ھندوؤں کی ایک مذھبی داستان میں کہا گیا ھے کہ ایک دفعہ ایک دیوتا اپنی دیوی جی کے ساتھ ایزی موڈ میں بیٹھا ھوا تھا ، ان کے پاس سے چیونٹوں کی لمبی لائن گزر رھی تھی ،، دیوتا اچانک کھلکھلا کر ھنسا ،جس پہ دیوی نے چونک کر پوچھا کہ کیا ھوا ؟ دیوتا نے کہا کہ کچھ نہیں ،مگر دیویاں جب پیچھے لگ جائیں جو پوچھ کر ھی رھتی ھیں ،، دیوتا نے کہا کہ بس ایسے ھی ،، دیوی جی روٹھ گئیں کہ تم مجھ پہ ھنسے ھو،، اب دیوتا جی کو پیار کے لالے پڑ گئے ، اس نے کہا کہ میں ایک چیونٹے پہ ھنسا تھا ، دیوی نے کہا کہ چیونٹے بھی بھلا ھنسنے کی چیز ھیں ،، ضرور آپ نے میرا مذاق اڑایا ھے !!
دیوتا نے سنجیدگی سے کہا کہ یہ جو چیونٹا ابھی ابھی گزر کر گیا ھے ، یہ سورگ میں 19 بار سورگیوں مہاراجہ اِندر رھا ھے ،، مگر آج یہ گڑ کی خوشبو پہ کس طرح ڈگ بھرتا دوڑتا جا رھا تھا ، یہ بھول گیا کہ کیسی کیسی نعمتوں میں زندگی گزار کر آیا ھے ، آج اس کی دنیا ایک چیونٹے کی معمولی سی خواھش تک سمٹ کر رہ گئ ھے !
عرض ھے کہ یہ ایک نفسیاتی مسئلہ ھے کہ انسان کے ھر دور کی اپنی Compulsions ھیں وہ ان کے Orbit سے نہیں نکل سکتا ، ھستی کی اپنی Properties ھیں جن سے باھر ھم نہیں نکل سکتے اس کی اپنی Gravity ھے جو پھر ھمیں کھینچ کر گرا لیتی ھے ، بقول ساغر صدیقی ؎
میں آدمی ھوں کوئی فرشتہ نہیں حضور — میں آج اپنی ذات سے گھبرا کے پی گیا –
، اسی طرح انسانی زندگی کے ھر دور کی اپنی نفسیات ھیں انسان ان سے باھر نکل کر نہیں سوچ سکتا ،، یہ ایک عملی مگر تلخ حقیقت ھے ، جب ھم بیٹے ھوتے ھیں تو ھم صرف بیٹے کی نفسیات سے سوچ سکتے ھیں ، باپ کی نفسیات سے ھم آگاہ نہیں ھوتے اور والدین کو اپنا دشمن سمجھنا شروع کر دیتے ھیں کہ وہ ھماری خوشیوں کی راہ میں روڑے اڑاتے ھیں،، مگر جب ھم خود باپ بن جانے ھیں تو ہو بہو وھی باپ والا رویہ اپنی کے ساتھ اپناتے ھیں جس سے ھم بطورِ بیٹا نفرت کرتے تھے ، ایک بیٹی اپنی ماں کی ڈانٹ ڈپٹ اور شک شکوک کی روش کو بیشک ناپسند کرتی ھو ، مگر خود ماں بن کر وھی سب کچھ کرتی ھے اور اسے مناسب اور جائز سمجھتی ھے ،، ایک بہو ساس کے جس رویئے کی شاکی ھوتی ھے ،، ساس بن کر وھی سب کچھ اپنی بہو کے ساتھ دُھراتی ھے ،، بحیثیت، بیٹا ،بیٹی اور بہو ھم جتنی مرضی ھے قسمیں کھائیں کہ ھم اپنی اولاد یا بہو کے ساتھ اس طرح نہیں کریں گے مگر وقت آنے پر ھم ٹھیک وھی جائز سمجھ کر کرنا شروع کر دیتے ھیں ، یہی ایک شوھر اور بیوی کی نفسیات ھیں،، شوھر بنتے ھی کچھ نفسیاتی تبدیلیاں واقع ھو جاتی ھیں اور بیوی بنتے ھی اک احساس عدم تحفظ کے اندر پیدا ھو جاتا ھے کیونکہ وہ اپنی متاع کھو دیتی ھے ،، آپ پیسے دکاندار کو دے کر چیز نہ لیں اور آگے چلے جائیں کہ واپس آ کر چیز لے لوں گا ،مگر تھوڑی دیر کے بعد اندیشے آپ کو ستانا شروع کر دیتے ھیں کہ شاید وہ بھول ھی جائے ، یا اس کی جگہ کوئی دوسرا آ جائے ،میرے پاس تو ثبوت بھی نہیں ،، عورت کو بھی یہی خدشہ لاحق ھو جاتا ھے کہ یہ کسی وقت بھی بھول سکتا ھے ،
غریب کی اپنی نفسیات ھیں وہ امیروں کو کوستا ھے کہ وہ خزانے کے منہ کیوں نہیں کھولتے ،،مگر جب خود امیر ھو جاتا ھے تو ٹھیک اسی طرح سانپ بن کر بیٹھ جاتا ھے ، پیدل اور سوار کی اپنی اپنی نفسیات ھیں ،، جب ھم پیدل ھوتے ھیں تو چاھتے ھیں کہ گاڑی والا رکے یا گاڑی آئستہ کرے اور ھمیں گزرنے دے ،مگر جب ھم خود گاڑی چلا رھے ھوتے ھیں تو چاھتے ھیں کہ پیدل رکے اور ھم کو جانے دے ،، ھم جس اشارے پہ ھوتے ھیں چاھتے ھیں کہ وہ جلدی کھلے اور دیر سے بند ھو ،، ھم خود کسی کو سائڈ لائن سے اندر نہیں آنے دیتے اور گاڑی کے بمپر کے ساتھ بمپر جوڑ کر رکھتے ھیں ،مگر جب دوسرا کوئی ھمیں نہ گھسنے دے تو ھمیں بہت غصہ آتا ھے ،،جب ھم لفٹ کے اندر ھوں تو چاھتے ھیں کہ 17 ویں فلور سے گراؤنڈ تک وہ کسی فلور پہ نہ رکے اور اگر رکے تو روکنے والے کو گھور کر دیکھتے ھیں ،مگر جب باھر کھڑے ھوں تو لفٹ کے نہ کھڑا ھونے پہ اسے دل میں گالیاں دیتے ھیں !!
اس قسم کی مریضانہ نفسیات کے ساتھ جب ھمیں حکمرانی ملتی ھے تو ھم حکمرانوں کی جن حرکتوں کی مذمت کرتے ھیں ، خود وھی حرکتیں ھم کو ٹھیک لگنا شروع ھو جاتی ھیں اور روٹین ورک بن جاتی ھیں ،، ھم دوسروں کی ڈکٹیٹرشپ کی مذمت کرتے ھیں ،مگر خود ھمیں جو ایک آدھ وزیرِ اعلی مل جاتا ھے اسے ھر وقت پہلوٹھی کا بیٹا بنا کر ساتھ رکھتے ھیں ،حالانکہ وہ تنخواہ کام کی لیتا ھے اصولاً اسے اپنے دفتر میں ھونا چاھئے تھا ،،
یہ بہت ضروری تھا کہ انسانی زندگی کے ضابطے انسانوں پہ نہ چھوڑے جائیں کہ وہ اپنی اپنی نفسیات کے مطابق اپنے مفاد میں قانون سازی کریں بلکہ اس کے لئے کوئی ایسی غیر جانبدار ھستی ضروری ھے جو انسانی نفسیات سے مبرأ ھو اور تمام انسانیت کا مفاد اسے یکساں عزیز ھو اور وہ سب سے یکساں محبت کرتا ھو،، اور وہ ھستی صرف اللہ ھے ، جو سب کے مفاد کے مطابق عدل پر مبنی قانون دیتا ھے اگرچہ وہ ھمیں کتنا ناپسند ھو مگر وہ انسانیت کی بقا کے لئے نہایت ضروری ھے ،جو قانون ھمیں ظالمانہ لگتے ھیں ،جب ھماری بہو بیٹی کے ساتھ کوئی زیادتی کرے تو وھی عین رحمت لگنا شروع ھو جاتے ھیں !

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *