر گھاس بھی اٹلی سے منگوا کر لگا بیٹھا ھے،دنیاوی معاملات میں وہ معصوم روایت پسندی کہاں چلی جاتی ھے،جس کا سہارا لے کر ایمان سے جان چھڑائی جا رھی ھے،، ؟؟ اصل حقیقت یہ ھے کہ انسان دین کو کوئی خاص اھمیت نہیں دیتے، کیونکہ اس سے کسی کا بگڑتا کچھ نہیں ھے،،ایک ھندو یہ دیکھتا ھے کہ اگر مسلمان ھو کر بھی شراب پینی ھے، ناپ تول میں کمی بیشی کرنی ھے،لین دین میں بے ایمانی کرنی ھے تو پھر عقیدہ بدل کر نئی ٹینشن کون پالے،،اخر مسلمان ،مسلم ھو کر بھی کرپٹ ممالک میں ٹاپ پر آتے ھیں تو جو ھو رھا ھے وہ ھوتا جائے،، جوں جوں انسان کی مصروفیات گوناں گوں ھوتی جارھی ھیں،،اللہ پاک نے علم کے ذرائع بھی اتنے ھی زیادہ کر دئیے ھیں،، آپ اپنے پسندیدہ مولوی کو سننے کے لئے لنک پر جاتے ھیں مگر اسی لنگ پر ٹیگ کیئے گئے آپ کے مخالف مولوی اور عقیدے کے لوگ بھی ڈسپلے ھو جاتے ھیں،، آپ موت یا زندگی، یا قیامت کچھ بھی ٹائپ کر دیکھیں،، سب مزاھب کا نقطہ نظر آ جاتا ھے،،لہٰذا یہ کوئی دلیل نہیں ھے کہ کسی کو پتہ ھی نہیں چلا کہ اسلام کیا ھے ! رہ گئے وہ علاقے جہاں کوئی ذریعہ ھی نہیں تعلیم کا جیسے افریقہ کے جنگل ،،تو ان کا معاملہ ان کے ضمیر کے مطابق ھو جائے گا،،یہ سوال کرنے والے کا اپنا پرابلم نہیں ھے،،ڈاکٹر بھی حقیقی مریض کو انٹرٹین کرتا ھے نہ کہ خیالی مریض کو !!

ایمان اور آخرت !

سوال یہ اٹھایا گیا ھے کہ جناب بندہ گناہ تو کرے ساٹھ ،ستر، سال اور جہنم میں جلے اربوں کھربوں سال؟ انسان نیکی تو کرے ساٹھ ، سترسال مگر جنت میں رھے اربوں کھربوں سال؟ جواب کچھ اسطرح سے ھے کہ مومن جنت کا شہری ھے،اپنے ایمان اور نیت  کی بدولت ،، اور کافر جہنم کا شہری ھے اپنی بے ایمانی اور نیت کی بدولت،، کافر کے اعمال چاھے وہ نیک ھوں یا بد وہ تو زیرِ بحث ھی نہیں آئیں گے،اولٰئک الذین کفروا بآیاتِ ربھم و لقائہ فحبطت اعمالھم ،فلا تقیم لھم یوم القیامۃ وزناً( الکہف105 ) گویا کافر اپنے اعمال کی بدولت جہنم میں نہیں جائے گا کیونکہ وہ تو تولے ھی نہیں جائیں گے،انکی تو ڈائریکٹ فلائٹ ھو گی،لہٰذا یہ سوال کہ گناہ ساٹھ سال کرے اور جہنم میں اتنا عرصہ رھے،،چونکہ اس کی نیت سدا کافر رھنے کی اس لئے اپنی نیت کے عوض سدا جہنم میں رھے گا اور مومن کی نیت چونکہ ھمیشہ مومن رھنے کی تھی لہٰذا اپنی نیت کی بدولت سدا جنت میں رھے گا،،، اصلا ً وہ اپنے عمل کی وجہ سے جنت کا باسی نہیں ھے بلکہ نیت اور ایمانن کی وجہ سے ھے،،عمل میں کمی بیشی جنت کے درجات میں کمی بیشی  کا سبب ھو گی،،جسطرح دنیا بھر میں کوئی بھی پاکستان جب سزا کاٹ کر ڈی پورٹ کیا جاتا ھے تو پاکستان ھی ڈی پورٹ کیا جاتا ھے،،اسی طرح مومن جہنم سے سزا کاٹ کر جب بھی ڈی پورٹ ھو گا ، جنت کو ھی ڈی پورٹ کیا جائے گا کیونکہ وہ ایمان کی بدولت جنت کا شہری ھے،،یہ مضمون قرآن حکیم میں متعدد مقامات پر آیا ھے،، من کان یرید الحیوۃ الدنیا نؤتہ منھا وما لہ فی الاخرۃ من نصیب (شوری 20 )من کان یرید العاجلۃ عجلنا لہ ما نشاء لمن نرید ثمہ جعلنا لہ جھنم،(،الاسراء 18) و من اراد الاخرۃ و سعی لھا سعیھا ” و ھو مومن” فاولئک کان سعیھم مشکورا ( الاسراء 19 ) نیز سورہ آل عمران آیات 21،22،77، 91) اور قرآن میں واضح طور پر بتا دیا گیا ھے کہ ان لوگوں سے زمین کے برابر یا اس جتنا اورسونا بھی اگر پیش کریں گے تو سونا وہ سونا ان کے کفر کے عوض قبول نہیں کیا جائے گا،،

ایمان اور بے عملی

اصولاً تو ایک مسلمان کو اپنے ایمان کے مطابق اعمال کرنے چاھئیں ،مگر عملاً ھم دیکھتے ھیں کہ ایسا عموماً ھوتا نہیں ھے، اور یہ ایک فطری بات ھے،کسی بھی محکمے کے ملازموں کو وھاں 100٪ ذمہ داری اور دیانت داری سے کام کرنا چاھئے مگر یہ کسی محمکمے مین بھی ھوتا نہیں ھے،،مگر ھر محکمے نے اپنے کچھ اصول و ضوابط بنا رکھے ھیں کہ یہاں تک تو قابلِ برداشت ھے،مگر اس سے آگے بڑھا تو فارغ کر دیا جائے گا،، اگر آپ کی سم رجسٹرڈ ھے تو بعض دفعہ بیلنس ختم ھو جانے سے،سہولت تو واپس لے لی جاتی ھے ،مگر اپکی رجسٹریشن برقرار رھتی ھے، اور ری چارج پر واپس مل جاتی ھے،یہ اس شخص سے مختلف حالت ھے،جس کی سم رجسٹرڈ ھی نہیں ھے،، آپ کوتاھی پر محکمانہ سرزنش ھوتی ھے، معطلی بھی ھو جاتی ھے مگر برخواستگی نہیں ھوتی،، اگر آپ کے پاس ڈرائیونگ لائسنس ھے تو آپ سے غلطیاں بھی ھوتی ھیں اور آپ کو چالان بھی بھرنے پڑتے ھیں،مگر اس سے آپ کے لائسنس یافتہ ھونے کی سہولت واپس نہیں لی جاتی،،یہانتک کہ اگر آپ سے حادثے میں انسان مر بھی جائے تب بھی نہ تو آپ پر قتل کا مقدمہ بنتا ھے اور نہ ھی لائسنس ضبط ھوتا ھے، اور ایک شخص جس کے پاس ڈرائیونگ لائسنس نہیں ھے ،اگر اس سے بندہ مر جاتا ھے،،تو اگرچہ غلطی اس مرنے والے کی ھو، قتل کا مقدمہ  بے لائسنس ڈرائیور پر ھی بنتا ھے ،،اس لئے مومن کے گناھوں کا تقابل غیر مسلم کے گناھوں سے بھی نہیں کیا جا سکتا،، یہ ھے وہ بات جو ھم نماز جنازہ میں کہتے ھیں، و من توفیتہ منا فتوفہ علی الایمان،،ایمان پر وفات ھو گئی تو چالان بھی بھرے جا سکتے ھیں اور معافی کی درخواست پر غور کی بھی سہولت ھے ! جبکہ کفر کی حالت میں مرنے پر کوئی نیکی زیرِ بحث ھی نہیں آئے گی !باقی رہ گیا مسئلہ کہ کتنے فیصد مسلمانوں نے یہودیت یا عیسائیت کا مطالعہ کیا ھے ،،تو مسلمان کو کبھی وہ سوال درپیش ھی نہیں آیا جس کا جواب اس کے اپنے مذھب نے نہ دیا ھو،اور اسے کسی اور مذھب کی کتابوں کو اسٹڈی کرنا پڑے،، اپنے گھر دودھ والی بھینس باندھ کر دودھ لینے دکان پر کوئی پاگل ھی جائے گا،،اگر آپ ایک کتاب” ھم مسلمان کیوں ھوئے ” پڑھ لیں تو آپ کو سمجھ لگ جائے گی کہ کیسے کیسے تعلیم یافتہ انسانوں کو کس کس قسم کے سوالات نے پریشان کر رکھا ھے،، یہ وہ سوال ھیں جو کبھی ھمارے بکریں چرانے والے کو بھی پریشان نہیں کرتے،، اللہ پاک قرآن میں سوال کرتے ھیں،، فماذا بعد الحقِ الا الضلال؟ آخر حق کو پالینے کے بعد کسی کی جستجو اسے سوائے گمراھی کے اور کس منزل تک پہنچا سکتی ھے؟ جو بندہ پنڈی پہنچ کر بھی پنڈی کی تلاش میں سفر جاری رکھے ،اسے کبھی پنڈی نہیں مل سکتی ،یہ بات بھی ان مغالطوں میں شامل ھے جو محترم غامدی صاحب کو لگے ھیں،، قران کی موجودگی میں عقیدے کے معاملے میں رسول کی موجودگی اور عدم موجودگی کوئی اھمیت نہیں رکھتی کیونکہ عقیدہ نبیﷺ نے نہیں دیا،،بلکہ نبیﷺ کو بھی عقیدہ قرآن نے دیا ھے( الشوری 52 ) البتہ قوموں کی عذاب میں ھلاکت رسول کی عدم موجودگی کی وجہ سے نہیں ھوتی !- —

دعا اور تقدیر ! کس قیامت کے یہ نامے میرے نام آتے ھیں

دعا اور تقدیر ! کس قیامت کے یہ نامے میرے نام آتے ھیں

October 7, 2013 at 9:34am

دعا اور تقــــــدیر ! کچھ لوگ یہ سوال اٹھاتے ھیں کہ دعا سے اللہ کے فیصلے کیسے تبدیل کرائے جا سکتے ھیں،،فیصلے تو وہ تبدیل کرتا ھے جو فیصلوں میں غلطی کرتا ھے،، اور اسے احساس دلایا جاتا ھے کہ آپ نے یہاں میرے ساتھ زیادتی کر دی ھے،یا آپ سے انجانے میں کچھ غلط ھو گیا ھے تو جناب میری درخواست یہ ھے کہ آپ اسے تبدیل کر دیں !! دعا اللہ پاک کا حکم ھے اور انسان کا فرض اور ضرورت ھے،، جس طرح نماز کا حکم مشروط نہیں ھے بلکہ نماز ھم نے ھر حال میں پڑھنی ھے ،چاھے ھم غریب ھوں، بیمار ھوں، بے اولاد ھوں، لولے لنگڑے ھوں، روزہ غیر مشروط حکم ھے،روزہ ھم نے ھر حال میں رکھنا ھے، اسی طرح دعا ایک مستقل عبادت ھے اور اس دعا کے نتیجے میں اگرچہ آپ کے گھر پر سونا چاندی نہ برسے،،یا اولاد نہ ھو ،یا بیماری دور نہ ھو تب بھی، دعا کرنا تو ھمارا فرض ھے،و قال ربکم ادعونی استجب لکم،، اور تمہارا رب کہتا ھے مجھے پکارو میں تمہاری دعائیں قبول کرتا ھوں،، ان الذین یستکبرون عن عبادتی،، بےشک وہ لوگ جو میری عبادت سے استکبار کرتے ھیں،،یہاں دعا کو عبادت کہہ کر دعا نہ کرنے والے کو متکبر قرار دیا اور پھر آگے نتیجہ سنا دیا،،سیدخلون جہنم داخرین،،عنقریب جہنم میں داخل ھوں گے،،اس ایک ھی آیت میں اللہ پاک نے کسی چیز کو فرض کر دینے والے سارے اسلوب اختیار فرما لئے ھیں،، حکم،،اس پر عمل کی جزاء کی بشارت اور نہ کرنے پر جہنم کی وعید (المومن 60 ) یہ اللہ کا احسان ھے کہ اس نے کسی عبادت کے بارے میں یہ نہیں فرمایا کہ یہ کرو میں قبول کروں گا،، بلکہ اس کو اوپن رکھا کہ تم عبادت کرتے چلے جاؤ،، میں قبول کروں یا نہ کروں،، یہ میرا اختیار ھے،، اور فرمایا انما یتقبل اللہ من المتقین،،اللہ تو درحقیقت متقین سے ھی قبول فرماتا ھے،، سوائے دعا کے،، ایک تو اس میں نیک ھونے کی شرط کوئی نہیں رکھی بڑے سے بڑے گنہگار سے قبول کی جا سکتی ھے،، اسکی وجہ یہ ھے کہ اللہ پاک نہیں چاھتا کہ نیکوں کا ایک ایسا طبقہ یا مستقل ادارہ وجود میں آ جائے جو کرائے پر دستیاب ھو دعا کرانے کے لئے ( اس کے باوجود ھم ایک سے ایک بڑا مچھندر پالے بیٹھے ھیں) دوسرا اللہ پاک نے اس کی غیر مشروط قبولیت کا وعدہ فرمایا ھے،،،اس سے ایک تو امید دلانا مقصود ھے ،،اللہ گنہگار سے براہ راست رابطے یا انٹر ایکشن کا طلبگار ھے کسی وکیل کو درمیان میں نہین آنے دینا چاھتا،،وہ چاھتا ھے کہ گنہگار اسی بہانے سے بھی میرے در پہ آ جائے اور ھماری دعا سلام ھو جائے،، اس کے لئے فرمایا” یا عبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ -ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا،، انہ ھو الغفور الرحیم- اے میرے وہ بندو ! جو اپنی جانوں پر زیادتی کر بیٹھے ھو ،اللہ کی رحمت سے مایوس مت ھو جاؤ،وہ سارے گناہ معاف کر دے گا،وھی تو ھے بخشنے والا رحم کرنے والا ! یہ اصول اللہ قرآن حکیم مین بار بار دھرایا ھے کہ مصائب مشکلات اور تکلیفوں کا نزول انسان اور قوموں کو رب کے در پر لانے کے لئے کیا جاتا ھے اور یہ آخری موقع ھوتا ھے،تعلقات کی بحالی کا،،اگر مصائب میں مبتلا ھونے کے باوجود انسان رب کا در نہ دیکھے تو وہ روحانی طور پر لاعلاج قرار دے دیا جاتا ھے،،پھر اس پر ھر چیز کے دروازے کھول دیئے جاتے ھیں یہانتک کہ جب وہ خوب غافل ھو جاتا ھے اور بے فکر ھو جاتا ھے کہ اچانک کسی سخت گرفت مین پکر لیا جاتا ھے اور اس کا قصہ چکا دیا جاتا ھے؛واخذناھم بالبأسآءِ والضراء لعلھم یتضرعون،،اور ھم نے ان کو پکڑا تنگیوں اور تکلیفوں مین تا کہ وہ گڑگڑائیں،، فلوا لا اذ جاء ھم بأسنا تضرعوا ولکن قست قلوبھم،، پھر جب ان پر ھماری مصیبت آئی تو وہ گڑگرائے کیوں نہیں؟ مگر ان کے دل سخت ھو گئے تھے،، دعا کی قبولیت کے انداز !!! دعا کبھی تو فوری طور پر پوری ھو جاتی ھے،،کبھی تاخیر سے پوری ھوتی ھے اور کبھی پوری نہیں ھوتی،، جن کی تاخیر سے پوری ھوتی ھے، اللہ پاک چاھتا ھے کہ وہ اسی بہانے سہی مگر اس سے رابطے میں رھیں،، جن کی نہیں پوری نہیں ھوتی،، وہ ان کے نصیب نہیں ھوتی بلکہ کسی اور کے نصیب میں ھوتی ھے،ـ میں کسی کے دستِ طلب مٰں ھوں تو کسی کے حرف دعا میں ھوں ،میں نصیب ھوں کسی اور کا مجھے مانگتا کوئی اور ھے )مگر ایسی دعا کی استجابت کا طریقہ یہ ھے کہ وہ اللہ کے یہاں محفوظ کر لی جاتی ھے اور قیامت کے دن دیگر اعمال صالحہ کے ساتھ اس کا اجر دیا جائے گا،،نبی کریمﷺ کے فرمان کے مطابق اس دن انسان کی جو دعائیں قبول ھو چکی ھوں گی وہ ان پر بھی حسرت کرے گا کہ کاش وہ بھی قبول نہ ھوتیں اور آج کے اجر میں شامل کر لی جاتیں ! دعا اللہ کے فیصلوں میں تقدیر کا حصہ ھوتی ھے یعنی یہ دعا کرے گا تو ھم یہ عطا کریں گے،،کچھ چیزوں کو فوری طور پر بن مانگے بھی دے دیا جاتا ھے،مگر کچھ کے لئے ایپلائی کرنا پڑتا ھے ، یہ اصول ھر ادارے میں ھوتا ھے،،کچھ کے لئے ایک خاص گریڈ درکار ھوتا ھے جب وہ بندہ اپنے صبر اور عاجزی و گریہ زاری سے جونہی اس گریڈ میں ترقی کرتا ھے ،،اللہ کے نظام مین اس گریڈ سے متعلق فیصلے فوری طور پر حرکت مین آ جاتے ھیں،، یعنی آپ کی ترقی جب اگلے گریڈ میں ھوئی تو آپ کو پہلے سے بڑا گھر، پہلے سے قیمتی کار،پہلے سے زیادہ تنخواہ پہلے سے طے شدہ ضوابط کے تحت ملی ھے،،تبدیل آپ کا گریڈ ھوا ھے کمپنی کا اصول نہیں،،یہ اصول اللہ نے سورہ کہف میں بیان فرمایا ھے،،جب نیک والدین کو ایک بیٹا دیا،پھر اسے بچپن میں مار دیا،،جب انہوں نے اس پر صبر کیا تو انکی ترقی اگلے درجے میں ھوئین جہاں ایک صالح بیٹا ان کے مقدر مین تھا،، اب کیا اللہ کو پیدا کرنے کے بعد پتہ چلا کہ وہ بچہ تو غلطی سے نیکوں کے گھر پیدا ھو گیا ھے ،، اسے تو کسی گنہگار کے گھر پیدا کرنا تھا پھر اللہ نے اپنی بیوروکریسی کا بندہ بھیجا جس نے موسی علیہ السلام کے سامنے اس کو مار دیا؟؟؟ دعا اور محبت ! جنہیں اللہ سے حقیقی محبت ھوتی ھے وہ ھمیشہ چھوٹے چھوٹے بہانے ڈھونڈتے ھیں رب کا دروازہ کھٹکھٹانے کے،،آپ نے کبھی غور فرمایا ھے جو بچہ جتنا آپ سے پیار کرتا ھے اور آپ کی توجہ چاھتا ھے،وہ اتنی ھی چھوٹی چھوٹی تکلیفوں پر ھائے ددی ھائے ددی کرتا آپ سے پھونکیں مرواتا ھے ؟ میاں محمد فرماتے ھیں، جس گھر مین محبت داخل ھوتی ھے اس گھر کے گھڑے بھرے رھتے ھیں،،یعنی وہ لڑکی آدھا گھڑا گرا کر پھر بھرنے نکل کھڑی ھوتی ھے کہ شاید اسی بہانے محبوب کا دیدار ھو جائے ،، ھمیں جب لسی لینے کسی ایسے گھر بھیجا جاتا تھا،جہاں ھمارا محبوب ھوتا تھا تو ھم دعا کرتے جاتے تھے کہ پہلی دفعہ نہ ھی ملے بلکہ کہہ دیں کہ ابھی لسی” رِڑکی "ھی نہیں ھے، تا کہ اسی بہانے دو چار چکر لگ جائیں،، اللہ والوں کو قبول ھونے سے قبول نہ ھونے کی زیادہ خوشی ھوتی ھے،، نبی کریمﷺ کو اللہ نے فرمایا ” اگر تم کہو تو احد کو سونا بنا دوں تم خرچ کرو اور کم بھی نہ ھو،،مگر آپﷺ تڑپ گئے اور فرمایا اللہ ایسے نہیں تو ایسے کر مجھے ایک وقت دے تا کہ میں تیرا شکر ادا کروں،، اور ایک وقت بھوکا رکھ کہ میں تجھ سے سوال کروں،، دعا کرنا عاجزی کرنا ، اپنی بے کسی و بے بسی کا اظہار کرنا ھے اور اللہ کو انسان سے یہی ادا مطلوب ھے،،بے نیازی صرف اسی ذاتِ بےھمتا کو زیب دیتی ھے،،

ما بین السطور کا برزخ !

ما بین السطور کا برزخ !

September 26, 2013 at 2:43pm

آپ تمام حضرات نے کوئی فلم تو دیکھی ھو گی ؟ چلیں علماء کے ڈر سے جملہ کچھ یوں کر دیتے ھیں کہ آپ میں سے اکثر لوگوں نے فلم ضرور دیکھی ھو گی،، اس میں جو ھم سب کا مشترکہ دشمن ” ولن ” نام کا جو کردار ھوتا ھے ،اس کی شکل پر کتنی لعنت محسوس ھوتی ھے؟ مگر وھی شخص جب اگلی فلم میں اچھے رول میں آتا ھے تو اس کے چہرے پر کتنا نور نظر آتا ھے؟ یہ لعنت اور نور ،خود انسان کے اپنے اندر ھوتا ھے اور انسان کی فوٹو شاپ اتنی ایڈوانس ھے کہ قیامت تک انسان ایسی کوئک اور ایکوریٹ فوٹو شاپ نہیں بنا سکتا،کیونکہ اللہ احسن الخالقین ھے،، تو جناب جس سے ھم پیار کرتے ھیں نور خود اس کے چہرے پر ڈال لیتے ھیں اور جس سے نفرت کرتے ھیں ،لعنت بھی اپنے سٹور میں بے حساب ھے اور بے حساب ھی ڈال لیتے ھیں،، ھم اپنے پسندیدہ اور ناپسندیدہ عالم کے ساتھ بھی یہی نور اور لعنت کا کھیل کھیلتے ھیں،، کچھ لوگوں کو گمراھی کی بیماری ھوتی ھے،یہ ایک نفسیاتی بیماری ھے، درزی جب کسی سے ملتا ھے تو اس کی نظر فوراً اس کے گلے ،کالر، جیب اور کف کی طرف اٹھتی ھے کہ کیسے بنے ھیں،، انجینئر جب کسی مسجد میں گھستا ھے تو اس کی نطر مولوی صاحب کی بجائے، ستونوں ، کھڑکیوں اور چھت کو دیکھتی ھے،، عورت ماتم پر بھی جائے تو عورتوں کے کپڑے اور زیور ھی نوٹ کرتی ھے،،گمراہ جب بھی کوئی کتاب پڑھتا ھے تو اس میں گمراھی ھی ڈھونڈتا ھے، اور اگر کوئی چیز مل جائے تو فوراً نعرہ بلند کرتا ھے،، صفحہ نمبر 153 پر مابین السطور گمراھی لیٹی ھوئی تھی اور میں نے پکڑ لیا،، سوال یہ ھے کہ اس سے پہلے جو 152 صفحے ھدایت تھی وہ آپ کو نہ نظر آئی اور نہ آپ نے اس کو مانا،، آپ کا صرف صفحہ نمبر 152 پر گمراھی کا ذکر کرنا ھی بتاتا ھے کہ پیچھے سب ٹھیک تھا،، ٹیچر جب دس جملوں میں سے ایک جملے کو سرخ پین سے کراس لگاتا ھے تو اس کا مطلب یہی ھوتا ھے کہ باقی 9 ٹھیک ھیں،، ایسے افراد جب کسی انسان کو بھی ملتے ھیں تو گفتگو سے زیادہ دھیان اس بندے کی وضع قطع پر دیتے ھیں تا کہ اس کی گمراھی کا کوئی ثبوت پا سکیں ! کاش آپ ھدایت کی تلاش میں اس کتاب کو پڑھتے تو اللہ پاک اپنے وعدے کے مطابق آپ کا ھاتھ پکڑتے” والذین جاھدوا فینا لنھدینَۜھم سُبُلَنا ” ان کا حال  ان کفار کا سا ھے جو کہتے تھے اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء اوئتنا بعذابٍ الیم( الانفال)  ائے اللہ اگر یہ نبی سچا ھے تو ھمارے اوپر آسمان سے پتھر برسا یا ھمیں دردناک عذاب دے دے،، حالانکہ کہنا یہ چاھیئے تھا کہ اے اللہ اگر یہ نبی سچا ھے تو ھمیں ھدایت دے،،مگر وہ تھے ھی گمراھی کے متلاشی ! یہ مابین السطور بھی بہت خطرناک جگہ ھے،، یہاں کافر دفنا کر مسلمان نکال سکتے ھو اور مسلمان کو دفناؤ تو کافر بنا کر نکال لو،، روایت ھے کہ جن دنوں مولانا ابوالاعلی سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے خلاف فتوؤں کی مہم چل رھی تھی، کسی مصیبت کے مارے شخص نے مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب میں سے ایک اقتباس پر دیوبند سے فتوی طلب کیا،، مفتی صاحب نے آؤ دیکھا نہ تاؤ – اسے مولانا مودودی کی تحریر سمجھ کر مابین السطور سے سے ایک کافر مودودی نکال لیا ،،اور فتوی دے دیا کہ اس تحریر کے مابین السطور سے کفر چھلکا پڑ رھا ھے ،، فتوی چھپ گیا تو مستفتی نے خط لکھا کہ حضرت یہ تو اپنے مولانا قاسم نانوتوی صاحب کی تحریر ھے، میں نے تو وضاحت طلب کی تھی ! اب مفتی پر جو جان کنی کا عالم طاری ھوا وہ عورت پر دردِ زہ میں کیا طاری ھو گا،، کہ اب مفتی صاحب کو ایک کافر کی جگہ چھ فٹ کا جوان مومن مولانا قاسم نانوتوی جننا تھا،، سو انہوں نے اسی ما بین السطور کی سمادھی سے کہ جہاں سید مودودی کا کریا کرم کیا تھا،، ایک مسلمان قاسم نانوتوی نکال دکھایا ! مگر اس دوران انہوں کتنا تھوک چاٹا ھو گا یہ وھی جانتے ھیں ! صفحہ نمبر 150 تا 153 جو گمراھی پکڑی گئی ھے وہ بھی "ما بین السطور "وہ یہ ھے کہ ” مطعون ” عالم بائبل کے حوالے دیتا ھے جس سے ثابت ھوتا ھے کہ وہ قرآن کی نسبت بائبل پر زیادہ اعتماد کرتا ھے ! کاش یہ لوگ عالم ھونے کے ساتھ خدا خوف بھی ھوتے،،یہ تو سمجھتے ھیں کہ اللہ بھی ان کے مسلک سے تعلق رکھتا ھے اور حشر کے فیصلے مسلک کی بنیاد پر ھوں گے اور ان کے حق میں ھوں گے ! کیا یہ لوگ قرآن نہیں پڑھتے، یا پڑھتے ھیں مگر یہود کی طرح اپنے خلاف بات پر انگلی رکھ لیتے ھیں،، کیا قرآن حکیم میں اللہ پاک نے جگہ جگہ تورات اور انجیل سے نبیﷺ کی صداقت پر استدلال نہیں کیا؟ سورہ الفتح کے آخر میں نبیﷺ اور صحابہؓ کی صداقت اور عظمت پر تورات اور انجیل سے استدلال نہیں کیا ؟ جس کو مولوی لہک لہک کر منبر پر پڑھتے ھیں مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں جاتا” ذلک مثلھم فی التوراۃ،، و مثلھم فی الانجیل ” الفتح 29 اللہ پاک نے فرمایا ھے،، وانہ لفی زبر الاولین،، او لم یکن لھم آیۃً ان یعلمہ علمآء بنی اسرائیل( الشعراء 196-197 ) اور اس نبی ﷺ کا ذکر پہلی کتابوں میں بھی ھے اور کیا یہ ان کے لئے نشانی نہیں ھے کہ ان کو بنی اسرائیل کے علماء بھی پہچانتے ھیں ؟ پھر یہ جو آیت ھم آج کل اپنے علماء کے بارے میں کوٹ کرتے ھیں یہ قرآن میں اصلاً یہود کے علماء کے بارے میں نازل ھوئی ھے ” فاسئلوا اھل الذکر ،ان کنتم لا تعلمون،(،الانبیاء 7 ) اور النحل 143 )اگر تمہیں معلوم نہیں ھے تو اھل کتاب سے پوچھ لو،،یہاں ذکر والے کتاب والے ھیں،، ایک جگہ فرمایا ائے نبی اگر آپ کو شک ھے اس میں جو آپ پر نازل کیا گیا ھے تو پوچھیں ان سے جو آپ سے پہلے کتاب پ
ڑھ رھے ھیں،فان کنت فی شکٍ مما انزلنا الیک فسئل الذین یقرءون الکتاب من قبلک( یونس 94 )سورہ الاحقاف آیت نمبر 10 میں فرمایا،، قل اَرئیتم ان کان من عند اللہ و کفرتم بہ و شہد شاھدٓ من بنی اسرائیل علی مثلہ فآمن واستکبرتم– قل کہا تم دیکھتے نہیں ( غور نہیں کرتے ) کہ اگر یہ کتاب اللہ کی طرف سے ھوئ اور تم نے اس کا انکار کر دیا جبکہ بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ اس جیسی پر ایمان لے آیا اور تم نے تکبر کی روش اختیار کی،،یہاں ابوبکر صدیق کے ایمان سے استدلال کی بجائے انہی یہود میں سے ایک ایمان لانے والے سے دلیل لائی جا رھی ھے،، غامدی صاحب جب بائبل سے دلیل دیتے ھیں تو اس کا مقصد یہ ھوتا ھے کہ ھم یہ بات اپنے مذھب کے فطری تعصب کی بنیاد پر نہیں کہہ رھے بلکہ تمہاری اپنی کتاب یہی کہہ رھی ھے،، یہی طریقہ ایک معلم و مناظر کا ھوتا ھے،، یہی طریقہ ڈاکٹر زاکر نائیک بھی استعمال فرماتے ھیں اور یہی فتوی ان پر بھی لگایا جاتا ھے !

اللھم اھدنا فیمن ھدیت

گھریلو زندگی سے متعلق ھمارا افسوسناک رویہ

گھریلو زندگی سے متعلق ھمارا افسوسناک رویہ

October 7, 2013 at 9:55am

ساتھیو! میرے دوستو !کھبی غور فرمایا ھے۔۔۔کہ ھم جب نبی کریمﷺ کی گھریلو زندگی کا ذکر کرتے ھیں تو بڑا منہ پھٹ انداز اختیار کرتے ھیں،،آپ کی چھوٹی چھوٹی گھریلو خدمات کا ذکر تفصیل سے کرتے ھیں،،گویا حضور ﷺصرف یہ ھی کام کرنے تشریف لائے تھے،،ھمارا یعنی مولوی حضرات کا موقف یا یہ ھوتا ھے کہ چونکہ جناب رسالت مآبﷺ انسانی زندگی کے ھر شعبے کے مقتدا اور نمونہ ھیں ،،چنانچہ ھم کو ان باتوں کا حوالہ دینا پڑتا ھے،،تا کہ مرد کی چاردیواری کی زندگی کو دین کے دائرے میں لایا جا سکے،،،،،،،، مگر میرے بھائیو !! یہ بات جتنی بھی اچھی اور خوبصورت ھو،،عملی طور پر ھم مولویوں سمیت سارے مردانہ کلچر کا شکار ھین،،اور دین کی بھی مردانہ تشریح کرتے ھیں،،،،تفصیل اس اجمال کی یہ ھے،،کہ جن گھریلو کاموں کو ھم نبی ﷺ کی نسبت دے کر بر سرِ ممبر بڑے فخر سے بیان کرتے ھیں،،ان کاموں کی نسبت اپنی طرف کرتے ھوئے شرماتے ھیں،اور کوشش کرتے ھیں کہ گھر سے باھر کسی کو پتہ نہ چلے اور ھم زن مرید مشہور نہ ھو جائیں،،،جو کام نبیﷺ کے لئے باعث فخر ھیں،،وہ ھمارے لئے باعث شرم کیوں ھیں؟؟،،کیا ھماری عزت نبی کی عزت سے زیادہ ھے،،اور اس ڈبل اسٹینڈرڈ کے ساتھ نبی ﷺ کے واقعات بیان کرنا توھین نہیں ھے؟،،یا تو اس کو سنت سمجھ کر فخر سے اتباع کرو اور فخر سے بیان کرو کہ،،یار ابھی ابھی برتن دھو کر آیا ھوں،،،فون آ جائے اٹھانے میں دیر ھو جائے ، تو کہنا سیکھو،،سوری یار وہ ھاتھوں کو لیکس ھوا تھا،،برتن دھو رھا تھا،،،،سوری یار وہ مشین کی آواز میں بیل سنائی نہین دی،،کپڑے دھو رھا تھا،،،،صحن میں برش مار رھا تھا ! کہہ سکتے ھیں؟،،،نہیں ناں؟ کیوں کہ یہ ھمارا کلچر ھے کہ مرد گھریلو کام نہیں کرتا،،،،،اس کا نام ھے مردانہ کلچر،،ھم دین کی تشریح بھی اسی نفسیات کے تحت کرتے ھیں،کہ گھریلو کام عورت کی ذمہ داری اور خوبی ھے،،جبکہ مرد کا عیب ھے(پھر نبی کا عیب کیوں گنواتے ھو ؟) دین میں ایسا کچھ بھی نہیں ھے،،عورت کی صرف ایک ذمہ داری ھے وہ مرد کی مدد کرے اسکے سکون کا باعث بنے اولاد کی اچھی تربیت کرے،نفل نماز اور نفل روزہ بھی مرد کا موڈ پوچھ کر رکھے ،اور بس،،،،مرد کھانا خود پکائے،،یا ھوٹل سے لائے،،یا عورت مہربانی کر کے اس کا ہاتھ بٹائے اور روٹی سالن بنا دے،، اس تعاون کے نتیجے میں عورت مزید پیار ،زیادہ نرمی،بہترین حسن سلوک اور کسی تحفے کی حقدار ھے  اور برادری میں تعریف کے لائق ھے،،نہ کہ گالی گلوچ،مار پیٹ اور طنز و تشنیع کی حقدار ھے، کیا کسی نے کبھی دین کی روشنی میں آپ کو بتایا ھے کہ عورت گھر کا جو کام کرتی ھے وہ اس کے کنٹریکٹ میں شامل نہیں ھے،،،؟ نہیں بتایا ناں،،اسی وجہ سے کھانا لیٹ ھونے پر شوھر بیوی کو اور بھائی بہن کو قتل کر دیتا ھے،،اس کو کہتے ھیں مردانہ اجارہ داری،،،،اللہ کے لئے اس نعمت کی قدر کریں،،اللہ نے اس کو انسان بنانے کے لئے چنا ھے،،اس کو عزت اور رفعت دیں گے تو باعزت نسلیں تیار ھونگی،،،،،،آپ سوچئے،،میں برتن دھونے جا رھا ھوں ،،آج مہمان آئے ھوئے تھے۔۔پورا سنک بھرا ھوا ھے،،،،اللہ حافظ

ساتواں دروازہ اور مجبور شہــزادہ

مجھے نہیں معلوم کہ آپ کو کبھی دادی دادا نے اس قسم کی کہانیاں سنائی ھیں کہ نہیں ،مگر ھمیں اس قسم کی بہت سی کہانیوں سے پالا پڑا ھے جن میں بادشاہ اور ملکہ پہلے تو شہزادے کو کہیں آگے پیچھے جانے ھی نہیں دیتے کہ کسی مصیبت میں مبتلا نہ ھو جائے،مگر جب … Read more

برسات میں جلتے گھر !

برسات میں جلتے گھر !

November 13, 2013 at 12:17pm

ھم صدیوں سے ایسے ایسے تصورات پالے بیٹھے ھیں جنہوں نے آج بھی ھماری سماجی زندگی جہنم بنا رکھی ھے،، جو جتنا دیندار ھے وہ اسی قدر بے سکون ھے، وہ اس بے سکونی کا علاج ٹھیک اسی بیماری سے کرتا ھے جس کی وجہ سے بے سکون ھے،نتیجہ مزید بے سکونی، جسے وہ دوا سمجھ رھا ھے وہ اصل میں داء ھے،،، میں پہلے اس موضوع پر لکھ چکا ھوں -اس کے بارے میں مرد وزن کی کوئی تخصیص نہیں اگرچہ اس سے بربادی زیادہ تر خواتین کی ھوتی ھے،،اس میں پڑھے لکھے یا جاھل ان پڑھ کی بھی کوئی تخصیص نہیں،، میرے پاس اسپیشلسٹ مرد اور لیڈی ڈاکٹرز کے کیسز بھی آتے ھیں اور کثرت سے آتے ھیں،، امیر اور غریب کی تخصیص بھی نہیں، امریکن اور یورپین ممالک سے بھی کثرت سے ایسی مثالیں سامنے آتی ھیں،مثلا صرف پچھلے سال مجھے امریکن ڈاکٹرز جوڑے جس میں میاں بیوی دونوں ھی ڈاکٹرز ھوتے ھیں ان سے واسطہ پڑا،مگر بیماری یہی دیکھی کہ اگر بیوی مذھب کی طرف راغب ھوئی ھے تو گھر گرھستی کو عیب سمجھتی ھے،،شوھر کے حقوق سے لاپرواہ ھو گئ ھے،اپنی ذات کو بھی بھول گئ ھے، نہ میک اپ نہ کپڑوں کا خیال ،نہ ھنسی مذاق ،بس ھر وقت سوچوں میں ڈوبی کہ مرنا ھے، ھائے مرنا ھے،، کدھر جاؤں گی میرا کیا بنے گا؟؟؟،،پورا گھر موت کے سناٹے میں ڈوبا ھے یا وظائف کی سرگوشیاں ھر کمرے میں ایک مصلی بچھا ھے جس پر تسبیح اور اذکار کی کتاب رکھی ھے زیادہ سے زیادہ نوافل،وظائف ،منزلیں پڑھ پڑھ کے اپنی حقیقی منزل کھو بیٹھی ھے، اور پوچھنے پھر یہی آتی ھے کہ اگر کوئی کسر رہ گئ ھے تو وہ قاری حنیف کے وظیفے سے پوری کی جائے،، میرا مشورہ ان کو یہی ھوتا ھے کہ سارے وظیفے اور منزلیں چھوڑو،، صرف نماز اور فرض روزوں کا اھتمام کرو اور اپنے شوھر کے اردگرد رھا کرو یہ مٹی کا مادھو بڑی چیز ھے،تیری جنت اس کی خوشی میں ھے،، نبی کریم ﷺ کا ارشادِ مبارک ھے،جو عورت عصمت کی حفاظت کرتی ھے ،فرائض کا اھتمام کرتی ھے اور اپنے شوھر کو خوش رکھتی ھے، وہ اگر اس حال میں مر جائے کہ اس کا شوھر اس سے خوش ھو تو اسے کہا جائے گا جنت کے جس دروازے سے چاھے جنت میں چلی جائے ! مگر میرا یہ کہنا کوئی خاص فرق اس لئے نہیں ڈالتا کہ اس کا تعلق عمل کے ساتھ ھے اور عمل کا تعلق اس سافٹ وئیر کے ساتھ ھے جو ھمارے دل و دماغ میں انسٹال ھے ! وہ خطرناک سافٹ ویئر نیک بندے یا ولی اللہ کا تصور ھے،، ھم جس مذھب سے بدل کر نئے مذھب میں آئے ھیں، افسوس یہ ھے کہ یہاں بھی ایک مذھبی اور خدا ترس شخص کے بارے میں تصور سو فیصد وھی ھے ،، کسی بھی ڈرامے یا فلم میں آپ دیکھ لیں ھندو سادھو اور ھمارے فلمی ولی اللہ میں ایک منکے کا بھی فرق نہیں ھو گا،، کٹے پھٹے کپڑے،،سر اور داڑھی کے بے ھنگم بڑھے ھوئے بال، ھاتھ مین کشکول ،گلے میں مالاؤں کی لمبی قطار ھاتھ رنگ برنگے پتھروں والی انگوٹھیوں سے مزین ،، الغرض جو ھمارے اجداد نے ھندو ازم میں نیک انسان کا روپ دیکھا تھا وھی اسلام میں بھی تخلیق کر لیا،، عورت جب نیک ھوئی یا اسے نیکی کا دورہ پڑا تو اسے اپنی ازدواجی زندگی پر پچھتاوہ آیا کہ وہ کس گــند میں پڑ گئ ھے،، ھر بار ازدواجی عمل سے گزرنا اس کے احساسِ جرم میں اضافہ کر دیتا ھے،جس کا مداوہ وہ نوافل کی زیادتی اور وظائف کی کثرت سے کرتی ھے،، جس کے نتیجے میں شوھر کے دل میں مذھب کے بارے میں ایک ری ایکشن پیدا ھونا شروع ھو جاتا ھے جو اس سے اس کی بیوی چھینے لئے جا رھا ھے وہ اسے دین نہیں بلکہ جن سمجھتا ھے جو اس کی بیوی کو چڑھ گیا ھے،، بیوی کا رویہ سرد مہری میں تبدیل ھوتا جاتا ھے،، وہ ھنستی نہیں کہ اس کی ھنسی کہیں شوھر کے جنسی جذبے کو ایکٹیویٹ نہ کر دے،، وہ شوھر کو دور رکھنے کے لئے نماز لمبی کر دیتی ھے کہ شوھر سو جائے،، وہ دن کو روزہ رکھتی ھے کہ شوھر مجبور نہ کر سکے،، اور شوھر پر یہ ستم کرنے کے بعد وہ یہ توقع بھی رکھتی ھے کہ شوھر اس کے پاؤن دھو کر بھی پیئے کیونکہ وہ رابعہ بصری بن گئی ھے،جبکہ شوھر اس سے اور اسکی دینداری سے نفرت کرتا ھے، بچے بھی گھر کے افسردہ ماحول سے متأثر ھوتے ھیں،، چند سال میں وہ گھرانہ بکھر کر رہ جاتا ھے،، طلاق ھو جاتی ھے یا شوھر دوسری شادی کر لیتا ھے،،کیونکہ اسے ھنسنے کھیلنے والی بیوی چاھئے مائی طوطی نہیں چاھئے،، ایسی ضرورت سے زیادہ نیک عورت کا شوھر کسی بھی عورت کی صرف ایک مسکراھٹ کی مار ھوتا ھے،،اسے خوبصورتی سے بھی کوئی خاص تعلق نہیں ھوتا،،عموماخوبصورتی پہلی شادی میں اھم فیکٹر ھوتی ھے،،دوسری شادی میں دیگر عوامل کو اھمیت اور اولیت حاصل ھوتی ھے،،عام طور پر دوسری عورت پہلی عورت سے کم خوبصورت ھوتی ھے ،،اور ساری عورتیں تبصرے کرتی پھرتی ھیں،ھائے یہ کیا؟، اتنی خوبصورت بیوی کے ھوتے ھوئے یہ دوسری چڑیل کیوں لے آیا ھے،، جوتا جس کو چبھتا ھے اسی کو پتہ ھوتا ھے کہ خوبصورتی کہاں کاٹ رھی ھے،، پہلی بیوی بھی اب کہتی پھرتی ھے مجھ میں کیا کمی تھی،، نیک پاک خوبصورت اللہ سے ڈرنے والی چھوڑ کر دوسری کیوں لے آیا ھے،؟؟ انسان ایک وقت صرف ماں کے خون پر جیتا ھے،اس کا اپنا منہ بند ھوتا ھے،،پھر ماں کے دودھ پر،، پھر نرم غذا پر،، پھر ٹھوس غذا پر،،، اسی طرح جوں جوں انسان سماج میں بڑا ھوتا ھے،، ذمہ داریاں بھی نرم سے ٹھوس ھوتی جاتی ھیں،، عورت کا گھر گرھستی کرنا دین کا تقاضہ اور اللہ کی طرف سے ڈالی گئ ذمہ داری ھے،، کوئی بے دینی نہیں کہ جس پر پچھتایا جائے،، اور ڈیپریشن کا شکار ھوا جائے،، ازدواجی تعلق کوئی گناہ نہیں دینی فرائض میں سے اھم فریضہ ھے،، اس کا اجر نوافل سے بڑھ کر ھے،عورت نفل ن
ماز اور نفلی روزہ شوھر کا موڈ پوچھ کر رکھ سکتی ھے،، اگر اس کا پروگرام کوئی اور ھے تو باقی سارے پروگرام منسوخ،، اس عورت پر اللہ اور اس کے رسول اور فرشتوں کی لعنت ھوتی ھے جو ضرورت کے وقت شوھر کو بلا شرعی عذر ” انکار "کر  دے،،، جمعے کے دن اس بات کا خصوصی حکم دیا گیا ھے کہ جنسی طور پر دونوں میاں بیوی مطمئن ھوں،، من غسل واغتسل ،، کا اشارہ اسی طرف کیا گیا ھے،، بچوں اور شوھر کی ذمہ داریوں کی وجہ سے عورت کو جمعہ اور جماعت سے چھٹی دی گئ ھے،، اس کا تنور پر روٹیاں پکانا ،، اس کا جمعہ ھے، اپنی ظہر پڑھ لے،، بہت ساری صحابیات نے نبی کریم ﷺ کے خطبے کو تندور پر روٹیاں پکاتے سنا اور سورتیں یاد کیں،، اس لیئے میری اس بیٹی سے گزارش ھے جس نے سوال بھیجا ھے کہ وہ اپنے ڈیپریشن سے نکلے، گھریلو ذمہ داریوں کو خدا سے دوری نہ سمجھے اور اس کا حل وظیفوں میں نہ ڈھونڈے،، اس کا علاج اس کے اپنے بچوں میں ھے،، ان سے ترشی سے پیش نہ آئے ،، وہ اس کی ذمہ داری ھیں جن کے بارے میں اس سے قیامت کے دن پوچھا جائے گا،، دل میں زنگ نہین لگا بلکہ شک کا مرض لگ گیا،، اللہ کا ذکر نماز کی صورت میں ظاھر میں موجود ھے،، اور دل میں وہ کام کاج کرتے ٹی وی چینل کے ٹِکر کی صورت وہ ھر وقت چلتا رھتا ھے،، جہاں کمی ھے اسے پورا کرو،،نوافل کی کثرت اس کمی کو پورا نہیں کر سکتی،،تمہارے یہ ھنسنے کھیلنے کے دن ھیں،،اس ھنسی سے اللہ خوش ھوتا ھے،ناراض نہیں ھوتا،،! اب آیئے مرد حضرات کی طرف،، یہ عموماً جب نیک ھوتے ھیں یا دورہ پڑتا ھے تو بستر لے کر گھر سے غائب ھو جاتے ھیں،، اس تصور سے کہ وہ دنیا مین پھنس گئے ھیں لہذا وہ گھر سے فرار کو دنیا سے فرار سمجھتے ھیں،، 3 دن اللہ کے لئے زکوۃ کے طور پر نکالتے ھیں،، باقی 27 دن احساسِ جرم مین گزارتے ھیں کہ وہ دنیا کے گند میں ملوث ھیں،،جو جتنا گھر والوں سے بھاگا رھتا ھے وہ اتنا بڑا بزرگ ھوتا ھے، اور اکابر مین گنا جاتا ھے،، ان کے گھر والے انتقاماً دین سے دور ھوتے چلے جاتے ھیں ،،اولاد برباد ھو جاتی ھے اور بیوی سرکش،، جس چیز کو ان کی ذمہ داری میں دیا گیا تھا وہ اس سے فرار اختیار کر کے نکل بھاگے ھیں،، بیوی ادھر کروٹیں بدل رھی ھے اور وہ پارا چنار کے کسی بوڑھے کے پہلو میں سوئے دین کی خدمت کر رھے ھوتے ھیں،، گھر میں بیوی شوگر کی مریض ھے،، بچہ پیدا ھونے والا ھے،، شوگر 400 سے اوپر ھے،، مگر وہ اسے چھوڑ کر چار ماہ لگانے گئے ھوئے ھیں کہ پیچھے فرشتے خیال رکھیں گے،، بچہ اٹھوایا تو انہوں نے تھا ،مگر اب ڈیلوری کے لئے فرشتے آئیں گے،، بیوی رات کو شوگر کی زیادتی کی وجہ سے کومے میں چلی گئ،، صبح بچوں کو پتہ چلا،، پڑوسیوں کو بلایا گیا،،غیروں نے حاملہ عورت کو گھسیٹ گھساٹ کے گاڑی میں ڈالا،، اسپتال پہنچایا،، بچہ ضائع ھو گیا عورت پورے دو ماہ کومے میں رھی،، اور خدا خدا کر کے ھوش آیا تو بھی بعض اعضاء سے معذور ھو گئ،،یہ میرے پڑوس کا واقعہ ھے،، اب اس کے نتیجے میں ان کی ساری اولاد قابو سے نکل گئ ھے،، اسی قسم کے ڈھیر سارے معاملات گنوائے جا سکتے ھیں،،یہاں سے نام لکھوایا ھے،،والدہ بیمار ھے گھر نہیں گئے کہ یہ وقت امانت ھے میں خیانت نہیں کر سکتا،، والدہ کو ایئر پورٹ ھی لایا گیا،،والدہ سے ملاقات کی ھے،سسکتی والدہ کی حالت بھی دیکھی ھے مگر اسے اسی حالت میں  چھوڑ آگے روانہ ھو گئے،، والدہ دوسرے دن فوت ھو گئ،، موبائل کا زمانہ نہیں تھا،، یہ صاحب اللہ کو راضی کرتے رھے !! حالانکہ رسول اللہ نے غزوہ تبوک جیسے نازک موقعے پر بھی جہاد کے لئے آنے والے جوان سے پوچھا تھا کہ کیا تیرے والدین میں سے کوئی زندہ ھے،اس نے کہا تھا کہ جی دونوں ھیں،،پھر پوچھا ” ان کی رضامندی لی ھے؟ جواب دیا ان کو روتا ھوا چھوڑ آیا ھوں! آپﷺ نے فرمایا جا اب جا کر انہیں ھنسا جس طرح انہیں رلایا ھےیہ ھے حقیقی اسلام جو سب سے پہلے گھریلو ذمہ داریوں سے شروع ھوتا ھے،، مروجہ تبلیغ ایک مخصوص علاقے کے ماحول اور مسائل کو لے کر اجتہادی طور پر شروع کی گئ،،مگر یہی نبیوں کا طریقہ بن گئ حالانکہ یہ خود ھمارے نبیﷺ کا طریقہ بھی نہیں ھے،،  یہ ھے وہ مقام جہاں حقوق العباد کی خلاف ورزی خود گھر سے شروع ھوئی ھے،، یہ تصور ھی سرے سے غلط ھے کہ گھر داری کوئی گناہ اور دنیا داری ھے،،بلکہ یہ عین دینداری ھے ! جب تک ھم اپنے تصورات( کانسیپٹس) درست نہیں کریں گے یہ تباھی و بربادی چلتی رھے گی