نئے دوستوں کے لئے تحفہ ، پرانوں کے لئے Appetizer
پیار کُوں غرضاں نئیں بنگلے تے کھولے نال !
عراق نے کویت پر قبضہ کیا تو وھاں سے بے روزگار ھونے والے واپس اپنے اپنے وطن پہنچے جہاں لوگوں نے انہیں دنیا کے دونوں رخ مرنے سے پہلے ھی دکھا دیئے ورنہ یہ رخ مرنے کے بعد ھی سامنے آتے ھیں !
لوگوں نے منگنیاں توڑ دیں،رشتے ناتے ختم کر دیئے ،،وہ جو دعوتوں پہ دعوتیں کیا کرتے تھے انہوں نے مانگے کا کمبل بھی ادھار نہ دیا ! پانچ سات کے بعد وہ مہاجرینِ کویت واپس کویت تو آگئے مگر اپنے ساتھ تجربوں کی دنیا اور کہانیوں کے انبار بھی سمیٹ لائے !
ان میں وقاص صاحب کی فیملی بھی تھی،جس میں ان کی بیوی فرح دیبا اور اکلوتا بیٹا فرحان بھی تھا ! فرحان سے پہلے ان کے تین بچے مس کیریج ھو چکے تھے اور اس کے بچنے کے بعد ڈاکٹروں نے آپریشن کے ذریعے مزید اولاد کی امید پر پانی پھیر دیا تھا،یوں گھوم پھر کر فرحان ھی ان کی دنیا تھا ! جاتے ھی انہوں نے اسے اپنے گھر کے سامنے چکلالہ اسکیم نمبر 3 میں ایک اکیڈیمی میں آٹھویں کلاس میں ڈال دیا ! وہ فرحان کا کلاس میں پہلا دن تھا جب مس طیبہ کلاس میں داخل ھوئی ! تمام بچوں کے ساتھ فرحان بھی ان کے استقبال کے لئے کھڑا ھوا،، پھر سارے بچے بیٹھ گئے مگر فرحان کھڑے کا کھڑا رہ گیا، وہ ٹرانس میں چلا گیا تھا ! مس طیبہ جو صرف ایف اے کر کے اکیڈیمی جوائن کرنے پر مجبور ھو گئ تھی کیونکہ اس کے والد جو سی ڈی اے میں ملازم تھے اپنی موٹر سائیکل پہ ڈیوٹی پہ جا رھے تھے کہ ایک ویگن کی ٹکر نے ان کی دنیا اندھیر کر دی ،، ان کی کہولے کی ھڈی کچھ اس طرح ٹوٹی تھی کہ اسے دوبارہ ٹھیک طرح سے جوڑنے کے لئے ڈھائی تین لاکھ کا خرچہ آتا تھا جو ان جیسے دیانتدار شخص کے لئے ناممکن تھا،، ان کے دو چھوٹے بیٹے اور ایک بڑی بیٹی تھی جو سیکنڈ ایئر میں تھی،، حادثے کے بعد انہیں کام سے فارغ کر دیا گیا یوں ان کی روزی روٹی کا ذریعہ جاتا رھا ! کسی دوست نے مہربانی کر کے ان کی سیکنڈ ایئر کرنے والی بیٹی کو کام دلوا دیا یوں ، کم ازکم فوری ضرورتوں کا سامان ھو گیا ! مس طیبہ فرحان سے عمر میں کچھ زیادہ بڑی نہیں تھی، فرحان کے لئے مسئلہ ان کی معصوم اور بھولی بھالی صورت تھی جس کے بیک گراؤنڈ میں انجانے درد کی کسک نے ان کی صورت میں مزید کشش پیدا کر دی تھی،، اور سب سے بڑی قیامت ان کے دونوں گالوں پہ بننے والے ھلکے ھلکے گڑھے تھے! جنہیں ڈمپل کہا جاتا ھے ! بس یہیں فرحان ٹریپ ھو گیا تھا یا انہی گڑھوں میں ڈوب مرا تھا،، اسے مارنے کے لئے ایک ھی گڑھا کافی تھا،،مگر دوسرے گڑھے کی موجودگی نے اس کے نکلنے کے تمام امکانات ختم کر دیئے تھے ! کہتے ھیں اللہ کچھ لوگوں کو تو دھن کی دولت دیتا ھے تو کچھ کو تن کی دولت دیتا ھے اور کچھ کو من کی ! مس طیبہ کو اللہ پاک نے تن کی دولت کے ساتھ من کی دولت سے بھی نوازا تھا ،وہ نہایت پاک فطرت لڑکی تھی، جسے صرف اپنے والد اور بہن بھائیوں کی فکر تھی ، اس سے آگے کی فکر اس نے کبھی سوچی بھی نہیں تھی !
فرحان جونہی کلاس روم کے دروازے پہ پہنچتا اور کہتا ” مِـس ” اور مس طیبہ اس کی طرف دیکھتی تو وہ ” مے آئی کم ان ” کہنا ھمیشہ بھول جاتا اور بس ان کے “یـس ” کہہ دینے پر اندر داخل ھو جاتا،، وہ کوشش کرتا کہ مس طیبہ کو خوش رکھے اور ان کی ھر ضرورت پوری کرے ! وہ خود گھر سے دوڑ کر نیل کٹر لے آتا ،، امی کے ھیئر بینڈ جو ابھی پیک پڑے تھے اٹھا لاتا اور اچھا کھانا پکا ھوتا تو لنچ بریک کے دوران مس طیبہ کو لا کر دے دیتا،، مگر وہ یہ سب کچھ امی کے نام سے کرتا ،مس امی نے یہ کھانا بھیجا ھے،،مس امی نے یہ ھیئر بینڈ دیئے ھیں وغیرہ وغیرہ ،جبکہ مس طیبہ کے فرشتوں کو بھی علم نہیں تھا کہ کیا ھو رھا ھے ! جب کبھی مس طیبہ کسی دوسرے بچے کو توجہ دیتی تو فرحان کو ھمیشہ برا لگتا ،وہ جیلس ھو جاتا ،،بعض دفعہ مس کی توجہ حاصل کرنے کے لئے وہ کوئی ایسی غلطی کر جاتا ،جس پر وہ اسے خوب ڈانٹتی تو وہ سر جھکا کر نہایت اطمینان سے ان کی ڈانٹ ڈپٹ سنتا ،صرف اس احساس کے ساتھ کہ وہ اس وقت اپنی پوری ھستی پورے دل و جان سے اس کی طرف متوجہ ھیں !
عـــــــشق کے مراحــــل میں وہ بھی مقام آتا ھے !
آفـــتیں برســـــــتی ھـیں، دل سکــــــون پاتا ھے !
سال پلک جھپکتے گزر گیا اور فرحان کو ھائی اسکول میں داخل کرا دیا گیا ! فرحان تو اکیڈیمی سے نکل گیا مگر مس طیبہ فرحان کے اندر سے نہ نکل سکیں ! وہ آتے جاتے جان بوجھ کر اس وقت اکیڈیمی کے پاس سے گزرتا جب مس طیبہ اکیڈیمی کی وین میں بیٹھ رھی ھوتیں یا اتر رھی ھوتیں وہ پیپلز کالونی ٹینچ بھاٹہ سے آتی تھیں جہاں ان کا دو کمرے کا مکان تھا اور فرحان وھاں جا چکا تھا، وہ ابو کے ساتھ مس طیبہ کے معذور والد کے لئے الیکٹرک وھئیل چیئر لے کر گیا تھا جس کے لیور کے ذریعے وہ خود ھی چیئر کو آگے پیچھے چلا لیتے تھے !
فرحان نے جب بی – اے کر لیا تو کویت کے حالات بھی نارمل ھو گئے تھے جہاں اس کے والد آئل ریفائنری میں کیمیکل انجیئنر تھے ! وزارتِ پیٹرولیم نے اس کے والد کو دوبارہ کال کر لیا تھا یوں فرحان واپس کویت آ گیا اور پیٹرولیم انسٹیٹیوٹ میں انجیئرنگ میں داخلہ لے لیا،مگر اس نے ھمیشہ کسی نہ کسی طرح مس طیبہ سے رابطہ برقرار رکھا اور والد یا والدہ کے نام پر انہیں تحفے تحائف بھی بھیجتا رھا ،،مگر یہ بات طے تھی کہ طیبہ کو فرحان کے ارادوں کی کوئی خبر نہ تھی !
فرحان خاندانی لڑکا تھا کوئی لچر یا لوفر لفنگا نہیں تھا ! مس طیبہ کے متعلق وہ بےبسی کا شکار تھا ! پتہ نہیں اس کے دل کو کیا ھو گیا تھا ،وہ سوتے میں بھی مس طیبہ کے ڈِمپلز پر ارتکاز کر کے سوتا تھا،، نمازی تو وہ شروع سے تھا جب کے-جی ٹو میں پڑھتا تھا تو بھی نماز گھر کے باھر والی مسجد میں بستہ رکھ کر وضو کر کے پڑھ کر گھر آتا تھا ،، اب تو اسے اللہ سے خاص کام پڑ گیا تھا لہذا اس کی نماز میں گداز پیدا ھو گیا تھا ! وہ اللہ سے رو رو کر عرض کرتا کہ جب تک وہ پاؤں پہ کھڑا نہ ھو جائے ،مس طیبہ کا کوئی پروپوزل نہ آئے اور اگر آئے تو اللہ اس کے دل کو پھیر دے تا کہ وہ اسے ریجیکٹ کر دے ! بس اللہ ھی اس کی پہلی اور آخری امید تھا، انجینئرنگ مکمل کرنے کے بعد انسٹیٹیوٹ نے اسے جاب یا پھر برطانیہ میں اسپیشلایئزیشن کرانے کی پیشکش کی ! والدین کا اصرار تھا کہ وہ برطانیہ جائے مگر فرحان اب اس سے زیادہ دور جانا نہیں چاھتا تھا اس نے فی الحال جاب کو ترجیح دی ، اسپیشلایزیشن زندگی میں کبھی بھی کیا جا سکتا تھا،جبکہ اس کے لئے مس طیبہ کو مزید لمبا کھینچا مناسب نہیں تھا ،، وہ ڈمپلز تک جلد از جلد رسائی چاھتا تھا ! جاب جوائن کر لینے کے بعد والدین اس کی شادی کے پروگرامز بنا رھے تھے کیونکہ اس کے سوا کوئی اور ان کا تھا نہیں ایسے بچے کی نسل چلانے کی والدین کو بہت فکر ھوتی ھے ! والد صاحب اپنے بہن بھائیوں میں سے کسی کے گھر کرنا چاھتے تھے تو والدہ اپنوں کے لئے اسے رام کرنے کے چکر میں تھیں !
آخر والدہ نے ھی پریشر ککر سے ڈھکن اٹھایا اور وہ بھی اسٹیم نکالے بغیر !
دیکھو بیٹا ھم پاکستان تمہاری شادی کرنے جارھے ھیں ! تم اتنے سال وھاں رہ کر آئے ھو اور دوست دشمن سے آگاہ ھو، تم ان کو بھی جانتے ھو جو مخلص ھیں اور ان کو بھی جو پیسے کے ھیں ! اس لئے اب تم ننہیال میں سے چنو یا ددھیال میں سے مگر مخلص گھرانے پہ ھاتھ رکھنا ! مما اگر آپ لوگوں نے معاملہ میرے اوپر چھوڑا ھے تو پھر یہ برادری کی شرط بھول جائیں ! اگر شادی خوشی کو کہتے ھیں تو پھر شادی کو شادی ھونا چاھئے ! نہ کہ برادری کو ٹانکے لگانی والی کاپر کی تار ! مما میں نے لڑکی چن لی ھے اور بہت عرصہ پہلے چن لی تھی ،، میں اسی سے شادی کرنے جا رھا ھوں ! اچھا وہ لڑکی ھے کون ؟ مس طیبہ !! فرحان نے دھماکہ کیا ،، دیبا فرح کے ھاتھ سے وہ کنگھی گر گئ جس سے وہ بال بنا رھی تھی، مس طیبہ وہ لڑکی جو تجھے اکیڈیمی میں پڑھاتی تھی؟ نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھتے ھوئے کہا ! جی وھی ،، فرحان نے اطمینان سے جواب دیا ! مگر ،،مگر بیٹا وہ تو تم سے پانچ سات سال بڑی ھے اور پھر ،،،،،
مما یہ زندگی انسان سے کتنی بڑی ھے ! ھزاروں لاکھوں سال ناں ؟ مگر کسی نے آج تک اس زندگی کو اس لئے اپنانے سے انکار نہیں کیا کہ وہ اس سے بڑی ھے ! زندگی تو زندگی ھے بڑی ھو یا چھوٹی ،،مما مس طیبہ میری زندگی ھے، میں ایک ایسی چلتی پھرتی لاش ھوں جس میں زندگی کی رمق بھی نہیں ،،میں اپنی روح پاکستان چھوڑ آیا ھوں ،، ماما آپ ایک کہانی سنایا کرتی تھیں ناں کہ دیو کی جان طوطے میں ھوتی ھے اور اس طوطے کی گردن مروڑ دو تو دیو مر جاتا تھا،، مما وہ طوطا مس طیبہ ھے،، جس دن مجھے یقین ھو گیا کہ وہ مجھے نہیں مل پائے گی یا وہ کسی اور کے لئے ڈولی میں بیٹھ جائے گی،، اس دن آپ کو یقین آ جائے گا کہ فرحان میں روح نہیں تھی وہ ایک بےروح لاش تھا !
دیبا دھشت زدہ ھو کر یہ سب کچھ سن رھی تھی ! وہ تو سمجھتی تھی کہ اس کا یہ نمازی پرھیزگار بچہ جو کسی عورت کو آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا ،، یہ بھی نہیں جانتا ھو گا کہ عورت کیا ھوتی ھے اور کس چیز کے ساتھ کھائی جاتی ھے !! وہ بچہ اس کے سامنے کھڑا فلسفہ بیان کر رھا تھا،، مگر خاندانی عورت تھی اور عقلمند بھی تھی،، اس نے بیٹے کو گلے سے لگا لیا،،بیٹا تم ھی تو ھماری دنیا ھو،، بھلا ھمیں تمہاری خوشی کے سوا اور کیا چاھئے،،میں جاؤں گی ان لوگوں کے گھر تیرے رشتے کے لئے اور تیرے پاپا کو بھی میں راضی کروں گی ،، بس تم اب ٹینشن مت لینا !
جس دن فرحان کی امی رشتہ مانگنے طیبہ کے گھر گئ ،، فرحان کے پاپا بھی اس کے ساتھ تھے جنہوں نے طیبہ کے والد سے ان کے حالاتِ زندگی معلوم کیئے تو انہیں افسوس ھوا کہ اتنی ضرورتمند فیملی کیوں ان کی نظروں سے اوجھل رھی،، اگرچہ یہ لوگ غریب تھے،مگر بات چیت سے سادہ دل اور مخلص لگتے تھے ! طیبہ کے چند رشتے آئے تھے جو طیبہ ھی کے اصرار پر رد کر دیئے گئے تھے کیونکہ وہ اپنے بھائیوں کے بارے میں متفکر تھی کہ ان کی کفالت کون کرے گا !
طیبہ فرحان کی امی کو ماں کے پاس چھوڑ کر کچن میں چائے بنا رھی تھی جب دیبا نے فرحان کے رشتے کی بات چلائی کہ وہ فرحان کے لئے طیبہ کا رشتہ مانگنے آئے ھیں تو وہ چمچ جس سے طیبہ چائے میں پتی ڈالنے جا رھی تھی اس کے لئے شہتیر بن گئ جسے سنبھالنا اس کے لئے مشکل ھو گیا،، اس نے بمشکل چولہا بند کیا اور سر پکڑ کر بیٹھ گئ !
اس نے نہ تو کبھی فرحان کو اس نظر سے دیکھا تھا اور نہ وہ امید کرتی تھی کہ وہ ایک دن اس کے لئے پروپوزل لیئے آ پہنچے گا ! وہ ایک حقیقت پسند لڑکی تھی اور دو باتوں کو بخوبی جانتی تھی،،پہلی بات سوشل اور فائنانشیل اسٹیٹس ،، دوسری بات لڑکے کی عمر ، وہ چائے چھوڑ کر اندر چلی آئی اور اس نے دیبا سے کہا کہ آنٹی میں اس سلسلے میں فرحان سے بات کرنا چاھتی ھوں،، یقیناً اس نے آپ کو مجبور کیا ھو گا ورنہ کوئی ماں اپنے بیٹے کی عمر سے بڑی لڑکی پسند نہیں کرتی خاص طور پر جب کہ وہ ایک غریب اور لاچار گھرانے سے تعلق رکھتی ھو ! آپ یقین کریں میں نے فرحان کو سوائے ایک اسٹوڈنٹ کے اور کچھ نہیں سمجھا اور نہ میں اس قسم کی ڈورے ڈالنے والی لڑکی ھوں ! آپ مجھے اس سے بات کرنے دیں،، میں اسے اس رشتے سے انکار پر راضی کر لونگی !
وہ ھیسٹیریا کے مریض کی طرح بولے چلے جا رھی تھی یہ دیکھے بغیر کہ اس کے اس بولنے کا اثر فرحان کی امی پر کیا پڑ رھا ھے ! انہوں نے اسے پکڑ کر کھینچا اور سینے سے لگا کر بھینچ لیا ،، وہ بھی مسلسل روئے چلے جا رھی تھیں ! تھوڑی دیر کے بعد انہوں نے اس الگ گیا،، طیبہ نیم مدھوشی کی کیفیت میں تھی،، دیکھو طیبہ امیری غریبی تو اللہ کے ھاتھ میں ھے، چند سال کے لئے اس نے ھمیں امیروں میں سے نکال کر غریبی کی کیفیت میں اسی لئے مبتلا کیا تھا کہ ھم جان سکیں کہ غریبی نہ کوئی ذات ھوتی ھے اور نہ کوئی جرم،،یہ صرف امتحان ھوتا ھے،، بیٹا آپ نے امتحان پاس کر لیا ھے ،،میرے بیٹے کو بھی امتحان میں کامیاب ھونے دو آخر کو وہ بھی تمہارا اسٹوڈنٹ ھے،،میں اس سے تجھے ضرور ملاؤں گی مگر یہ بات نوٹ کر لو کہ جو اور جس طرح تم نے میرے سامنے بات کی ھے،ویسے اور ویسی بات میرے فرحان سے مت کرنا وہ میرا اکلوتا بیٹا ھے اور میں اسے کھونا نہیں چاھتی،، وہ تمہیں اپنی جان کہتا اور سمجھتا ھے اور اپنے اپ کو تمہارے بغیر بے روح کا لاشہ سمجھتا ھے،، اس سے بات کرنے سے پہلے اس کی بات سن لینا ،، شاید پھر تمہیں بات کرنے کی ضرورت بھی نہ رھے،میں کل تم لوگوں کی دعوت کر رھی ھوں ، وھاں تم اس کے ساتھ تسلی سے بات کر لین گھر واپس آ کر دیبا نے فرحان کو مناسب انداز میں طیبہ کے ردعمل سے آگاہ کر دیا ،، تا کہ جب طیبہ اس سے بات کرے تو وہ ذھنی طور پر تیار ھو اور کوئی شدید رد عمل ظاھر نہ کرے ! مگر ان کا یہ خدشہ عبث تھا کیونکہ فرحان مس طیبہ کے سامنے شدید یا خفیف کوئی رد عمل دینے کی پوزیشن میں نہیں تھا ! وہ کسی اور غیر شعوری کیفیت کا شکار تھا ! جس میں شاید اذیت بھی لذت دیتی ھے،ھم نے کئ نشہ بازوں کو اپنے آپ کو بلیڈ مارتے بھی دیکھا ھے ! اگلے دن طیبہ کی پوری فیملی فرحان کے گھر آئی سب باھر بیٹھ کر گپیں لگا رھے تھے جبکہ فرحان اندر اپنے کمرے میں لیٹا ھوا ٹی وی دیکھ رھا تھا ! دیبا نے طیبہ کو آنکھ سے فرحان کے کمرے کی طرف اشارہ کیا اور دیبا اپنے آپ کو سنبھالتی ھوئی فرحان کے کمرے کی طرف چل دی ! دیبا بھی اس کے پیچھے پیچھے تھی مگر وہ کمرے میں جانے کی بجائے باھر کھڑکی کے ساتھ پڑی کرسی پر بیٹھ گئ ! طیبہ نے دروازے کو ھلکا سا کھٹکا دیا ، کم اِن ،، اندر سے فرحان کی آواز آئی ،شاید وہ نوکر کے چائے لانے کا منتظر تھا مگر طیبہ کو دروازے سے داخل ھوتے دیکھ کر گویا اسے بجلی کا جھٹکا لگا ،، وہ بالکل 10 سال کے بچے کی طرح اچھل کر اپنے بیڈ پہ اس طرح کمبل لپیٹ کر بیٹھا جس طرح مرغی انڈے سمیٹ کر بیٹھتی ھے ،، طیبہ اس کے بیڈ کے پاس پڑی کرسی پر بیٹھی تو فرحان نے غیر محسوس انداز میں اپنے آپ کو ٹوئیسٹ کیا کہ اس کی نظر طیبہ کے چہرے پہ نہ پڑے،، آپ کب تشریف لائیں ؟ اس نے طیبہ سے کیا ! جب سے آپ کو ھماری آوازیں آ رھی تھیں، طیبہ نے ھلکی سی مسکراھٹ کے ساتھ جواب دیا ،، وہ تو ٹھیک ھے ،مگر میرا مطلب ھے میرے کمرے میں ،،،، وہ امی جان ،، کیا وہ باھر نہیں ھیں ؟ جی امی جان تو باھر ھیں مگر میں آپ سے کچھ عرض کرنے آئی تھی اگر آپ سننے کی زحمت گوارہ کریں تو ؟ جی مس آپ ضرور بات کریں مگر پلیز مجھے آپ مت کہیں ،فرحان نے گڑگڑا کر کہا ،، فرحان میری طرف دیکھیں میں بہت سیریس ھوں آپ میری بات کو توجہ سے سنیں ،،جی مس جب آپ بولتی ھیں تو پھر میرے کان اس کائنات میں کسی اور آواز کو قبول ھی نہیں کرتے ،، رہ گئ بات آپ کی طرف دیکھنے کی تو اگر آپ چاھتی ھیں کہ میں آپکی بات کا جواب بھی دوں تو پلیز مجھے اپنی طرف دیکھنے پر مجبور مت کریں ،،آپ کو دیکھتے ھی میرا اسپیچ سنٹر ڈس ایبل ھو جاتا ھے،،میں کچھ بھی نہیں بول پاتا ،،شاید آپ کو اس کا کوئی اندازہ بھی ھو گا ! دیکھو فرحان تم اب میرے شاگرد نہیں ھو اور نہ میں تمہاری ٹیچر ھوں ،تم ایک جوان مرد ھو اور تعلیم کے لحاظ سے بھی تم مجھ سے بہت آگے ھو ! میں تو ایک مجبور لڑکی تھی جسے ضرورت وقت سے پہلے اکیڈیمی لے گئ تھی ! میری آپ سے یہ گزارش ھے کہ آپ حقیقت کا سامنا کریں اور وہ انتخاب کریں جو کل کلاں آپ کے لئے اور آپ کے والدین کے لئے خفت کا باعث نہ ھو ! کمال ھے ایک انجینئر مڈل کلاس کے ایک لڑکے کے ھاتھوں مجبور ھو گیا ھے اور اسے سمجھانے سے عاجز ھے کہ آج کل کے سماجی رویئے کیا ھیں ؟ یہ اور محبت کا بھوت بہت جلد اتر جاتا ھے، کل کلاں لوگ آپ کو شرم دلائیں گے کہ اپنے سے بڑی لڑکی سے شادی رچا بیٹھے ! اور آپ گھر آ کر مجھ پہ غصہ اتاریں گے یا مجھے کوسیں گے یا اپنے آپ کو کوسیں گے !! طیبہ پریشر بڑھاتی جا رھی تھی اور باھر بیٹھی دیبا کا دل بیٹھا جا رھا تھا،، وہ ماں تھی ، اس کا جی چاھتا تھا وہ جھٹ سے اندر جا کر اپنے بیٹے کے تاثرات کو چیک کرے ،، وہ کہیں سکتے میں مبتلا نہ ھو جائے،کیونکہ وہ ابھی تک صرف سن رھا تھا پلٹ کر کچھ کہہہ نہیں رھا تھا ! طیبہ نے بات ختم کی اور ایک لمبی سانس لے کر فرحان کی طرف دیکھا جو ٹکٹکی باندھ کر سامنے کی دیوار کو دیکھے چلے جا رھا تھا ! چند منٹ خاموشی میں گزر گئے تو دیبا نے اندر جانے کا من بنا لیا جونہی وہ اٹھی اسے فرحان کی آواز آئی اور وہ پھر بیٹھ گئ ! مس طیبہ ،، آپ نے کبھی یہ جملہ سنا ھے کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ھیں اور دنیا میں ملتے ھیں ! میں نے جب آپ کو پہلی دفعہ دیکھا تھا تو بخدا میری اندر کی سانس اندر اور باھر کی باھر رہ گئ تھی،،یہ میرا سوچا سمجھا ردعمل نہیں تھا اور نہ میں نے ایک عاشق کی نظر سے آپ کو دیکھا تھا اور نہ وہ میری عمر عشق کمانے کی تھی ! بس وہ کوئی عجیب چیز تھی ،اگر آپ اس دن مجھے سٹ ڈاؤن کی کمانڈ دے کر حرکت پر مجبور نہ کرتیں تو شاید میں اسی دن مر گیا ھوتا ،، آپ نے کبھی بلیو ٹوتھ ڈیوائس پیئ
ر کی ھو گی ! وہ آپ سے ایک سوال کرتا ھے کہ کیا آپ اس کو اپنی ڈیفالٹ ڈیوائس بنانا چاھتے ھیں،، ؟ آپ کے یس کرنے کے بعد وہ آپکی ڈیفالٹ ڈیوائس بن جاتی ھے،پھر آن ھوتے ھی خود بخود اپنے جوڑے کو تلاشنا شروع کرتی ھے اور ملنے پر خود ھی کنکٹ ھو جاتی ھے،، مس طیبہ آپ کو میری ڈیفالٹ پارٹنر بنا کر بھیجا گیا تھا،، اس دن کلاس میں جوڑے نے اپنے جوڑے کو تلاش لیا تھا،، قصور نہ آپ کا تھا اور نہ میرا ،،، یہ سیٹنگز ،، شاید فیکٹری سیٹنگز تھیں ،، امی بتا رھی تھیں کہ آپ نے بہت اچھے دو رشتے ری جیکٹ کر دیئے تھے،، آخر اس کی وجہ کیا تھی ؟ شاید آپکی فیکٹری سیٹنگز نے انہیں قبول نہیں کیا تھا ! میں خود غرض نہیں ھوں ، اگر آپ اپنے آپ کو میرے ساتھ ایزی فِیل نہیں کرتیں تو میں قطعاً اصرار نہیں کرونگا کہ آپ میری پروپوزل کو قبول کریں،، مگر یہ بات طے ھے کہ میں کسی اور عورت کے ساتھ ظلم نہیں کرونگا کہ میرا دل تو کہیں اور ھو اور میں اسے اپنی مادہ کے طور پر اپنے کھونٹے سے باندھ لوں،، نیور ،،، رہ گئ بات آپ کے عمر میں کچھ بڑا ھونے کی تو بحیثیت مسلمان ھمیں اس بات کو کبھی ڈسکس ھی نہیں کرنا چاھئے ،کیونکہ یہ تو ھمارے نبی پاک ﷺ کا اسوہ ھے ! اپنی بات ختم کر کے فرحان نے ایک گہری سانس لی گویا کوئی بوجھ اس کے سر سے اتر گیا ھو ! طیبہ نے اب ایک عورت کی نظر سے فرحان کو دیکھا ،، وہ ایک خوبصورت اور باوقار نوجوان تھا جس کے چہرے پہ ھلکی ھلکی کے پس منظر میں معصوم مگر اداس چہرہ بہت پرکشش نظر آرھا تھا،، تو آپ باز آنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے ؟ طیبہ نے ھلکی سی مسکراھٹ کے ساتھ کہا،، تو آواز کی ٹون اور لہجے کی تبدیلی نے مایوس بیٹھے ھوئے فرحان کو چونکا دیا ! اس نے بے ساختہ طیبہ کی طرف دیکھا اور پھر وھی ھوا جو پہلے دن کلاس روم میں ھوا تھا،، وہ بس دیکھتا رہ گیا اور طیبہ مسکراتی ھوئی دھیرے دھیرے باھر کی طرف چل دی ! باھر بیٹھی دیبا کا دوپٹہ بھیگ چکا تھا اور وہ دونوں ھاتھ آسمان کی طرف اٹھائے ، اللہ کا شکر ادا کر رھی تھی ! طیبہ نے انہیں پکڑ کر اٹھایا اور گلے سے لگا لیا ! ھفتے کے اندر اندر شادی ھو گئ ! باراتیوں کا رش کم ھوا تو دیبا ، فرحان کو ساتھ لے کر عجلہ عروسی کے دروازے تک آئی اور اسے وھاں چھوڑ کر اس کا ماتھا چوم کر چلتی بنی ! فرحان تھوڑی دیر اپنے حواس درست کرتا رھا ،پھر اس نے دروازے کو ھلکا سا دھکا دیا تو وہ کھلتا چلا گیا ! مـِـس ! فرحان نے آئستہ سے کہا ! شاید سنا نہیں گیا تھا یا سننے والی کو یقین نہیں آرھا تھا ،، مِس ! دوسری دفعہ کہا گیا اور گونگھٹ کے پیچھے سے اک شرمیلی سی آواز نے کہا ” yes ” فرحان اندر داخل ھوا اور دروازہ آئستہ سے لاک کر دیا،، زندگی بند درازوں کے پیچھے ھی جنم لیتی ھے !! اگلے ھفتے طیبہ کے والد صاحب کا آپریشن کرایا گیا جو کامیاب رھا ،، ایک ماہ کے اندر اندر وہ چلنا پھرنا شروع ھو گئے تھے !ایک واقف کی سفارش سے وہ نوکری پر بھی بحال ھو گئے تھے ! فرحان نے کویت آ کر تین ماہ کے اندر طیبہ کو بھی بلوا لیا تھا،، آج کل فرحان اپنے دو بیٹوں اور ایک بیٹی کے ساتھ ابوظہبی مقیم ھیں جہاں وہ ابوظہبی کی پٹرولیم کمپنی اڈناک میں چیف انجینئر ھیں ،، بچے بہترین اداروں میں آخری سالوں میں ھیں ،، مگر سب سے عجیب بات یہ ھے کہ فرحان آج بھی طیبہ کو مس ھی کہتا ھے،،

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *