Home / History / ہماری سنہری تاریخ کا بھیانک چہرہ ! بسلسلہ خلافت و جمہوریت اور پاکستان

ہماری سنہری تاریخ کا بھیانک چہرہ ! بسلسلہ خلافت و جمہوریت اور پاکستان

وہ آنجہانی جس کو د ا ع ش اور اسٹوڈنٹس واپس لانے کے لئے مسلمانوں کی لاشوں کے پشتے لگا رہے ہیں اور بلا تفریق بچوں بوڑھوں اور عورتوں کا قتل عام کر رہے ہیں، محراب و منبر کے طلسم سے باہر نکل کر غیر جانبدارانہ نظر ڈالئے تو ہمارا ماضی ایک شرمناک ماضی ہے، اور ہم کے ہی نہیں انسانیت کے بھی مجرم ہیں ۔ ملاحظہ فرمائیےہماری سنہری تاریخ کا بھیانک چہرہ !
بسلسلہ خلافت و جمہوریت اور
ھماری تاریخ ھلاکو اور چنگیز کو شرماتی ھے اور اس کی وجہ یہی ھے کہ ھم نے سچ کو بہت اوپر جا کر آلودہ کر دیا ھے لہذا نیچے سے یہ کبھی درست نہیں ھو گا ،حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے ہاتھوں شھید ھوئے ، حقیقت یہ ھے کہ ھمارے ابتدائی نظام خلافت میں ھی واضح طور پر انتظامی خلا تھا ،جس میں شوری حاکم کو بٹھا تو سکتی ھے مگر پھر اتار نہیں سکتی بلکہ مفلوج ھو جاتی ھے ، حاکم کی مرضی ھے کہ وہ اس سے مشورہ کرے یا نہ کرے ، شوری کے پاس حاکم کے خلاف مقدمہ سننے کا اختیار نہیں تھا اور نہ وہ اس کو معزول کر سکتی ھے اگرچہ خلیفہ فالج کا شکار بھی ھو جائے وہ یا تو خود فوت ھو گا تو امت کی جان چھوٹے گی یا کوئی آگے بڑھ کر اس کو مارے گا تو جان چھوٹے گی ، اس کے سوا کوئی تیسری صورت اسلام ھمارے سامنے نہیں رکھتا –
وہ تو ھمیں کہتا ھے کہ تجربات سے سیکھ کر حالات کے مطابق مشورے سے وہ سسٹم بناتے جاؤ جو انسانی فطری کمزوریوں پر چیک اینڈ بیلنس رکھ سکے – اسلام نے ھم پر چھوڑا اور ھم نے اللہ پر چھوڑ دیا ،، مدینے کی شوری اس وقت اگر بااختیار ھوتی تو اس مسئلے کا پرامن حل ممکن تھا ، یا خلیفہ کو اپنے عہدے کا دفاع نہایت شدت اور قوت سے کرنا چاھئے تھا ،حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد مدینے کو ھی خلیفہ چننا تھا کیونکہ وھی الیکٹورل کالج تھا ،، حضرت علیؓ کی خلافت پہلے دن سے ھی حق تھی اور سب کو ان کی اطاعت کرنی چاھئے تھی ، اس میں کسی اجتہاد کی کوئی ضرورت ھی نہیں تھی ، حضرت علیؓ سے قصاص کا مطالبہ حضرت عثمانؓ کے ورثاء نے کبھی نہیں کیا ، بلکہ حضرت علیؓ کے بار بار پوچھنے کےباوجود ان کے بیٹے قاتلوں کا نام تک نہیں بتا سکے ، حضرت معاویہؓ کے امیر بننے کے بعد بھی کسی نے قصاص نہیں لیا ، وہ حج پر آئے تو حضرت عثمانؓ کے گھر سے ان کی بیٹی کا نوحہ سنائی دیا کہ میرے والد کا قصاص لینے والا کوئی نہیں تو امیر معاویہؓ نے کھڑے مجمعے کو بھگا دیا اور ان کی بیٹی سے کہا کہ ، یہ آواز میں آئندہ نہ سنوں ،،حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی مسلمانوں کے ہاتھوں شھید ھوئے ،،حضرت حسین بھی مسلمانوں کے ہاتھوں شھید ھوئے سر کاٹا گیا اور بدن روندا گیا- حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی ایک روایت یہی ھے کہ آپ کو زھر دیا گیا -حضرت طلحۃ و زبیر رضی اللہ عنھما دونوں عشرہ مبشرہ میں سے تھے جن کو حضرت علیؓ نے پہلے خلیفہ بننے کی پیش کش کی تھی ، وہ دونوں میں مسلمانوں کے ھاتھوں شھید ھوئے-جنگ جمل میں ھی مسلمانوں کے ہاتھوں شھید ھوئے اور صحابہؓ صحابہؓ کے ہاتھوں شھید ھوئے- صفین میں حضرت علیؓ و معاویہؓ کے درمیان مسلمان ھی مسلمانوں کے ہاتھوں شھید ھوئے-
نھروان کے معرکے میں مسلمان ھی مسلمانوں کے ہاتھوں شھید ھوئے -امام حسینؓ اور یزید کے درمیان معرکے میں آلِ رسول میں سے بچوں سمیت 73 شھید ھوئے یہ کام بھی مسلمانوں نے ھی کیا ،،
شھادت حسین پر یزید کے خلاف بغاوت کو دبانے کے لئے مسلم بن عقبہ کے 12000 کے لشکر کے ھاتھوں مدینے میں 700 مھاجر اور انصاری صحابہؓ اور ان کے بچوں کو شھید کیا گیا – یہ کام بھی مسلمانوں کا اپنا کارنامہ ھی تھا – معرکہ حرہ میں مسلم ابن عقبہ کے دوست صحابیؓ معقل بن سنان الاشجعیؓ جو فتح مکہ میں شریک تھے اور بہت ساری احادیث کے راوی ھیں نہایت متقی پرھیزگار شخص تھے ، وہ اس سے ملاقات کے لئے مدینے سے نکل کر آئے اور قتلِ حسینؓ پر یزید کو برا بھلا کہا،جس پر مسلم بن عقبہ نے ان کو غصے میں آ کر شھید کر دیا –
ابولھب و ابوجھل کو بیت اللہ کا پتھر اکھاڑنے یا اس کی کرنے کی جرأت نہیں ھوئی مگر الحصین بن نمیر نے جو کہ عبدالملک بن مروان کے لشکر کا قائد تھا مکے کا محاصرہ کر کے منجنیق سے پتھر پھینک کر بیت اللہ کو ھدم کر دیا –
مدینے میں اور مدینے کے گرد بسنے والے طاقتور یہودی اور عیسائی قبیلوں میں سے کسی کی جرأت نہیں ھوئی کہ وہ مسجد نبوی کی توھین کر سکیں مگر یزید کے قائدِ لشکر نے یزید کے حکم پر تین دن کے لئے مدینے میں قتال حلال قرار دے دیا ،تین دن کے بعد جو باقی بچتے تھے ان سے اس بات پر بیعت لی کہ تمہاری جانوں اور مال کا مالک یزید ھو گا – اور تین دن تک مسجد نبوی میں گھوڑے باندھے گئے اور اس کو بطور اصطبل استعمال کیا گیا ،تین دن نہ اذان تھی نہ جماعت بس گھوڑے پیشاب اور لید کرتے رھے -عبدالملک بن مروان کی خلافت میں عبداللہ ابن زبیرؓ کو شھید کر کے حجاج نے ان کی لاش کو کئ دن الٹا لٹکائے رکھا اور اسماؓء بنت ابوبکرؓ جو کہ نابینا ھو چکی تھیں روز اس لاش کو ٹٹول کر کہتیں کہ ابھی بھی وقت نہیں آیا کہ سوار اپنی سواری سے اتر آئے ، آخر خلیفہ کا خط بغداد سے آیا تب ان کی لاش کو اتار کر دفنانے کی اجازت دی گئ ،
اسی معرکے میں حجاج نے کعبہ پر سنگ باری کروائی اورتیل میں ڈوبے آتشیں تیر چلا کر بیت اللہ کے غلاف کو آگ لگا دی جو پھیل کر اندر تک چلی گئ اور سارے تبرکات جل گئے ، اس کے علاوہ قسم کھا کر حاجیوں کو قتل کرتا رھا جبتک کہ اس کے گھوڑے کے سم ان کے خون میں ڈوب نہ گئے ، تب اپنی قسم پوری ھونے پر قتال روکا گیا ، یہ کارنامہ بھی مسلمانوں کے ہاتھوں سر انجام پایا –
ھشام بن عبدالملک کی خلافت میں امام زید بن زین العابدین جو امام حسینؓ کے پوتے تھے ان کو بہیمانہ انداز میں شھید کیا گیا ، ان کو ننگا کر کے باب دمشق پر سولی دی گئ جہاں انہوں نے تڑپ تڑپ کر جان دی ، چار سال تک ان کی لاش کو اسی جگہ مصلوب چھوڑ دیا گیا اور پھر سوکھی ھوئی لاش کو اتار کر جلا دیا گیا -ولید بن یزید کی وفات کے بعد ان کا جنازہ پڑھانے ولید بن عتبہ بن ابوسفیان کھڑا ھوا جس کو خلیفہ چنا گیا تھا ، وہ ابھی دوسری تکبیر ھی کہہ پایا تھا کہ کسی کی تلوار نے اس کا سر اڑا دیا اور وہ وھیں گر گیا ، اس کے بعد عثمان بن عتبہ یعنی اس کے بھائی کو آگے کیا گیا اور کہا گیا کہ ھم آپ کی بیعت کرتے ھیں ، اس نے کہا کہ کیا تم اس بات پر میری بیعت کرتے ھو کہ نہ تو میں تمہیں کسی مسلمان کو قتل کرنے کا حکم دوں اور نہ خود کسی کو قتل کروں ؟ بنو امیہ نے انکار کر دیا ،جس پر وہ مکے چلا گیا اور عبداللہ ابن زبیرؓ کے ساتھ شامل ھو گیا ،جہاں بنو امیہ ھی کے ہاتھوں قتل کر دیا گیا –
پھر مروان بن حکم مسلمانوں کے ھاتھوں ھی قتل ھوا-
پھر عمر بن عبدالعزیز بھی اپنے خاندان کے ھاتھوں شھید ھوئے-
پھر ولید بن یزید بھی مسلمانوں کے ھاتھوں قتل ھوئے ،
پھر ابراھیم بن ولید بھی مسلمانوں کے دست مبارک سے قتل ھوا
پھر باقی خلفاء یکے بعد دیگرے ابو مسلم خراسانی کے ھاتھوں قتل ھوئے پھر ابوالعباس سفاح نے تمام بنو امیہ اور ان کی اولاد کو قتل کر دیا سوائے ان کے جو کہ دودھ پیتے بچے تھے یا جو اندلس بھاگ گئے باقی سب کا صفایا کرا دیا یوں اس کا نام ھی قاتل (السفاح The Assassin ) پڑ گیا-
اس نے بنو امیہ کی قبریں کھود کر مردے نکالنے کا حکم دیا ، حضرت معاویہؓ کی کھودی گئ تو اس میں سوائے دھاگوں کے کچھ نہ ملا ، واضح رھے امیر معاویہؓ کو نبئ کریم ﷺ کی اس چادر میں دفن کیا گیا تھا جو انہوں نے کسی دوسرے صحابیؓ سے دس ھزار درھم یا دینار میں خریدی تھی ،یزید کی قبر کو کھودا گیا تو اس میں بس راکھ ھی راکھ تھی -عبدالملک کی قبر کھودی گئ تو اس کا بدن صحیح سالم تھا صرف ناک کی ایک طرف تھوڑی سی خراب ھوئی تھی ، لاش کو نکال کر پہلے کوڑے مارے گئے – پھر سولی دی گئ اور پھر جلایا گیا اور اس کی راکھ کو ھوا میں بکھیر دیا گیا -امویوں کو ختم کرنے والی مشین کا نام ابو مسلم خراسانی تھا ، اگر خراسانی نہ ھوتا تو عباسی سلطنت کا وجود تک نہ ھوتا ، مامون نے ابومسلم خراسانی کے بارے میں کہا تھا کہ زمین پر تین جلیل القدر بادشاہ تھے جنہوں نے ملکوں کی تقدیر تبدیل کی ، اسکندر۔ اردشیراور ابومسلم خراسانی ،،ابوالعباس کے مرنے کے بعد اس کے بیٹے ابوجعفر المنصور نے ابومسلم کی مقبولیت کے خوف سے اسے 37 سال کی عمر میں دھوکے سے مروا دیا –
ابومسلم خراسانی کے حامی اٹھ کھڑے ھوئے یوں عباسیوں اور خراسانیوں کی جنگ میں ھزاروں لوگ تہہ تیغ ھوئے ،شجرۃ الدر نے عزالدین ایبک کو قتل کر دیا ، ایبک کی بیوہ نے شجرۃ الدر کو قتل کر دیا ،طغرل کی وفات کے بعد اس کے بھائی اور اس کے بیٹے میں چپقلش شروع ھو گئ اور عثمان نے اپنے چچا دوندار کو قتل کر کے اپنا اقتدار قائم کر لیا یوں خلافت عثمانیہ شروع ھوئی ، اسی خلافت کے اختتام پر ھندوستانیوں نے تحریک خلافت قائم کی تھی اور اس کی حمایت میں جلوس نکالے تھے اور آج بھی خوارج و داعش اسی خلافت کو بحال کرنے کا نعرہ مارتے ھیں ،مگر یہ خلافت کیا تھی اور کسی خوفناک تھی یہ بھی پڑھتے جایئے،عثمان کا پوتا مراد اول جب سلطان بنا تو اس نے اپنے بھائیوں ابراھیم اور خلیل کو اس خوف سے قتل کرا دیا کہ وہ اس کے اقتدار کے خلاف کوئی سازش نہ کریں -پھر جب وہ 1389 ء میں کوسووو کے معرکے میں بسترِ مرگ پر تھا تو اپنے بیٹے یعقوب کا گلہ گھونٹ کر مروا دیا تا کہ وہ اپنے دوسرے بھائی کی خلافت کے خلاف کوئی سازش نہ کر سکے -السلطان محمد الثاني فاتح اسنطبول نے شرعی فتوی جاری کیا کہ سلطنت اور اس کے عوام کی اعلی ترین مصلحت کی خاطر اس کے بھائی کا قتل حلال ھے یوں اس کے بھائی کو قتل کر دیا گیا ،
السلطان مراد الثالث نے اپنے باپ کے بعد خلافت پر بیٹھتے ھی اپنے پانچ بھائیوں کو اسی اعلی ترین مصلحت کی خاطر موت کے گھاٹ اتار دیا -اس کا بیٹا ” محمد الثالث ” بھی اپنے باپ سے کم درندہ نہیں تھا ، اس نے خلافت کا حلف لیتے ھی اپنے 13 بھائیوں کو خلافت کی مصلحت کی خاطر قتل کرا کر اس سلسلے میں ریکارڈ قائم کر دیا -اس سلسلے میں ترک مصنف ” رحمی تروان” ایک مقالے ” بادشاھوں کی یاد داشتیں ” میں لکھتا ھے کہ محمد الثالث نے اپنے 13 بھائی مروانے پر ھی اکتفاء نہیں کیا بلکہ اپنے 16 سال کے بیٹے محمود کو بھی مروا دیا تا کہ وہ اپنے چھوٹے بھائی 14 سالہ سلطان احمد کی مخالفت نہ کر سکے ، یہ سلطان احمد جو بعد میں بلیو مسجد جامع سلطان احمد بنوانے کی وجہ سے مشہور ھوا ،جو اسطنبول کا سب سے مشہور سیاحتی پؤائنٹ ھے ،،جب عثمانی خلافت نے اپنا نفوذ قاھرہ تک بڑھانے کا فیصلہ کیا تو 50 ھزار مصری مسلمانوں کا قتلِ عام کیا – سلطان سلیم نے حاکم قاھرہ طومان بے کو پیغام بھیجا کہ اگر وہ اس کی اطاعت کر لے تو اس کو قاھرہ کی حکومت بخش دی جائے گی ، طومان بے نے یہ پیش کش ٹھکرا دی اور جنگ کی تیاری شروع کر دی ،مگر خلیفہ کی فوجوں کے سامنے کوئی پیش نہ گئ اور وہ فرار ھو کر اپنے دوست الشیخ حسن بن مرعی کے پاس پناہ لینے کو پہنچا جس نے اس کے ساتھ خیانت کر کے مخبری کر دی یوں طومان بے قتل کر دیا گیا اور مصر ترک عثمانی خلافت کے صوبوں میں شامل ھو گیا
اس کے بعد سلطان سلیم نے اپنے دونوں بھائیوں کو قتل کرا دیا جو اس کی خونی پالیسیوں کے مخالف تھے -اس پوری داستان میں آپ کو نظر آئے گا کہ قتل کرنے والوں نے اسلامی خلافت کے مفاد کے نام پر نہ صرف عام انسانوں بلکہ بھائی اور اولاد جیسے قریبی رشتوں کو بھی خون میں نہلا دیا ،،قاتل بھی اسلامی خلافت کے نام پر قتل کر رھے تھے اور مقتولین بھی اسی خلافت کے طلبگار تھے ،،مارنے والے بھی اللہ اکبر کی گونج میں مار رھے تھے اور مرنے والے بھی شھادتین پڑھتے ھوئے جانیں دے رھے تھے ،،یہ داع ش ، یہ ٹی ٹی پی ، یہ بوکو حرام ، یہ الشباب ، یہ القاعدہ یہ سب اسی شجرہ خبیثہ کے پھل پھول ھیں کچھ بھی نیا نہیں ھے ،، پرانی فلم کا ایکشن ری پلے ھے ، یہ سب وھی سلطانوں والے کھیل کھیلنے کے مواقع چاہتے ھیں ،آپ کو یہی سب کچھ پرانی انگلش فلموں میں بھی نظر آئے گا ، یورپ بھی اسی دور سے ھو کر گزرا ھے جب بھائیوں نے بھائیوں کو مارا تھا ،بادشاہ ھی سب کچھ تھا ، پھر انہوں نے تجربات سے سیکھ کر ایک سسٹم بنایا جو عوام اور حاکم کے حقوق متعین کرتا ھے ،حاکم کی صلاحیت اور مدت اقتدار طے کرتا ھے ،پارلیمنٹ کے ایوانوں کے ذریعے چیک اینڈ بیلنس کا نظام قائم کرتا ھے ، عدالتی نظام ھے جہاں ھر ایک جوابدہ ھے ،، اس نظام کا نام ھے جمہوریت ، اگر جمہوریت کا تقابل کرنا ھے تو اپنی 1350 سالہ خلافت کی تاریخ سے کر کے دیکھ لیجئے بری سے بری جموریت آپکی ساڑھے تیرہ سو سالہ خلافتوں سے بہتر ھے ،، اور برے سے برا سیاستدان بھی آپ کے سلطانوں سے بہتر ھے ،
قاری حنیف ڈار عفی اللہ عنہ و عافاہ۔
نشر مکرر ۔
Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *