یہ علماء ھیں یا خدا ؟

June 27, 2013 at 1:20pm

    "این کاؤنٹر” (پیرس ریویو )دوسری جنگِ عظیم کے فوراً بعد دنیا میں کمیونزم کا سب سے بڑا نقیب بن کر طلوع ھوا،آفسٹ پیپر پر جدید ترین پرنٹنگ سسٹم کے تحت شائع ھونے والا یہ رسالہ پیرس کی بندرگاھوں ،ائیرپورٹس، اور ریلوے اسٹیشنز سے نکلتا اور پھر چند ھی روز میں دنیا بھر کے ٹی اسٹالز ، کافی شاپس اور شراب خانوں میں پہنچ جاتا،جہاں نہ صرف اس کی ایک ایک سطر کو الہام کے طور پر پڑھا جاتا، بلکہ ایمان کا درجہ دے کر اس پر فوراً عملدرآمد بھی شروع کر دیا جاتا! یہ سچ ھے کہ اگر ھم مارکسی نظریات،مارکسزم کے پیروکاروں کے حلیوں اور ان کے متشدد نظریات کی تاریخ کھود نکالیں تو ھمیں "این کاؤنٹر ” ھی ملے گا،جس نے پوری دنیا میں بھوک کو مضبوط ترین فلسفہ بنا دیا، یہ این کاؤنٹر ھی تھا جس سے متاثر ھو کر نوجوانوں نے بال بڑھا لئے ،غسل کرنا ترک کر دیا،مارکسی لٹریچر کو مقدس سمجھ کر ایک ایک حرف کو رٹ لیا، بیویوں کو طلاقیں دے دیں، اور بچوں کو "ان امیروں کو لوٹ لو” کا درس دینا شروع کر دیا! رسالے کے پیچھے کروڑوں روبل تھے، دنیا کے بہترین ترین مارکسی دماغ تھے،ماہر صحافی،انتہای زیرک نقاد اور دانشور تھے، لہٰذا اس زمانے میں اس سے بڑھ کرمعیاری،جامع اور پر اثر جریدہ دنیا میں کوئی نہیں تھا،معیار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ھے کہ سپینڈر۔ آڈن ، اور مارلو جیسے دانشور اس کے ایڈیٹوریل بورڈ میں شامل تھے، اس کے علاوہ ایک بین الاقوامی مجلسِ ادارت تھی،جو دنیا بھر سے موصول ھونے والے مضامین، تجزیوں اور تبصروں کا کڑی نظر سے جائزہ لیتی،انہیں مارکسی کسوٹی پر پرکھتی،زبان و بیان کی غلطیوں کی نشاندھی کرتی،، اعداد وشمار اور حقائق کی صحت کا جائزہ لیتی ،،تسلی کے بعد یہ مضامین مختلف ڈیسکوں پر چلے جاتے،جہاں اپنے وقت کے ماھرین،ان کا انگریزی میں ترجمہ کرتے، ان کی نوک پلک سنوارتے،اس کے بعد ایک اور شعبہ اس ترجمے کا جائزہ لیتا،اس میں پائی جانے والی جھول،سقم اور لفظی کوتاھیاں درست کرتا ،، آخر میں جب اشاعت کا مرحلہ آتا تو انتظامیہ انگریزی ٹیکسٹ کے ساتھ ساتھ اصل متن جو مختلف زبانوں میں ھوتا بھی چھاپ دیتی،تا کہ اگر ترجمے میں کوئی غلطی رہ گئی ھو تو قارئین خود اصل متن کو دیکھ کر اسے درست کر لیں،،اس کڑے معیار ،انتخاب اور عرق ریزی کے باعث ناقدین "این کاونٹر” کو وہ مقام دیتے جو خود شاید کارل مارکس اور لینن کو بھی حاصل نہیں تھا ! مگر تقریباً دو دھائیوں بعد یہ انکشاف ھوا کہ جسے دنیا کمیونزم کی ” بائبل” سمجھ رھی تھی دراصل سی آئی اے کا منصوبہ تھا اور امریکی خفیہ ادارے کے ھیڈکوارٹر کے ایک چھوٹے سے کمرے سے ڈپٹی سیکرٹری رینک کا ایک امریکی، دو کلرک اور ایک چپڑاسی ،چند فائلوں،ٹیلکس کے چند پیغامات، اور کچھ خفیہ ٹیل فون کالز کے ذریعے برسوں تک پوری اشتراکی دنیا کو بے وقوف بناتے رھے،ان کے نظریات میں زہر گھولتے رھے،یہانتک کہ کمیونزم کے ٹارگٹ ممالک میں مقامی سطح پر اس کے خلاف مزاحمت شروع ھو گئی ! عرصے بعد جب این کاؤنٹر پراجیکٹ کا چیف ثقافتی یلغار کے موضوع پر منعقدہ ایک سیمینار میں شرکت کرنے پیرس گیا تو شرکاء نے اٹھ کر اس کا استقبال کیا اور ھال دیر تک ان کی تالیوں سے گھونجتا رھا،، بوڑھے ریٹائرڈ امریکی نے ھیٹ اتار کر اور جھک کر سب کا شکریہ ادا کیا اور اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا،،، پوچھنے والوں نے سوال کیا ” سر آپ نے یہ سب کچھ کیسے کر لیا؟ بوڑھے امریکی نے مسکرا کر مائیک کو چھوا اور جواب دیا،، ینگ مین ویری سمپل،، ھم نے کمیونزم کو اتنا کڑا،سخت اور غیر لچکدار بنا دیا کہ وہ لوگوں کے لئے قابل قبول ھی نہ رھا” ایک اور نوجوان اٹھا اور بوڑھے امریکی سے مخاطب ھو کر بولا،، لیکن سر جریدے کے سارے منتظمین تو بہت کومٹٹیڈ اشتراکی اور کمیونسٹ تھے،، اور جہاں تک ھماری معلومات ھیں ان کا سی آئی کے ساتھ کسی قسم کا کوئی رابطہ بھی نہیں تھا؟ امریکی نے قہقہ لگایا اور دوبارہ مائیک کو چھو کر بولا،،،، ھاں بے شک ھمارا این کاؤنٹر کی انتظامیہ ،اس کے ایڈیٹوریل بورڈ اور کمیونسٹ ورکرز کے ساتھ کوئی تعلق اور رابطہ نہیں تھا،،لیکن دنیا کے مختلف کونوں سے اس تک پہنچنے والے مضامین کو لکھنے والے ھمارے ھی پیڈ دانشور تھے اور یہ مضامین ھم ھی لکھواتے تھے،،اس پر ایک اور نوجوان کھڑا ھوا اور بولا ،مگر اس سے کیا ھوتا ھے” بہت کچھ ھوتا ھے ینگ مین،، امریکی نے سنجیدگی سے جواب دیا،،تم خود فیصلہ کرو،جو بائیبل انسانوں کو ایسے احکامات دے جو انسانی فطرت سے متصادم ھوں، جو انسان کو آزادی سے سوچنے،بولنے اور عمل کرنے سے روکتے ھوں،جو لوگوں کو بدبودار اور بے ڈھنگے لباس پہننے، شیو نہ کرنے، دانت گندے رکھنے اور گالی دینے کا درس دیتی ھو،وہ لوگوں کے لئے قابلِ قبول ھو سکتی ھے؟ ھم نے یہی کیا،،این کاؤنٹر کے پلیٹ فارم سے اشتراکی نظریات کے حامل لوگوں کو بے لچک متشدد،اور سخت موقف کے حامی افراد ثابت کر دیا، جس کے بعد تیسری دنیا میں ان لوگوں کے خلاف مزاحمتی تحریکیں شروع ھوئیں اور لوگوں نے اپنے جان و مال اور خون سے ھماری جنگ کو اپنی جنگ سمجھ کر لڑا اور ھمارا کام آسان ھو گیا،،یہاں پہنچ کر پورا ھال تالیوں سے دوبارہ گھونج اٹھا اور بوڑھا امریکی پھر نشست سے اٹھا ھیٹ لہرا کر سامعین کا شکریہ ادا کیا اور اپنی نشست پر بیٹھ گیا،، میں جب بھی کسی ملحد پیج پر جاتا ھوں،، میں جب بھی نوجوانوں ک
و اسلام کے خلاف بولتے سنتا اور لکھتے دیکھتا ھوں،، تو میرا دل خون کے آنسو روتا ھے،، ان نوجوانوں کو ان کے اپنے ھی مولویوں نے اپنی جنت کمانے کے لالچ میں گمراہ کر دیا،، میں جب بھی کسی مولوی کو بہت جزباتی انداز میں دین کا وہ روپ پیش کرتے سنتا ھوں جو کبھی بھی اللہ اور اس کے رسول
ﷺکےپیشِنظرنہیںتھاتو مجھے وہ بوڑھا امریکی یاد آ جاتا ھے،، یہ لوگ دین کو ناقابلِ عمل ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رھے ھوتے ھیں،،اور یوں رھتی دنیا تک کے لئے دیئے گیئے دین کو سابقہ دور میں محصور کرنے کی کوشش کرتے ھیں،،، اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ اسلام کو جتنا نقصان خود اسلام کے نام پر پہنچایا گیا ھے کوئی غیر یہ نقصان پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا،اسلام کے خلاف جتنی نفرت اسلام کے ذریعے پھیلائی گئی ھے،مولوی کو جتنا مولوی کے ذریعے ناقابلِ برداشت بنایا گیا،مدرسے کو مدرسے کے خلاف جس بےدردی سے استعمال کیا گیا اور مسجد کو مسجد کے ذریعے جتنا بدنام کیا گیا،، اتنا ھندؤں،عیسائیوں،اور یہودیوں کی تقریروں اور تحریوں نے پچھلے تین سو سال میں بھی نہیں کیا ! آج ھندوستان کا مسلمان جس سکون اور اطمینان سے مسجد میں نماز پڑھتا ھے اور جس امن اور تحفظ کے احساس کے ساتھ اعتکاف بیٹھتا ھے،،پاکستان والے اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے،، اور یہ پاکستان میں مدارس اور مساجد کی مشروم نما بڑھوتری کا تحفہ ھے،، مساجد اور مدارس کھلے اور وسیع ھو گئے ھیں،،مگر ان سے نکلنے والے تنگ نظر اور سخت دل ھو گئے ھیں،، اسلام کا نیا پاکستانی ایڈیشن لوگوں سے وہ اختیار چھین لینا چاھتا ھے جو انہیں ان کے خالق نے عطا کیا تھا،، من شاء فلیومن و من شاء فلیکفر،، اما شاکراً و اما کفوراً کو مسجد کے منبر سے ھی منسوخ کیا جاتا ھے،،اور حشر کے فیصلے اللہ پر چھوڑنے کی بجائے زمین پر کرنے کی رسم کو رواج دیا جا رھا ھے،، کیا کسی کو یہ احساس ھے کہ یہ دعوئ خدائی ھے ؟ جب علماء خدا بن جائیں اور لوگ ان کو خدا مان لیں تو امید کی ھر کرن بجھ جاتی ھے، اور قومیں تاریخ کی دیوار میں،چن دی جاتی ھیں،،اتخذوا احبارھم و رھبانھم ارباباً من دون اللہ !! فیس بک کے استعمال کو حرام کہنے والے اسلام کے دوست نہیں نادان دوست ھیں،، فیس بک ایک نعمت ھے،جسے زحمت کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ھے،، جس طرح انکھیں ایک نعمت ھیں جنہیں زحمت کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتاھے،، حرام صرف وھی ھے جسے بقول قاسم بن محمد بن ابوبکر صدیقؓ اللہ نے حرام کے نام کے ساتھ حرام کیا ھے،، باقی کے لئے جائز یا ناجائز کی اصطلاح استعمال کی جا سکتی ھے،، اور جائز یا ناجائز کا فیصلہ انسان کی نیت اور اس کا استعمال کرتا ھے،،اپنی ذات میں کوئی بھی ایجاد حرام نہیں ھے ! ھٰذا ما عندی والعلم عنداللہ،وما علینا الا البلاغ

عبادت کی ھیئت اور کیفیت Body and soul

August 10, 2013 at 9:22pm

جس طرح انسان دو چیزوں کا مجموعہ ھے یعنی بدن اور روح کا،اسی طرح عبادت بھی دو چیزوں کا مجموعہ ھوتی ھے، ھیئت اور کیفیت کا،ھیـئت اس کا بدن ھوتی ھے اور مفتی کے فتوے کا میدان،جسطرح کوئی ڈاکٹر کسی بدن کا ھی تجزئیہ کر کے بتا سکتا ھے کہ وہ کن کن بیماریوں کا شکار ھے،مگر روح ایک ڈاکٹر کے بلڈ ٹیسٹ یا سی ٹی اسکین یاا یکسرے کا موضوع نہیں ،اسی طرح ایک مفتی بس عبادت کے اجــزاء کا تجزیئہ کر کے یہ ھی بتا سکتا ھے کہ یہ نماز ھوئی ھے یا نہیں، حج میں کہاں کمی رہ گئی ھے اور یہ کس طرح دور ھو گی،کن کن چیزوں سے روزہ ٹوٹتا ھے،، مگر وہ عبادت جس کیفیت میں کی جانی چاھئے اس کیفیت میں ھو رھی ھے یا نہیں،، اس کا پتہ یا تو خود انسان کو ھوتا ھے یا اس کو جس کے لئے کی جارھی ھے،، ھـیئت کی کمیت کو ناپا جا سکتا ھے مگر کیفیت کو نہیں ناپا جا سکتا،سوشل رویئے ھی اس کی کمی بیشی کا اظہار کرتے ھیں ، ھیئت محدود ھوتی ھے جن کی موجودگی سے اس کے عدم اور وجود کا فتوی دیا جاتا ھے،یعنی نماز میں،نیت،قیام،قرات رکوع اور سجدہ اس کے اجزاء و اعضاء ھیں،ان میں سے کسی کی کمی پر کہا جاتا ھے کہ نماز ھے یا نہیں ھے،مگر کیفیت کسی مفتی کے تجربے میں نہیں آ سکتی اور اس کی بنیاد پر نماز کے عدم کا حکم نہیں لگایا جا سکتا کہ چونکہ اپ کی کیفیت اتنی نہیں تھی لہذا نماز نہیں ھوئی،،یا روزہ نہیں ھوا یا حج نہیں ھوا،، اسی وجہ سے ھمیں بھی اس کیفیت  کی کوئی پرواہ نہیں ،جب نماز ھو جاتی ھے تو پھر کیفیت کی فکر کیوں کریں،،مگر دوسری جانب جو کام عبادت کی کیفیت کرتی ھے وہ ھیئت نہیں کرتی،، فرمایا نماز تو وہ ھے جو بے حیائی اور برے کاموں سے روک دیتی ھے،، اب ھم اگر پانچ وقتہ نمازی اور سات وقتہ رشوت خور ھیں تو یہ نماز یا حج کی کیفیت کی کمی کی وجہ سے ھے،، بجلی کے وولٹیج کم ھوں تو  فریج جل جاتا ھے،، عبادت کے وولٹیج یعنی کیفیت ناقص ھو تو کردار جل جاتا ھے،، ھیئت جگہ کے ساتھ منسوب و محدود ھوتی ھے،جیسے نماز مسجد میں اور حج مکے میں،، مگر کیفیت جگہ سے منسوب ومحدود نہیں ھوتی،، وہ تو ھر جگہ ساتھ ھوتی ھے اور ھونی چاھئے،، مسجد سے چارج ھو کر بازار جاؤ اور پورا تولو ،سچ بولو اور پھر اگلی نماز کے لئے آ کر چارجر اسٹینڈ پر لگ جاؤ،، جس کو اقبال نے کہا ھے کہ،” دی فاینائٹ ایگو اینڈ دا ان فاینائٹ  ایگو ،دے کم فیس ٹو فیس،، تمہیں یاد رھے کہ بے ایمانی کر کے اسی وضو میں ابھی اللہ کو جا کر فیس کرنا ھے،منہ دکھانا ھے اور تم منہ کالا نہ کرو،عجیب بات ھے،وضوء بچانے کے لئے انسان اپنے پر کتنا جبر کرتا ھے،اس کا دس فیصد بھی ایمان بچانے کے لئے نہیں کرتا ،حالانکہ بغیر وضوء مر جائے تو حرج نہیں،بغیر ایمان مر گئے تو خسرالدنیا  والاخرہ، ھیئت  کا وقت ھے،مگر کیفیت کا کوئی وقت مقرر نہیں ،،یہ ھر وقت مطلوب ھے،بلکہ یہ مطلوب ھی ان مرحلوں یا مقامات کے لئے ھے جہاں ایمان کی گاڑی ہچکولے کھانا شروع کرتی ھے یا پھنس جاتی ھے،وھاں یہ کیفیت فور بائی فور کا کام کرتی ھے، جن لوگوں نے رھنا ھی غاروں میں ھے، اور دائیں بائیں ھرنیاں اور خرگوش دیکھنے ھیں، درختوں کے پھل کھا کے پانی پی کے سو جانا ھے، ان کو اس کی اتنی ضرورت نہیں ،ان کا کام ھیئت سے بھی چل جاتا ھے،، مگر جنہوں نے دائیں بائیں حوریں دیکھنی ھیں اور نظروں کو جھکانا ھے،اس شٹر ڈاؤن مرحلے کے لئے وہ کیفیت درکار ھے،، ان تمام عبادات کا مقصد یہی کیفیت پیدا کرنا ھے،جسے کبھی تقوی کہا جاتا ھے،تو کبھی خدا خوفی کا نام دیا جاتا ھے،، قرآن حکیم ان دونوں صورتوں کا بار بار مطالبہ کرتا ھے،وہ کہتا ھے کامیاب وھی مومن ھوں گے جن کی نمازوں میں خشوع کی کیفیت پیدا ھو گی،اللہ کا ذکر اگر ان کے سامنے کیا جائے اس کی آیات تلاوت کی جائیں تو ان کے رونگھٹے  کھڑے ھو جائیں اور یہ کیفیت صرف نماز کے دس منٹ پیدا ھو کرمسجد کی سیڑھیوں پر ھی دم نہ توڑ دے  بلکہ وہ دائم و قائم رھے،، جب آپ موبائیل کو چارجنگ پر لگاتے ھیں تو اس کی باڈی ایک کیفیت کا اظہار کرتی ھے اور چارجر کی لائٹ جل جاتی ھے،، اب آپ اس موبائیل کو لے کر کہیں بھی جائیں وہ چارجنگ کی کیفیت ساتھ ساتھ جاتی ھے چارجر گھر ھی رہ جاتا ھے،لیکن جب آپ کو ضرورت پڑے اور اسی وقت چارجنگ دوران گفتگو جواب دے جائے تو آپ کا کیا ری ایکشن ھوتا ھے؟ وھی ری ایکشن نمازی مومن کے عین ضرورت کے وقت بے ایمانی کر جانے پر اللہ کا ھوتا ھے،، اللہ کا غضب ایسے نمازی پر بھڑک اٹھتا ھے،،فویلٓ للمصلین،،ھلاکت ھے نمازیوں کے لئے ،جو اپنی نماز کے مقصد سے غافل ھیں،مجرد بے روح نمازوں کے جنازے اٹھائے پھرتے ھیں،ریاکاری کے مرتکب یہ نمازی کسی کو عام استعمال کی چیز تک شیئر کرنے سے کتراتے ھیں،،نماز میں ایک تو مطالبہ خشوع کا ھے اور دوسرا اس کیفیت کی حفاظت کا ھے کہ اس کیفیت کو ” سیو” کرلو اور تیسرا مطالبہ اس کیفیت کے  دوام کاھے،الذین ھم علی صلواتھم یحافظون  اور الذین ھم علی صلاتھم دائمون،، جو اپنی نماز کی کیفیت کو محفوظ کر کے دائم رکھتے ھیں،،روزے کا مقصد بھی تقوی بیان کیا گیا ھے،لعلکم تتقون،، اور تقوی بھی ایک کیفیت ھے،جس میں قلب انسانی سرشار ھوتا ھے، اور یہ خلوت جلوت ھر دوحال میں انسان کے شاملِ حال ھوتا ھے،بقول حضرت علی کرم اللہ وجہہ” نیک وہ نہیں جس کی  جلوت یا مجلس پاک ھو،، نیک وہ ھے جس کی خلوت پاک ھو ” وہ اکیلے میں بھی اللہ سے اسی طرح حیاء کرے جسطرح مجلس میں لوگوں سے حیاء کرتا ھے،،نبی کری
م صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ھے کہ بہت سارے لوگوں کو روزے سے سوائے بھوک کے اور کچھ حاصل نہیں ھوتا اور بہت سارے قیام کرنے والوں کو سوائے رت جگے کے اور کچھ نہیں ملتا،، نیز فرمایا نماز سب پڑھتے ھیں مگر کسی کو نماز کا آدھا ملتا ھے،کسی کو تییسرا حصہ،کسی کو چوتھا،اس طرح حضور
ﷺ نے دس حصے گنوائے ھیں، پھر حج کے بارے میں سورہ حج میں اللہ پاک نے فرمایا ھے،لن ینال اللہ لحومھا ولا  دماءھا   ولکن ینالہ التقوی منکم،، اللہ پاک کو تمہاری قربانیوں کا نہ تو گوشت پہنچتا ھے کہ وہ جانور تول کر تمہیں اجر دے گا،،اور نہ خون پہنچتا ھے،، بلکہ وہ تو اجر کا فیصلہ اس تقوے کی بنیاد پر کرتا ھے جو اس قربانی کے پیچھے ھوتا ھے،، افسوس تو یہ ھے کہ قرآن جتنا کیفیت پر زور دیتا ھے ھم اتنا ھی اسے غیر اھم سمجھتے ھیں اور جن چیزوں کو وہ کوئی اھمیت نہیں دیتا ان پر ھم نے مسجدیں الگ کر لی ھیں ! نتیجہ آپ کے سامنے ھے کہ اب دیانتدار آدمی کو دیکھنے کے لئے شاید ٹکٹ لگانے کی نوبت آ جائے کہ وہ اتنا ناپید ھو گیا ھے، حرم میں منزلوں پر منزلیں بن رھی ھیں، حج مہنگا ھو گیا ھے بلکہ اب لگژری بن کر رہ گیا ھے، حاجیوں کا سیلاب سنبھالا نہیں جارھا شیطان بھی لمبا ھو گیا ھے جو ایک تندور جتنا تھا آج کل ٹریڈ سنٹر جتنا ھو گیا ھر سال 30 لاکھ حاجی ری سائیکل ھو کر آتے اور معاشرے کا حصہ بن جاتے ھیں ،مگر معاشرے مین بے ایمانی ھے کی کنٹرول سے باھر ھو گئی ھے،،ایک ھی خدا کے ایک ھی گھر کے چکر لگا کر آنے والوں میں نفرت کا تناسب بھی بڑھتا جا رھا ھے،،یہ سب مظاھر پرستی کا تحفہ ھے، اندر کوئی جھانکنے کو تیار نہیں کوئی پڑوسی سے نہیں پوچھتا کہ میں کیسا ھوں؟ نبی کریم سے ایک شخص نے سوال کیا تھا،ائے اللہ کے رسول مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ میں نیک ھوں یا بد،اچھا ھوں یا برا،ھر انسان اپنے کو تو اچھا سمجھتا ھے ؟ آپ نے فرمایا اگر تیرا پڑوسی کہے کہ تو اچھا ھے تو تُو یقیناً اچھا ھے اور اگر تیرا پروسی کہے کہ تو برا ھے تو جان لے کہ تُو برا ھے، اللہ کی قسم وہ مومن نہیں اللہ کی قسم وہ مومن نہیں ،اللہ کی  قسم وہ مومن نہیں جس کا پڑوسی اس کے شر سے محفوظ نہیں،، کیا ھم اپنے پڑوسی سے یہ سوال پوچھ سکتے ھیں ؟ کیا ھم حشر یہیں بپا کر کے نہ دیکھ لیں کہ ھم کیا ھیں، کیسے ھیں ؟؟ھیئت اگر علماء کے نوکِ نشتر پہ رھتی ھے تو کیفیت زاھد کا میدان ھے،وہ کیفیت پر زور دیتا ھے،اس کیفیت کو وہ عشق کا نام دیتا ھے،اس کے نزدیک عشق ھی وہ جذبہ ھے جو جلوت و خلوت میں انسان پر حاوی رھتا ھے،اگر اللہ کے احسانات کے استحضار کے نتیجے میں عشق کو پال لیا جائے تو پھر خواھشاتِ نفسانی سمیت ھر چیز کو اللہ پر قربان کرنا آسان ھو جاتا ھے، اللہ پاک کا مطالبہ بھی یہی ھے کہ میری عطا کردہ نعمتوں کو دوسروں کی طرف منسوب کر کے ان سے محبت کرنے والے اخرت میں خائب و خاسر ھوں گے،جبکہ منعمِ حقیقی کو پہچان کر اس سے شدید محبت کرنے والے ھی  حقیقی مومن ھیں،و من الناس من یتخذ من دون اللہ انداداً یحبونھم کحب اللہ،والذین آمنوا اشدُ حباً للہ( البقرہ ) سورہ آل عمران میں فرمایا لن تنالو البر حتی تنفقوا مما تحبون،، تم نیکی کی حقیقت کو پا نہ سکو گے جب تک کہ تم اللہ کی محبت میں اسے نہ خرچ کرو جس سے تم محبت کرتے ھو،، اقبال نے اس کیفیت کو جذبِ دروں کا نام دیا ھے، اور مسلمانوں کے ایتشار اور پستی کا سبب اسی بے روح عبادت کو قرار دیا ھے،وہ کہتا ھے

،

مسلماں میں خـــوں باقی نہیں ھے

محبت  کا  جنــوں  باقی نہیں ھے

صفیں کـــج ،دل پریشاں،سجدہ  بے ذوق

کہ   جـــذبِ انــدروں باقـــی نہــیں ھے

 

اس بے کیفیت عبادت اور پھر دیگر رسوم کے ذریعے محبت ثابت کرنے کے رجحان پر عنائت صاحب کا اپنا رونا ھے

 

میری یہ عقیدتِ بے بصر ،میری یہ عبادتِ بے ثمــر

مجھے میرے دعوئ عشق نے نہ صنم دیا نہ خدا دیا

 

تو شوق موسوی کا اپنا انداز ھے

 

 

کئی فرقوں میں بٹتے جا رھے ھیں

کہ روحِ دیں سے ھٹتے جا رھے ھیں

سبھــی پنــد و نصــائـح کر رھے ھیں

ھمــــارے  کان  پھٹـتے جا رھے ھیں

عـمــل  قـــرآن پر کــرتے نہــیں ھـیں

فقــط  الفــاظ  رٹتے  جــا  رھے ھیں

نمــــازی مسجـــــدوں میں بڑھ رھے ھیں

مگـــــر انسان گــــھٹـتے جــا رھے ھیں   

انسانِ کامل محمدمصطفیﷺ! خاتم نبوت،خاتم شریعت،خاتمِ کتاب !

June 20, 2013 at 2:59pm

الحمد للہ و کفی والصلوٰۃ والسلام علی اشرف الانبیاء ،محمدٍالمصطفیﷺوعلیآلہوصحبہومنوالاہ،امابعد ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کا سوال پیدا ھونا ھی ایمان میں کسی قسم کے خلل یا علم میں کسی قسم کے نقص کی نشاندھی کرتا ھے ،، یہ وہ بات ھے جو کامن سینس کی ھے مگر عجیب بات یہ ھے کہ یہ سوال اٹھایا ان خواتین و حضرات کی طرف سے جاتا ھے ،جن کا دعوی یہ ھے کہ وہ اصحاب الرائے اور رؤسائے فھم و فراست ھیں،، جب تک کسی جواب کے ساتھ عقلی دلیل نہ ھو بقول ان کے نہ تو وہ ان کے حلق سے اترتی ھے اور نہ دل و دماغ میں بیٹھتی ھے ،، بات عقلی دلیل سے ھی شروع کرتے ھیں، کہ نبوت اور رسالت ایک ادارہ ھے،جس میں سارے نبی،نبی ھی ھیں اور ایک ھی ھستی کے فرستادہ ھیں،، بحیثیت نبی اللہ اور رسول اللہ ان کی ذمہ داریاں یکساں ھیں،، مثلاٍ بحیثیت شوھر،، سارے شوھر ایک جیسے ھیں اور یہ ادارہ احترام اور تابعداری کا تقاضہ کرتا ھے،، جہاں بھی اور جس جگہ بھی اس کی ذمہ داریاں اور حقوق گنوائے گئے ھیں کسی شوھر کا نام لے کر نہیں گنوائے گئے بلکہ ایک ادارے کے طور پر گنوائے گئے ھیں،، مگر جس خاتون کو اصرار ھے کہ کسی نبی کو کسی دوسرے نبی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ھے ،،میں ان سے پوچھتا ھوں کہ کیا آپ کے شوھر کا نام کہیں کتاب و سنت میں آیا ھے ؟ شوھر تو سارے محترم ھیں،،مگر کیا آپ کے لئے آپ کا شوھر افضل ھے یا نہیں؟ یا سارے شوھروں کے ساتھ آپ کا معاملہ مساوات پر مبنی ھے؟ کیونکہ ذمہ داریاں تو سب شوھروں کی ایک جیسی ھیں ،، اور نکاح رجسٹر بھی ایک جیسے ادارے میں ھوتا ھے؟ مگر اپ افضلیت اپنے شوھر کو دیتی ھیں،، اسی طرح سارے نبی اور ان کی ذمہ داریاں ایک جسی ھیں اور ان کی سندِ رسالت ایک ھی ھستی کی طرف سے جاری ھوتی ھے،،مگر جب وہ نبی میرا نبیﷺ بنتا ھے تو پھر میرے لئے اسکی افضلیت اور فضیلت ایک فطری اور بدیہی چیز ھے اسی بات کا مرد حضرات بیوی پر اطلاق کر لیں،،، بیویاں اور انکی ذمہ داریاں ایک جسی ھوتی ھیں اور حقوق بھی ،، مگر آپکے لئے شرعی ٖفضیلت آپکی بیوی کو حاصل ھوتی ھے؟ یا جو بیوی بھی بازار میں نظر آ جائے؟؟ بڑی موٹی سی بات ھے کہ آپ نبی ﷺ کی بتائی ھوئی عبادات اور ان کے طریقے کو اپنا ھی نہیں سکتے جب تک آپ اس نبی کو فوقیت نہ دیں، منسوخ شدہ کرنسی بھی کبھی پاکستان کی کرنسی تھی اور آج بھی اس نوٹ پر بینک دولت پاکستان ھی لکھا ھے،مگر فوقیت اور فضیلت آج جاری کرنسی کو ھے سابقہ کرنسی کو نہیں،، اگر قرآن کو اپنی بقا اور اللہ کی آخری کتاب ھونے کی نسبت سے تمام سابقہ کتب پر فضیلت حاصل ھے تو آخری رسول ﷺ جس کی شریعت آخری شریعت اور جس کی رسالت رھتی دنیا تک قابل اتباع  ھے ،اس رسول کو سابقہ رسولوں پر فوقییت حاصل ھونا کیونکر غیر فطری ھے ؟پھر یہ کہنا کہ کسی رسول کو افضلیت نہیں دینی چاھئے تو ایک لا یعنی بات ھو کر رہ جاتی ھے،، النبی اولٰی بالمؤمنین من انفسھم و ازواجہ امھاتھم ( الاحزاب-6 ) ،، نبیﷺ مومنوں کو اپنی جان سے زیادہ عزیز ھیں اور اس کی ازواج ان کی مائیں ھیں،، صرف ایک نبی،، ھمارے نبی اور ھم مومنوں کے بارے میں اللہ پاک نے دعوی کیا ھے،، باقی کسی نبی کی زوجہ کو ھم ام المؤمنین نہیں کہہ سکتے ! ھم اپنے نبی ﷺکو دوسرے انبیاء کے برابر کیسے کر سکتے ھیں،،جبکہ اللہ نے بھی لفظ الانبیاء نہیں بولا،، صرف ھمارے نبیﷺ کا ذکر کیا ھے، اگر برابر رکھنا مقصود تھا تو اللہ پاک فرما دیتے کہ الانبیاء اولی بالمومنین من انفسھم،،و ازواجھم امھاتھم ! سارے نبی مومنوں کو اپنی جان سے پیارے ھیں ؟ گویا جونہی کوئی شخص نبی کریمﷺ کو اپنا رسول مانتا ھے،نبیﷺ اس کو جان سے پیارے ھو جاتے ھیں،،جب کہ سابقہ انبیاء کا احترام اور ان پر ھمارا ایمان ھونے کے باوجود انکی اس درجے کی محبت ھمارے لئے ضروری نہیں ھے،،،شرعی طور پر نبی یا رسول کی دو حیثیتیں ھوتی ھیں،، ایک اللہ کا رسولﷺ اور دوسری ھمارا رسولﷺ ،، اللہ پاک نے نبیوں کو اپنی طرف بھی منسوب کیا ھے،، رسولنا، بھی کہا ھے اور ھماری طرف منسوب کر کے، یا دیگر قوموں کی طرف منسوب کر کے ، رسولکم ،، رُسُلُھُم بھی کہا ھے،، مثلاً سورہ المؤمن میں فرمایا،،اَوَلَم تَکُ تَاتیکُم رُسُلُکُم بالبینات؟-50 پھر سورہ المؤمن مین ھی فرمایا فلما جاءتھم رُسُؒلُھُم بالبینات-83 سورہ ابراھیم مین 4 جگہ مسلسل استعمال ھوا ھے،(9-10-11-13 )،یعنی ایک حیثیت رسول اللہ،، جس مین سارے رسول برابر ھیں،، اور ایک حیثیت رسولنا،، ھمارے رسول جس مین فوقیت اور افضلیت ھمارے رسول کو ھو گی،، ایمان کے لحاظ سے سارے رسولوں پر ایمان برابر ھو گا،،کوئی کمی بیشی یا شک شکوک ممکن نہیں اور ان میں سے کسی کا انکار بھی برابر کا کفر ھے،، مگر اطاعت کے لحاظ سے میرے نبیﷺ کو فوقیت اور افضلیت حاصل ھو گی ! اس کے بارے میں یہ حدیث کفایت کرتی ھے جسے دارمی نے عمر ابن الخطابؓ کے بارے میں جابر ابن عبداللہؓ سے روایت کیا ھے، اور مشکوۃ المصابیح نے کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ میں نقل کیا ھے، کہ عمر ابن الخطابؓ کہیں سے تورات کا ایک نسخہ لے آئے اور کہا کہ اے اللہ کے رسولﷺ یہ تورات ھے،، اللہ کے رسول خاموش رھے، عمرؓ نے تورات میں سے پڑھنا شروع کیا تو نبی کریمﷺ کے چہرے کا رنگ متغیر ھونا شروع ھو گیا( جو آپ کے غصہ ھونے کی علامت تھی) ابوبکرؓ نے کہا تجھے گم کر دیں گم کرنے والیاں تو اس چیز کو نہیں دیکھ رھا جو رسول اللہﷺ کے چہرے پہ ھے؟ اس پر عمرؓ نے چہرہ اقدس کی طرف نظر اٹھائی اور فوراً کہا ” میں اللہ اور اس کے رسول کے غصے سے اللہ کی پناہ چاھتا ھوں ! مین راضی ھو گیا، اللہ کے رب ھونے پر اور محمدﷺ کے رسول ھونے پر اور اسلام کے دین ھونے پر( یہ ایسا فوری اور عجیب ایمان بھرا جملہ تھا کہ نبی کریم ﷺ نے بعد میں اس کو توبہ کرنے والوں کو بشارت کے طور پر بتانا شروع کر دیا اور توبہ کی قبولیت میں اکسیر کا اثر رکھتا ھے،،رضیتُ باللہ رباً و بمحمدٍ نبیاً و رسولاً و بالاسلام دیناً) نبی کریمﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺکی جان ھے اگر آج موسی بذاتِ خود بھی ظاھر ھو جائیں اور تم مجھے چھوڑ کر ان کی پیروی کرو تو گمراہ ھو جاؤ،،اگر موسی زندہ ھوتے اور میری نبوت پا لیتے تو یقیناً وہ بھی میری پیروی کرتے ! یہ میرے ان دوست اور غامدی صاحب کی دعوتی ٹیم کے اھم رکن کے لئے بھی پیغام ھے جو ھر دوسرے دن لوگوں کو تورات کی تلاوت کی ترغیب دیتے ھیں،، اب آئیے ان حضرات کے استدلال کی طرف ،، قرآنِ حکیم سے ان کا استدلال یہ ھے کہ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 285 میں اللہ نے ایمان والوں کی طرف سے بیان کیا ھے کہ” لا نفرق بین احدٍ من رُسُلہ” اور اس کا ترجمہ کرتے ھیں کہ۔۔ لا نفضل بین احدٍ من رسلہ،، ھم کسی ایک رسول کو دوسرے پر فضیلت نہیں دیتے،، گویا تفریق کا مطلب تفضیل ھے،، اب اس تقریق کا اصل ترجمہ تو یہ ھی ھے کہ ھم ایمان لانے میں رسولوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں برتتے کہ ایک کو مانیں اور دوسرے کو کسی تعصب کی بنیاد پر نہ مانیں ! بلکہ ھم سارے رسولوں کو من جانب اللہ اور کتابوں کی اللہ ھی کی کتابیں مانتے ھیں،،( ، یہ اصلاً بنی اسرئیل پر طنز ھے جو نبی کریمﷺ کو اس تعصب کی وجہ سے نہیں مان رھے تھے کہ وہ بنی اسماعیل مین سے ھیں،، انہیں شرم دلائی جا رھی ھے کہ ادھر میرے نبیﷺ اور اھل ایمان کی روش دیکھو کہ تمہاری اتنی دشمنی اور سازشوں کے باوجود تمہارے رسولوں اور کتابوں کو بلاتعصب مانتے ھیں) نہ کہ یہاں فضیلت کا تعین ھو رھا ھے ! القرآنُ یفسرُ بعضہ بعضاً،، ایک اصول ھے کہ قرآن اپنی ایک بات کی تفسیر خود دوسری جگہ کر دیتا ھے،،لہٰذا قرآن کو سب سے پہلے قرآن کے ذریعے ھی سمجھنے کی کوشش کرنی چاھئے اور یہ کوشش 99۔99 ٪ کامیاب ھوتی ھے،اس اصول کو اپنے غامدی صاحب المکرم المعظم بھی جانتے اور مانتے ھیں! پھر بھی میں ان سے کہتا ھوں کہ اب اپنے ترجمے اور تفسیر پر قائم رھنا کہ تفریق کا ترجمہ تفضیل ھے، سورہ النساء آیت نمبر 150 چھٹے پارے کا پہلا صفحہ دیکھ لیجئے ! یہاں سورہ البقرہ کی تفریق کی تفسیر کی گئی ھے، کہ کافر اللہ اور رسول کے درمیان تفریق کرتے ھیں، کہ ھم اللہ کو تو مانتے ھیں،مگر فلاں رسول کو نہین مانتے،، اور پھر رسولوں اور رسولوں کے درمیان تفریق کرتے ھیں کہ ھم فلاں رسول کو تو مانیں گے مگر فلاں کو نہیں مانیں گے،،یوں وہ کچھ رسولوں کو مان کر رسالت پر ایمان کا دعوی بھی ثابت کرتے ھیں ،، رسولوں کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لا کر ایمان باللہ بھی ثابت کرتے ھیں،،جبکہ مومنوں کے بارے میں وھی بات جو سورہ بقرہ میں کہی گئی ھے وھی بات یہاں بھی کہی گئی ھے کہ وہ سب رسولوں پر ایمان رکھتے ھیں اور اللہ پر بھی ایمان رکھتے ھیں اور کہیں بھی ایمان میں تفریق نہیں کرتے،،، اس وضاحت کے بعد اب غامدی صاحب والا ترجمہ،تفریق بمعنی تفضیل دیکھ لیجئے ! بے شک جو لوگ کفر کرتے ھیں اللہ کے ساتھ اور اس کے رسولوں کے ساتھ،اور چاھتے ھیں کہ فضیلت قائم کریں اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان( یعنی کہیں کہ اللہ افضل ھے رسولوں سے) اور کہیں کہ ھم بعض رسولوں پر تو ایمان لاتے ھیں اور بعض کا انکار کرتے ھیں اور چاھتے ھیں کہ اس کے درمیان کی راہ اختیار کریں،150،یہی ھیں وہ حقیقی (22 کیرٹ) کے کافر ،،اور کافروں کے لئے ھم نے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ھے 151( یہاں وہ اللہ کو رسولوں سے افضل کہہ کر کافر ھو گئے) ! اور جو ایمان لائے اللہ پر اس کے رسولوں پر اور ان میں سے کسی کے درمیان بھی ‘ایمان’ میں تفریق نہیں کرتے یہ وہ لوگ ھیں جن کو ان کی اجرتیں دی جائیں گی اور اللہ بڑا غفور اور رحیم ھے ! ان آیات میں ان لوگوں کا بھی رد ھو گیا جو سورہ البقرہ کی ایت 62 کوٹ کر کے کہتے ھیں کہ اللہ اور آخرت پر ایمان اور عمل صالح ھی کافی ھے نجات کے لئے! ایمان بالرسالت کی کیا ضرورت ھے ،کیونکہ ایمان بالرسالت تعصب پیدا کرتا ھے ،، ایمان بالرسالت یا اس میں تفریق و تبعیض بذات خود کفر ھے اور کفر بھی حقیقی کفر نہ کہ کسی مفتی کا مستنبط کردہ کفر ! رسول تو رسول ھوتا ھے چاھے ایک بستی کا ھو یا پوری دنیا کا مگر نبی کریمﷺ کے سوا سارے رسول ایک خاص قوم اور قبیلے کی طرف مبعوث کیئے گئے،، یہاں تک بائبل ھی کے مطابق جب عیسی علیہ السلام کے پاس صیدوں جو آج کل لبنان کی بندرگاہ ھے،، سے چند لوگ ھدایت کی درخواست لے کر آئے تو آپ نے ان کو بہت ھتک آمیز جواب دے کر لوٹا دیا کہ بھلا اپنے بچوں کی روٹی کوئی کتوں کے آگے تھوڑا ھی ڈالتا ھے؟ میں بنی اسرائیل کی کھوئی ھوئی بھیڑوں کی طرف بھیجا گیا ھوں،، دوسری طرف وہ ھستی ھے جو نہ صرف تمام انسانوں کے لئے بلکہ قیامت تک آنے والے تمام جہانوں اور زمانوں کے لئے مبعوث فرمائے گئے ” وما ارسلناک الا کآفۃً للناس بشیراً و نذیراً ولٰکنَۜ اکثر الناسِ لا یعلمون ( سبا-28 )اور نہیں بھیجا ھم نے آپ کو مگر ساری انسانیت کے لئے بشیر اور نذیر بنا کر مگر لوگوں کی اکثریت اس(فضیلت ) کو نہیں سمجھتی،، مگر یار لوگوں کو عملی فضیلت ھی نظر نہیں آتی،، اور پھر اپنے آپ کو اصحاب الرائے اور اینٹیلی جینسیا، اور اینٹی لیکچوئل اور پتہ نہیں کیا کیا کہتے ھیں،،مگر حالت یہ ھے کہ آزاد کشمیر کے صدر اور امریکہ کے صدر کو برابر جانتے ھیں کیونکہ دونوں صدر ھیں ! جو فضیلت اس غیر مسلم کو نظر آ گئی ھے جس نے 100 صاحب الرائے اور صاحب عقل و خرد انسانوں میں پہلا نمبر محمد مصطفیﷺ کو دیا ھے وہ مسلمانوں کو نظر کیوں نہیں آتی ؟ قران اس فضیلت کا نقشہ سورہ الاعراف کی آیات 157 میں کھینچتا ھے،، موسی علیہ السلام ابھی ابھی تجلی کا جھٹکا کھا کر فارغ ھوئے ھیں ،،اللہ کی رحمت پوری طرح متوجہ ھے کہ موسی علیہ السلام نے رحمتِ خاصہ کا سوال کر دیا ! فوراً جواب دیا گیا کہ موسی یہ کسی اور کا حصہ ھے،، الذین یتبعون النبی الامی الذی یجدونہ مکتوباً عندھم فی التورۃ والانجیل،،،،،،،، اے موسی یہ تو ان کا حصہ ھے جو ایمان لائیں گے اس نبی اُمۜی پر جس کو وہ لکھا پاتے ھیں تورات اور انجیل میں،وہ حکم دے گا ان کو بھلائی کا اور روکے گا برائی سے ،،طیب چیزیں ان پر حلال کرے گا اور خبیث چیزیں حرام کرے گا،اور ان سے وہ طوق اور بیڑیاں ھٹا دے گا جو ان پر ڈال دی گئی تھیں،، تو جو ایمان لائیں گے اس پر اور عزت و توقیر کریں گے ان کی اور مددگار بنیں گے ان کے اور پیروی کریں گے اس نور کی جو ان کے ساتھ نازل کیا گیا تو وہ لوگ ( اس رحمت کے حصول میں) کامیاب ھوں گے( الاعراف 157 ) اگلی ایت میں اپ سے کہا گیا ھے کہ اپ اعلان فرما دیں کہ اے نوعِ انسانیت میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ھوں،الاعراف 158 !!

اگر دین کا اتمام مصطفیﷺ پر ھونا ،آخری کتاب کا نزول آپ پر ھونا،، آخری اور مستقل شریعت مصطفوی ھونا،، نبوت کی تکمیل آپﷺ پر ھونا،، 2500 سال تک ساری کتابوں کا اس نبیﷺ کی بشارت دینا کہ جس پر دین کی تکمیل اس طرح ھو گی کہ اسی کا حلال کردہ آخری اور فائنل حلال ھو گا اور اس کا حرام کردہ آخری اور فائنل حرام ھو گا اور رھتی دنیا تک آپ کی سنت کا اللہ کے نزدیک معیارِ زندگی قرار پانا، عیسی علیہ السلام کا و مبشراً برسول یاتی من بعدی اسمہ احمدﷺ کا اعلان ،، عیسی جیسا انوکھی پیدائش والا جس کی آمد کا نقیب ھو،اللہ جس پر خود درود پڑھے اور مومنوں کو پڑھنے کا حکم دے،،یہ درود صرف نبی کریمﷺ کی خصوصیت اور فضیلت ھے! عیسی علیہ السلام اور موسی علیہ السلام کے نام کے ساتھ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں لکھ سکتے،،کیونکہ اللہ نے قران میں ان اللہ و ملائکتہ یصلون علی النبی  میں صرف ایک نبی کی بات کی ھے، ابراھیم علیہ السلام کے نام کے ساتھ بھی تب ھی لگایا جا سکتا ھے جب ساتھ میں ھمارے نبی ﷺ کا نام بھی ھو ! اگر تمام اھلِ کتاب سے یہ مطالبہ کہ اگر اللہ سے محبت کا دعوی کرتے ھو تو اپنے رسولوں کو چھوڑ کر میرا اتباع کرو تب اللہ تم سے محبت کرے گا (آلعمران )اگر یہ سب فضیلت نہیں ھے تو پھر شاید دنیا میں فضیلت نام کی کوئی چیز پائی ھی نہیں جاتی،، شاید یہ کسی خاتون کا نام ھو گا  !

اب رہ گئیں وہ احادیث جن میں نبی کریمﷺ سے تفاضل کی ممانعت ھے، اس سے مراد یہ نہیں ھے کہ مومن آپس میں نبی ﷺ کی عظمت کے چرچے نہ کریں،، بلکہ اس کا اپنا ایک بیک گراؤنڈ ھے، کسی مسلمان نے جو کہ یہودیوں کے مدرسے میں تھا وھاں اس نے جب موسی علیہ السلام کے فضائل سنے تو بدلے میں نبی کریمﷺ کے فضائل بیان کرنا شروع کر دیئے،، بات بڑھ گئی اور مسلمان نے یہودی کو تھپڑ دے مارا ،، شکایت جب دربارِ نبی میں پہنچی تو آپ نے اس طرح کی فضیلت جو کسی دوسرے کی تنقیص  کر کے کی جائے منع فرما دی،، ورنہ حضرت حسۜان بن ثابت نے اپ کے سر پر کھڑے ھو کر وہ قصیدہ پڑھا تھا ،جس میں کہا تھا ،کہ اپ جیسا خوبصورت کسی آنکھ نہیں دیکھا اور آپ جیسا خوب سیرت کبھی کسی عورت نے نہیں جنا،،مگر نبیﷺ نے ان کو منع نہیں فرمایا تھا،، !

 

میں اللہ کے سارے رسولوں پر ایمان رکھتا ھوں ! اور بحیثیت اللہ کے رسول ان میں سے کسی کے درمیان فرق محسوس نہیں کرتا ! مگر وہ اللہ کے رسول تھے،،جو کسی اور قوم کی طرف بھیجے گئے تھے،، اور قرآن جہاں ان کا تذکرہ کرتا ھے،، رسولاً الی بنی اسرآئیل کے طور پر کرتا ھے،، وہ عیسی علیہ السلام کو،،و جعلناہ مثلاً لبنی اسرائیل بیان کرتا ھے ! میرے نبی محمد مصطفیﷺ ھیں جن کو میری طرف بھیجا گیا ھے جو نبیوں میں میرا حصہ ھیں اور میں امتوں میں ان کا حصہ ھوں ! میری نجات ان کی پیروی میں ھے،، سارے نبیوں کا احترام کرنے کے باوجود میں ان کا اتباع نہیں کر سکتا کیونکہ مجھے کسی اور ﷺکے اتباع کا حکم دیا گیا ھے، میں اس ھستی کو فضیلت دیتا ھوں جس ﷺسے میری نجات جڑی ھے،میرے لئے وہ افضل ھیں جو مجھے بچانے کے لئے بھیجے گئے ھیں،، !! میں تورات ،زبور ، انجیل کو اللہ کی کتابیں سمجھتا ھوں جو بنی اسرائیل کی طرف بنی اسرائیل کے لئے بنی اسرائیل کے نبیوں پر نازل کی گئیں ،چاھے وہ دستیاب ھوں یا نہ ھوں ،، مگر میں قرآن کو اللہ کی وہ کتاب سمجھتا ھوں جو میرے لئے بھیجی گئی ھے،، جو تمام انسانیت کے لئے ایمان و ھدایت کا منبع ھے ،،جس پر عمل کا میں نے اللہ سے عہد کیا ھے اور حتی الامکان اس عہد کی پاسداری کی کوشش کرتا ھوں،، کتابیں چاروں اللہ کی ھیں،، مگر میں قرآن کو افضلیت اور فوقیت دیتا ھوں،، ایمان سب پر رکھتا ھوں مگر عمل صرف ایک کتاب پر کرتا ھوں،،جسے میں افضل سمجھتا ھوں ! جو "اُنزِلَ الینا ” ھے،، جو ھماری طرف،ھمارے لئے نازل کی گئی ھے !! میرے اس عقیدے میں اگر کوئی خرابی ھے تو اھلِ علم میری موت سے پہلے میری سوچ ،، میرے عقیدے ،، میرے ایمان کی تصحیح فرما دیں ! اللہ پاک انہیں جزائے خیر عطا فرمائے !

کیا ھمارے مدارس معاشرے کو وسیع النظر عالم فراھم کر سکتے ھیں ؟

June 14, 2013 at 7:11am

اگر دینی مدارس میں پڑھے لکھے اور کھاتے پیتےگھرانوں کے بچے بھیجے جائیں تو کیا مدارس کے ماحول اور مساجد کی صورتحال میں کوئی ڈرامائی تبدیلی واقع ھو سکتی ھے؟ کیا وھاں سے فارغ ھونے والا طالب علم روشن خیال ھو سکتا ھے،،روشن خیال سے مراد یہ نہیں ھے کہ وہ صدیوں سے رائج تعلیم کا منکر بن جائے،اسے غلط کہے، یا اس سے ھٹ جائے ،،یہ ایک ناممکن بات ھے،، روشن خیالی کا مطلب قوت برداشت میں اضافہ ،،دوسرے کے لئے گنجائش پیدا کرنا یعنی اس کے دلائل کو جگہ دینا ھے، یعنی ھر مکتبہ فکر کو اکاموڈیٹ کرنا ھے ،، آپ اگر الاتحاد ائیر لائن مین سفر کر رھے ھیں،تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ لاؤنج میں ،ائیر بلو اور پی آئی اے والوں سے اپنی ائیرلائن کی خوبیوں اور دوسری ائیر لائن کی خامیوں پر بحث مباحثہ اس حد تک لے جائیں کہ لاؤنج کے اندر ھی دست و گریباں ھو جائیں،، خوبیاں بیان بھی کی جا سکتی ھیں اور خامیاں گنوائی بھی جا سکتی ھیں،،مگر کسی کے ترک و اختیار پر قدغن نہیں لگائی جا سکتی ! اس سوچ کا نام روشن خیالی ھے ! اور اس کے مخالف نقطہ نظر کو تنگ نظری کہا جاتا ھے     !

بعض لوگ بڑے وثوق سے یہ دعوی کرتے ھیں کہ اگر بہتر میٹریل فراھم کیا جائے تو بہترین پراڈکٹ تیار ھو سکتی ھے ،، بہت سارے احباب اس نقطہ نظر سے متفق بھی ھوں گے، مگر میرا تجربہ کچھ اور کہتا ھے،، میرا تجربہ یہ کہتا ھے کہ اگر آپ مدارس کو موجودہ نصابِ تعلیم اور اساتذہ کے موجودہ مائنڈ سیٹ کے ساتھ یورپ کے اے لیول کے بچوں سے بھر دیں تو جب وہ بچہ وھاں سے نکلے گا تو ،اس کے مائنڈ سیٹ  اور فاٹا کے کسی دور دراز گاؤں سے آنے والے اس کے ھم سبق کے مائنڈ سیٹ میں رائی کے دانے کے برابر بھی فرق نہیں ھو گا،، آپ جب کاپی نکالنا چاھتے ھیں تو پیپر کی کوالٹی سے تحریر پر کوئی فرق نہیں پڑتا     !

 

تفصیل اس اجمال کہ یہ ھے کہ میرے ایک اعزازی شاگرد ھیں،، میرے پڑوس میں پیدا ھوئے،یہاں یو اے ای میں تعلیم مکمل کی ،،پاکستان تشریف لے گئے ، آج تک جتنے ایم اے دریافت ھوئے ھیں سارے ختم کر بیٹھے ھیں جس میں ایم اے انگلش لٹریچر بھی ھے،مجھ سے چیٹ کرتے وقت ان کو اردو اور رومن اردو میں چیٹ کرتے ان کو دقت ھوتی ھے،،،انگریزی کو ترجیح دیتے ھیں، کسی مضمون میں پی ایچ ڈی کی بھی شنید تھی اور دینی تعلیم کے تمام مراحل طے کر کے مفتی بھی بن چکے ھیں ،، ایک انٹرنیشنل یونیورسٹی سے وابستہ ھیں، اور اسلام اباد میں رھائش پذیر،، والدین کے اکلوتے ھونے کی وجہ سے دنیا کی ھر چیز منہ سے نکلتے ھی فراھم کر دی جاتی تھی اور اب بھی صورتحال کچھ ایسی ھی ھے،،ایسا شاندار اور لائق بچہ صرف عمیرہ احمد کے افسانوں میں ھی ملا کرتا ھے،،یعنی 150 پلس کی آئ کیو والا ،،،

مگر اس ساری تعلیم اور ایم ایز کی لسٹ نے اس کا کچھ نہیں بگاڑا،،  روشن خیالی کا یہ عالم ھے کہ لڑکی پسند کر کے، بات چیت کر کے منگنی کا فیصلہ ھو گیا، لڑکی کے والدین کو بتا دیا گیا کہ فلاں تاریخ کو منگنی کرنے آرھے ھیں،تیاری کر لیں،لڑکی والوں نے تیاری کر لی،، مگر یہ منگنی نہ ھو سکی ! کیونکہ اس دوران کہیں سے پتہ چل گیا کہ لڑکی نے الھدی سے کورس کیا ھوا ھے ! بس ساری تعلیم کے اندر سے دولے شاہ کا چوھا نکل کر سامنے آ گیا،،بائی دا وئے اگر اس بچی نے الھدی سے غلطی سے کورس کر لیا ھو گا،تو فرق کہاں پڑا ھو گا؟ لڑکی نے رفع یدین شروع کر دیا ھو گا،، تو مفتی صاحب کے پاس علم تھا،اثر ورسوخ بھی ھوتا تو لڑکی کو قائل کر لیتے،، جو اپنی بیوی کو قائل کرنے کی ھمت نہیں رکھتا،دنیا کو کیا قائل کرے گا؟ آپ جانتے ھوں گے کہ گیرج والا اور مکینک ھر میک اور ماڈل کی گاڑی خرید لیتے ھیں کہ میں خود مکینک ھوں ،،بنا لوں گا،،ان مفتی صاحب سے وہ مکینک زیادہ دلیر اور پر اعتماد ھوتا ھے،،یہ ھمارے مدارس کی پراڈکٹ تھی ،حالانکہ میٹریل بہت اعلی تھا   !

میرے دوست کے بچے ھیں،، امریکہ میں پیدا ھوئے، امریکن نیشنل ھیں، النہدہ اسکولز میں پڑھے ھوئے ھیں،، والد صاحب رئیس المھندسین ھیں،، پورا گھرانہ تعلیمیافتہ ھے،، دادا جان  سے لے کر تایا تک،، میں نے مشورہ دیا کہ پاکستان کے مدارس کا ماحول ذرا تنگ نظر ھے، بچوں کو ساؤتھ افریقہ بھیج دیں ،، دونوں بچے ساؤتھ افریقہ سے 7 سال لگا کر آ گئے،، رمضان کا مہینہ تھا،، افطار پارٹی کے بعد فارغ ھو کر نمازِ مغرب کے لئے جا رھے تھے، رستے میں سڑک کراس کرتے ھوئے،کسی موضوع پر بات چل رھی تھی تو مولانا مودودیؒ کا ذکر ھوا،، بڑے بھائی نے فوراً فتوی دیا کہ مودودی کوئی عالم تھا، وہ تو گمراہ آدمی تھا،، میں تو سڑک کے بیچوں بیچ کھڑے کا کھڑا رہ گیا،اگر دوسرا آدمی دھکا نہ دیتا تو مین گاڑی کے نیچے آ گیا ھوتا !

اس کا مطلب یہ ھوا کہ اس نصاب تعلیم اور اس تنگ نظری کے حامل اساتذہ کے زیر نگرانی مدارس آپ لندن،واشنگٹن،نیو یارک یا جوھانسبرگ میں بنا لیں اور کتنی ھی پڑھی لکھی فیملی کا بچہ ان کے حوالے کر دیں وہ آپ کو ایسا ھی ایک تنگ نظر عالم تیار کر کے پکڑا دیں گے جو سب سے پہلے اپنے والد کی گمراھی کا فتوی دے گا ،،

یہ ایسی حقیقت ھے جس سے کوئی مفر نہیں ھے،،  اور اس کو بدلنے کی بجائے اس کے ساتھ جینا سیکھنا پڑے گا،، شوگر کی بیماری کی طرح یہ دائمی مرض ھے،، یہ ھاسپٹل ڈیزیز ھے جو ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو لگتی ھے،،یہ تنگ نظری کا مرض مدارس کا مرض ھے جو اساتذہ اور طلباء کو لگتا ھے،، علاج اس لئے مشکل ھے کہ یہ قران و حدیث پڑھ پڑھ کر ھی تو بھرا جاتا ھے !

ھمیں شیخ جی آپ جیسے اللہ والوں سے اللہ بچائے !

June 30, 2013 at 12:48pm

انسان کے خالق نے فرمایا ھے کہ انسان تھُڑ دلا پیدا کیا گیا ھے! بات کچھ یوں ھے کہ جو شخص بھی چار سجدے کر لیتا ھے،،جنت کے دروازے کے سامنے بیریئر لگا کر کھڑا ھو جاتا ھے،کہ میرے پیمانے پہ پورا اترو گے تو جنت جا سکو گے ! علامہ ابنِ جوزی نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف تلبیسِ ابلیس میں لکھا ھے کہ سب سے بدترین اور خطرناک ترین تکبر نیکی کا ھے،، اس میں انسان اپنے اعمال کی بنیاد پر خود کو کنفرم جنتی سمجھ کر اللہ کی رحمت سے بے نیاز ھو جاتا ھے اور دوسروں کو اعمال کے پلڑے میں تول کراللہ کی رحمت سے مایوس کرتا پھرتا ھے،، وہ یہ بھول جاتا ھیں کہ انسان کا اللہ سے تعلق ماں باپ کا سا ھے،، آجر اور اجیر کا !نہیں ماں باپ تخلیق میں ایک سبب ھونے کی وجہ سے اولاد پر کتنے رحیم ھوتے ھیں،،کہاوت ھے کہ قاتل کی سب سے مخلص وکیل اس کی ماں ھوتی ھے،،، ساری آسمانی کتابوں میں اس کی مثال باپ کی محبت سے دی گئی ھے اور حدیث میں 70 ماؤں کی ،، کہیں مسیح علیہ السلام کسی گنہگار سے نرمی سے پیش آئے تو شاگرد مچل گئے کہ یہ تو گنہگار ھے ،،آپ اس پہ اتنی شفقت کا سلوک کیوں کرتے ھیں،، فرمایا ابھی ابھی میں نے تمہارا کوڑھ درست کیا ھے،لوگ تمہارے پاس کھڑا ھونا گوارہ نہیں کرتے تھے،، تمہارے بدن کو کوڑھ تھا ،،اس کی روح کو کوڑھ ھے،یہ بھی بیمار ھے اور تیرے جتنی شفقت کا مستحق،، کہیں عمرؓ جنازے کے سامنے کھڑے ھو کے ضد کر بیٹھتے ھیں کہ ائے اللہ کے رسول ﷺ یہ شخص اس قابل نہیں ھے کہ اپ اس کا جنازہ پڑھائیں، کسی اور کو یہ کام سونپ دیجئے ،، آپ نے رُخِ انور کو عمر فاروقؓ کی جانب سے پھیرا اور حاضرین سے سوال کیا” تم میں سے کسی نے اسے اھلِ اسلام جیسا کوئی کام کرتے پایا ھے؟ ایک شخص نے جواب دیا ائے اللہ کے رسولﷺ اس نے ایک دن لشکر میں رات کا پہرہ دیا تھا ،آپ نے فرمایا صفیں درست کر لو اور اس کی نمازِ جنازہ پڑھا دی،، جنازے کے بعد آپ ﷺ نے اس کا سر اپنی گود میں رکھا ،، ماتھے پر پیار سے ھاتھ پھیرا اور فرمایا” تیرے ساتھی سمجھتے ھیں کہ تو جہنمی ھے،حالانکہ میں گواھی دیتا ھوں کہ تو جنتی ھے،، اللہ اللہ مصطفیﷺ کو کیا دکھا دیا گیا تھا جو عمرؓ نہ دیکھ پائے تھے،، امام بخاری ھی یہ روایت بھی لائے ھیں کہ ایک شخص تھا جو غیر سنجیدہ سا تھا،کسی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیتا تھا،، مگر جب کبھی نبی کریمﷺ کو پریشان دیکھتا تو کوشش کر کے کوئی حرکت یا بات ایسی کر دیتا جس پر آپ مسکرا دیتے اور آپ ﷺ کا موڈ خوشگوار ھو جاتا،، یہ صاحبؓ شراب کے عادی تھے اور کئی بار کوڑے کھا چکے تھے،، ایک دفعہ کوڑے کھا کے فارغ ھوئے تو ایک شخص نے کہا’ اللہ اسے رسوا کرے یہ کتنی دفعہ اس جرم میں لایا جاتا ھے،، آپ ﷺ نے ناراض ھو کر فرمایا ،،اپنے بھائی کے مقابلے مین شیطان کی مدد مت کرو،، اللہ کی قسم میں اسے اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرنے والا پاتا ھوں،، نبی کریم ﷺ کا یہ فرمانا تھا کہ اس شخص کی دنیا تبدیل ھوگئی،،وہ جسے کوڑے شراب نہیں چھڑا سکے تھے،، نبیﷺ کے ایک جملے نے اس کی شراب چھڑا دی،، پھر زندگی بھر پلٹ کر شراب کو منہ نہیں لگایا،، علامہ بدر عالم میرٹھیؒ نے ترجمان السنۃ میں اس پر سرخی جمائی ھے "گنہگار بھی اللہ اور رسولﷺ سے محبت کرنے والا ھو سکتا ھے،،، اختر شیرانی کے نام سے برِ صغیر میں کون واقف نہیں ! کس پائے کے شاعر اور کس درجے کے شرابی تھے! حکیم سید محمود احمد برکاتی صاحب ان کے بارے میں ایک وقعہ بیان کرتے ھیں کہ ، ان کے چچا جو کہ ایک مدرسے کے اخراجات بھی برداشت کرتے تھے،، انہوں نے ایک مشاعرے کا اھتمام کیا،، حکیم ؐمحمود لکھتے ھیں کہ شیرانی صاحب کی وجہ سے ھم سارے نوجوان اسٹوڈنٹ بھی شاملِ مشاعرہ تھے اور دینی مدرسے کے نوجوان بھی ھماری دیکھا دیکھی شریکِ محفل تھے،، اختر شیرانی جو شراب سے زیادہ دیر دور نہیں رہ سکتے تھے،، مگر مدرسے کے اساتذہ اور طالبِ علموں کے احترام میں اپنی کُپی جس کو ادھا کہتے تھے، مردانے کے ایک طاق میں چھپا کر آگئے،، تھوڑی تھوڑی دیر بعد اٹھ کر جاتے اور چُسکی لگا کر واپس آ جاتے ! عام لوگوں نے تو اس طرف کوئی توجہ نہ دی مگر ایک مولوی صاحب یہ بات تاڑ گئے، ، ان کی رگِ جہاد جو پھڑکی تو طاق کی جانب روانہ ھوئے،،ادھر شیرانی صاحب کی چھٹی حس نے بھی خبردار کیا اور وہ مولوی کے پیچھے لپکے،، مولوی صاحب ادھا اٹھا کر بھاگ پڑے،، اور پیچھے پیچھے شیرانی صاحب بھی،، مولوی صاحب بھاگ کر مسجد کی سیڑھیاں چڑھے اور مرکزی دروازے پر جا کھڑے ھوئے،، ان کے پیچھے اختر شیرانی بھی سیڑھیاں چڑھنے لگے ،،مگر پہلی سیڑھی پر قدم جو رکھا تو یوں لگا جسیے ان کو بجلی کا جھٹکا لگا ھے،،70 سال پرانی بات ھے مگر منظر آج بھی اسی طرح دل و دماغ پر نقش ھے،، وہ کچھ دیر تو سکتے کی کیفیت مین رھے ،لگتا تھا ان کے پاؤں کسی چیز نے جکڑ لیئے ھیں !وہ جھرجھری لے کر الٹے پاؤں سیڑھی سے اترے اور کرارے لہجے میں بولے مولوی صاحب نیچے آ جاؤ،، شرم کرو شرم،،اس ناپاک بوتل کو لے کر مسجد مین داخل ھو گئے ھو،، مجھے دیکھو ایک سیڑھی سے زیادہ چڑھا نہیں گیا،،اللہ مجھے اس سیڑھی پر چڑھنا معاف فرمائے،، اس کے بعد ایک خاص کیفیت میں چچا جان کی طرف متوجہ ھوئے ” اظہر میاں ! آپ لوگ طلبہ کو دین کی تعلیم دیتے ھیں تو ان کی تربیت بھی کیا کیجئے !! شراب ناپاک ھے ، حرام ھے،گندی چیز ھے ،میں سیاہ کار شرابی ھوں،مگر شراب کی حرمت کا اسی طرح قائل ھوں جس طرح آپ یہ طلبہ اور علماء ھیں،، بزرگوں کی تربیت کام آئی ھے، میں گنہگارمدھوشی میں بھی مسجد کی سیڑھیاں نہیں چڑھ سکا،، اور یہ مولوی صاحب شراب لئے مسجد میں داخل ھو گئے،، اب مولوی صاحب بھی نیچے اتر آئے،وہ حیران حیران اور سہمے سہمے سے تھے ! انہوں نے کوشش کی کہ وہ بوتل شیرانی صاحب کو لوٹا دیں،،مگر شیرانی صاحب نے دبنگ لہجے میں فرمایا،، مولوی صاحب اس بوتل کو اب نالی مین پھینک دو،، اس نے اللہ کے گھر کی بے حرمتی کر دی ھے، اب یہ میرے قابل نہیں یہ کہا اور بوتل مولوی صاحب سے لے کر زور کے ساتھ دیوار پر مار کر توڑ دی،، ساتھ وہ زار و قطار رو بھی رھے تھے،، عجیب ایمان بھری کیفیت پیدا ھو چکی تھی،، وہ دن تھا کچھ ایسا قبولیت کا تھا،اور اللہ کو شیرانی صاحب کا یہ ادب کچھ ایسا بھایا کہ پلٹ کر شراب کی طرف دیکھا تک نہیں،، یہ قبولیت کے لمحے ھوتے ھیں،، اور اللہ کا مزاج شاہانہ مزاج ھے،، ذرا سی بات پہ بے بہا عطا کر دیتا ھے،، حدیث قدسی ھے کہ ایک نیک صاحب روزانہ ایک بدکار کے اس سے گزرتے اور اسے اس برائی سے منع کرتے،مگر وہ صاحب تھے کہ باز آ کر نہ دیتے، آخر اس نیک ادمی کو بہت غصہ آیا ،اس نے غضبناک ھو کر فرمایا” اللہ کی قسم اللہ تجھے کبھی نہیں بخشے گا” نبی کریم ﷺ فرماتے ھیں کہ اس کا یہ کہنا تھا کہ اللہ نے دونوں کی جان قبض کر لی اور اپنے حضور ان کو پیش کر لیا،، بدکار سے فرمایا ” تو میری رحمت کے ساتھ جنت میں جا،، اور نیک سے فرمایا تجھے کس چیز نے یہ جرأت بخشی کہ تو مجھے اپنی قسم کا پابند کرے؟ اور اسے جہنم میں ڈال دیا گیا،،، نیکی اچھی چیز ھے مگر وہ ھمارے لئے ھے،، اللہ پر کوئی احسان نہیں ھے کہ جس کی بنیاد پر انسان شوخا ھو جائے،، انسان کو انسان کے خالق کے حوالے رھنے دو،، ان کے درمیان مت آؤ ،، اللہ کی بے نیازی کچل کے رکھ دے گی! متفق علیہ حدیث بطاقہ تو سب کو یاد ھوگی،، وہ شخص جس کے اعمال نامے کے 99 پرنٹ نکلیں گے جو مشرق سے مغرب تک ھوں گے ،،اور سارے برایوں سے بھرے ھوں گے،، بندہ ان کو دیکھ کر خود ھی جہنم کی طرف چل پڑے گا مگر اللہ اسے روک کر کہے گا تیرا تھوڑا سا حساب باقی ھے،اسے چکا کر جاؤ،،آج کسی کا حق نہیں مارا جائے گا،، پھر ایک پرزہ( بطاقہ ) نکالا جائے گا جس پر کلمہ طیبہ لکھا ھو گا جو کہ اس شخص نے بڑے خلوص سے پڑھا ھوا ھو گا،، فرمایا جائے گا،،ان 99 اعمال ناموں کے برابر اس بطاقے کو رکھ دو ،، وہ پرزہ ان تمام99 عمل ناموں سے وزنی ثابت ھو گا ! حشر کا دن حشر کا دن ھو گا،،بھائیو آنے تو دو،، حشر کے فیصلے دنیا مین ھو ھی نہیں سکتے،، مسلم شریف کی آخری حدیث،، لو لم تذنبوا ،، لذھب اللہ بکم، ،، اگر گناہ تم سے سر زد نہ ھوں تو اللہ تم کے لے جائے،، مار دے،،ختم کر دے،، پھر ان لوگوں کو پیدا فرمائے جن سے گناہ سرزد ھوں ،،پھر وہ اللہ سے توبہ کریں اور اللہ ان کو معاف فرمائے ! اپنی نمازوں کو دوسروں کی جنت کا بیرئیر نہ بنائیں،، دعا کیا کرین اللہ پاک ھماری نیکیاں قبول فرما لے،، اور گناہگار کی دعا میں شامل ھو جایا کریں وہ بڑے خلوص سے دعا مانگتا ھے ،کیونکہ مریض جس طرح سچا روتا اور تڑپتا ھے،، نقل اتارنے والا ایسا نہیں ھو سکتا

چاند کو علماء کی پہنچ سے دور رکھیں !

June 30, 2013 at 7:07am

الحمد للہ رب العٰلمین،والصلوۃ والسلام علی اشرف الانبیاء والمرسلین و علی آلہ و اصحابہ و اھلِ بیتہ اجمعین ! اما بعد ! بہت مشکل سوال ھے اور سوال ھوتا ھی وھی ھے جو مشکل ھو،، جو آسان ھوتا ھے وہ نورا کشتی ھوتی ھے،، تو جناب وہ مشکل سوال یہ ھے کہ پاکستان کے کتنے صوبے ھیں ؟ آپ نے اپنے ھاتھ پر ھاتھ مار کر قہقہ لگایا ھو گا کہ ‘ مولوی پاگل ھو گیا ای اوئے” مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیونکہ سالن جل بھی جائے تو سالن ھی کہلاتا ھے ، دال نہیں ھو جاتا،، آپ کا جواب ھو گا کہ پاکستان کے پانچ صوبے ھیں،، سندھ ،بلوچستان، پنجاب،خیبر پختونخواہ،اور گلگت بلتستان،، جی نہیں !! آپ کا جواب غلط ھے ،، آپ اپنی معلومات کو ریفریش کریں،، پاکستان کے چھ صوبے ھیں، میں آپ کو گنوا دیتا ھوں،اگر آپ کو اس پر اعتراض ھو تو دلیل کے ساتھ اختلاف بھی کر سکتے ھیں! سندھ،بلوچستان،پنجاب،گلگت بلتستان،خیبر پختونخواہ اور قاسم مسجد،، یہ سب پانچ صوبے ایک طرف اور صوبہء قاسم مسجد دوسری طرف،، !! رمضان کی آمد آمد ھے اور خیبر پختونخواہ سے خدشات کا شکار خواتین و حضرات کے تشویش زدہ سوالات کا تانتا بندھا ھوا ھے کہ رمضان اور عید کس کے ساتھ کریں؟ قاسم مسجد کے ساتھ یا حکومت کے ساتھ؟؟ آپکے نزدیک عمران خان حکومت کا سب سے بڑا مسئلہ بجلی ھو گا،، تعلیم اور علاج ھو گا،، نیٹو سپلائی ھو گا،، ڈرون کا بندوبست ھو گا،، مگر میرے نزدیک عمران کا سب سے بڑا اور کڑا امتحان چاند پر قابو پانا ھو گا،، کہ یہ کہیں آگے پیچھے نہ ھو جائے، !! ویسے اسے سے بڑا لطیفہ بھی کوئی نہیں کہ ھم دعوی تو رکھتے ھیں کہ ھم وہ نظام رکھتے ھیں جو پوری دنیا کے مسائل حل کر سکتا ھے،مگر خود ھم سے ایک چاند کا مسئلہ حل ھو کے نہیں دے رھا،، طے شدہ امور کو بھی متنازعہ بنانے میں ھمیں یدِ طولی حاصل ھے،،اگرچہ اللہ پاک نے قرآن کریم میں گارنٹی دی ھے کہ سورج اور چاند دونوں کو ھم نے ھی حساب کتاب( کیلکولیشن ) سے بنایا ھے،، اور یہ حساب بھی عام حساب نہیں بلکہ دقیق حساب’ حسبان ” ھے ،،مگر قاسم مسجد والوں کو اللہ پر بھی اعتبار نہیں،، ان کا چاند ھر بار پری میچیور ابارشن کے تحت پیدا ھوتا ھے،، اگر سورج کے معاملے میں 20 سال کا کیلنڈر ھر مسجد میں لٹکا رکھا ھے تو چاند کیا سب کانٹریکٹ پہ چائنا سے بنوایا ھے جو اس کی موومنٹ قابلِ اعتبار نہیں؟ یہود بھی چاند کے ساتھ عبادت شروع کرتے ھیں سو سالہ کیلنڈر بنا رکھا ھے،، ساری دنیا کے یہودی اسی کے تحت ایک ھی دن روزے شروع کرتے اور ایک ھی دن عید کرتے ھیں اور یوں اپنی یکجہتی کا اظہار کرتے ھیں،،مگر ھم ھیں کہ ھر سال اپنی جگ ھنسائی کا اھتمام کرتے ھیں،، غیر مسلموں کو بھی پتہ ھوتا ھے کہ اس ڈگری پہ چاند نظر نہیں آ سکتا اور مسلمانوں کا ملا جھوٹ بول رھا ھے،،مگر اسے کیا پتہ کہ یہ ‘ مقدس جھوٹ” ھے جو صرف کوئی مقدس ھی بول سکتا ھے،، چاند مولوی کا مسئلہ ھے ھی نہیں،،یہ ماھرین فلکیات کا مسئلہ ھے ! ھماری چاپلوس حکومتوں نے مذھبی ووٹ بینک کو متوجہ کرنے کے لئے رشوت کے طور پر اسے مولوی کو دیا ھے ،اور یہ کام ضیاء صاحب نے بدرجہ اتم کیا ھے،، مگر اب کمبل چھوڑ کے نہیں دے رھا ! اس مسئلے کا حل کیا ھے؟ اس مسئلے کا حل یہ ھے کہ خلافت قائم کی جائے،،، مدینے کو مذھبی دارالخلافہ قرار دیا جائے،،جس طرح مدینے کی بیعت ساری اسلامی دنیا کی بیعت سمجھی جاتی تھی،اسی طرح مدینے والے جس دن چاند دیکھیں،، اس دن جتنی اسلامی دنیا میں رات ھے وہ سب اس کے ساتھ شریک ھوں،باقی دنیا اگلے دن خود بخود ان کا اتباع کرے،، اس پر باقاعدہ جامعہ ازھر کا فتوی آ چکا ھے اور دلیل میں انہوں نے وھی صحیح حدیث پیش کی ھے،، صوموا لِرؤیتہ و افطِروا لرؤیتہ،، اس( مدینے) کے چاند دیکھنے پر روزہ شروع کرو،،اور اس کے دیکھنے سے عید کرو،، گویا وہ ” ہ” کی ضمیر مدینے کو قرار دیتے ھین،چاند کو نہیں ! ویسے بھی پتے کی بات یہ ھے کہ زمین پر تو مسلمانوں کو انگریزوں نے لکیریوں میں بانٹا ھے،،ملکوں مین تقسیم کیا ھے،، یہ دین میں لکیریں کس نے ماری ھیں؟ امت کی وحدت کے لئے ایک مقدس مرکز تو قائم کرو،، کیا اس سے بھی انگریز نے روکا ھے؟ آخر لندن والے بھی تو سعودیہ کے ساتھ رمضان اور عید کرتے ھیں،، پاکستانی پاکستان کے ساتھ کرتے ھیں،، پھر یہ 3 گھنٹے کے سفر پر پاکستان کے علماء سعودیہ کے ساتھ اپنا رمضان رکھ لیں گے تو قیامت آ جائے گی؟ عام آدمی میں جرأت ھے تو علماء یہ جرأت کیوں نہیں کرتے،،؟ مگر اس قسم کے فیصلے سے امت میں بے شک وحدت پیدا ھو ،، علماء کے ھاتھ سے سیادت نکل جاتی ھے،، وہ جو مزہ حبیب پلازے پہ کیمروں کی فلیش میں اور لائیو کوریج میں ھے وہ سال میں دو ھی تو دن ھوتے ھیں،، ان سے بھی محروم ھونا کون پسند کرتا ھے،، نتیجہ یہ ھے کہ ،، اس سال بھی پختونخواہ والوں کے روزے اور عید بدمزہ ھو گی،، اگر وحدت پیدا کرنی ھے تو چاند کو علماء کی پہنچ سے دور رکھیں،، اور جن کا کام ھے ان کو سونپ دیں ! وما علینا الاۜ البلاغ المبین

اسلام، قران اور انسان ! -1

April 16, 2013 at 12:18am

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمدُ للہ رب العالمیین،والصلوۃ والسلامُ علی اشرف الانبیاء والمرسلین،، و علی آلہ و صحبہ اجمعین،

اما بعد ! اسلام  اپنی فائنل شکل میں مکمل ھو چکا ھے،اور اسلام کے بعد اب دنیا کے لئے کوئی اور آسمانی نظام حیات دستیاب نہیں ھے،، اللہ پاک انسانیت سے الوداعی خطاب فرما چکا ھے اور وہ قرآن حکیم کی شکل میں محفوظ و موجودھے،اور اللہ کی ضمانت سے قیامت تک موجود رھے گا ، اللہ پاک جو کہ کائنات کا خالق ومالک،اور مستقبل کا جاننے والا ھے، وہ قیامت تک انے والے انسانوں اور ان کےکارناموں اور صلاحیتوں،نیز خامیوں اور خوبیوں سے بخوبی آگاہ ھے ، جس چیز کو ھم کرکے آگاہ ھوتے ھیں وہ اس چیز سے ھمارے کرنے سے پہلے بھی واقف ھوتا ھے،، ماں باپ نےھمیں پیدا کر کے اور پال کے جانا ھے،،جب کہ اللہ سبحانہ و تعالی نے ھمیں جان کرپیدا فرمایا ھے،،جب ھم آدم علیہ السلام کی مٹی میں ایک ذرہ تھے وہ اس وقت بھی ھم سے واقف تھا اور جب رحمِ مادر میں جنین تھے وہ تب بھی ھم سے ایسا ھی واقف تھا جیساآج ھے اور جب ھم خاک ھو جائیں گے تب بھی اس کے علم میں اسی طرح زندہ و تابندہ موجود رھیں گے،،وہ کسی چیز کو بھولتا نہیں،، اس کے علم میں کمی اور زیادتی نہیں ھوتی، نہ حوادث سے تغیر پذیر ھوتا ھے،عقلیں اس کی کنہہ کا احاطہ کرنے سے عاجز ھیں،اور سوچ درماندہ ھے،گمان اس کے پاس تک نہیں پھٹکتا، کوئی وصف بیان کرنے والا اس کےاوصاف بیان نہیں کر پایا اور کوئی بولنے والا آج تک اس کی مکمل تعریف نہیں کر پایا، کوئی اس کی نعمتوں کا احاطہ نہیں کر پایا اور نہ کوئی بدلہ دے پایا،،اس رب جلیل کی رحمت کاانسانیت پر سب سے بڑا احسان قرآن کی صورت میں  ھمارے پاس ھے اور اسکی نعمتوں کا اتمام  اسلام کی شکل میں ھمارے پاس موجود  ھے

سبوخ سید کے نام ! محبت کیا ھوتی ھے،کیسی ھوتی ھے ؟

July 28, 2013 at 12:21pm

صبح صبح سحری کے وقت اپنے ایک مہربان صحافی دوست کا لطیفہ موصول ھوا، لطیفہ کچھ یوں ھے کہ بیوی نے شوھر سے گلہ کیا کہ آپ کو مجھ سے محبت نہیں ھے ! جس پر شوھر نے پلٹ کر جواب دیا ،بچے کیا عامر لیاقت کے پروگرام سے گفٹ میں لائی ھو؟ پہلے یہ لطیفہ کچھ یوں تھا کہ’ بچے کیا گوگل سے ڈاؤن لؤڈ کیئے ھیں؟ بات لطیفے کی نہیں، بات ھماری نفسیات کی ھے،،جب بھی کسی بیوی نے شوھر سے گلہ کیا ھے کہ اسے اب بیوی سے محبت نہیں رھی تو شوھر نے بچے پکڑ کر اس کے سامنے ثبوت کے طور پر کھڑے کر دئیے،،یا ان کی طرف اشارہ کر دیا ! کیا بچے پیدا کرنا محبت کی نشانی ھے یا کیا بچے محبت کا ثبوت ھیں،، یا کیا جنسی تعلق محبت کا ثبوت ھے ؟؟؟؟ یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ھے،، بچے درجن بھی ھوں تو ضروری نہیں کہ ان میاں بیوی کو آپس مین محبت بھی ھو، ، جنسی جذبہ اور جنسی تعلق ایک حیوانی جذبہ ھے جو تناسل کے لئے بالقوہ رکھا گیا ھے،،جنسی تعلق میں انسان اور حیوان صرف ایک ھی جذبے، ایک ھی ضرورت کے غلام ھوتے ھیں، دونوں میں انیس ،بیس کا فرق بھی نہیں ھوتا، اس لئے جنسی تعلق اور افزائشِ نسل کو محبت نہ کہا جا سکتا ھے ،نہ محبت کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جا سکتا ھے،،ھماری اسی غلط فہمی کا نتیجہ ھے کہ گھروں سے محبت کا جنازہ نکل چکا ھوتا ھے اور ھم اولاد کو دیکھ دیکھ کر محبت کی وافر موجودگی کا یقین کیئے بیٹھے ھوتے ھیں،، پھر محبت کیا ھے ؟ محبت ایک جذبہ ھے، جو اپنے اثرات اور نشانیاں رکھتا ھے،، اس کے شواھد ھوتے ھیں،، محبت اپنے محبوب کے سامنے سرنگوں رھتی ھے،، محبوب کی مرضی میں اپنی مرضی گم کر دیتی ھے،،وہ محبوب کو خوش کر کے اس کی خوشی میں سے اپنی خوشی کشید کرتی ھے،،اس میں انا کوئی نہیں ھوتی،، اس میں اتھارٹی کی طلب نہیں ھوتی،، وہ اپنے تمام حقوق لکھ کر محبوب کو دے دیتی ھے اور پھر کبھی پلٹ کر صلہ طلب نہیں کرتی،، وہ محبوب کی ناراضی برداشت نہیں کرتی،، وہ پوری طرح اپنے محبوب کے رنگ میں رنگ جاتی ھے،، وہ تو حکم کا انتظار بھی نہیں کرتی وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کے محبوب کی پسند کا اندازہ کرتی اور اسے کہے بغیر پورا کرتی ھے،، جب گھروں میں مطالبے ھونے لگیں اور اپنے اپنے حقوق کا رونا رویا جائے ،ھر ایک اپنے دکھ سنانے کے چکر مین ھو،اپنی قربانیاں گنوانے کو بے قرار ھو تو سمجھ لیں محبت اس گھر سے کوچ کر گئی ھے،،اب اس کی لاش کی چیر پھاڑ جاری ھے،، اللہ جب انسان سے محبت کرتا ھے تو اپنی اتھارٹی بھول جاتا ھے،، اپنی شان کے ساتھ  سماء دنیا پر تنزل فرماتا ھے ،،بندہ چل کے آتا ھے تو وہ دوڑ کر آتا ھے،، معاف کرنے پر تلا بیٹھا ھوتا ھے ، خود معاف کرنے کے بہانے فراھم کرتا ھے اورسب سے بڑی بات کہ کائنات میں نہ سما سکنے والا قلبِ انسان میں ٹھکانہ بنا لیتا ھے، جن گھروں میں محبت ھوتی ھے وھاں سزا نہیں ھوتی،، معافی ھوتی ھے،اور معافی مانگنے کا انتظار بھی نہیں ھوتا، عورت کے لیئے سب سے بڑی سزا اس کے شوھر کا ناراض ھو جانا ھے بشرطیکہ  اسے شوھر سے محبت ھو،جسمانی مار تو طلاق کی پہلی سیڑھی ھے ! علماء اللہ سے اپنی محبت کے ثبوت میں نماز روزہ پیش کرتے ھیں،جس طرح بیوی کی محبت کے ثبوت میں شوھر بچے پیش کرتا ھے! جبکہ نماز پڑھنے والا ضروری نہیں اللہ سے محبت بھی کرتا ھو،،وہ بھی نمازی ھی ھیں جن کو ویل کی دھمکی دی گئی ھے اور وہ بھی نمازی ھی ھو گا جس پر بخاری کی رویت کے مطابق جہنم بھڑکائی جائے گی،، نماز مسلمان کی نفسیاتی ضرورت ھے،، اصل بات دل کی ھے کہ نماز کے علاوہ بھی دل محبوب کی یاد میں غرق ھو، اور بار بار اسکی گلی کا خیال آتا ھو،، ارشادِ مصطفی ﷺ ھے کہ جو سات بندے قیامت کے دن اللہ کے عرش کے سائے کے نیچے ھوں گے ،ان میں وہ بھی ھو گا جس کا دل مسجد میں اٹکا ھو گا،، بہت سارے حج پر جاتے ھیں مگر ضروری نہیں ان کو محبت بھی ھو،، اپنی جنت کا چکر ساتھ ساتھ ھے،ضرورت اور مطلب پرستی ساتھ ساتھ چلتی ھیں،، محبت ایک الگ جذبہ ھے،جس کی طلب اللہ پاک کو ھے،، والذین آمنوا اشد حباً للہ،، مومن تو شدید محبت اللہ ھی سے کرتے ھیں،، مصطفی ﷺ فرماتے ھیں تم میں سے کوئی مومن نہیں ھو سکتا جب تک میں اسے اپنی اولاد ،ماں باپ اور ساری دنیا سے زیادہ محبوب نہ ھو جاؤں،، اور محبت کا ثبوت یہ ھے کہ جو تمہیں محبوب ھے وہ محبوب کی خاطر چھوڑ دو،،لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون،، جب تک محبوب کو محبوب پر قربان نہ کرو،محبت ثابت نہیں ھوتی،، ابراھیم کے دل میں اسماعیل کو بسا کر الفت ڈال کر،جب دیکھا کہ دل نے  کانٹا نگل لیا ھے، و بلغ معہ السعی،، تو چھری کے نیچے لٹانے کا اشارہ کر دیا،، اور لٹانے والا لٹا کر خلیل بن گیا،، ھمارے گھروں میں یہ منظر شادی کے ابتدائی دنوں میں اپنی جھلک دکھاتا ھے،، عورت اپنے جہیز کی چیزیں سسرال میں استعمال کرتی نظر آتی ھے،، پھر جوں جوں محبت سمٹتی جاتی ھے،چیزیں دوبارہ پیک ھونا شروع ھو جاتی ھے،، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گھروں میں صرف ورکنگ ریلیشن شپ باقی رہ جاتی ھے جس کا ثبوت بچے ھوتے ھیں،،محبت جس گھر میں ھوتی ھے وہ دنیا میں جنت ھوتا ھے، بات بات پر طلاق مانگنا اور بات بے بات طلاق دینا،، پھر فتوے لے کر رکھنا،،یہ کوئی محبت نہیں،،یہ بندہ سوچتا ھے کہ بچوں کا کیا بنے گا،،عورت بھی سوچتی ھے شریک میرے والدین کو طعنے دیں گے،،اپنا اپنا مفاد دیکھ کر گھر بسائے جا
رھے ھوتے ھیں ورنہ عورت ایسے شوھر کے ساتھ جنت میں بھی رھنے پر  راضی نہیں ھوتی،28 سال پرانی بات ھے ھمارے پڑوس میں حیدر آباد انڈیا کی ایک عورت رھتی تھی ،اس کی اپنے شوھر سے بنتی نہیں تھی، ایک تو اس وجہ سے کہ وہ بہت خوبصورت تھی شوھر اس کے مقابلے کا نہیں تھا، دوسرا وہ امیر گھرانے کی تھی،اس کا والد کویت کا شہری تھا،جبکہ سالم صاحب غریب آدمی تھے،تیسرا وہ عمر میں سالم صاحب سے بہت چھوٹی تھی اور فساد کی چوتھی وجہ یہ تھی کہ سالم صاحب کا زیادہ تر وقت گھر سے باھر سہ روزے اور چلے پر لگتا تھا،،چھوٹے چھوٹے بچوں کی لائن لگی تھی اور زینب کو سودا سلف بھی کسی سے منگوانا پڑتا تھا،، گھر میں فساد کی کیفیت تھی، رمضان کا مہینہ تھا اور عصر کے بعد کا وقت میں اندر لیٹا تھا اور زینب میری گھر والی کے پاس صحن میں بیٹھی تھی،باپردہ لڑکی تھی،اس نے اتفاقًا پوچھ لیا کہ مردوں کو تو جنت میں حوریں ملیں گی،عورت کو کیا ملے گا،میں نے اندر سے پکار کر کہا کہ عورت کو اس کا شوھر ملے گا،، اس لڑکی کی بے ساختہ چیخ نکل گئی،،بولی اللہ رے میں ساری نمازیں روزے اس موئے چھوٹی سری والے سالم کے لئے پڑھی؟ میں اب کوئی نماز نہیں پڑھوں گی،یہ سالم میرا پیچھا مر کے بھی نہیں چھوڑے گا،،خطرہ بھانپ کر میں نے اسے فوراً تسلی دی کہ وھاں سالم کا سر بڑا کر دیا جائے گا اور عادتیں ٹھیک کر دی جائیں گی ،اگر پھر بھی اسے پسند نہ ھوا تو اللہ پاک اسے انتخاب کا موقع دیں گے کہ وہ اپنی مرضی کا شوھر منتخب کر لے،،اس سے آپ اندازہ کر سکتے ھیں کہ ڈھیر سارے بچے ھونے کے باوجود وہ عورت جنت میں بھی سالم کے ساتھ رھنے کو تیار نہیں تھی،، نماز چھوڑ کر جہنم میں جانے کو تیار تھی،گویا اسے سالم سمیت گھر جہنم سے بھی بدتر لگتا تھا !! عورت سے محبت ھم شادی سے پہلے کرتے ھیں،، جب وہ ھماری محبوبہ ھوتی ھے،جب اس کی ناراضی ھماری نیند اڑا دیتی ھے،جب گھر سے نیا جوڑا اور بال بنا کر انسان نکلتا ھے اور دس چکروں کے بعد آمنا سامنا ھوتا ھے تو صرف ایک نظر پڑ جانے پر انسان سمجھتا ھے اسکی محنت کام آ گئی ھے،جن کے لئے پہنے تھے انہوں نے دیکھ لیا،، اللہ پاک فرماتا ھے،،ھر نماز میں کنگھی پٹی کر کے آیا کرو،،بن سنور کے آیا کرو،، خذوا زینتکم عند کل مسجد،، ھر نماز مین زینت اختیار کر کے آیا کرو،، اس کی وعدہ خلافی مزید آتشِ شوق بھڑکاتی ھے،،اس کا غصہ ادا لگتا ھے،،مگر شادی کے ساتھ ھی ھم افسر بن جاتے ھیں اور وہ ھماری
ملازمہ ھو جاتی ھے، اور پھر افسری کی نفسیات شروع ھو جاتی ھیں،، اب اس کا ناراض ھونا اس کا حق نہیں بلکہ ھماری انسلٹ ھوتی ھے،، اب ھم محبت نہیں تابعداری چاھتے ھیں،، پھر اس تابعداری کو ھم ڈنڈے سے پیدا کرتے ھیں،، اور گھر میں ایک چلتی پھرتی لاش ھماری بیوی اور ھمارے بچوں کی ماں کہلاتی ھے !!

پیــار دی کـــہانی لــوکــو کــتھے آ کے رُک گئی ! ھاسیاں تو شروع ھوئی ،ھنجواں تے مُک گئی !

گونگی بدمعاشی !

August 25, 2013 at 10:10pm
  • اللہ پاک نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا ھے کہ،، دنیا میں صبر کی جزاء جنت ھے” ادخلوا الجنۃ بما صبرتم” اور دوسری جگہ فرشتے شاباش دیتے ھوئے کہتے ھیں ” سلٰمٓ علیکم بما صبرتم،، صبر کی بدولت آج تمیں سلامتی نصیب ھوئی ھے،، دوسری جانب فرمایا، آخرت میں صبر کرنے کا کوئی فائدہ نہیں،، فان یصبروا فالنارُ مثوی لھم،، اگر وہ صبر کریں گے بھی تو آگ ھی ٹھکانہ ھے ان کا،، اور کافر ایک دوسرے کو یہ ھی کہیں گے،، سواءٓ علینا أجزعنا ام صبرنا ،ما لنا من محیص،، ھم صبر کریں یا جزع فزع کریں برابر ھے،، جان چھوٹنے کی کوئی سبیل نہیں ! عورت اگر صبر کرے تو یہ گھر بسانے کا ایک سنہری اصول ھے، وقتی زیادتیاں برداشت کرے ،انہیں اینٹ کی طرح اپنے صبر کی بھٹی میں پکائے ،اینٹ بنائے اور ان اینٹوں سے اپنا مستقبل تعمیر کرے،، ایک وقت آئے گا کہ شوھر ان زیادتیوں کو اسی طرح تسلیم کرے گا ،جس طرح یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے بھرے دربار میں ان کی عظمت کا اعلان کیا تھا،، یوسف علیہ السلام کے اس قول کے جواب مین کہ "انہ من یتق و یصبر ،فان اللہ لا یضیع اجر المحسنین،،” جو بھی پرھیزگاری کی روش اختیار کرتا ھے اور صبر سے کام لیتا ھے تو اللہ پاک احسان والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا،، بھائیوں نے اخر قسم کھا کر اعتراف کر لیا کہ نہ صرف باپ کا یوسف کو پیار میں ترجیح دینا درست تھا، بلکہ یہ کہ اصلاً یہ ترجیح اللہ کی طرف سے دی کئی تھی،،تاللہ لقد آثرک اللہ علینا،و ان کنا لخطئین” اللہ کی قسم اللہ نے آپ کو ھمارے اوپر فوقیت عطا فرمائی ھے اور یقیناً ھم ھی خطا کار تھے،، مرد چونکہ اپنی اجارہ داری اور چودھراھٹ چاھتا ھے، لہذا عورت کی خاموشی اس کی اس حس کی پیاس بجھاتی ھے، جس سے وہ سکون محسوس کرتا اور گھر کاماحول بھی پرسکون ھو جاتا ھے ، لیکن مرد کی خاموشی اور صبر عورت کو مطمئن نہیں کرتا بلکہ اس کو مشتعل کرتا ھے،کیونکہ وہ شور شرابا اپنی چودھراہٹ کے لئے نہیں کرتی بلکہ مرد کو اذیت دینے کے لئے کرتی ھے، اور جب مرد اس کے شور شرابے پر کسی تکلیف کا اظہار نہیں کرتا تو وہ اسے اپنی انسلٹ سمجھتی ھے اور مزید مشتعل ھو جاتی ھے، میرے عزیز علی طارق کی وال پر ایک حقیقت درج تھی جسے انہوں نے لطیفے کا رنگ دیا ھوا تھا، مگر میں حیران ھوں کہ ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن پہلے ان کی شادی ھوئی ھے، مگر حسب عادت انہوں نے گھریلو زندگی پر بھی پی ایچ ڈی کرلی ھے،یوں ان کے ایم -اے اور پی ایچ ڈیز میں ایک اور اضافہ دیکھنے کو ملا،،لکھتے ھیں کہ عورت اپنے شوھر کو غصے سے کہنے لگی جو مسلسل پچھلے 15 منٹ سے سر نیچے کیئے اور ھونٹ سیئے بیوی کی لعن طعن سن رھا تھا اور کوئی رد عمل نہیں دے رھا تھا، کہنے لگی میں تو یہ چخ چخ ختم کرنا چاھتی ھوں مگر تیری اس گونگی بدمعاشی نے گھر کو جہنم بنا کے رکھ دیا ھے !! یوں مرد کا صبر غیر تعمیری     ھوتا ھے،، مرد کو چاھئے کہ وہ تکلیف کا اظہار کرے تا کہ عورت کے جذبہ انتقام کی تسکین ھو،، پہلے سے کریک اور ھیئر لائن فریکچر والی پلیٹیں اور گلاس کہیں اکٹھے کر کے رکھے،بہتر جگہ تو کار کی ڈگی ھے، اور ضرورت کے وقت انہیں توڑ تاڑ کر اپنے غصے کا اظہار کرتے ھوئے گھر سے نکل بھاگے،، کیفیٹیریا سے چائے پی کر واپس آنے تک ماحول پرسکون ھو گا،، گھر سے کشیدگی کے بادل چھٹ چکے ھوں گے، اب یتیموں کی طرح مسکین شکل بنا کر بیٹھ جائے،، اچانک عورت کے اندر کی مامتا جاگ اٹھے گی اور امید ھے امن کی آشا رنگ لائے گی ! ھر بچے کی تمنا ھوتی ھے کہ اس کا والد اس کی ماں کو اپنی ماں سمجھے،اور اس کو اسی ادب و احترام کی نگاہ سے دیکھے اور اس کی اطاعت کرے جس طرح وہ اپنی امی کی اطاعت کرتا ھے،، ھر بچے کو اپنی ماں مظلوم اور باپ ظالم لگتا ھے،، تا آنکہ اس کی اپنی شادی ھو جاتی ھے،، چند دن کے بعد اسے اپنے والد کے دکھ درد کا احساس ھونا شروع ھوتا ھے،اب اسے اپنے والد کے ماضی کا ایک ایک منظر اور بے بسی یاد آتی ھے  ، پہلے والدہ کی باتوں پر اسے والد کے ردعمل پر تعجب ھوتا تھا کہ اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں پر ابا جی ٹینشن لے لیتے ھیں، مگر اب جب اپنی بیوی کی چلتی زبان پر اسے ھفتہ ھفتہ قبض رھتی ھے تو احساس ھوتا ھے کہ بات چھوٹی ھوتی ھے مگر گھاؤ گہرا لگاتی ھے،، عموماً شادی کے بعد باپ بیٹے کا اتحاد مضبوط بنیادوں پر قائم ھو جاتا ھے اور کسی بھی گھریلو کرائسس میں باپ بہٹے کی پشت پر کھڑا ھوتا ھے،، بیوی روٹھے بھی تو بیٹا باپ کے مشورے پر دوبارہ واپس لاتا ھے جبکہ والدہ عموماً طلاق کی طرف مائل ھوتی ھے،، ظاھر سفید چادر سر پر رکھ کر گھر گھر وی آئی پی بن کر لڑکیاں دیکھنا اور سموسے کھانا کس کو اچھا نہیں لگتا؟ دل ڈھونڈتا ھے پھر وھی فرصت کے رات  دن،پھرتے رھیں گھر گھر آپا بنے ھوئے !

کیا غربت کوئی عیب ھے ؟

July 25, 2013 at 6:43am

غربت نہ تو کوئی عیب ھے، نہ کوئی غیر فطری چیزھے ، رات اور دن ،، گرمی اور سردی کی طرح امیری اور غریبی بھی اللہ پاک کی حکمت کے جوڑے ھیں،، اور یہ سب انسان کے فائدے کے لئے ھی ھیں،، یہ الگ بات ھے کہ انسان کسی حال میں بھی خوش نہیں رھتا،، آج کل رمضان کا موسم ھے اور غربت پر بہت دردناک پوسٹیں چل رھی ھیں،، ملحدین کے پیج پر جاؤ تو ما شاء اللہ ان لوگوں نے تو باقاعدہ اللہ پر مقدمہ چلایا ھوا ھے کہ وہ اگر کچھ کر سکتا ھے تو اپنی شکتیوں کو بروئے کار لاتے ھوئے غربت ختم کر کے دکھائے،،ورنہ بھوک سے خود کشیاں کرنے والوں کا خون تو کم از کم اپنے سر لے،،مسلمانوں سے سوال ھو رھا ھے کہ ایسا بے درد خدا جو لوگوں کو بھوک سے مارے جا رھا ھے،، بھلا رحیم اور کریم خدا کیسے ھو سکتا ھے،، وغیرہ وغیرہ،، میں یہ سب کچھ دیکھتا رھتا ھوں مگر سوچتا تھا رمضان کے بعد اس موضوع پر کچھ لکھوں گا ،مگر اپنے جناب حنیف سامنا صاحب کی پوسٹ پر کسان پارٹی کے راہنما کے کمنٹس کے بعد سوچا چار حرف گھسیٹ ھی لئے جائیں،، پھر پتہ نہیں حنیف ڈار یا حنیف سامنا میں سے کون ھو گا اور کون نہیں،،،، تو جناب اللہ پاک نے غربت کو اپنے سر لیا ھے،اس کو اون کیا ھے کہ یہ سب میرا ھی کمال ھے،، اگر میں سارے لوگوں کو امیر بنا دوں تو زمین میں کوئی کسی کے کام نہ آئے اور معاشرے کے سارے کام ٹھپ ھو جائیں،، یہ غربت ھے جسکی وجہ سے تمہیں کپڑے سینے کو درزی، جوتے کے لئے موچی،مکان بنانے کو مستری مزدور، تندور پر روٹی پکانے والے دستیاب ھیں،، مجبوری نے ان کو تمہارے قابو میں دیا ھوا ھے،، سورہ شوری کی آیت نمبر 27 میں اللہ پاک نے فرمایا ھے،،اگر اللہ اپنے سارے بندوں کا رزق کھول دے تو وہ زمین میں سرکش بن جائیں،، بغاوت کر دیں،، مگر اللہ ایک خاص اندازے کے ساتھ رزق تقسیم کرتا ھے،،وہ اپنے بندوں کی فطرت سے بخوبی واقف ھے ! پھر اگلی ھی سورت الزخرف کی ایت 32 میں ارشاد فرمایا ھے،،ھم نے دنیا کی زندگی میں معیشت تقسیم کی ھے اور کچھ لوگوں کو کچھ پر معاشی لحاظ سے فوقیت دی ھے تا کہ تم ایک دوسرے کو قابو میں رکھ کے اپنے کام چلاؤ،،، یعنی اگر سب لوگ ایک ھی جیسے مالی درجے کے ھوں گے تو کون کسی کی خاطر کسی کے تابع ھو کر کام کرے گا؟ اور دنیا مین ” میں بھی رانی تو بھی رانی کون بھرے گا پانی؟ ” والا معاملہ ھو جائے گا،، عملی طور پر دیکھ لیں ھمارے معاشرے مین جب کبھی کوئی ناراضگی ھو تھی تو فصلوں کی کٹائی،گاھی اور ساون میں مکان لیپنے کے موسم میں جھٹ پٹ صلح صفائیاں ھو جاتیں تھیں کیونکہ یہ کام کرنے کو چار ھاتھ سب کو مطلوب ھوتے تھے اور دونوں فریق صلح کے لئے اپنے اپنے مطلب کی خاطر تیار بیٹھے ھوتے تھے،، آج مکان پکے بن جانے اور کٹائی ، گاھی کے لئے تھریشر اور ریپر مشینوں کے آ جانے کے بعد لوگ ناراض کے ناراض مر جاتے ھیں،،زور لگا لو راضی نہیں ھوتے کیونکہ مجبوریاں ختم ھو گئی ھیں،، تصویر کا دوسرا رخ سورہ الفجر میں اللہ پاک نے دکھایا ھے کہ” جب ھم کسی بندے کا امتحان لیتے ھیں تو اس کو بے تحاشہ رزق دیتے ھیں اور وہ کہتا ھے کہ رب نے مجھے بڑی عزت دی ھے،، اور جب دوسری طرح امتحان مطلوب ھوتا ھے تو ھم اس کا رزق بہت ناپ تول کر دینا شروع کر دیتے ھیں تو وہ کہتا ھے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کر دیا،،،،پھر ان دونوں باتوں کا رد فرما دیا کہ ھر گز نہیں،،امارت عزت نہیں اک امتحان ھے کہ تم یتیموں کا خیال رکھتے ھو یا نہیں،،اور غریبی کوئی ذلت نہیں امتحان ھے،،کہ تم خواھشوں کی بھرمار میں اللہ کی حدوں کا خیال رکھتے ھو یا نہیں،، عزت اور ذلت کے فیصلے قیامت کے دن ھوں گے،، آج میڈیا نے دولت کو ایک ذات بنا دیا ھے،،جو بہت بلند ذات ھے،،اور غربت کو بھی ایک کاسٹ یا ذات بنا دیا ھے کہ غریب کم ذات ھے،، یہ تصور غلط ھے ،اسلام اس کی بیخ کنی کرتا ھے،، غریب ھمیشہ سے تھے ،مگر غربت کا ذلت سمجھنے کا مغالطہ میڈیا نے بڑھایا ھے،جسکی وجہ سے ھر کوئی ڈیپریس ھو کر خود کشی کی طرف لپکتا ھے ! نبی کریمﷺ کے زمانے میں ایک شخص مسجد کے سامنے سے گزرا تو آپ نے اصحابؓ سے پوچھا،اس شخص کے بارے میں تمہارا کیا خیال ھے،، صحابہؓ نے اپنی معاشرتی سوچ کا اظہار کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺ پیسے والا بندہ ھے،، کسی کی ضمانت دے تو قبول کی جائے،، کسی کا دروازہ کھٹکھٹائے تو فوراً کھولا جائے اور رشتہ مانگے تو انکار نہ کیا جائے !! اللہ کا نبیﷺ خاموش ھو گیا،،کچھ دیر بعد ایک اور صاحب گزرے،،حضور نبی کریمﷺ نے پوچھا اس آدمی کے بارے میں تمہارا کیا خیال ھے؟ اس سارے صحابہ بیک زبان بولے کہ اے اللہ کے رسولﷺ یہ بس ایویں ھی ھے،، ضمانت دے تو قبول نہ کی جائے،،دروازہ بجائے تو کھولا نہ جائے اور رشتہ بھیجے تو رد کر دیا جائے،، بس یہ سننا تھا کہ اللہ کے رازدارﷺ نے فرمایا،،اب میری سنو،، وہ جو پہلا بندہ گزرا تھا اور تم نے اس کی تعریف میں یہ ،یہ بولا تھا،، اگر یہ ساری زمین ویسے آدمیوں سے بھر جائے تب بھی اللہ کی قسم اللہ کو یہ بعد والا ان سب سے پیارا ھے،،اگر یہ قسم کھا لے تو اللہ جھٹ اس کی قسم پوری کر دے !! پھر نبی کریمﷺ نے خود دعا مانگی ھے۔۔، اے اللہ مجھے غریبوں میں زندہ رکھ، غریبوں میں موت دے اور حشر میں غریبوں کے ساتھ اٹھا،، آپ ﷺ نے فرمایا عائشہ مجھے اللہ نے فرمایا ھے کہ محمد ﷺ احد کو سونے کا بنا دوں،،تو خرچ کرے تو کم بھی نہ ھو،،مگر میں نے ائے عائشہؓ یہ دعا کی ھے کہ ائے مجھے ایک دن دے تا کہ میں تیرا شکر ادا کروں اور ایک دن بھوکا رکھ کہ میں تجھ سے سوال کروں،، آپ ھر سال اپنی امت کے غریبوں کی طرف سے کالے رنگ کا مینڈھا قربانی دیا کرتے تھے اور فرماتے” اے اللہ یہ میری امت کے ان لوگوں کی طرف سے ھے جو قیامت تک آئیں گے اور قربانی کی استطاعت نہ رکھیں گے،، گویا امیر کی قربانی تو خدا جانے قبول ھوتی ھو گی یا ریاکاری کی دفعہ لگے گی،،مگر غریب کی ایڈوانس میں منظور شدہ پوسٹیڈ چیک کی طرح قبول شدہ ھے،، غریب کے لئے اللہ قرض مانگتا ھے ،، اور غریب کی مدد کو اپنے اوپر قرض قرار دیتا ھے،، نبی کریمﷺ نے فرمایا ھے،،میں نے جنت میں جھانکا تو اسے پریشان حال غریبوں سے بھرے پایا، اور جہنم میں جھانکا تو اسے متکبر اور پیٹ بھرے لوگون سے بھرے پایا،، مسئلہ امارت اور غربت نہیں،، مسئلہ سوچ کا ھے،،ھماری سوچ گھٹیا ھو گئی ھے،،سگا بھائی غریب ھو گا تو ھمارا رویہ اس کے ساتھ بےرخی کا ھو گا،، رشتہ لینے دینے میں ھم سگے رشتوں کو دولت میں تولتے ھیں،، جس کی وجہ سے لوگ غربت کو عیب سمجھتے ھیں ،، ورنہ جسطرح ایک ماں باپ کے بچے شکلوں مین خوبصورت اور بدصورت ھو کر بھی بہن بھائی ھی ھوتے ھیں،،اسی طرح امیر اور غریب ھو کر بھی رویوں اور میل جول میںفرق نہیں کرنا چاھئے،، جن معاشروں سے غربت ختم کر دی گئی،،کیا وہ معاشرے جنت بن گئے ھیں؟ متحدہ عرب امارات میں دیکھ لیں،،کوئی لوکل غریب نہیں ھے،،سر کے اوپر سے بھی دولت برس رھی ھے اور پاؤں کے نیچے سے بھی،، پھر ان کو غریب امپورٹ کرنے پڑے،کیوںکہ غریب معاشرے کی جینویئن ضرورت ھے،،اس کے بغیر کوئی ملک یا معاشرہ نہیں چل سکتا،، اب کوئی فلپین سے امپورٹ کیا گیا،،کوئی بنگلہ دیش سے،، کوئی سری لنکا اور کوئی پاکستان سے،،، آج امارات مین دولت ھے مگر کوئی کلچر نہیں ھے،، بچوں کو سریلنکی زبان زیادہ آتی ھے اور عربی کم۔۔،، ان کے کلچر کا بیڑہ غرق ھو گیا ھے،، اگر ان کے اپنے غریب ھوتے تو یہ کچھ نہ ھوتا،، باقی قباحتیں اپنی جگہ پر ھیں،،

مگر لوگوں کے روئیے کا شکوہ تو ساغر صدیقی بھی کر گیا ھے کہ

میری غربت نے اڑایا ھے میرے فن کا مذاق!

اور تیری دولت نے تیرے عیب چھپا رکھے ھیں

 

یہ سوشلسٹ لوگ نبیﷺ کی تبلیغ اور اسلامی انقلاب کو بھوکوں کی بغاوت ثابت کرنا چاھتے ھیں،، حالانکہ نبیﷺ رائل فیملی سے تعلق رکھتے تھے ،، اعلانِ نبوت سے پہلے آسودہ حال تھے،،تبلیغ کے دوران سب کچھ لگا دیا،، حاکم بن کے بھی مالی طور پر کوئی فائدہ نہیں اٹھایا،،2، 2 ماہ گھر چولہا نہیں جلتا تھا،،اور کئی دن فاقہ ھوتا تھا،، بھوک سے روزہ رکھ لیتے تھے،،اور ھدیہ آنے پر بعض دفعہ خود بھی روزہ افطار کر دیا اور ازواج کو بھی افطار کرا دیا،، اپنی آل پر زکوۃ تک حرام کر دی،، ابو ھریرہؓ جو صلح حدیبیہ کے بعد ایمان لائے،جبکہ مسلمانوں کے حالات اچھے ھو چکے تھے،، پھر بھی بھوک سے بے ھوش ھو جاتے تھے، عثمانؓ اور عبدالرحمان بن عوفؓ جیسے 600 اونٹ اور 600 غلام بیک وقت دینے والے بھی اسی معاشرے میں تھے،،30 ہزار غلام عبدالرحمان بن عوف نے آزاد کیا ھے،، یہ دونوں طبقات ھمیشہ موجود رھے،، پسینہ خشک ھونے سے پہلے مزدور کی مزدوری ادا کرو،، آج اس نبوی حکم پر یورپ عمل کر رھا ھے،، گھنٹوں کے حساب سے مزدوری دیتا ھے،،اور ترقی کر رھا ھے، دوسری طرف مسلم ممالک میں غریب کا حق شیرِ مادر سمجھ کر ھضم کر لیا جاتا ھے،،پھر سوشلسٹوں نے روس اور مشرقی یورپ میں مزدور انقلاب برپا کر کے دیکھ جو لیا ھے کہ کیا ھوا ھے؟دنیا کے زرخیز ترین علاقے اس کے پاس تھے اور جفا کش ترین لوگوں پر مشتمل یہ اتنا بڑا علاقہ تھا کہ 9 اسٹینڈرڈ تائمز تھے اس سوویت یونین کے اندر،، پھر انجام کیا ھوا؟ اور آج چائنا میں مزدور پر ظلم و ستم کا کیا حال ھے ؟آج بھیلاکوں لوگ چائنا کہ کنسنٹریشن کیمپوں میں پڑے ھیں،جن کو اصلاحی کیمپ کہا جاتا ھے،جہاں کے لوگوں  کو  فیکٹریوں میں فری کام کرایا جاتا ھے،،یہ ناکام سوشلسٹ کہہ رھے ھین،، اسلام سرمایہ دارانہ نظام کو سپورٹ کرتا ھے،، اسلام صرف اسلامی نظام کو سپورٹ کرتا ھے جس میں امیر کو مال لگانے کو کہا گیا ھے،، زکوۃ کی ایماندارانہ ادائیگی پر زور ھے مزدور کے حقوق کا پاس ھے،، اور اسے حکم دیا گیا ھے کہ اللہ سے ڈر کر حلال روزی کی فکر کرو ،،تمہارا رب تمہارا نگران کافی ھے،،کسی فورمین یا سپر وائزر کی کوئی ضرورت نہیں،، اسلام نہ تو سرمایہ دار کا دشمن ھے نہ مزدور کا دشمن ھے،، وہ دونوں کے مفادات کا نگہبان ھے ،،سرمایہ دار نہیں ھو گا تو مزدور کے گھر کا چولہا بھی بجھا رھے گا،، سوشلسٹ سوچ جدلی سوچ ھے،،یہ مالک کو مزدور سے ،شوھر کو بیوی سے ،غریب کو امیر سے لڑاتی ھے ،، ھم پاکستان میں یہ تجربہ کر کے دیکھ چکے ھیں،، بھٹو دور میں ،،جبکہ اسلام تعاون کی فضا دیتا ھے،،اور دونوں سوچوں میں مشرق اور مغرب کا فرق ھے !

 

،

ھذا ما عندی والعلمُ عنداللہ