If you were suddenly independently wealthy, how would you spend your time? What positive change would you bring to the world?
to be late for sometime is better than being late for ever
If you were suddenly independently wealthy, how would you spend your time? What positive change would you bring to the world?
to be late for sometime is better than being late for ever
معوذتین اور جادو ! پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا ! August 26, 2013 at 6:29am سورہ الفلق اور سورہ الناس جن کو جوڑ کر معوذتین کہا جاتا ھے،،یعنی وہ دو سورتیں جن میں مختلف خطرات سے اللہ کی پناہ حاصل کی جاتی ھے، یہ سورتیں ابتدائی مکی دور میں جب کہ نبی … Read more
مکــتــــبِ عشـــــــــــــــق کا دستــــــــــور نـرالا دیکھا ! اُس کو چھــــــــــــٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا ! ھم جو اپنے ناتوں کندھوں پر پورے خاندان اور ان کے جانوروں کے مذھبی اور جنسی بوجھ اٹھائے ھوئے تھے ،، اپنی ان ھی گوناگوں ذمہ داریوں کی وجہ سے سیر سپاٹے سے محروم رھے،جب … Read more
(PDF Book Format) علم کی تقسیم کی تباہ کاریاں – خطاب از قاری حنیف ڈار
(PDF Book Format thanks Shamroz Khan)علم کی تقسیم کی تباہ کاریاں- خطاب از قاری حنیف ڈار
اللہ پاک نے جب انسان کو پیدا فرمانے کا اعلان فرمایا تو فرشتوں نے عرض کیا کہ مالک کیا ھم سے عبادت میں کوئی کوتاھی ھو گئ جو نئی تخلیق کی ضرورت پڑی ،ھم صبح شام آپکی تسبیح و تحمید کر تو رھے ھیں، ارشاد باری تعالی ھوا کہ میں وہ جانتا ھوں جو تم … Read more
مولوی یا غریب کی جورو November 29, 2013 at 10:14pm کچھ لوگ مسلمان ھوتے ھیں مگر مسلمان ھو کر مولوی پر احسان کرتے ھیں،، وہ چاھتے ھیں کہ مولوی ان کو مسلمان رکھنے کے لئے،ھمیشہ دوڑ دھوپ کرتا رھے،اور ان کی مسلمانی کی قوتِ باہ کو بڑھانے کے لئے سانڈھے کا تیل اور سلاجیت بھی … Read more
لیڈیز اینڈ جینٹلمین ! سلامتی ھو آپ سب پر اور مجھ پر بھی ! پچھلے دو چار دن سے کچھ ایسی کیفیت سے گزرا ھوں کہ سمجھانے میں کافی وقت لگ جائے گا،، ھمارے دیہات کی خواتین کوئی سال چھ ماہ بعد ھفتہ صفائی مناتی ھیں،، چارپائیاں بھی تالاب پر پہنچ جاتی ھیں، اور ان … Read more
أخبرنا سفیان عن عبد الملك بن عمیر عن عبد الرحمٰن بن عبد الله بن مسعود عن أبیه أن النبي ﷺقال: «نضراللهعبدًاسمعمقالتی فحفظها ووعاها و أداها فرُبّ حامل فقه غیر فقیه و ربّ حامل فقه إلىٰ من هو أفقه منه » ”اگر کوئی شخص خبر واحد کی حجیت پر نص یا اجماع سے دلیل طلب کرے تو میں اسے دلیل دیتے ہوئے کہوں گا کہ نبی ﷺنےفرمایاہے: ”اللہتعالیٰاسشخصکوخوشوخرّمرکھےجومیریکلام سن کر اسے حفظ کرتا ہے اور پھر یاد کی ہوئی میری حدیث کو لوگوں تک پہنچاتا ہے اور بہت سے حامل فقہ خود غیر فقیہ ہوتے ہیں اور بہت سے حامل فقہ ایسے لوگوں تک علم پہنچا دیتے ہیں جو اُن سے زیادہ فقیہ ہوتے ہیں
الحمد للہ وحدہ، والصلوۃُ والسلامُ علی من لا نبیَۜ بعدہ،امۜا بعد ! اللہ پاک نے سورہ توبہ میں جو کہ سب سے آخر میں نازل ھونے والی سورت ھے،اس سورت کے بھی آخر میں آیت نمبر 122 میں حکم دیا ھے کہ ” یہ تو ممکن نہیں کہ مومن سارے اس کام کو نکل پڑیں ( اگرچہ یہ سب کی ضرورت ھے ) مگر ھر قبیلے میں سے کچھ لوگ ضرور نکلیں جو کہ دین میں تفقہہ حاصل کر کے پلٹیں اور اپنی قوم کو انذار کریں تا کہ وہ خبردار ھوں !!،، یوں گویا پوری بستی کی یہ ذمہ داری ٹھہری کہ یا تو وہ سارے نکلیں اور دین کی فقہ حاصل کریں،، یا پھر وہ محاسبے سے تب ھی بچ سکتے ھیں کہ کچھ لوگوں کی معاشی ذمہ داری اٹھائیں جو ان کے behalf پر دین میں فقہ سیکھ کر آئیں اور یوں بستی والوں کی دینی ضرورت کو پورا کریں ! اتنی شد و مد کے ساتھ اور خدائی مشورے اور بندوبست کے ساتھ جس علم کو سیکھنے کی دعوت دی جا رھی ھے وہ فقہ ھے ” پوری آیت کچھ یوں ھے’ وما کان المؤمنون لینفروا کآفۃ ، فلو لا نفر من کل فرقۃ طآئفۃ ” لیتفقہوا ” فی الدین،ولینذروا قومھم اذا رجعوا الیھم لعلھم یحذرون ( توبہ 122 ) آج کل کے زمانے میں عام طور پر سمجھا جاتا ھے کہ پہلے قرآن، پھر حدیث، پھر فقہ،، یعنی اگر قرآن و حدیث نے جواب دے دیا ھے تو بامرِ مجبوری اب فقہ سے کام چلایا جائے گا،، فقہ کو لوگ مطعون کرتے ھیں اور فقیہہ کو مجرم گردانتے ھیں کہ اس نے قرآن اور حدیث کے خلاف مورچہ لگایا ھوا ھے،، اور آپشن پیش کرتے ھیں کہ، تم قرآن وسنت پر چلو گے یا فقہ پر چلو گے؟ تم قرآن کی مانتے ھو یا فقہ کی مانتے ھو،، یہ اور اس قسم کی دیگر باتیں ،کم فہمی اور کم علمی نیز کج فہمی اور ضد و عناد کے سبب سے ھیں،، ورنہ قرآن اور سنت مل کر دین بناتے ھیں اور یہ دونوں ڈیم فقہ کی نہر سے ھی امت مسلمہ کو مستفید کرتے ھیں،، فقہ وہ چادر ھے جس میں قرآن و سنت لپیٹے گئے ھیں،، اس لئے فقہ کو دین کے ساتھ بیان کیا جاتا ،،صرف قرآن کے ساتھ نہیں اور نہ صرف حدیث کے ساتھ،، یعنی تفقہ فی القرآن کا لفظ اللہ پاک نے استعمال نہیں فرمایا،، اور نہ تفقہ فی الحدیث کا لفظ استعمال فرمایا ھے بلکہ ” تفقہ فی الدین ” کا لفظ استعمال فرمایا ھے،، قرآن اور حدیث کے حکم کا مناط معلوم کرنا کہ قرآن کیا چاھتا ھے؟ پھر قرآن ھی سے اس کی تفصیل متعین کرنی، پھر حدیث سے تفصیلات متعین کرنا ،پھر اس حکم کا طے کرنا کہ یہ اپنے الفاظ سے کس مقام پر رکھا جا سکتا ھے،، یہ فرض ھے،واجب ھے، اللہ پاک کی طرف سے صرف نصیحت ھے، اس کو آئیں و قانون کی زبان میں کہتے ھیں جو ھر ملک کی عدلیہ کے ڈے ٹو ڈے کام کو چلاتا ھے،، لاء آف انٹرپریٹیشن کے بغیر کوئی عدالت ایک گھنٹہ بھی کام نہیں کر سکتی،، ! حکم شرعی عوام کے نزدیک تو کوئی آیت یا حدیث اور اس کے الفاظ ھوتے ھیں ،جن کو پڑھ کر ماشاء اللہ ایک دوسرے پر فتوے لگائے جاتے ھیں،مگر شریعت ( عربی میں کسی بھی لاء کالج میں داخلہ” دخول فی کلیۃ الشریعۃ ” گردانا جاتا ھے،، گویا مجرد قانون شریعہ ھے،، شریعت میں الفاظ نہیں بلکہ اس آیت یا اس حدیث سے اخذ ھونے والا حکم ،، حکم شرعی ھوتا ھے،،اب ایک آیت کے الفاظ سے ایک جج کے نزدیک ایک حکم نکل رھا ھے ،جبکہ دوسرے جج کے نزدیک وہ الفاظ کوئی اور حکم بیان کر رھے ھیں،، اس اختلاف کو فقہی اختلاف کہا جاتا ھے کہ الفاظ میں اختلاف نہیں، آیت میں اختلاف نہیں،، مگر اس پر اختلاف ھے کہ یہ حکم فرض ھے یا آپشنل ھے،، اللہ کے رسول ﷺ نے حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنھما کو دعا دی تو فرمایا،،” اللھم فقہہ فی الدین، و علمہ التأویل،، آپ اندازہ لگائیں کہ اللہ جس فقہ فی الدین کو حاصل کرنا فرض قرار دیتا ھے،،اور نبیﷺ جس فقہ فی الدین کی دعا دیتا ھے،، وہ فقہ آج کل کے چند پرجوش نادانوں کے نزدیک شرک اور عیب بن گئی ھے ،، اللہ نے بھی فقہ کو دین سے جوڑا ھے،پورے دین کے ساتھ،، اور نبی ﷺ نے بھی فقہ کو پورے دین کے ساتھ بیان کیا ھے۔۔،، آخر کیا بات ھے کہ اللہ اور اس کا رسولﷺ بیک زبان پورے دین کو فقہ کا محتاج بیان کرتے ھیں،، ؟ کیا ان سے معاذ اللہ غلطی ھو گئی ھے یہ سمجھنے میں کہ فقہ تو قرآن و سنت کی دشمن ھے ؟ یا یہ لوگ جو صبح کتابیں بغل میں لے کر نکلتے ھیں فقہ دشمنی کی تبلیغ کرنے ان سے بات کو سمجھنے میں غلطی ھوئی ھے؟؟ اللہ پاک نے سورہ الانعام کی ایت نمبر 98 میں فرمایا،،تحقیق ھم نے بیان کر دی ھیں آیات علم والوں کے لئے ! اگلی ھی آیت نمبر 99 میں فرمایا ” تحقیق ھم نے بیان کر دی ھیں آیات فقہ یا تفقہ والوں کے لئے ‘ گویا دستیاب علم کو اس کی اھمیت کے لحاظ سے اس کے میں رکھنے کا نام فقہ،، اس کو سادہ مثال سے سمجھنا ھے تو تین مثالوں سے سمجھ لیجئے ! ایک میسن کے پاس چند اینیٹیں ھوتی ھیں، سیمنٹ ھوتا ھے،ریت ھوتی ھے اور چند اوزار ھوتے ھیں،، جن سے وہ دیوار بناتا ھے،، اور آپ اس کے نخرے برداشت کر کے،اور چاپلوسی کر کے،مستری جی ،مستری جی، کر کے اور ساتھ دھاڑی دے کر دیوار بنواتے ھیِ، آپ وہ سارا سامان ،اینٹ،سیمنٹ،ریت ،تیسی ،کرنڈی اور فیتہ لے لیجئے اور خود سے دیوار بنا لیجئے آخر مستری کے پاس بھی تو دو ھاتھ ھی ھیں ناں،،وہ دو ھاتھ آپ بھی رکھتے ھیں،، اب کیجئے ان ھاتھوں کو استعمال اور کیجئے اس عقل کو استعمال جو سارا دن امام ابو حنیفہ کے پیچھے پڑی رھتی ھے اور بنایئے دیوار،، آپکی عقل مستری سے زیادہ تجربہ کار ھے،کیونکہ اس غریب نے تو ابھی لاھور بھی نہیں دیکھا،، آپ امریکہ اور برطانیہ سے ھو آئے ھیں،،پھر بھی وہ آپ پر آپ کی عقل سمیت غالب ھے اور آپ مغلوب ! آپ کو اندازہ ھوا ھے کہ آپ میں اور مستری میں فرق کہاں ھے،، فقہ اور تفقہ کا فرق ھے،، سارا سامان اور اوزار مہیا ھونے کے باوجود آپ بے بس ھیں،، اسے اینٹوں کو سے رکھنے کا فن آتا ھے،، آپ اس سے تہی دست ھیں،، آیتیں اور حدیثیں ساری وھی ھوتی ھیں،،مگر جو بات مستری ابو حنفیہ جانتا ھے وہ آپ نہیں جانتے ،وہ ان آیات و احادیث کو میں رکھنے کا فن جانتا ھے، اس کا نام فقہ ھے،، اسی سے آپ درزی کی مثال بھی سمجھ لیں،، اور موٹر مکینک کی بھی سمجھ لیں،، آپ کو سارے پرزوں کے نام آتے ھیں اپنے پیسے سے خرید کر لاتے ھیں،، آپ انگلش کے پروفیسر ھیں،، مگر بے بسی سے بار بار اس ان پڑھ کی منتیں کرتے ھیں کہ وہ جلدی کر دے،، آپ لیٹ ھو رھے ھیں،، وھی ھاتھ آپ کے پاس بھی ھیں،،کیوں اس کی منتیں کر کے اپنی انا کو مجروح کرتے ھیں،، لیٹیئے گاڑی کے نیچے اور لگا لیجئے پرزے،، مگر آپ کو صرف پرزے کا نام پتہ ھے،، پرزے کا کام اور پتہ نہیں ھے،، تعجب کی بات نہیں کہ ایک ان پڑھ غریب مستری اور درزی ،مکینک کی محتاجی میں آپ کو شرم محسوس نہیں ھوتی ،، مگر جب کسی آیت یا حدیث کی تشریح میں ابی حنیفہؒ یا امام شافعیؒ کا نام آ جائے تو ناک پھول کر سموسے کی طرح کیوں ھو جاتی ھے ؟ اللہ پاک نے یہود کی بیماری بیان کی ھے سورہ حشر میں کہ یہ تفقہ سے خالی قوم ھے،،13 ،، منافقوں کو روش کو بیان کیا تو فرمایا کہ یہ لوگ ایمان پا کے اسے گنوا بیٹھے کیونکہ یہ فقہ سے عاری قوم ھے -3 ،، پھر اسی سورہ المنافقون میں ایت 7 میں فرمایا،،زمین و آسمان کے خزانے اللہ کے ھی ھیں مگر منافق تفقہ نہیں کرتے،، امام ابو حنیفہؒ تو حدیث کے راوی میں بھی تفقہ کی ڈیمانڈ کرتے ھیں،، بعض دفعہ وہ تفقہ کی بنیاد پر تابعی کو صحابی پر فوقیت دیتے ھیں ،یہ تسلیم کرتے ھوئے کہ صحابی کا مقام اپنا ھے،مگر بات مسئلے کی ھے خود نبیﷺ فرما گئے کہ بعض دفعہ حدیث کا راوی بات کو نہیں سمجھتا مگر جس کو پہنچاتا ھے وہ اس سے زیادہ فقیہہ ھوتا ھے” ھو افقہ منہ” لفظ فقیہہ ھی استعمال فرمایا ھے نبی کریم نےﷺ ،،

علامہ دوست محمد قریشی مرحوم اپنے ایام دارالعلوم دیوبند کے بارے میں ایک واقعہ لکھ کر بتاتے ھیں کہ کیوں مسلمانوں کو تصوف کی طرف توجہ دینی پڑی،، ھندوستان جادو کی سر زمین تھی یہاں قدم قدم پر سادھو آسن جمائے بیٹھے تھے اور قوت نفسانیہ کے زور پر ما فوق الفطرت تماشے دکھا کر لوگوں کے ایمان لوٹ رھے تھے،، عوام کالانعام ان شعبدوں کو عنداللہ ان کی مقبولیت سمجھ کر انہیں حق پر سمجھتے اور ھندوؤں سے زیادہ مسلمان ان کو گھیرے رھتے،، جس کی وجہ سے ضرورت محسوس کی گئی کہ اس عمل کے توڑ کے لئے ویسا ھی علم حاصل کیا جائے اور قوت نفسانیہ کو قوت نفسانیہ کے ذریعے شکست دی جائے تا کہ دلیل کے لئے رستہ صاف کیا جائے،، اس فن کی مشقوں میں دیوی دیوتاؤں کے نام کے منتروں اور بھجنوں کی جگہ قرآنی آیات اور مسنون اذکار کو استعمال کرتے ھوئے مسلمان اھل علم نے اللہ کی تائید اور نصرت سے ھندوؤں کو اسی طرح پچھاڑ دیا ،جس طرح محمد بن قاسم کی تلوار نے راجہ داھر کو پچھاڑا تھا،، زیادہ زمانہ نہیں گزرا تھا کہ لوگوں کا بہاؤ، معین الدیں چشتی اجمیری اور نظام الدین اولیاء کی جانب ھو گیا ،جو نہ صرف علم کی دنیا میں اپنا مقام رکھتے تھے،بلکہ جود و سخا میں بھی اپنے نبیﷺ کی سنت کے متبع تھے،ان کا در مسلم غیر مسلم سب کے لئے بلا تعصب کھلا ھوا تھا،رات دن بھوکے آتے اور پیٹ بھر کر کھاتے،بعض دفعہ ایک ھی برتن میں ھندو اور مسلم کھاتے، روتی بلکتی مائیں تڑپتے بچے لے کر آتیں اور اللہ والوں کی ایک پھونگ کے صدقے جو وہ اللہ کا کلام پڑھ کر مارتے ھنستی مسکراتی صحتمند بچے لے کر جاتیں،، ھر مذھب والے کو بلا تعصب سورہ فاتحہ کا ورد دیا جاتا جو ھندو اور مسلم سب کے لئے یکساں مفید ھوتا،، اس حکیمانہ طریقہ کار کا نتیجہ تھا کہ نظام الدین اولیاء نے 90 ھزار کے لگ بھگ ھندو مسلمان کیئے جبکہ خواجہ معین الدین چشتی نے 9 لاکھ کے لگ بھگ لوگوں کے سینے توحید کے نور سے منور کیئے ! اس سلسلے میں کچھ واقعات تو مولانا سید مناظر احسن گیلانی صاحب نے اپنی کتاب ” احاطہ دارلعلوم میں بیتے ھوئے دن” میں لکھے ھیں جبکہ مرشدی علامہ دوست محمد قریشی نے بھی چند واقعات اپنی کتاب ” کشف الحقیقہ عن المعرفۃ والطریقہ ” میں لکھے ھیں، ان میں سے ایک واقعہ کے بارے میں فرماتے ھیں کہ ” مرشدی نے باب باندھا ھے ” کیا اھل بدعت کے پیروں کی توجہ میں اثر ھوتا ھے ؟ ” اس کے تحت لکھتے ھیں کہ نہ صرف اھل بدعت بلکہ صریحاً کافر کی توجہ میں بھی اثر ھوتا ھے،اس کی مثال کچھ یوں سمجھ لیجئے کہ ایک کٹورہ پیشاب کا بھر کر رکھ لیجئے اور دوسرا پانی سے بھر لیجئے،،منہ دونوں مین نظر آ جائے گا مگر ایک سلیم الفطرت شخص پیشاب کے کٹورے میں منہ دیکھنا کبھی پسند نہیں کرے گا ! اس سے حق و باطل کا فیصلہ نہیں ھو سکتا جب تک کہ حامل توجہ کا کردار سنت کے مطابق نہ ھو،یعنی اس فن میں شکست و فتح کشتی یا کبڈی کے کھیل کی مانند ھے،، کافر یا بدعتی کا توجہ میں غالب آ جانا اس کے دین کی حقانیت کی دلیل نہیں بن سکتا جس طرح کرکٹ میں فتح یا شکست سے دین کی حقانیت کا فیصلہ نہیں ھو سکتا ! ایک ھندو نوجوان اس عاجز کے دور تعلیم میں مسلمان ھوا ، وہ دورہ حدیث کے لئے دیوبند میں داخل تھا، طبیعت میں زبردست قابلیت تھی، ذھن رسا اور زبان مین بلا کی فصاحت تھی،دل دردِ اسلام سے لبریز تھا، نوجوان شیخ سارا دن شیخ الاسلام مولانا سیدی حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ سے حدیث کے اسباق یاد کرتا ، حضرت شیخ الادب مولانا اعزاز علی صاحب ،اور مولانا محمد ابراھیم بلیاوی سے کتابیں پڑھتے،، طلباء عصر کے بعد سیر کو نکلتے ،جبکہ یہ نومسلم شیخ سب سے الگ ھو کر ھندو برھمنوں کے پاس چلا جاتا،، ساتھ کوئی ایک آدھ میرے جیسا کند ذھن بھی لگ جاتا کہ تبلیغ کا طریقہ سیکھ لیا جائے اور کچھ اجر بھی پا لیا جائے، بہت سارے ھندو برھمن اس نوجوان کے ھاتھوں مسلمان ھوئے تا آنکہ شہر بھر میں چرچا ھو گیا کہ اس نوجوان سے کوئی ھندو بچ نہیں پاتا،، ھندو برھمن اس کا رستہ چھوڑ کر چلتے اور بڑے بڑے برھمن اس سے کنی کتراتے،،، ایک دن یہ شیخ نوجوان عصر کے بعد ایک برھمن کے پاس چلا گیا اس حالت میں کہ وہ وید پڑھ رھا تھا ،، نوجوان نے کہا کہ شیخ جی ادھر میری طرف بھی توجہ کیجئے ، برھمن نے پہلے توجہ اپنے قلب پر کی اور پھر توجہ بھری نگاہ نوجوان کے دل پر ڈالی ،، شیخ صاحب کہتے ھیں کہ میرا قلب اللہ اللہ چھوڑ ،، رام رام کرنے لگ پڑا،، یہ وہ لمحہ تھا جب شیخ کو ھوشیار ھو جانا چاھئے تھا اور سامنے سے ھٹ جانا چاھئے تھا،،مگر شیخ جی اس میدان کے آدمی نہ تھے انہوں نے دوبارہ اس کو دعوت دے ڈالی کہ برھمن جی میری طرف توجہ فرمائیں،، برھمن نے دوبارہ توجہ کی اور نورِ ایمان سلب کر کے کفر بھر دیا،، پھر تیسری توجہ کے ساتھ اپنی تصویر اس کے دل میں چسپاں کر دی،جب اسے محسوس ھو گیا کہ نوجوان اس کے قبضے میں آ چکا ھے تو اس سے مخاطب ھوا اور بولا شیخ جی آپ ھیں بھی ھندو اور رھیں گے بھی ھندو، جاؤ اپنے وطن واپس چلے جاؤ،دارالعلوم سے بستر اٹھاؤ اور ریل گاڑی سے اپنے گھر چلے جاؤ ،، دارالعلوم مین جب شیخ جی واپس آئے تو کایا ھی پلٹی ھوئی تھی ،،گم سم اور ٹک ٹک سب کو دیکھ رھے ھیں،، حضرت مدنیؒ کو دکھایا گیا،آپ نے فرمایا انہیں حضرت عبدالقادر رائےپوری صاحب کے پاس لے جاؤ،، صبح ھوئی شیخ صاحب نما زسے بھی فارغ اور اسباق سے بھی فارغ،،،حضرت مدنی کے حکم کے مطابق طلباء شیخ جی کو عبدالقادر رائیپوری صاحب کے پاس چھوڑ آئے،،حضرت نے اٹھ دن صرف کھلایا پلایا اور بات تک نہ پوچھی،، نویں دن نوجوان حضرت کی خدمت مین حاضر ھوا اور عرض کیا کہ آپ مجھے کلمہ پڑھا مسلمان کریں یا مجھے گھر جانے کی اجازت دیں،، حضرت رائے پوری نے پوری قوت کے ساتھ ایک تھپڑ اسے رسید کیا اور فرمایا ” تو تھا بھی مسلمان ھے بھی مسلمان اور رھے گا بھی مسلمان جا جا کر اپنا سبق پڑھ،،جناب شیخ کا دل دوبارہ اللہ اللہ کے ردھم پہ جاری ھو گیا اور کفر نکل گیا،،، اس میں جو لوگ تصوف سے واقف ھیں وہ جانتے ھیں کہ شیخ نے کون سی ٹیکنکل غلطی کی،، کبھی کسی کو اپنے پر توجہ دینے کی دعوت نہیں دینی چاھئے،،یہ قلعہ دل کا دروازہ کھولنے والی بات ھے،،نوجوان کی دعوت پر ھی ھندو برھمن نے دل پہ تصرف کیا،، حضرت رائے پوری صاحب نے بھی نوجوان کو چھوڑ دیا تا آنکہ اس نے تنگ آ کر وھی دعوت حضرت رائے پوری کو بھی دے ڈالی اور آپ نے تصرف بالید کا سب سے طاقتور اور مسنون داؤ استعمال کیا،، ورنہ برھمن کا قبضہ چھڑانا مشکل تھا،، حضرت ابئ ابن کعب رضی اللہ عنہ کے قلب پر بھی نبی کریم ﷺ نے تصرف بالید کا مظاھرہ کیا تھا ،جس کے نتیجے میں وہ شدید کفر جو ان کے زمانہ کفر سے بھی شدید تر تھا،اس طرح صاف ھوا کہ قلب کی شفافیت میں عرشِ الہی کے نیچے جا کھڑے ھوئے،، ان کے اپنے بقول میں گویا اللہ کے سامنے کھڑا تھا،،( بخاری
یہ اصل میں کچھ یوں ھوتا ھے جیسے کوئی فلیش ڈرائیو غیر روایتی طریقے سے نکالی جاتی ھے تو سارا ڈیٹا ضائع ھو جاتا ھے،، اسی طرح تصرف بالید مکمل طور پر قلب کو فارمیٹ کر دیتا ھے !
ابوظہبی کے مشہور و معروف اسپتال کے چائلڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹر صاحب تشریف لائے،، ملاقات عشاء کے بعد مسجد سے ملحق مجلس یا لائبریری میں ھوئی،،گویا ھوئے کہ ان کا ایک ھی بیٹا تھا جو امریکہ ماسٹر کرنے گیا ھوا تھا، ایک پیر صاحب سے لنک ھو گیا اور ان پیر صاحب نے اسے والدین سے اس طرح برگشتہ کر دیا ھے کہ وہ والدین سے بات تک کرنا پسند نہیں کرتا، فون تک اٹینڈ نہیں کرتا اور اب تو کہتا ھے کہ آپ لوگ مجھے ڈسٹرب مت کیا کریں،،زندگی کی جمع پونچی اس کی تعلیم پر لگا دی ھے،اکلوتا بیٹا ہاتھ سے نکل گیا ھے ! ھم لوگ خود جا کر مل کر آئے ھیں وہ تو منہ بھی نہیں دکھانا چاھتا ! اب تو حد ھی ھو گئی ھے وہ ھماری تجویز کردہ جگہ پر تو شادی نہیں کرنا چاھتا،مگر موصوف پیر صاحب کے مدرسے کی پرائمری پاس لڑکی سے شادی کرنا چاھتا ھے،، ان حالات میں ھمارے پاس اور کوئی رستہ نہین بچا کہ ان پیر صاحب کو پاکستان میں ھی نمٹا جائے،، میں نے انہیں سمجھایا کہ اس طرح معاملہ مزید بگڑ جائے گا،، پہلے موصوف سے بات کر لینے دیجئے،، پیر صاحب ابوظہبی تشریف لائے تو ایک مشترکہ دوست کے ذریعے پیر صاحب سے وقت لے کر ڈاکٹر صاحب کی ملاقات کرائی گئی جو بے سود رھی، پیر صاحب نے ٹکا سا جواب دے دیا کہ جناب آپ اپنی اولاد سے رابطہ کریں،،میں اس سلسلے میں آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتا،،پیر صاحب سے میری بھی سلام دعا تھی کیونکہ وہ بھی نقشبندی تھے اور تصوف مین میرے ” کزن ” لگتے تھے،ان کے مرشد اور میرے مرشد پیر بھائی تھے ! میں نے بھی گزارش کی کہ اگر لڑکے پر آپ کا اثر ھے تو اسے خیر کے لئے استعمال کریں اور سمجھائیں گے والدین کا دل نہ دُکھائے، نیز والدہ بیمار ھے باپ پریشان ھے تو فون پہ ان سے رابطہ کر کے انہیں تسلی دے اور جہاں وہ کہتے ھیں وھاں شادی کرے ! مگر بات بنی نہیں، میں نے اپنے پیر صاحب کو ساری صورتحال بتائی اور حل پوچھا،، انہوں نے فرمایا کہ میں ان پیر صاحب سے ذاتی طور پر واقف ھوں ،انہوں نے عملِ تسخیر کیا ھوا ھے، اور دل و دماغ کو hack کر لیتے ھیں،، اپنی تصویر ٹیگ کر دیتے ھیں اور بندہ ان کا ھی دیوانہ بن جاتا ھے،،یہ بات میں نے بعد میں ان پیر صاحب کی ایک کتاب میں بھی پڑھی جس میں انہوں نے اپنے تصرف کی قوت کا اظہار کچھ اس طرح کیا ھوا تھا کہ ” وہ روس کی آزاد شدہ ریاستوں کے جب دورے پر تھے تو جس علاقے میں جانا ھوتا تھا،اس علاقے کو نقشے میں پن پؤائنٹ کرتے اور اس پر توجہ کرتے تو اس علاقے کے لوگ ان کے پہنچنے پر ان کو یونہی پہچانتے جیسے لوگ اپنی اولاد کو پہچانتے ھیں،، بعض کو وہ خواب میں آتے کہ فلاں وقت اللہ کا یہ بندہ تمہارے گاؤں پہنچ رھا ھے،اس کے استقبال کے لئے نکلو،،اور جب یہ اس گاؤں یا بستی پہنچتے تو لوگ باھر استقبال کو پہنچے ھوتے، یہانتک کہ کھانا تک ان کی پسند کا بن چکا ھوتا،، خیر جناب اپنے بزرگوں سے مشورہ کیا کہ مسئلہ تو حل کرنا ھو گا ! جواب ملا یہ آپ کا پراجیکٹ ھے،، اسے مکمل کیجئے اور خرقہ خلافت لے لیجئے،، طریقہ کار انہوں نے سمجھایا کہ لطائف کے combination کو کیسے ھینڈل کرنا ھے،، ایک لطیفے کے زور پر پہلی تصویر کو undo کرنا ھے اور دوسرے کے ساتھ اس کے والد کی تصویر کو restore کرنا ھے،، وقت طے کر لیا گیا اور رات اسی مشقت میں گزرتی ،، الحمد للہ بزرگوں کے بتائے گئے اندازے سے بھی پہلے کام مکمل ھو گیا،، بچہ اس ذھنی غلامی سے آزاد ھوا،، والدین سے معافی مانگی اور ان کی پسندیدہ جگہ پر شادی بھی کر لی،، والدین سے گلے شکوے بھی ھوتے ھیں،مگر بدترین شخص وہ ھوتا ھے جو ان کو بڑھاوہ دے کر اولاد کے دل میں والدین کی نفرت کو پلا دے،، یہ کیفیت بالکل وھی تھی جو سامری نے بنی اسرائیل کے ساتھ کی تھی،، اللہ کے بارے میں شکوے شکایت کو اساس بنا کر اس نے بچھڑے کو ان کے دلوں مین مصور کر دیا تھا،،جسے قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا ھے،، و اُشرِبوا فی قلوبھم العجل،، ان کے دلوں میں بچھڑا پلا دیا گیا تھا،،،! اس پراجیکٹ کی کامیابی پر 2002 میں مجھے سلسلہ نقشبند میں خلیفہ مجاز بنایا گیا،، اس طرح میری بیماریوں میں ایک اور بیماری کا اضافہ ھو گیا
