ایک نیا فرقہ نکلا ھے جو گھر میں نماز پڑھتا ھے کسی مسجد میں بھی نہیں پڑھتا ،، سلفیوں میں سے نکلا ھے اور سوپر سلفی کہلاتا ھے مگر سلفیوں کی مسجد میں بھی نماز نہیں پڑھتا کہ ان اماموں کے پیچھے نماز نہیں ھوتی جو نماز کے پیسے لیتے ھیں !
یہی ان کی غلط فہمی ھے ،، مولوی نماز کے پیسے نہیں لیتے بلکہ ایک مسجد کے ساتھ باندھے جانے کے پیسے لیتا ھے ،،نماز تو وہ آپ کی طرح جہاں مسجد دیکھے پڑھ سکتا ھے ،،پھر اسے کس آیت یا حدیث کے تحت ایک مسجد سے باندھ دیا ھے ؟ وہ جہاں بھی ھو جتنی ایمریجنسی میں ھو ،گاڑی بک کر کے بھی آئے مگر نماز اسی مسجد میں پڑھائے ؟ اس کا یہ ایک مسجد کا تعین اسے باقی معاشی سرگرمیوں سے روک دیتا ھے جس کا تاوان آپ اس کو دیتے ھیں نہ کہ نماز کے پیسے !!
یہ تو ھو گیا مسئلہ جو ان چند سطروں میں ھی حل ھو گیا !
مگر حقیقت یہ ھے کہ آپ لوگ امام کی افطاری کے بعد اس کی صرف مغرب کی نماز کا حق ادا نہیں کر سکتے ،،جب آپ پیچھے کھڑے ھو کر آزادی سے حقِ ڈکار استعمال کر رھے ھوتے ھو اور وہ بیچارہ آفٹر شاکس کا شکار ھوتا ھے ،، نہ ناف پہ ھاتھ رکھا جاتا ھے نہ سینے پہ ،،تلاوت بھی بلند آواز سے کرنی ھے ،، غریب کا بچہ ڈکار کو کبھی اخفا کے ساتھ ناک سے خارج کرتا ھے تو کبھی حروف کو تفخیم دینے کے لئے تکنیک کے ساتھ ڈکار کا استعمال کرتا ھے ،، بار بار اس کی آواز بھرا جاتی ھے جو کہ حقیقت میں ڈکار کو روکنے کی سعی کا نتیجہ ھوتی ھے !
امام کی کیفیت سے صرف اس کا رب ھی واقف ھوتا ھے اور وھی اجر دینے والا ھے !
قدر ملاں دا ایہہ کی جانن دنیا دار کمینے !
قدر ملاں دا جانن والے سو گئے وچ مدینے !
قدر ملاں دا بلبل جانے صاف دماغاں والی !
قدر ملاں دا گرج کی جانے مردے کھاون والی !

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *