ڈاکٹر، انجینئر ، ڈرائیور، حافظ ، عالم ، مفتی ، بننے کے کچھ ضوابط اور درجات ھوتے ھیں اور یہ طے ھوتا رھتا ھے کہ فلاں بندہ اب اس درجے میں ھے ،، جب وہ اس اسکول ،کالج مدرسے سے ٹرانسفر لیٹر لے کر کسی دوسرے ادارے میں جاتا ھے تو وہ پہلے اس کا ٹیسٹ لیتے ھیں کہ یہ بندہ واقعی اس درجے کا ھے جس درجے کا سرٹیفیکیٹ اس کے پاس ھے یا پھر ایگزکٹ والا ھے ،،،،،،،،،،،
ولایت کا نصاب کیا ھے ؟
اس کے درجات کا تعین کس طرح ھوتا ھے ؟
اور پھر گریجویٹ ولی کن خصوصیات کا حامل ھوتا ھے ؟
یہ غلط طریقہ ھے کہ آپ قرآن کی آیت کوٹ کریں ،، اور باقی ساری خصوصیات کسی اور مذھب کی ٹھونس دیں ،،،،،،،،،،،، یہ Axact سے بھی بڑا فراڈ ھے ،،
اللہ پاک نے فرمایا ھے کہ ” ألا إن أولياء الله لا خوف عليهم ولا هم يحزنون الذين آمنوا وكانوا يتقون لهم البشرى في الحياة الدنيا وفي الآخرة لا تبديل لكلمات الله ذلك هو الفوز العظیم ،،، بےشک اللہ کے دوستوں کو نہ کوئی خوف ھے اور نہ وہ غمگین ھوتے ھیں ،، جو والے ھیں اور ( اللہ کی حدیں توڑنے سے ) پرھیز کرنے والے ھیں ،،، گویا اللہ نے ولیوں کو بشارت دی ھے تو ان کا تعارف کرا دیا ھے کہ جس میں یہ صفات پائی جاتی ھیں وہ اللہ کا ولی ھے ،، اور خود اللہ ھر ایمان والے کا ولی ھے ،، “اللہ ولی الذین آمنو. اللہ ایمان والوں کا دوست ہے.،، وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ ( آل عمران-68)
مخصوص حلیئے کے لوگوں کو ان کے حلیئے یا تسبیح یا منکے دیکھ کر ولی قرار دے دینا اور پھر اپنی حاجتیں لے لے کر ان کے پیچھے بھاگنا کہاں کا ھے ؟ کیا پیغمبر ھی اللہ کے ولی نہیں تھے جو مرادیں پوری کرنے کی بجائے ، اللہ سے مانگ کر مراد لیتے تھے ،،
1- رب ھب لی من لدنک ذریۃً طیبہ – زکریا علیہ السلام
2- و ان لا تصرف عنی کیدھن اصب الیھن و اکن من الجاھلین- یوسف علیہ السلام
3- لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین،، یونس علیہ السلام
4- انی مسنی الضر و انت ارحم الراحمین – ایوب علیہ السلام
5- رب اجعل ھذا البلد آمناً ،، ابراھیم علیہ السلام ،،
6- رب ھب لی ملکاً لا ینبغی لاحدٍ من بعدی – سلیمان علیہ السلام ،،
7- رب انی لما انزلت الی من ٍ فقیر – موسی علیہ السلام
8- عسی اللہ ان یأتینی بھم جمیعاً، فصبرۤ جمیل ،- یعقوب علیہ السلام ،،
ھم ولیوں کے منکر نہیں بلکہ ھم ولایت کو عام کرتے ھیں ، ھر صاحب ایمان اور عملِ صالح کے حامل کو اللہ کا ولی اور اللہ کو ان کا ولی قرار دیتے ھیں ،، ھم ولایت کو جمناسٹک کی چند حرکات کے ساتھ نتھی نہیں کرتے بلکہ معاشرے میں ان کے کردار کی بنیاد پر فیصلہ کرتے ھیں ،، درختوں سے الٹا لٹکنا ،، ایک ٹانگ پر پانی میں کھڑا ھونا اور پاسِ انفاس کی مشقوں سے اپنی پوری شریف کو سینڈھ سے چُپڑ دینے سے انسان اللہ کا ولی نہیں بنتا ( پاسِ انفاس کی مشق اسی وجہ سے کپڑا ڈال کر یا لائٹ بجا کر کی جاتی ھے تا کہ ایک دوسرے ھیئت کذائی نہ دیکھ سکے )

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *