Home / Humanity / نہ وہ غزنوی میں تڑپ رھی،نہ وہ خم ھے زلفِ ایاز میں

نہ وہ غزنوی میں تڑپ رھی،نہ وہ خم ھے زلفِ ایاز میں

جمعے کا خطبہ چل رھا تھا، مسجد کے خادم نے کان میں ھلکے سے آ کر کہا ” باھر اک بندہ کتا بیچ رھا ھے ” ھمارا وھی نکلا جس کو پنجابی میں تراہ کہتے ھیں ،،اردو والے اس کو چونک جانا کہتے ھیں مگر چونک جانا میں تراہ نکلنے کی سی گہرائ اور گیرائ نہیں ، کیونکہ “تراہ ” میں تین ری ایکشن بیک وقت ھوتے ھیں، اسی لئے تین راہ کا مخفف تراہ بنا ھے،، جب کوئی بندہ آپ کی جوتی پہن رھا ھو تو آپ چونک جاتے ھیں مگر آپ کا تراہ نہیں نکلتا،، کسی بیٹے نے اپنے پروفیسر والد سے پوچھا کہ ابا جی خطا اور غلطی میں کیا فرق ھوتا ھے ؟ باپ نے اپنی عملی زندگی کا امرت رس نکال کر بیٹے کے سامنے رکھ دیا،بولا بیٹا اگر تو نے اپنی نئی جوتی مسجد چھوڑ کر پرانی تبدیل کر لی ھے تو یہ غلطی ھے،، اور اگر اپنی پرانی چپل چھوڑ کر نئ تبدیل کی ھے تو یہ خطا کہلاتی ھے، گویا جس حرکت کا نقصان آپ کو ھو وہ غلطی ھے اور جس کا نقصان کسی دوسرے کو ھو وہ خطا ھے ! تو جناب تراہ اور چیز ھوتی ھے وہ ھم نے اپنے جگری دوست بھٹی صاحب مرحوم کا اپنے رو برو اور بقائمئ ھوش و حواس نکلتے دیکھا ھے ! ھمارے ایک مرشد تھےمرحوم احمد یار چار یاری صاحب ! اللہ پاک نے ان کو سائنیس پاور میں خوب دل کھول کے نوازا تھا ، لالیاں چنیوٹ سے ان کا تعلق ھے درسِ نظامی میں آخری سال تھا کہ قادیانیوں کے ایک جلسے پر جا پڑے،، اکیلا آدمی ھزاروں قادیانی،، جو ھونا تھا وھی ھوا ،قادیانیوں نے انہیں کاٹ کر پھینک دیا ،،مردہ سمجھ کر نہر میں بہا دیا، اللہ نے زندگی لکھی تھی کسی نے نہر سے نکالا ،دونوں بازو ٹوٹ کر لٹک رھے تھے،پسلیاں ٹوٹی ھوئی،ناک کی جگہ گوشت کا لوتھڑا رکھا تھا،خیر قصہ مختصر کہ ھم اس جذبے اور قربانی پر انہیں اور تو کوئی صلہ نہ دے سکے بس ان ٹوٹے ھوئے ھاتھوں میں اپنا ھاتھ دے دیا اور بیعت کر لی، جس پر انہیں خود بھی ھمیشہ حیرانی رھی،، ابوظہبی تشریف لائے ھوئے تھے،عمرے پہ جاتے جاتے ابوظہبی میں ٹرانزٹ لیا تھا،، رمضان کا مہینہ تھا، تراویح کے بعد کھانا مسجد والی مجلس مین ھی لگایا گیا،، چار یاری صاحب کا تصرف کا ایک خاص طریقہ ھے کہ بات کرتے کرتے جب کسی اھم موڑ پر آپ پوری طرح متوجہ ھوتے ھیں، اچانک وہ اتنے زور کا ” اللہ ” کرتے ھیں کہ اگلا بندہ بے ساختہ اچھل پڑتا ھے،، یہ تصوف کی واردات ھے،، خیر بھٹی صاحب چائے اور ھریس کی ٹرے لئے کمرے میں داخل ھوئے،ابھی جھک کر رکھ ھی رھے تھے کہ چاریاری صاحب نے اتنے زور سے اللہ کی کہ ٹرے کی پیالیاں ان کے ھاتھ میں کانپ گئیں،، ان کا رنگ متغیر ھو گیا اور وہ معذرت کر کے نکل لئے ! آدھے پونے گھنٹے بعد چم چم کرتا سوٹ پہن کر آئے، حضرت جی ھاتھ دھونے نکلے تو میں نے پوچھا آپ کدھر چلے گئے تھے؟ آرام سے کہنے لگے کپڑے بدلنے گیا تھا،،، میرا تو پیشاب نکل گیا تھا،، چار یاری صاحب کو پہلے فارغ کر لیں پھر آگے چلتے ھیں، کھانے کے بعد چہل قدمی کرتے کرتے میں انہیں بینک المشرق کی اے ٹی ایم مشین والے بوتھ میں لے گیا اور آرام سے اپنا کارڈ اس مین ڈال دیا،، اس کے بعد میں نے پاس ورڈ مارا اور حضرت جی سے کہا کہ حضرت ذرا یہ کمال دیکھیں،،سورہ فاتحہ پڑھ کے میں نے مشین پر پھونکا اور بٹن دبا دیا،، اب مشین نے پیسے نکال باھر کئے،، حضرت پر سکتہ طاری ھو گیا، جھنگ کی زبان مین کہنے لگے ” فقیرا جتنے منگیں اُتنے دیندی آ ؟ جتنے مانگو اتنے دیتی ھے؟ مین نے کہا کہ حضرت جتنے لکھو اتنے دیتی ھے مگر اس کے لئے جو مقام چاھئے اس مین عمر لگ جاتی ھے،، جب انسان کے نزدیک استنجے کا پتھر اور سونے کی ڈلی برابر ھو جائیں تو پھر یہ مقام آتا ھے کہ مٹی کو ھاتھ لگاؤ تو سونا بن جاتی ھے !! بات چل رھی تھی کہ مسجد کے باھر کتے فروخت ھو رھے ھیں ،میں نے خادم سے کہا کہ اسے کہو مسجد کی حدود میں خرید و فروخت منع ھے ،کجا یہ کہ تم کتے فروخت کر رھے ھو !! خادم نے جا کر منع کیا تو اس نے لکھ کر بھیج دیا کہ قاری صاحب یہ پاک کتا ھے،فکر نہ کریں میں صرف دکھانے لایا ھوں فروخت دکان پر کروں گا،، ھم بھی خطبے کے دوران دوسرا ٹیب کھول کر اپنے علم کو کھنگالتے رھے،قرآن و حدیث میں تو ھمین پاک کتا کوئی نہیں ملا !! کتا اور پاک ،کتنا کھلا تضاد ھے؟ مگر یہاں تو تضاد ھی تضاد ھے ! حدیثوں مین تضاد،،راویوں مین تضاد، فقہوں میں تضاد،، قول و عمل میں تضاد،، یہ تضاد کی انتہا ھے کہ آج کافر کافر شیعہ کافر ھے،مگر کل یہی شیعہ اتنا پاک تھا کہ امام بخاری اور مسلم کا استاد یا شیخ تھا !! امام مالک کی الموطا کا ستون شیعوں کا امیرالمومنین فی الحدیث تھا،، ھماری صحاح ستہ بھری پڑی ھیں شیعہ راویوں سے،، پہلے ان کے کفر اور ایمان، پاکی اور ناپاکی کا فیصلہ کر لو !! کیا کسی زمانے میں کتا پاک بھی تھا ؟؟ شیعہ بخاری کا راوی بن جائے تو رحمۃ اللہ علیہ بن جاتا ھے،، چاندنی چوک پہ کھڑا ھو تو کافر ھو جاتا ھے،میں پہلے ھی عرض کر چکا ھوں کہ جو تمہاری کتابوں مین تمہارے ائمہ حدیث کے شیوخ شیعہ ھیں پہلے ان کی حدیثیں نکالو پھر شیعہ کافر کا نعرہ لگاؤ،، بعض راوی وہ تھے جو شیعہ مسجد کے امام تھے،بعض وہ تھے جو اس لکڑی کی پوجا کرتے تھے جس پر امام زید کو سولی دی گئ تھی،، مگر کیا کیجئے کہ علماء سانپ رانوں کے نیچے دبائے بیٹھے ھیں مگر ان کو مارتے نہیں،، شیعہ آپ کی کتابوں مین بیٹھا ھے،دنیا کی کوئ طاقت اسے کافر قرار نہین دلوا سکتی اور نہ آپ افورڈ کر سکتے ھیں !! تو حل کیا ھے ؟ فقہی طور پر میں سمجھتا ھوں کہ شیعہ اور سنی مین کوئی جھگڑا نہیں،، شیعہ فقہی طور پر 98٪ فقہ مالکی کا چربہ ھیں،، جبکہ ھمارے اھلِ حدیث اور شیعہ بھائیوں میں بھی فقہی طور پر 19 ،،20 کا ھی فرق ھے، ! علامہ وحید الز
ماں خان،جو صحاح ستہ کے مترجم اور شارح ھیں ان کے بھائی جان تو اھلسنت مین سے تھے،ان کو انہوں نے احادیث کے ترجموں پر لگا دیا،، ان علامہ وحید الزمان رحمۃ اللہ علیہ جو کہ شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے تھے،، نبی ﷺ تک سند حدیث ملتی ھے اور وہ بھی بارہ طرق سے،، آج سلفی حضرات کے پاس ساری شرحیں ان علامہ صاحب کی ھیں،،حتی کہ سلفیوں کی فقہ بھی ان صاحب ھی کی ترتیب کردہ ھے،،نزل الابرار فی فقہ نبی المختار،، یہ ان کی فقہ کی کتاب ھے جو سلفی مدارس مین پڑھائی جاتی ھے اور اس پر سلفی فتوے جاری کیئے جاتے ھیں ! کیا شیعوں کو کافر قرار دیا جا سکتا ھے؟ کیا شیعوں کی دو قسمیں ھیں ایک پاک جو ھماری حدیثیں اور فقہ ترتیب دیتے ھیں اور ایک ناپاک جو گھوڑے نکالتے ھیں اور مغلظات بکتے ھیں ؟؟ جی ھاں اصل شیعیت میں اتنا گند نہیں ھے اور نہ ھی اتنا فقہی اختلاف ھے،،اس وقت شیعیت مراثیوں اور بھانڈوں کے ھاتھوں یرغمال بنی ھوئی ھے،، جلوسوں میں سارے ھی میراثی طبقہ ھوتا ھے جنہیں دین کی الف بے کا پتہ نہیں سوائے کہانیوں اور گالیوں کے،، اس وقت ضرورت اس امر کی ھے کہ علماء اھلسنت حقیقی شیعہ علماء سے رابطہ کریں اور ان کے ھاتھ مضبوط کر کے شیعیت کا قبضہ انہیں واپس دلائیں تا کہ ملک میں امن و امان اور بھائی چارے کی فضا کو بحال کیا جائے ! خیر جناب آمدم بر سرِ مطلب ھم نے جمعے کے فوراً بعد مین گیٹ کی طرف دوڑ لگائی،، آگے مجمع لگا ھوا تھا،، ھم بمشکل پاک کتے کے سامنے پہنچے تو پتہ چلا کہ وہ ایک الیٹرانک ڈیوائس تھی جو ایک خاص سسٹم کے ساتھ کام کرتی تھی،،رات کو آن کر دیں گلی مین سے جب کوئی گزرتا تھا تو اس کے قدموں کی آواز پر کتا بھونکتا اور جوں جوں قدموں کی اواز تیز ھوتی کتے کے بھونکنے کا انداز بھی تعاقب والا اور تیز تیز بھونکنے والا ھو جاتا،، شام کو ھم بھی الیکٹرا روڈ پر ان کی دکان پر پہنچے مگر پاک کتا فروخت ھو چکا تھا،،سارا اسٹاک ختم !

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *