فرشتے اور ابلیس

عقلی طور پر پہلا اعتراض فرشتوں نے کیا تھا اور عقل پہ تولا جائے تو ان کا اعتراض آج بھی اپنی جگہ درست ھے اور اللہ پاک نے قرآن میں بھی ان کو یہ نہیں کہا کہ تمہارا اعتراض غلط ھے ! نہ کوئی غصہ کیا ،، بلکہ بڑے پیار سے کہہ دیا کہ میں … Read more

آدم علیہ السلام اور فرشتے

آدم علیہ السلام اور فرشتے ! فرشتوں کی دوڑ تسبیح و تحمید تک تھی انہوں نے وھی بات کی کہ تسبیح و تحمید کے لئے ھم موجود جو ھیں ! ان کی تسبیح سوائے USB میں بھری گئ یا میموری کارڈ میں محفوظ کئے گئے ڈیٹا سے زیادہ کچھ نہ تھی،،وھی دن رات بجتی رھتی … Read more

امام ابوحنیفہ اور حدیث

کوئی عرصہ ڈیڑھ سال ھوا ایک صاحب نے مجھے لکھا کہ وہ ماشاء اللہ مفتی ھیں ، سلفی المکتب ھیں اور عمر کے آخری دور سے گزر رھے ھیں ! میرا فرینڈ بننے کے بعد انہوں نے وال کو اچھی طرح دیکھا ، میری تصویر دیکھ کر انہیں احساس ھوا بلکہ شدت سے احساس ھوا … Read more

اللہ اور انسان

اللہ کی ذاتِ اقدس کی صفات سے بے بہرہ آدمی کفر کے لئے ایک عام ملحد سے زیادہ آسان شکار ھوتا ھے ! ایک ملحد سوال اٹھاتا ھے جس سے اس کے الحاد کا پتہ چلتا ھے، مرض معلوم ھو تو علاج معلوم ھو جاتا ھے ! ایک براہ راست ملحد کے پلٹنے کے امکانات … Read more

کیا مسلمان سب کافر ھیں

انڈیا پاکستان کی تقسیم سے پہلے پنجاب کے دل لاھور سے” پرتاب” نام کا ایک اخبار نکلا کرتا تھا ! جو کہ پرتاب نام کے ایک ھندو کا تھا ! وھی اس کا مالک بھی تھا اور چیف ایڈیٹر بھی ! ایک دن پرتاب نے سـُرخی لگا دی ! مسلمان سارے کافر ھیں ! لاھور … Read more

شخصیت پرستی کے مضمرات

جو "بنــد ” دریا کے پانی کو باھر جانے سے روکتے ھیں ! وھی باھر کے پانی کو اندر آنے سے بھی روکتے ھیں ! شخصیت پرستی دو دھاری تلوار ھے ! جو شخصیت دین کی جتنی خدمت کرتی ھے ! آنے والے خادم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی وھی بنتی ھے … Read more

سنت اور حدیث

سنت اور حدیث ! حصہ دوم اب آیئے نبی کریمﷺ کی ھستی کی طرف ! آپ نے مختلف کام کیئے ھیں ،، عبادات کا طریقہ واضح کیا ھے ! اور اپنے زمانے کے ماحول اور دستیاب سہولتوں کو استعمال فرمایا ھے ! اصل الاصول یہ ھے کہ نبی ﷺ سمیت تمام لوگ قرآن کے محتاج … Read more

سنت کا سفـــر !

سنت کا سفـــر !

March 12, 2014 at 5:20pm

الحمد للہ و کفی والصلوۃُ والسلام علی اشرف الانبیاء محمد المصطفی و علی آلہ و صحبہ و من والاہ

اما بعد !

اللہ کا شکر و احسان ھے کہ اس نے مجھے چھوٹی سی عمر میں ھی اپنے گھر کی راہ سجھائی، دین کے علم کی لو لگائی،اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کے تعصب سے مجھے قطعاً دور رکھا،، یہ اس کا خاص الخاص کرم تھا کہ میں نے چھ فقہوں کا انتہائی باریک بینی سے بلا تعصب مطالعہ کیا ،کچھ میں تخصص کیا ! میں نے فقہ حنفی ،مالکی ، شافعی اور حنبلی کو دیکھا تو فقہ جعفریہ کا دقیق  مطالعہ کیا، اس کے مصادر کو دیکھا ،،خوارج کا بچا کچھا قبیلہ اباضیہ جو زنجبار اور سلطنت عمان میں پایا جاتا ھے، عمان کے حکمران سمیت ایک عظیم اکثریت اباضی فرقے سے تعلق رکھتی ھے،میں نے 1979 سے لے کر 1985 تک ان کی مسجد میں امامت اور خطابت کی، اس دوران ان کی فقہ کی عربی کتب کو دیکھنے کا موقع ملا اور ان سے تفصیلی بات چیت ھوئی ! مجھے ابوظہبی کی مرکزی فتوی کمیٹی  ( اللجنۃ المرکزیہ للفتوی ) کے لئے بھی منتخب کیا گیا مگر میں نے بعض ناگزیر وجوھات کی بنیاد پر اسے جائن نہیں کیا ! یہ سب بیان کرنے کا مقصد یہ ھے کہ میرا تعلق ھر فقہ کے علماء سے رھا اور یہ تعلق تعصب سے بالاتر اللہ کے دین کی نسبت سے رھا ! اب بھی جب میں دیکھتا ھوں کہ کسی مکتبہ فکر کے ساتھ زیادتی کی جارھی ھے تو مجھے اس کے حق میں بولنے سے کسی دوسری فقہ کا تعصب نہیں روکتا ۔ یہی وجہ ھے کہ میرے دوست چاھتے ھیں کہ میں کسی نہ کسی فقہ کی نمبر پلیٹ ضرور لگاؤں تا کہ انہیں مجھ سے معاملہ کرنے میں آسانی رھے،مگر میں ان تمام فقہوں کو دین کی مختلف تعبیریں ھی سمجھتا ھوں !

 

اب آیئے اصل موضوع کی طرف کہ کتاب و سنت جو ھمیں عطا کی گئیں اور داڑھوں سے پکڑنے کا حکم دیا گیا اس کا روٹ کیا طے کیا گیا ؟  اس کا روٹ پرمٹ نبی کریم ﷺ کے خلفاء کے نام بنایا گیا ھے ،دین ان کے رستے ھمیں ملا ھے، انہوں نے اپنے اقدامات کے ذریعے جو کیا وہ سب کتاب و سنت ھے ان کا ان خلفاء کے ھاتھوں سر انجام پا جانا ھی اسے سنت بنا دیتا ھے، اس میں ان کو  نہ کوئی حدیث کوٹ کرنے کی ضرورت تھی اور نہ ھی انہوں نے کی !

دین ایمان و عمل ھے یا علم و عمل ھے، علم کا نتیجہ ایمان ھے اس لئے علم والا ایمان فرض کیا گیا ھے ،جبکہ ایمان کا حتمی نتیجہ عمل ھے ! عمل کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھ کر کرنے کا ایک فطری طریقہ بتایا ھے جو قیامت تک کے لئے واحد غیر متنازعہ طریقہ ھے ،، نبی کریم ﷺ کو دیکھ کر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جو اپنایا اس کو دیکھ کر ان کی اولاد نے اپنا اور ان کو دیکھ کر ان کی اوالد نے،یوں آج تک بچے والد کو ھی دیکھ کر پہلے پہل نماز پڑھتے ھیں نہ کہ بخاری شریف پڑھ کر ! اور قیامت تک اسی طرح ھوتا رھے گا، اس دیکھنے اور کرنے میں ایک دن کا بھی ناغہ نہیں ھوا اس لئے سنت کے کھو جانے کا کوئی امکان نہیں ھے ،اسی رستے سے قرآن نے سفر کیا ھے اور قرآن کے شانہ بشانہ سنت نے بھی سفر کیا ھے ! نہ تو قرآن کو اپنی قرانیت کے لئے کسی گواہ کی ضرورت ھے اور نہ سنت کو کسی سہارے کی ،اس کو ھر پیدا ھونے والا مسلمان بچہ وھیں سے لیتا ھے جہاں سے اس کے باپ نے لیا تھا ! یہ طریقہ صرف اسلام کی عبادات کے ساتھ نہیں بلکہ سابقہ امتوں کے ساتھ بھی اسی طریقے سے عبادات کی سنن نے باپ سے بیٹے کے رستے سفر کیا ھے اور ھزاروں سال اس میں رائی کے دانے کے برابر فرق نہیں آیا نہ آ سکتا تھا اور نہ آ سکتا ھے ! عیسی علیہ السلام نے بھی یہود کے کردار ر تنقید کی ھےمگر عبادات و مناسک پر اعتراض نہیں کا ایک حرف نہیں کہا، خود قرآن حکیم نے ںبی ﷺ کو خطاب کر کے نشاندھی فرمائی ھے کہ ان کے مناسکِ عبادت عین ھمارے حکم کے مطابق ھیں جن کو وہ سر انجام دیتے چلے جا رھے ھیں، آپ ان پر کوئی اعتراض و تنازعہ مت کھڑا کیجئے گا بلکہ انہیں اپنے رب کی طرف دعوت دیں ( الحج ) البتہ دین کو دوسرا جزء علم چونکہ خبر ھے اور خبر کے راویوں میں جھوٹ اور کـُوڑ کتاڑ شامل ھو جاتا ھے لہذا امتوں میں زوال علم یعنی ان کے ایمان میں آتا رھا ھے اور نبی ایمان درست کرنے اور لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے آتے ھیں،، پھر اس کے بعد حالات کے مطابق پہلی سنتوں میں ترمیم کرتے ھیں ،، عبادات کا صیغہ اسلام سے پہلے ڈھائی ھزار سال سے ایک ھی تھا، اس پیکج میں ایک ذرا نہ کمی کی گئ اور نہ زیادتی، وھی شہادتین، پھر نماز ،پھر زکوۃ اور حج ،، عبادات اپنے تسلسل یا چین کی وجہ سے ھزاروں سال محفوظ رھیں ،وہ اسلام میں کس طرح ایک صدی میں ھی کھو گئیں؟ لوگ سوال کرتے ھیں کہ پھر ھمیں سنت کا پتہ کیسے چلے گا؟  سنت کا پتہ ویسے ھی چلے گا جیسے صحاح ستہ کی تصنیف سے پہلے چلتا تھا ! امام بخاری اور ان کی والدہ نے کیا نماز بخاری شریف کے بعد بخاری کو پڑھ کر شروع کی تھی یا پہلے سے نماز پڑھتے تھے؟ وہ بغیر سنت کے نماز تھی؟ احادیث کا زیادہ سے زیادہ فائدہ یہ ھے کہ نبی کریمﷺ نے کبھی یوں بھی نماز پڑھی تھی ! مگر جب اس کو یوں بنا لیا گیا کہ نبیﷺ نے” یوں ھی ” نماز پڑھی تھی تو پھر مساجد میں فساد شروع ھوا ! اس کے علاوہ احادیث سے اذکار کا ایک  عظیم خزانہ ھاتھ لگتا ھے ! دعاؤں کا معلوم ھوتا ھے کہ نبی پاکﷺ نے کون کون سی دعائیں مانگیں تھیں ،، ان دعاؤں کی تاثیر انسان کو رب
سے جوڑ دیتی ھے ! اب رھا معاملہ عقائد کا تو وہ قرآن کی صورت میں  ھمارے پاس محفوظ ھیں اور محفوظ رھیں گے،، اس کا وعدہ اللہ پاک نے فرمایا ھے ! بہت ساری احادیث نے خود عقائد پر سوالیہ نشان کھڑے کئے ھیں! بخاری نے ” اصیحابی” اصیحابی” کا نام لے کر ” ارتدوا” کی خبر دی ھے، کہ یہ تو میرے اصحابی ھیں ،،میرے اصحابی ھیں انہیں کیوں حوضِ کوثر سے پیچھے دھکیل رھے ھو ،،جواب ملے گا آپﷺ نہیں جانتے انہوں نے اپ کے پیچھے کیا کیا نئے کام کئے ھیں،، ارتدوا بعدک ،یہ آپ کے بعد مرتد ھو گئے تھے !! میں اپنے علماء سے پوچھتا ھوں کہ جس طرح پولیس نے جب زیادہ بندے پکڑنے ھوں تو نامعلوم کے خلاف ایف آئ آر کاٹی جاتی ھے تا کہ وہ جسے چاھے وقت آنے پر ضمنیوں میں شاملِ چالان کر لے ! اسی طرح اس حدیث میں صرف اصحاب کا ذکر کر کے ان کو مرتد قرار دے کر آنے والوں کے لئے راہ نہیں کھولی گئ کہ وہ ابوبکر
ؓ عمرؓ عثماؓن کو اس میں ڈال لیں ؟

ھمارے علماء بجائے مسائل کا سامنا کرنے کے انہیں کارپِٹ کے نیچے چھپانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ھیں !

االغرض اس مضمون میں ان باتوں کا احاطہ کیا گیا ھے !

1-     1-سنت کا ماخذ دیکھ کر عمل کو  نقل کرنا ھے

2-     2- یہ دیکھنا باپ کا بیٹے کو دیکھ کر نقل کرنے کی طرح کا ھے

3-     3-اسی عملِ نقل کے ذریعے سنت نبیﷺ سے اس دم تک چلتی چلی آ رھی ھے

4-    4-صحاح ستہ کے علاوہ دیگر کتب حدیث بھی ایک رکعت نماز پر امت کو مجتمع نہیں کر سکیں مگر پھر بھی نشانِ حیدر گلے میں لٹکائے پھرتے ھیں کہ سنت کا ماخذ کتب حدیث ھیں !

5-    5- کتب حدیث میں سب سے قوی کتاب بخاری شریف میں ھی صحابہ کو ” ما احدثوا بعدک  اور ارتدوا بعدک کے واضح الفاظ کے ساتھ مرتد قرار دیا گیا ھے ! اور علماء منہ میں گھنگنیاں ڈالے بیٹھے ھیں! شیعہ کو کافر کہتے ھیں مگر اپنی چارپائی کے نیچے سوٹا پھیرنے کو تیار نہیں !

6-    6- بخاری شریف میں ھی سورہ الفرقان میں دو قریشی صحابہ عمر ابن الخطاب اور ھشام کے درمیان جس اختلاف کی خبر دی گئ وہ لہجے اور تلفظ کا فرق نہیں تھا،، حضورﷺ نے فرقان کے نام پر دونوں اصحاب کو الگ الگ آیتیں پڑھا دی تھیں ! جس کی وجہ سے عمر کے دل میں کفر پیدا ھو گیا !! جسے نبیﷺ نے ھاتھ مار کر ھٹایا ،، وہ آیتیں ھمارے علماء کو آج تک نہیں ملیں ! جو تضاد عمرؓ کو کافر کر سکتاھے وہ آج کے نوجوان کو ملحد کیوں نہیں کرے گا ؟

7-    7-  ایسا ھی واقعہ ابئ ابن کعب کے بارے میں بیان کیا گیا جس میں ابئ ابن کعبؓ فرماتے ھیں کہ میرے دل میں وہ کفر پیدا ھوا جو زمانہ کفر میں بھی نہیں تھا !! یہ کیا تماشہ ھے؟ جو قرآن کے امام ھیں انہی کو کفر سے دوچار کیا جا رھا ھے،یہ کوئی معمولی اختلاف نہیں ھو سکتا؟

8-    8- شیعہ نہیں کہتا کہ قرآن میں کمی بیشی کی گئ ھے، ابنِ کثیر نے سورہ الاحزاب کی تفسیر میں ابوموسی الاشعری سے روایت کیا ھے کہ کسی زمانے میں یہ سورہ الاحزاب سورہ البقرہ کے برابر ھوا کرتی تھی (286 آیتیں ) مگر اب وہ تمہارے سامنے ھے جتنی کہ تم پڑھتے ھو (73 آیتیں ) ھمارے اھل حدیث دوستوں کو چاھئے کہ باقی 213 آیتیں ڈھونڈ دیں ،،

9-    الغرض فتنے کا ھر بیج ان کتابوں میں موجود ھے اور ھر فرقے کو مواد ان میں سے ملتا ھے !

10-انہوں نے امت کو مجتمع نہیں کیا بلکہ ایک مجتمع امت کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا ھے

الف اللہ چنبے دی بُوٹی !!

ویگن اسٹاپ پر آدھی رات کے وقت ایک اک تارے والا گا رھا تھا "

ایمان سلامت ھر کوئی منگے ، عشق سلامت کوئی ھـُو !
ایمان منــگن شـــرماون عشقوں ، دل نوں غیرت ھوئی ھـُو !

جس منزل نوں عشق پہنچاوے،ایمانوں خبر نہ کوئی ھـُو !
میرا عشـــق سلامت رکھیں ،، ایمانـوں دیا دھــروئی ھـُو !

ایک صاحب نے پوچھا بابا عشق کیا ھوتا ھے ؟

اک تارے والے نے انہیں غور سے دیکھا ! اور دھیمے لہجے میں پوچھا !
بابو جی ! بھوک کیا ھوتی ھے ؟

بابو جی لاجواب ھو کر اس کا منہ دیکھنے لگے !!

بابا بولا ، بابو جی جسے کبھی بھوک لگی ھی نہ ھو ،اسے کوئی کیسے سمجھا سکتا ھے کہ بھوک کیا ھے ؟ اور جسے لگتی ھے اسے کسی سے پوچھنے کی ضرورت ھی نہیں رھتی کہ بھوک کیا ھے ! اس کا تو اندر بھوک بھوک کا ورد کرتا ھے ! اتنا کہہ کر اک تارے والا گہری سوچ میں ڈوب گیا !
پھر آئستہ سے بولا ! بابو جی بھوک نہ ھو تو کھانا بھی بوجھ بن جاتا ھے !
عشق نہ ھو تو ایمان بھی بوجھ بن جاتا ھے اور انسان پہلی فرصت میں اس سے جان چھڑا لیتا ھے !
واضح رھے یہ پوچھنے والا سابقہ جج اور فلسفوں کو کنگھال مارنے والا پڑھا لکھا شخص تھا مگر بقول اس کے اس ٹھٹھرتی رات میں اس اکتارے والے کے سامنے اس کے سارے فلسفے ٹھٹھر کر رہ گئے تھے !
اللہ اور اس کے حبیبﷺ سے محبت نہ ھو تو فرائض اور سنتیں ایک بوجھ بن جاتے ھیں ،، جن سے آگ کے ڈر کی وجہ سے ھی انسان عہدہ برآ ھوتا ھے !
وہ مسجد آ کر عزت نہیں پاتا بلکہ بستہ بے کے مجرموں کی طرح حاضری لگوانے آتا ھے ! اور تیرا دل تو ھے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں ” کا مصداق ھوتا ھے !!

نہ تو توکل توکل لکھنے سے کوئی متوکل ھو جاتا ھے اور نہ ھی سکون سکون کا ورد کرنے سے کسی کو سکون قلب ملتا ھے،، جب کسی سے محبت ھو تو پھر اس کا نام سن کر جو راحت دل میں پیدا ھوتی ھے اس کا نام سکون قلب ھے،، الا بذکر اللہ تطمئن القلوب کا یہ مطلب ھے ،، اور لوگ اللہ اللہ اللہ کا ورد کر کے اس میں سے سکون نکالنا چاھتے ھیں،، وہ اللہ کہنا عاشق کا اللہ کہنا ھے،، نہ کہ کسی ھائپر ٹینشن کے مریض کا ! کیا مجازی محبت میں محبوب کے تذکرے سے آپ کو سکون نہیں ملتا ؟ وہ کہاں سے آتا ھے ؟ اسی کنوئیں سے اللہ والا سکون بھی ملتا ھے مگر شرط پیار کی ھے ! اور جب پیار ھو جائے اور وہ اصلی والا ھو تو محبوب کے رستے کی تکلیفیں بھی سکون دیتی ھیں ،، گِلے پیدا نہیں کرتیں !

عامر عثمانی کی طویل غزل کا شعر ھے !

عشق کے مراحل میں وہ بھی مقام آتا ھے !
آفـتیں برستــی ھیں، دل سکـــــون پاتا ھے !

مشکلیں اے دل! سخت ھی سہـــی لیـکن !
یہ نصیب کیا کم ھے کہ ” کوئی ” آزماتا ھے !

میں غالباً چار سال کا تھا ! سپارہ پڑھ کر مسجد سے نکلا تو ایک لڑکے نے لڑکی کا رستہ روکا ھوا تھا، دونوں ماموں اور پھوپھی سے کزن تھے ! لڑکی کے ھاتھ میں کپڑے ماپنے والا لوھے کا گز تھا ،جو وہ غالباً کسی کے گھر سے مانگ کر لے جا رھی تھی، اس نے لڑکے کو کہا کہ میرا دل چاھتا ھے کہ میں یہ گز تمہارے سر پہ دے ماروں ! اس پہ اس لڑکے نے اسے قسم دی اگر وہ اس کو نہ مارے ! لڑکی نے مسکراتے ھوئے ٹھاہ کر کے گز اس کے سر پہ دے مارا ! لڑکے نے سر پہ ھاتھ رکھ لیا،جب ھاتھ ھٹایا تو اس کا ھاتھ خون سے لتھڑا ھوا تھا ! اس نے خون کو چوما اور رستہ چھوڑ دیا،، رشتہ ھو گیا دونوں کی شادی ھو گئ ،اولاد ابھی تک نہیں ھوئی اور ظاھر ھے اب ھونے کے امکانات بھی نہیں رھے،، والدین کے اصرار کے باوجود اس لڑکے نے زندگی بھر شادی نہیں کی، مجھے اس سے محبت ھے اولاد سے نہیں،، جو اولاد اسے دکھ دے کر ملے وہ مجھے نہیں چاھئے ،،یہ عشقِ مجازی کی وارداتیں ھیں،، عشقِ حقیقی کی تو عین میں ھی جہان ڈوب جاتا ھے !

جو لوگ صحابہؓ کی دعاؤں پہ عقلی استدلال کرتے ھیں ،وہ بھی ابھی بغدادی قاعدہ پڑھتے ھیں،،میں ان سے درخواست کرتا ھوں کہ وہ عقلی طور پر ثابت کر دیں کہ انسان کی تخیلق ھی عقلاً ضروری تھی ! اللہ کی وہ کونسی ضرورت تھی یا مجبوری تھی جو انسان کی تخلیق کی محرک بنی ھے ! اور اگر انسان نہ ھوتا تو اللہ کی عظمت میں کیا فرق پڑ جانا تھا ؟

انسان عقل کی تخلیق نہیں عشق کی تخلیق ھے ! اللہ کو صاحب عشق مخلوق درکار تھی،، عشق ضرورت نہیں دیکھتا ، اس کے اپنے قواعد ھیں،، جنت والے بھی ھیں اور جہنم والے بھی ھیں،، دائیں والے بھی ھیں اور بائیں والے بھی ھیں ،،مگر آگے نکل جانے والے بھی ھیں،، و کنتم ازواجاً ثلاثہ،، اور تم تین گروھوں میں بٹ جاؤ گے،، اصحاب الیمین ،، و اصحاب الشمال ،،، والسابقون السابقون ،، یہ آگے نکل جانے والے ھی عشق والے ھیں،، جنت والوں کو نبی اپنی معیت میں جنت میں لے جائیں گے،، اور عشق والوں کو اللہ اپنے ساتھ لے کر جائے گا،، اللہ فرمائے گا،،جنہوں نے جنت کے لئے کیئے وہ جنت میں چلے گئے،، جنہوں نے جہنم والے کیئے وہ جہنم میں چلے گئے،، میرے لئے کرنے والو آؤ چلیں ،،یہ رب کی معیت میں چلیں گے،،
یہ وہ مقام ھے جہاں کہنے والے کہتے ھیں کہ جہنم کے ڈر سے کرتی ھوں تو جہنم واجب کر دے ،، جنت کی لالچ میں کرتی ھوں تو جنت حرام کر دے،، ائے اللہ میں تو تجھے اس لئے سجدے کرتی ھوں کہ تو ھے ھی سجدوں کے قابل !
یا "جنت میں جو میرا حصہ ھے اے اللہ وہ اپنے دوستوں کو دے دے،،دنیا میں جو میرا حصہ ھے اے اللہ وہ اپنے دشمنوں کو دے دے،، میرے لئے تو تـُو اور تیری محبت ھے کافی ھے !

بس مجھے سمجھ نہیں لگتی میں اپنا دل کہاں کہاں رکھوں !

Normal
0

false
false
false

EN-US
X-NONE
AR-SA

/* Style Definitions */
table.MsoNormalTable
{mso-style-name:”Table Normal”;
mso-tstyle-rowband-size:0;
mso-tstyle-colband-size:0;
mso-style-noshow:yes;
mso-style-priority:99;
mso-style-parent:””;
mso-padding-alt:0in 5.4pt 0in 5.4pt;
mso-para-margin-top:0in;
mso-para-margin-right:0in;
mso-para-margin-bottom:10.0pt;
mso-para-margin-left:0in;
line-height:115%;
mso-pagination:widow-orphan;
font-size:11.0pt;
font-family:”Calibri”,”sans-serif”;
mso-ascii-font-family:Calibri;
mso-ascii-theme-font:minor-latin;
mso-hansi-font-family:Calibri;
mso-hansi-theme-font:minor-latin;}

میں اور الیاس کاشمیری مرحوم !

March 1, 2014 at 4:10pm

 مولوی ھونا یا مولوی کا بیٹا ھونا ! ایک ھی درجے کا جھٹکا دیتا ھے ! آپ اللہ سے ڈریں یا نہ ڈریں لوگوں سے ڈرنا واجب ھو جاتا ھے ! لوگوں سے ڈرنا اس وجہ واجب نہیں ھو جاتا کہ لوگ بہت پرھیز گار ھیں ،بلکہ اس لئے کہ لوگ آپ کو امام بناتے ھی اس وجہ سے ھیں کہ آپ روحانی طور پر صحتمند ھیں اور قربانی صحتمند جانور ھی کی لگتی ھے ! ویسے تو مولوی ، مولوی ھی ھوتا ھے گنہگار ھو یا بے گناہ ! کیونکہ گوشت یعنی سالن جل بھی جائے تو سالن ھی کہلاتا ھے دال نہیں بن جاتا ! ویسے تو کل بنی آدم خطاؤن،، و خیر الخطائین توابوں کے فرمانِ نبویﷺ کے مطابق ،آدم کے ھر بیٹے سے خطا ھوتی ھے اور خطا کاروں میں بہترین وھی ھیں جو پلٹ آتے ھیں ! مگر امام صاحب کی خطا کا ریٹ بھی ایک کے سات سو لگتا ھے،جبکہ عوام اپنا گناہ سستا بیچ دیتے ھیں یعنی ایک کے دس ،، اس معاملے میں وہ بہت انکساری سے کام لیتے ھیں ! امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ھیں کہ عام آدمی کا گناہ چھپانا واجب جبکہ عالم کا گناہ چھپانا فرض ھو جاتا ھے کیونکہ لوگ اس سے دلیل پکڑتے اور گناہ پر جری ھوتے ھیں ! خیر گنہگار تب تک ھی کام کی چیز رھتا ھے جب تک اسے احساس رھتا ھے کہ وہ گنہگار ھے ! اس احساس کے تحت اللہ پاک اسے اپنی رحمت کے آئی سی یو وارڈ میں رکھتا ھے اور اس کے قلب کا دورہ کرتا رھتا ھے،، مگر جب وہ سمجھتا ھے کہ وہ گنہگار نہیں ھے تو اللہ بھی اسے آئی سی یو سے جنرل وارڈ میں شفٹ کر دیتا ھے جہاں ھاؤس جاب والے ھی اسے ڈیل کرتے ھیں،، بندے کو یہ گھمنڈ ھو جائے کہ وہ نیک ھے یا یہ گمان ھو جائے کہ وہ بے گناہ ھے ! نتیجہ دونوں کا رب کی رحمت سے دوری ھے !! قصہ ابلیس اس معاملے میں ایک عبرت ناک مثال ھے،، سجدے سے اسے اس گھمنڈ نے روکا کہ وہ آدم سے بہتر ھے،، تو توبہ اسے اس گمان نے نہیں کرنے دی کہ اس کی تو کوئی غلطی ھے ھی نہیں توبہ کس بات کی ؟ مولوی جب خود نیک بن کر اور گناہگاروں کا وکیل بن کر تصور میں کالا کوٹ پہن کر رب کی عدالت میں پیش ھوتا ھے تو دھتکار دیا جاتا ھے، مگر جب خود کو بڑا پاپی سمجھ کر پاپیوں کے ساتھ جھکی اور ندامت زدہ آنکھوں کے ساتھ ،، شرمسار دل اور ضمیر کے ساتھ مجرم بن کر اللہ کے سامنے پیش ھوتا ھے تو پھر اپنے ساتھ دوسروں کی بخشش کا سامان بھی کر دیتا ھے ! ایک اللہ والے کے پاس بستی والے حاضر ھوئے کہ ” حضرت قحط سالی نے تباہ و بدحال کر کے رکھ دیا ھے – آپ اللہ کے مقبول و محبوب بندے ھیں ، اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ ھمیں اور ھماری خطائیں معاف کر دے ! وہ چونکہ اصلی اللہ والا تھا، اور اللہ پاک کا مزاج شناس تھا،، وہ تڑپ اٹھا ،، اس نے کہا لوگو ! جس کے کئے پر پکڑے گئے ھو اسی کو سفارشی بنانے چلے آئے ھو ؟ میں نے مانگا تو بارش کی بجائے لاوا برسے گا ! مجھے اس بستی سے نکل جانے دو پھر اللہ سے مانگو گے تو بارش برسا دے گا ! اس نے اپنے کپڑے سمیٹ کر ایک تھیلے میں ڈالے جوتے پہنے اور رو رو کر اللہ سے دعا کی ” یا اللہ میرے گناھوں کی سزا ان معصوموں کو نہ دے ،، میں یہ بستی چھوڑ رھا ھوں ،میری وجہ سے روٹھی ھوئی رحمت کو ان کی طرف متوجہ کر دے ،،بزرگ کے ساتھ لوگ بھی رو رھے تھے کہ آسمان بھی رو پڑا،، اس طرح ٹوٹ کر رحمت برسی کہ جل تھل کر دیا ! نہ صرف سات آسمان بلکہ خود اللہ کے ڈیرے بھی انسان کے اندر ھیں ،، حدیث قدسی میں فرمایا ھے کہ میں زمین آسمان میں نہیں سماتا مگر بندہ مومن کا قلب مجھے سمو لیتا ھے ! بارش انسان کے اندر سے برستی ھے اور اندر سے ھی روکی جاتی،، جب تک انسان کی آنکھ نم رھتی ھے آسمان بھی نمناک رھتا ھے،، جب انسان کے اندر شقاوت اور سختی پیدا ھوتی ھے تو آسمان بھی سختی اور خشکی سے تڑخ تڑخ جاتا ھے ! خیر عرض کر رھا تھا کہ گنہگار دو قسم کے ھوتے ھیں ایک تو وہ جو گنہگار ھوتے بھی ھیں اور اپنے آپ کو سمجھتے بھی ھیں،، دوسرے وہ جو گنہگار ھوتے تو ھیں مگر اپنے کو گنہگار سمجھتے نہیں بلکہ آداب کی وجہ سے انکساری کا اظہار کرتے ھوئے اپنے کو گنہگار کہتے ھیں اور اس پر بھی اجر کے امیدوار ھوتے ھیں کہ انہوں نے گنہگار نہ ھوتے ھوئے بھی گناہ کا اعتراف کیا ھے،جس طرح آپ مشین پہ بل جمع کراتے ھوئے بڑا نوٹ جمع کرا دیں تو مشین ایکسٹرا پیسے ایڈوانس آپ کے اکاؤنٹ میں جمع کر دیتی ھے ! دعا مانگنے کا مزہ اصلی گنہگار کے پیچھے ھی آتا ھے،، نہ کہ اس کے پیچھے جو دعا کو احسان چڑھا کر مانگ رھا ھو ! جس طرح اصلی مریض کی چیخ و پکار اور درد سے تڑپنا دوسرے انسان کے رونگٹے کھڑے کر دیتا ھے یہی کیفیت اصلی گنہگار کے ساتھ کھڑے ھو کر ھوتی ھے ! حج کے دوران میدان عرفات میں تھے ،، 3 بجے کے لگ بھگ ھم دو تین ساتھی باھر نکلے کہ جبلِ رحمت کی طرف چلیں ! خیمے سے نکل کر کوئی 200 گز دور گئے ھونگے کہ اچانک رونے دھونے اور چیخ و پکار کی آوازیں کان میں پڑیں ،، سوچا کوئی حاجی بےچارہ اللہ کو پیارا ھو گیا ھے ،، پاس جا کر دیکھا تو مجمع لگا ھوا تھا، ایک موٹا تازہ اور لمبا دھڑنگا گنہگار رو رو کر اور بلک بلک کر اللہ سے معافیاں مانگ رھا تھا،، وہ اردو میں دعا کراتے کراتے اچانک پنجابی میں دہائی دینے لگتا ،، بس جناب دل کے سوتے کھل گئے سوچا رحمت تو ادھر برس رھی ھے ھمارے خیمے کے پاس ،، چونکہ وہ بھی بار بار مٹی اٹھا کر اپنے سر پر ڈال رھے تھے ھم نے بھی ریت کی مٹھی بھری اور سر پر ڈال کر شروع ھو گئے،، رونے میں ھمیں بچپن سے کمال حاصل تھا، ماسٹر حسن اختر صاحب دوسری صف کو مار رھے ھوتے تھے اور ھم سامنے کی صف میں ایڈوانس رو رھے ھوتے تھے ! دعا جب ختم ھوئی تو میں اس گنہگار کے ھاتھ چومنے کے لئے آگے بڑھا جس نے ھمیں دھوبی کی طرح نچوڑ کر گند نکال دیا تھا،، اگر وہ ” گنــد "ھم میدانِ عرفات سے بھی واپس لے آتے تو پھر وہ کسی لانڈری میں نہیں دھل سکتا تھا ! پاس پہنچے تو پتہ چلا کہ ” آنجناب ” کا نام الیاس کاشمیری تھا جو غالباً پنجابی فلموں کے ولن تھے اور بڑے قد آور شخص تھے ! بس جو مزہ الیاس کاشمیری کے پیچھے دعا میں آیا وہ پھر کبھی نصیب نہ ھوا اگرچہ کئ چکر عرفات کے لگ گئے مگر کوئی الیاس کاشمیری نہ ملا جو ھمیں نچوڑتا ! مولوی کی اولاد ھونا بھی ایک مسئلہ ھے،، آپ گناہ سے اس لئے نہیں بچتے کہ وہ بری چیز ھے، بلکہ اس لئے بچتے ھیں کہ آپ امام صاحب کے بیٹے ھیں ! اسی طرح نیکی کو نیکی سمجھ کر نہیں کرتے بلکہ اس لئے کرتے ھیں کہ آپ امام صاحب کے بیٹے ھیں،، بس گویا نیکی ایک چونگی ھے یا ٹول ٹیکس ھے جو آپ کو مولوی کا بیٹا ھونے کے ناطے ادا کرنا ھے،، آپ کرکٹ نہیں کھیل سکتے کیونکہ لوگ کیا کہیں گے کہ مولوی کا بیٹا ھو کر کرکٹ کھیلتا ھے ! آپ ٹوپی سر سے ھٹا کر اپنے کنگھی کردہ ریشمی بال کسی کو نہیں دکھا سکتے کیونکہ آپ امام صاحب کے بیٹے ھیں،، بلکہ سر کو ھر وقت اس طرح کس کر باندھے رکھنا ھے جس طرح دیہات میں لوگ پنجیری والے گڑوے کا منہ کپڑے سے کس کر باندھتے ھیں،، ھاں اگر ابا جی کو مسجد سے فارغ کر دیا جائے تو اب آپ بھی آزاد ھیں،، یا محلہ تبدیل کر لیں تو پھر کوئی مسئلہ نہیں ! بچہ بچہ ھوتا ھے امام صاحب کا ھو یا وسیم اکرم کا ،،اس کا دل بچہ ھوتا ھے، اللہ نے اسے جو گریس پیریڈ دیا ھے ،جس میں وہ مرفوع القلم ھے اس کی برائیوں کی ابھی فائل نہیں بنی،، اس عرصے میں اسے اپنا بچپن انجوائے کرنے دیجئے ورنہ ابنارمل بچپن آگے چل کر مسائل پیدا کرتا ھے، اور پھر جب ایسا بچہ مولوی بنتا ھے تو دل پشوری کرنے کے لئے وھی کچھ کرتا ھے جو ھمارے بدعتی مولوی میلاد کے نام پر ھر سال نئے نئے میلے ٹھلے ایجاد کرتے ھیں ! یہ ان کاکچا پکچا  بچپن ھی ھے جو دین کو بگاڑ کر خراج وصول کر رھا ھے !