Home / Islam / اسلام میں جرم و سزا کا قانون !

اسلام میں جرم و سزا کا قانون !

اسلام میں جرم و سزا کا قانون !

June 6, 2013 at 1:51am

ضیاء الحق کا زمانہ تھا، حدود آرڈی نینس اپنے تخلیقی مراحل میں تھا، ضیاء صاحب سنگساری کی سزا کو جاری نہیں کرنا چاھتے تھے اور صرف سزائے موت کے مبہم لفظ سے کام چلانا چاھتے تھے ،،مگر پاکستانی علماء تھے کہ سنگساری سے کم کچھ قبول کرنے کو تیار نہ تھے،، ضیاء الحق صاحب کو ان کے اسلامی امور کے مشیر  جناب مولانا راجہ ظفر الحق نے مشورہ دیا کہ عرب علماء کو انوالو کر لیا جائے تو پاکستانی علماء پریشر میں آ کر مان لیں گے،، حکومتی خرچے پر جناب شیخ الازھر طنطاوی صاحب کو بلوایا گیا ،،اور انہوں نے پیسے حلال کرتے ھوئے ایئر پورٹ پر ھی بیان داغ دیا کہ اسلام کا مقصد سزائے موت دینا ھے، چاھے کسی طریقے سے بھی دے دی جائے،، مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ سی ایم ایچ راولپنڈی میں داخل تھے،، آپ نے بھی طنطاوی کا طنطنے سے بھرا بیان پڑھا، اور اس کا انتظار کرنے لگے،، طنطاوی صاحب مفتی صاحب کی عیادت کو آئے یا لائے گئے تا کہ وہ مفتی صاحب کو قائل کریں ! ابتدائی سلام دعا کے بعد مفتی صاحب نے طنطاوی سے فرمایا،، میں نے اپ کا ائیرپورٹ والا بیان پڑھا ھے،کہ اسلام بندے کو مارنا چاھتا ھے،،طریقہ کوئی سا بھی اختیار کیا جا سکتا ھے،، طنطاوی سنتا رھا،، آپ نے فرمایا یہ سوچ کا فرق ھے،جو ھمارے موقف کا فرق بن گیا ھے،،اسلام بندے کو مارنا نہیں چاھتا،،بندے کو بچانا چاھتا ھے،مارنا ھوتا تو تلوار اس وقت بھی موجود تھی،ایک وار سے سر اڑایا جا سکتا تھا،،پھر کیا وجہ ھے کہ ایک رحیم اور کریم ھستی سنگسار پر اصرار کرتی ھے؟ بات کو جاری رکھتے ھوئے مفتی صاحب نے تفصیل بیان کی،، کہ شیخ صاحب، اگر جھوٹے گواہ تیار کر لیئے گئے، یا جج کو خرید لیا گیا،، پھر جب سزا کے نفاذ کا وقت آئے تو اسلام گواھوں کی موجودگی اور جج کے پہلا پتھر مارنے پر اصرار کیوں کرتا ھے،، تا کہ موقعے پر اس اذیت ناک صورتِ حال میں گواھوں میں سے کوئی اللہ کے ڈر سے کانپ جائے گا اور وہ چیخ اٹھے گا کہ بس کرو یہ بیگناہ ھے،، یا جج کا ضمیر جاگ جائے اور وہ سزا رکوا دے،کہ یہ بندہ بے گناہ ھے،میں نے جان بوجھ کر سزا دی ھے،، اب جناب شیخ صاحب دو چار ،یا دس بارہ پتھروں کے بعد گواھوں میں سے کسی ایک کے مکر جانے پر سزا روک دی جائے گی اور بندہ بچ جائے گا،، لیکن اگر آپ والی گولی مار دی گئی یا سر اڑا دیا گیا ، یا پھندے پر لٹکا دیا گیا،، تو کیا گواھوں کے مکرنے کا کوئی فائدہ اس مقتول کو ھوا،،؟ محفوظ ترین اور فول پروف طریقہ نبیﷺ کا ھے یا آپ لوگوں کا؟ بس اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رھی،طنطاوی صاحب بھی مفتی صاحب کے ھم خیال بن گئے اور شام کی فلائٹ سے واپس روانہ ھو گئے

!

اس مثال کو سامنے رکھ کر آپ ابھی سے کوئی رائے مت قائم کریں خاص کر مزارِ قائد گینگ ریپ کے سلسلے میں ! موجودہ چپقلش جو علماء ھی کے طبقے میں شروع ھوئی ھے، کہ کسی کو سنگسار کی سزا دینے کے لئے چار گواھوں کی ضرورت ھے یا یہ کام ڈی این اے سے بھی چل سکتا ھے،یہ ایک نیا اور الگ موضوع ھے،، میں چاھتا ھوں کہ سلیس انداز میں عوام کو بھی مطلع کیا جائے کہ اسلام میں سزاؤں کا پسِ منظر اور پیش منظر کیا ھے ؟ اور علماء اپنے اپنے موقف پر کیوں ڈٹے ھوئے ھیں،،اگر یہ حضرات ایک دوسرے کے پاس خلوصِ نیت اور صدقِ دل سے بیٹھ جائیں، اور اپنی اپنی بات ایک دوسرے کے سامنے رکھ کر بات کریں تو امید ھے کہ دونوں کسی متفقہ حل تک پہنچ سکتے ھیں، مگر کہیں نہ کہیں،،میں بڑا،میں بڑا  والی بات پسِ منظر میں ھے،عوام سمجھیں یا نہ سمجھیں علماء کو مغالطہ نہیں لگ سکتا،، یہ کیسے ممکن ھے کہ ڈرائیور ،ڈرائیور کو لوکیشن سمجھائے اور دوسرے ڈرائیور کو سمجھ نہ لگے؟

اسلام میں جرم و سزا،

اسلام سب سے پہلے اپنی اخلاقی اور انتظامی ھیئت سے ایک ایسا صالح معاشرہ تشکیل دیتا ھے جس میں جرم ایک استثنائ صورت رہ جاتی ھے،جو کبھی کبھار ظہور پذیر ھوتی ھے،اور اسلام اس کا سدِ باب کرتا ھے،، مثلاً اسلام اپنے معاشی نظام سے لوگوں کی بنیادی ضرورتوں کی کفالت کرتا ھے،،وہ روٹی ،کپڑا ،مکان، صحت، تعلیم کے اخراجات کا ضامن بنتا ھے،،جہاں وہ اضطرار وقوع پذیر ھی نہ ھو کہ کوئی چوری پر مجبور ھو،، اگر پھر بھی کوئی چوری کرتا ھے تو اسلام پھر بھی اس کا ھاتھ نہیں کاٹتا ،اس سے اس کیفیت کے متعلق دریافت کرتا ھے کہ اس نے کن حالات میں چوری کی اور اگر حالات اسے مجبور کر دیں تو اسلام اس کو معاف کر دیتا  ھے اور جس کا نقصان ھوا ھے وہ نقصان بیت المال سے پورا کرتا ھے،کیونکہ بیت المال ھی وہ پول ھے جس میں ھرشخص زکوۃ کی صورت میں اور مالِ غنیمت کی مد میں اپنا حصہ محفوظ کرتا ھے ،،

اسی طرح اسلام ستر وحجاب کے قوانین کے ذریعے ،اور مرد و زن کے مخلوط اجتماع کی ممانعت  کے ذریعے نیز قابلِ شادی نوجوانوں کے جلد از جلد کرا دینے کے حکم کے ذریعے فحاشی کو کنٹرول کرتا ھے، اس کے باوجود اگر کوئی کسی کے معاشقوں کی داستانیں اور افسانے سناتا ھے تو پھر اسلام اس سے چار معتبر اور صالح گواہ طلب کرتا ھے،تا کہ مجرم کو سزا ملے اور آئندہ کوئی اس جرم کا ارتکاب نہ کرے،یا اگر الزام لگانے والا جھوٹا ھے تو اسے بھی سزا ملے تا کہ آئندہ اس قسم کی افواہ سازی کی فیکٹری کو بند کیا جائے،، گواھوں سے فعل بد کی تفصیل لی جائے گی،،مجرد ایک کمرے مین دیکھا ،یا کمرے سے نکلتے دیکھا ،، یا بوس و کنار کرتے دیکھا،یا ننگے دیکھا ک
وئی گواھی نہیں ھے،، اور نہ اس پر کسی کو سنگسار کیا جائے گا،، جب فعل کا وقوع اس تفصیل سے بیان نہ کیا جائے،جو تفصیل حدیث میں موجود ھے،،  اس کے بعد الزام لگانے والا فاسق قرار دے کر آئندہ گواھی  کے نصاب سے خارج کر دیا جاتا ھے،،نہ وہ کسی نکاح میں اور نہ خرید و فروخت میں گواہ بن سکتا ھے، اور یہ ایسی رسوائی ھے کہ پھر کبھی کوئی افسانہ بازی کرنے کی کوشش نہیں کرے گا !

یہ صورت ، واقعہ افک میں پیش  آئی تھی اور اسی قسم کی صورتِ حال میں چار گواہ طلب کیئے گئے ھیں،،یعنی چار گواھوں والا قانون لاگو ھو گا کسی پر عشق معشوقی اور بدکاری کا الزام لگانے والے واقعے پر !

اس میں علماء کا موقف بالکل ٹھیک مگر غلط جگہ ایپلائی کیا جا رھا ھے،،گویا دردِ سر کی پٹی گھٹنے پر باندھی جا رھی ھے ،،

دوسری صورت یہ ھے کہ کوئی خود اپنی عصمت دری کی فریاد کرے ، اپنے مجرم کو پہچانے !!

یہ صورت بھی دورِ نبوی میں پیش آئی ھےجس کا ذکر بخاری سمیت صحاح ستہ کی ساری کتب میں موجود ھے، کہ فجر کی نماز پڑھنے جانے والی خاتون سے کسی نے زیادتی کی اور شور مچانے پر بھاگ نکلا ، جب ایک نمازی اس خاتون کے پاس آیا اور اس سے استفسار کیا تو اس نے بتایا کہ اس کے ساتھ زیادتی کی گئی ھے اور مجرم اس طرف بھاگا ھے،، وہ نمازی اس مجرم کے پیچھے بھاگا،، اتنی دیر میں اور لوگ بھی آ گئے اور عورت نے ان کو بھی واقعہ بتا کر اسی سمت دوڑا دیا،،وہ لوگ دوڑے اور اس پہلے نمازی  بے چارے کو پکڑ لائے جو اس عورت کے  بتانے پر سب سے پہلے بھاگا تھا،، اب عورت نے بھی کہہ دیا کہ ھاں یہی بندہ تھا،، اس بے چارے نے بہت فریاد کی کہ میں تو اس مجرم کو پکڑنے گیا تھا،تم لوگ مجھی کو پکڑ لائے ھو،،اب نبی کریم ﷺ  نے نہ تو اس خاتون کو یہ حکم دیا کہ چار گواہ لاؤ اور نہ ھی اسلامی ریاست میں کبھی کسی ایسی فریادی عورت سے چار گواہ طلب کئے ،، یہ وہ خلا ھمارے حدود آرڈی نینس میں کہ جو ھماری بدنامی کا باعث بنا ھوا ھے،، نبی کریم نے مجرد اس عورت کے قول پر اس شخص کو رجم کی سزا سنا دی ،، جب اسے رجم کیا جانے لگا تو اصلی مجرم جو مجمعے میں موجود تھا ،اللہ کے ڈر سے کانپ گیا کہ ایک تو جرم زنا کا کیا،اب یہ قتل بھی میرے ذمے لگ جائے گا،،وہ بے ساختہ پکارا اس عورت کا مجرم میں ھوں ائے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم،، آپ نے عورت کی طرف دیکھا اور فرمایا ” اللہ تجھے معاف کرے” اور اس کے بعد اقراری مجرم کو بھی بخش دیا،،، اس دل دھلا دینے والے واقعے کے بعد بھی آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ ائے مومنو ! آئندہ جب کوئی عورت اپنے ساتھ زیادتی کی فریاد لے کر آئے تو اس سے چار گواہ طلب کرو،کیونکہ ابھی ابھی میں ایک عورت کی غلطی کی وجہ سے ایک معصوم کی جان لینے لگا تھا!! یہ موقعہ تھا کہ اگر چار گواھوں کی شرط لگائی جا سکتی تھی تو لگائی جاتی ،، جب اللہ کے رسول نے یہ شرط نہیں لگائی تو پھر قیامت تک کوئی چھوٹا یا درمیانہ یا بڑا مفتی نہیں لگا سکتا،،چار گواھوں کی شرط جس موقع اور محل کے لئے ھے وہ اسی جگہ استعمال ھو سکتی ھے،،

یہ صورت حال تابع ھے سورۃ المائدہ کی آیت نمبر33 اور 34 کے ،،جو اسلامی سزاؤں کے ضمن میں ایک مرکزی حیثیت رکھتی ھے اور اسی آیت سے رجم کی سزا لی گئی ھے،،اگر اس آیت پر کما حقہ غور فرمایا جاتا تو خواہ مخواہ آیتِ رجم گھڑ کر قرآن کے ناقص ھونے کی بات نہ کی جاتی،، اس آیت میں ایک پورا پیکیج ھے سزاؤں کا،،جب کسی کو سخت ترین سزا دینی ھو تو اس پر اس آیت کی دفعہ لگائیں اور پھر چاھیں تو پورا پیکج اس پر نافذ کر دیں اور چاھیں تو کوئی ایک آدھ سزا چن لیں ،یہ قاضی کی صوابدید اور مجرم کے ڈھیٹ پن پر منحصر ھے، اس میں فساد فی الارض اور حرابہ کی دفعہ ذکر کی گئی ھے،، ڈاکہ زنی، رسہ گیری،عصمت دری،گینگ ریپ، وغیرہ اس کے تابع ھیں،، اس مٰن اپ چند باتیں نوٹ فرمائیں،،عصمت دری کا مجرم شادی شدہ ھو یا کنوارہ اسے قتل کیا جائے گا،، یہی وجہ ھے کہ جناب رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے  اس بات کی تحقیق نہیں فرمائی کہ وہ کنوارا ھے یا شادی شدہ،، اور نہ عورت  سے چار گواہ طلب کیئے،، نیز اگلی آیت 34 جو کہہ رھی ھے کہ ایسا مجرم اگر قانون کی گرفت میں آنے سے پہلے توبہ کر لے اور اپنے کو قانون کے ھوالے کر دے تو ریاست اس کے خلوص کو دیکھتے ھوئے اور دیگر ایسے لوگوں کو سرنڈر پر آمادہ کرنے کے لئے اس کو معاف کر سکتی ھے،،لہٰذا نبی کریم فداہ ابی و امی  نے دوسرے اعتراف کرنے والے کو اسی آیت 34 کے تحت معاف فرما دیا ، اور صحابہ کے استفسار پر فرمایا کہ اس نے وہ توبہ کی ھے جو پورے مدینے کے لئے کافی ھے،،گویا الاۜ الذین تابوا

من قبلِ ان تقدروا علیھم ،کا اطلاق فرمایا !! جو لوگ اس کو بہتان یا الزام کے تناظر مین دیکھ رھے ھیں وہ گواھوں کی بات کر رھے ھیں،،اور وہ غلط ھیں کیونکہ الزام کسی دوسرے فریق پر تیسرے فریق کے بارے میں لگایا جاتا ھے،،جیسے عبداللہ ابن ابئ نے حضرت عائشہؓ پر حضرت صفوان بن معطلؓ کے بارے میں لگایا تھا،،گویا تین فریق ھو گئے،،ایک ملزم دوسری ملزمہ اور تیسرا وہ فریق جو متاثرہ فریق ھی نہیں ھے،، جبکہ عصمت دری یا گینگ ریپ میں دو فریق ھیں،،ظالم اور مظلوم،، وہ متأثرہ فریق ھے،،آپ اس پر چار گواھوں کا بوجھ کیسے  ڈال سکتے ھیں؟

اب چلئے پاکستان کی عمومی صورت حال کی طرف،جہاں ننگے ناچ سارا دن کسی نہ کسی بہانے چلتے رھتے ھیں،، بےحیائی کا یہ عالم ھے کہ پورا ملک ایک کلب کا منظر پیش کرتا ھے،، انٹر نیٹ
نے تو لٹیا ھی ڈبو دی ھے،،دوسری طرف معاشی طور پر لوگ جان بچانے کے لئے چوری پر مجبور ھو گئے ھیں،، ان حالات مین اسلامی سزاؤں پر عملدرآمد بذاتِ خود ایک سوالیہ نشان ھے،، ان حالات میں ھاتھ کاٹنے کی سزاؤں کا نفاذ پاکستانیوں کا یہ حال کر دے گا ،کہ ان کو پاسپورٹ کی ضرورت ھی نہیں پڑے گی،،ان کا کٹا ھاتھ ھی بتا دیا کرے گا کہ بندہ پاکستانی ھے ! سب سے پہلے اپنی اخلاقی اور معاشی صورتحال کو اس سطح پر لے جائیں کہ جرم استثناء رہ جائے !!

بالجبر میں تو میں حدیث کا حوالہ دے چکا ھوں کہ نبیﷺ نے آدمی کے انکار کے باوجود نہ صرف اسے سنگسار کرنے کا حکم دیا بلکہ اس سے یہ تک پوچھنا گوارہ نہیں کیا کہ وہ شادی شدہ ھے یا غیر شادی شدہ ،، دوسری بات یہ کہ چار گواھوں کی نسبت ایک لیبارٹری ٹیکنیشن کو خریدنا آسان بھی ھے اور سستا بھی ،، ڈی این اے رپورٹ بدلی ھونے کا واقعہ میرے سامنے گزرا ھے،، لہٰذا اسلام عورت کی فطرت پر بھروسہ کرتا ھے،،فطرۃ اللہ التی فطر الناس علیہا ،کہ عورت عموماً اپنی عزت کے معاملے میں زیادہ حساس ھوتی ھے،،وہ اپنے اوپر الزام لگا کر کہ میرے ساتھ اتنے مردوں نے زیادتی کی ھے،اپنا مستقبل تاریک کیسے کر سکتی ھے؟ پھر اس کے ساتھ ساتھ اس کے والد اور بھائیوں،چچاؤں،الغرض پوری برادری کی غیرت کا معاملہ ھے،، تو گویا یہ ساری باتیں عورت کی گواہ ھیں، مجرد ان پر بھروسہ کیا جائے گا،،

زنا بالجبر اور زنا بالرضا میں زمین آسمان کا فرق ھے،، یہ فرد کا فرد سے تعلق ھے جبکہ دوسرا سوسائٹی پر حملہ ھے،،زنا بالرضا میں چھپانے کا حکم دیا گیا ھے کہ اگر ایک باپ اپنی بیٹی یا بیٹے سے اس جرم کے ارتکاب کا شاھد ھے،،تو کسی تیسرے کو اس کی خبر نہ دے،،بلکہ چھپا لے، خود نبی کریمﷺ کے زمانے مین ایک باپ نے اپنی بیٹی کا پردہ چاک کیا تو نبی پاکﷺ غصے اور غیرت سے سرخ ھو گئے اور فرمایا” تم بدترین باپ ھو،تمہاری بیٹی اس بات کی زیادہ حقدار تھی کہ تم بحیثیت باپ اس کے گناہ کو چھپاتے،، اس لئے زنا بالرضا اقرار سے ھی ثابت ھو سکتا ھے ورنہ گواہ ان تفصیلات و شرائط کو پورا کر ھی نہیں سکتے جو نبیﷺ نے اقرار کرنے والے سے پوچھی ھیں،، اچھا اس میں بھی اسلام کا یہ شرف ھے کہ وہ دوسرے پارٹنر کا نہیں پوچھتا ،،جس نے اقرار کیا ھے ،اسی کو سزا دیتا ھے،،اقرار والے کو بھی دوران سزا مکرنے کا حق حاصل رھتا ھے اور اس کا مکرنا گواہ کا مکرنا سمجھا جاتا ھے اور اس کو 80 کوڑے مار کر چھوڑ دیا جاتا ھے،،

جب علماء حضرات زنا بالجبر اور زنا بالرضا کو الگ سمجھتے ھی نہیں حالانکہ دونوں کے بارے میں اللہ کے نبیﷺ کا واضح طور پر الگ الگ رویہ ھے ! ایک کو سورہ نور کی روشنی میں دیکھتے ھیں،،جس میں گواھوں کی طلبی اصلاً افواہ سازوں کا منہ بند کرنے کے لئے ھے؟ ورنہ کوئی چار گواہ اس حالت میں کسی کو دیکھ سکتے ھی نہیں،جسطرح نبی ﷺ دیکھنا مانگتے ھیں؟ پھر سورہ نور کی اگلی ھی آیت میں فرمایا کہ تم نے سنتے ھی کیوں نہیں کہہ دیا کہ ،ھم تو اس موضوع پر بات کرنے کو ھی تیار نہیں،،اے اللہ تو پاک ھے،یہ تو بہت بڑا بہتان ھے،، جب کہ ریپ میں آپ نے نہ تو گواہ طلب کیئے اور نہ شادہ شدہ اور غیر شادی شدہ کی تحقیق فرمائی،، evidence ھمارے سامنے ھے ،، اس مواد سے اگر علماء کوئی اور نتیجہ نکالتے ھیں تو جی بسم اللہ ،،مگر ھم اس سے جو نتیجہ اخذ کر رھے ھیں،،اسے اسی قسم کے ثبوت سے ھی رد کیا جا سکتا ھے،،اسی لئے علماء کو قران میں رجم نہیں ملتا،کیونکہ رجم زنا کی سزا ھے ھی نہیں،،وہ تو قرآن بتا رھا ھے کہ 100 کوڑے ھے،، رجم کرنا،،یا سولی دینا،، یا امنے سامنے کے ھاتھ پاؤں کاٹنا،، قتِۜلواتقتیلاً کی عملی صورت ھے،، جس میں کوئی اور خوفناک اور دھشتناک سزا بھی شامل کی جا سکتی تھی،،، اگر آپ فساد فی الارض اور اللہ رسول سے جنگ کی دفعہ نہیں لگائیں گے تو ان میں سے کوئی بھی زنا کی سزا نہیں ھے،، نیز سود کے بارے میں جو فرمایا ھے کہ اعلان جنگ ھے اللہ اور رسول کی طرف سے،،تو المائدہ کی اسی آیت کی دھمکی دی گئی ھے کہ پھر وہ دفعہ” یحاربون اللہ و رسولہ والی لاگو کر دیں گے،، گویا اس ایت کی کوڈیفیکیشن مین سود کو بھی ڈالا جا سکتا ھے،، اور سودی کاروبار کرنے والو نیز،، کرپشن کو بھی عربی میں فساد المالی کہتے ھیں، اس کو بھی اس آیت کے ضمن میں رکھ کر ،ان کو یہ ھاتھ پاؤں کاٹںے والی یا چائنا کی طرح کرینوں سے لٹکایا جا سکتا ھے،،میں دیکھتا ھوں ایک ماہ میں کرپشن، سود ،اور ریپ ختم ھوتا ھے یا نہیں ! کریمینل جرائم کی سزا کے تعین میں سورہ المائدہ کی یہ آیت 33 اور 34 قانون سازی کی ماں ھے،،کاش حدود آرڈی نینس کے لکھنے والے اس پر کما حقہ غور فرما لیتے تو آج اس مخمصے کا شکار نہ ھوتے !

بات یہ ھے کہ گواہ صرف الزام لگانے والوں کا منہ بند کرنے کا ایک ذریعہ ھے،،! اسلامی دور میں یا تو سزا اقرار پر ھوئی ھے یا حمل پر ھوئی ھے،، گواہ اور وہ بھی چار اور جو معیار ھے، ؟ شاید پورے پاکستان میں چار ھی بندے ھوں گے اس اسٹنڈرڈ کے،،کیونکہ لفظ فاسق کے ساتھ گواھی رد کی گئی ھے۔کہ یہ فاسق ھیں ان کی گواھی قبول نہ کی جائے،، اب پہلے تو سارے مولوی کراچی سے خیبر تک اور مکہ سے جکارتہ تک اس پر تو اتفاق کریں کہ فاسق کون ھے،، علمائے دیوبند کے نزدیک چیف جسٹس چوھدری افتخار کی گواھی نا قابلِ قبول ھے،کیونکہ وہ فاسق ھیں ان کی داڑھی نہیں ھے ،،ھو بھی تو مشت سے چھوٹی ھو تو بھی فاسق ھے،،یہ ھی فتوی اھلِ حدیث کا ھے جس کی بیوی بے پردہ ھے ،فاسق ھے، جس کی بیوی کی آواز غیر مرد گھر
سے باھر سنیں وہ فاسق ھے،جو گانا سنتا ھے فاسق ھے،،جو نماز جماعت سے نہیں پڑھتا فاسق ھے،، اب کون دیانتدار بندے ڈھونڈ کر لائے گا کہ بھائی جان ذرا میرے گھر آنا وہ فلاں صاحب میری عزت لوٹیں گے تو اپ ذرا بغور مشاھدہ کرنا کیونکہ کل آپ کو گواھی مین تفصیل بھی بتانی ھے،، عصمت دری میں کسی گواھی کی ضرورت نہیں،،جس طرح بھی جج مطمئن ھو جائے کہ واقعی جرم ھوا ھے،،سزا سنا دے وہ سزا رجم بھی ھو سکتی ھے،، ھاتھ پاؤں کاٹنے کی بھی ھو سکتی ھے،، سولی پر چڑھا کر دو دن لاش لٹکتی بھی چھوڑی جا سکتی ھے،، اس لئے گواھوں کی بحث ریپ کیس میں ایک خلطِ مبحث کے سوا کچھ نہیں اس دھول کے پیچھے ھمارے علماء اس بلنڈر کو چھپانے کی کوشش کرتے ھیں جو حدود آرڈی نینس میں ان سے ھوا ھے،،بہتر یہ ھے کہ اس خامی کو دور کیا جائے،،جب چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے آئین میں ترمیم کی برسات لگی ھوئی ھے تو دین کو بدنامی سے بچانے کے لئے بھی ترمیم کر کے حرابہ میں زنا بالجبر کو بھی شامل کیا جائے ! مگر مجھے یہ بھی پتہ ھے کہ یہ ھو گا نہیں،،کیونکہ اسلام کی بدنامی اور نیک نامی سے علماء کو کچھ لینا دینا نہیں ھے،،ان کا اپنا ڈزنی لینڈ ھے،الگ دنیا ھے،جہاں راوی چین ھی چین لکھتا ھے اور سب کچھ بکتا ھے !

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *