محبت اور نفرت وہ جذبات ھیں جو اپنی وجہ بتانے کے پابند نہیں ، کسی کی معمولی سی بات پہ اس سے محبت ھو سکتی ھے اور کسی کی معمولی سی حرکت سے اس سے نفرت ھو سکتی ھے ،،
عدالت میں عورت کا ایک سطری بیان کہ ” مجھے اپنے شوھر سے نفرت ھے ،میں اس کے ساتھ نہیں رہ سکتی ” خلع کے جواز کے لئے کافی ھے ،، جج نفرت کی وجہ نہیں پوچھ سکتا ،،
یہی معاملہ ھے محبت کا کہ لوگ اس کی وجوھات تلاش کرنے میں ھلکان ھوتے پھرتے ھیں اور جس کو محبت ھو جاتی ھے اسے خود وجہ معلوم نہیں ھوتی ،، ایک شادی کی تقریب میں مہندی والے دن لڑکیاں اپنے مشغولات میں مصروف تھیں ، کچھ ڈھولک پہ گیت گا رھی تھی ،کچھ دیکھنے والی تھیں ،کچھ اپنے اپنے تبصرے کر رھی تھیں ، اڑوس پڑوس کی خواتین چھتوں سے تماشہ دیکھ رھی تھیں ،، ان میں سے ایک چھت پر ایک 16 یا 17 سالہ لڑکا کھڑا یہ سب کچھ دیکھ رھا تھا ،،،،،،، کرسی پر بیٹھی ایک لڑکی نے اپنے خیال میں مگن جمائی لی مگر اس ادا سے لی کہ اپنے منہ کو الٹے ھاتھ سے ڈھک لیا ،،،،،،،، بس یہ کچھ ایسا سین تھا کہ وہ لڑکی اس کے ساتھ ھی اس لڑکے کے دل میں بیٹھ گئ ،، رشتہ اس نے مانگا نہیں کہ اسے معلوم تھا کہ وہ کیا ھے اور لڑکی والے کیا ھیں ،، وہ حقیقت پسند انسان تھا مگر اس نے اپنی زندگی اس لڑکی کے نام کر دی اور شادی نہیں کی ،،،،،، زمین جائداد بھی بےشمار تھی ، اس کے بڑے بھائی نے ایک دن مسجد میں مجھ سے کہا کہ یہ آپ کا بہت احترام کرتا ھے اور آپ سے بہت متأثر ھے ،گھر میں بھی آپ کی باتیں کرتا رھتا ھے ،اگر آپ اسے شادی پہ آمادہ کر لیں تو یہ آپ کا ھمارے خاندان پر بڑا احسان ھو گا ،، میں نے اسے اپنے گھر بلایا سردیوں کے دن تھے ،عشاء کے بعد کا وقت تھا ،کھانا وہ کھا کر آیا تھا ، دیہات کی سوغات دودھ پتی پی کر میں نے بات شروع کی وہ سر نیچے کیئے بڑے احترام کے ساتھ بات سنتا رھا ،، اس کے بعد اس نے دو شرطیں رکھیں ،، ایک تو یہ کہ میں اس کی بات سن کر اس کا تمسخر نہ اڑاؤں ، دوسرا یہ کہ میں یہ بات اس کے نام کے ساتھ کسی کو نہ بتاؤں چاھے وہ زندہ ھو یا فوت ھو جائے ،، اس نے کہا کہ میں صرف آپ سے یہ بات کر رھا ھوں ، میں نے اپنے والدین یا دوستوں میں سے بھی کسی کو یہ بات نہیں بتائی – یہ بات میرا دل جانتا ھے یا میرا رب ،، اور پھر اس نے زار و قطار روتے ھوئے یہ بات سنائی کہ بظاھر یہ ایک احمقانہ حرکت ھے کسی کو بھی بتاؤں تو وہ ھنسے گا ،مگر میری زندگی کا یہ روگ ھے ، کاش میں اس دن چھت پہ نہ جاتا ،، اس کی کیفیت دیکھ کر مجھے بھی رونا آ گیا کیونکہ میں خود کافی حساس طبیعت کا مالک ھوں ،، یہ بات بغیر اس کے نام کے صرف اس لیئے ذکر کر دی کہ خیال رکھئے آپ کی ذرا سی ادا کسی کو اپنا بنا سکتی ھے اور ذرا سی بے احتیاطی دل کی دنیا اجاڑ سکتی ھے ، یدِ بیضاء نے یہی کہا تھا کہ ھمارے زمانے میں عورت مرد کے سامنے کھاتی تک نہیں تھی کہ اس کھانے کے ساتھ اس کے ناپسندیدہ عواقب کہیں شوھر کا دل کھٹا نہ کر دیں ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *