وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں !
سبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سر گراں کیوں ہو ؟
کِیا غم خوار نے رسوا، لگے آگ اس محبّت کو !
نہ لاوے تاب جو غم کی، وہ میرا راز داں کیوں ہو ؟
وفا کیسی کہاں جب سر پھوڑنا ٹھہرا !
تو پھر اے سنگ دل تیرا ہی سنگِ آستاں کیوں ہو ؟
قفس میں مجھ سے رودادِ چمن کہتے نہ ڈر ہمدم !
گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو ؟
یہ کہہ سکتے ہو “ہم دل میں نہیں ہیں” پر یہ بتلاؤ !
کہ جب دل میں تمہیں تم ہو تو آنکھوں سے نہاں کیوں ہو ؟
غلط ہے جذبِ دل کا شکوہ دیکھو جرم کس کا ہے؟
نہ کھینچو گر تم اپنے کو، کشاکش درمیاں کیوں ہو ؟
یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے ؟
ہوئے تم دوست جس کے، دشمن اس کا آسماں کیوں ہو ؟
یہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیں ؟
عدو کے ہو لیے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو ؟
کہا تم نے کہ کیوں ہو غیر کے ملنے میں رسوائی !
بجا کہتے ہو، سچ کہتے ہو، پھر کہیو کہ ہاں کیوں ہو ؟
نکالا چاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تُو غالبؔ ؟
ترے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو ؟

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *