کیا کی روایت فدک صحیح ہے ۔ ( محمد ایف علوی )-
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ وَالْعَبَّاسَ عَلَيْهِمَا السَّلَام أَتَيَا أَبَا بَكْرٍ يَلْتَمِسَانِ مِيرَاثَهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمَا حِينَئِذٍ يَطْلُبَانِ أَرْضَيْهِمَا مِنْ فَدَكَ وَسَهْمَهُمَا مِنْ خَيْبَرَ فَقَالَ لَهُمَا أَبُو بَكْرٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ هَذَا الْمَالِ قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَاللَّهِ لَا أَدَعُ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهِ إِلَّا صَنَعْتُهُ قَالَ فَهَجَرَتْهُ فَاطِمَةُ فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى مَاتَتْ
بخاری ، کتاب الفرائض
عبد اللہ بن محمد، ہشام، معمر زہری، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس رسول اللہ کے (ترکہ میں سے) اپنے میراث مانگنے آئے اور وہ دونوں اس وقت فدک کی زمین اور خیبر کی زمین سے اپنا حصہ وصول کر رہے تھے تو ان دونوں سے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہمارا کوئی وارث نہ ہوگا اور جو کچھ ہم نے چھوڑا وہ صدقہ ہے صرف اس مال سے آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھائیں گے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا خدا کی قسم میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو کام کرتے ہوئے دیکھا ہے اس کو نہیں چھوڑتا ہوں ۔ انہوں نے کہا: ( یہاں قال لفظ ہے جو مذکر کے لئیے استعمال ہوتا ہے، یہاں قال کے بجائے قالت ہونا چاہئیے تھا کیونکہ بات حضرت عائشہ کررہی ہیں ، معلوم ہوتا ہے روایت گھڑنے والے سے یہاں گڑبڑہوگئی ) حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملنا جلنا چھوڑ دیا اور ان سے گفتگو چھوڑ دی یہاں تک کہ وفات پاگئیں۔
قال یعنی انہوں نے کہا ۔۔۔۔ مذکر کے لئے قال اور مونث کے لئے قالت کا استعمال کرتے ہیں چنانچہ یہ حضرت عائشہ کا قول ہو ہی نہیں سکتا۔ (یہ ایسا ہی ہے جیسے انگلش میں کوئ کہہ دے کہ he said اب کوئ پاگل ہی ہو گا جو اس کو ایک خاتون کا قول قرار دے گا)
زہری کی مرسل
زہری کی ایک مرسل کے بارے میں بیہقی فرماتے ہیں
وقد رده الشافعی بکونه مرسلًا وبأن الزهری قبيح المرسل وانا روينا عن عمرؓ وعثمانؓ ما هو اصح منه
امام زہری کے اس بیان کو امام شافعی نے اس بنیاد پر رد کر دیا ہے کہ یہ مرسل ہے اور زہری کی مراسیل بہت قبیح ہیں۔ نیز حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما سے اس کے برعکس فیصلے زیادہ مستند طریقے سے مروی ہیں۔
بيهقی، السنن الکبریٰ، رقم ١٦١٣٢
اسی طرح یحیی بن سعید القطان اور دیگر ائمہ سے زہری کی مرسل کی تضعیف ثابت ہوتی ہے۔ پس ثابت ہوا کہ حضرت فاطمہ کے متعلق بخاری کی یہ روایت ضعیف ہے۔

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *