Home / History / Biography / میں اور میری وال – اور ھم دونوں کا حال

میں اور میری وال – اور ھم دونوں کا حال

میری وال پہ اھل حدیث بھی ھیں !
میری وال پہ حنفی دیوبندی بھی ھیں !
میری وال پہ حنفی بریلوی عرف اھل سنت والجماعت بھی ھیں !
میری وال پہ شیعہ عوام ھی نہیں شیعہ علماء بھی ھیں !
شیعوں میں سے اثنا عشری بھی ھیں اور زیدی بھی ھیں !
میری وال پہ جماعت اسلامی والے بھی ھیں یعنی عرف عام میں مودودی صاحب والے !
میری وال پہ تنطیم اسلامی یعنی ڈاکٹر اسرار احمد صاحب والے بھی ھیں !
میری وال پہ ڈاکٹر ذاکر نائیک والے بھی ھیں !
میری وال پہ ڈاکٹر فرحت ھاشمی والے بھی ھیں !
میری وال پہ غامدی صاحب والے بھی ھیں !
میری وال پہ غلام احمد پرویز صاحب والے بھی ھیں !
میری وال پہ ملحدین بھی ھیں !
میری وال پہ وہ بھی ھیں جو ابھی الحاد اور اسلام کی بارڈر لائن پہ کھڑے ھیں !
میری وال پہ فری لانسرز بھی ھیں !
یہ سارے میری فرینڈ لسٹ میں موجود ھیں ،،
ان سے میرا ربط ان باکس آؤٹ باکس رھتا ھے ،، میں ان سب سے تعلق کو بڑی اھمیت دیتا ھوں ،، میں چاھتا ھوں کہ میری وال کے ھر دوست کو اس کا احترام دیا جائے ، ھر شخص اپنا نقطہ نظر پیش کرے اور ایک دو کمنٹس دے کر چھٹی کر لے ۔وال کو مناظرہ گاہ نہ بنایا جائے ، اپنی بات پہنچانا آپ کا حق ھے ، اختلاف اپ کا حق ھے ،مگر یہ حق منوانا آپ اپنے ذمے مت لیں ، ،، چونکہ مجھے پتہ ھے کہ میری بس پہ کون کون بیٹھا ھے اور اس کا ان کا اسٹاپ کہاں ھے ،میں سب کا خیال رکھتا ھوں ،اب تو صرف نام دیکھ کر مجھے پتہ چل جاتا ھے کہ یہ دوست کس مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ھیں ،یعنی ان کا اسٹاپ کونسا ھے اور مجھے انہیں کہاں ڈراپ کرنا ھے ، بریک زور سے نہیں مارنی تا کہ ان کو جھٹکا نہ لگے ،میں نے ان سب کا لٹریچر بڑی تسلی سے پڑھا ھے ، مجھے ھر مکتبہ فکر کے بنیادی نکات ، اور ایک دوسرے سے ان کے اختلاف کی وجوھات بڑی تفصیل سے معلوم ھیں ، ان سب کو ساتھ لے کر چلنے میں مجھے کبھی کوئی مسئلہ درپیش نہین رھا !
مسئلہ اس وقت بنتا ھے جب دوستوں میں سے کوئی یہ اصرار کرتا ھے کہ میں دوسروں کو کافر مانوں اور کافر قرار دوں ، ظاھر ھے یہ میری Jurisdiction یا Domain میں نہیں آتا ، نہ ھی میں شرعاً کسی کو کافر قرار دینے والی اتھارٹی ھوں ،، میں یہ سارا ٹائم مسلمان کے لئے خرچ کرتا ھوں کافر بنانے کے لئے نہیں ! مجھے پڑھنے کا جنون ھے میں گھر میں بھی پڑھتا رھتا ھوں اور میری گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر دو چار کتابیں پڑی رھتی ھیں ،سگنل پر گاڑی رکتی ھے تو میں وہ دو منٹ بھی کچھ نہ کچھ پڑھ لیتا ھوں ، اس غیر متعصب مطالعے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ھے کہ مجھے ھر مکتبہ فکر کے کمزور پہلوؤں کا بھی پتہ ھے اور طاقتور نکات کا بھی ،، میں ان میں سے کسی مکتبہ فکر کے حق میں اگر ایک گھنٹہ بول سکتا ھوں تو اس کے خلاف دو گھنٹے بول سکتا ھوں ،،مگر میں نے متوسط راہ لی ھے ،ھر مکبتہ فکر کی اچھائی کو آگے بڑھا دیتا ھوں اسے کندھا دیتا ھوں کہ مجھے حکم دیا گیا تھا ؎” تعاونوا علی البر والتقوی ،، ولا تعاونوا علی الاثمِ والعدوان ،،
خلیفہ راشد امیر المومنین جناب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو بلوائیوں نے نماز جمعہ نہ پڑھانے دی اور اپ کو پتھر مار مار کر منبر سے گرا دیا ،، آپؓ کو زخمی حالت مین اٹھا کر گھر منتقل کر دیا گیا اور بلوائیوں نے منبر سنبھال کر خطبہ شروع کر دیا ،، صحابہؓ کرام جناب عثمان غنیؓ کی خدمت میں حاضر ھوئے اور ان کو خبر دی اور مسئلہ پوچھا کہ منبر بلوئیوں نے سنبھال لیا ھے کیا ان کے پیچھے نماز جائز ھے ؟ آپ نے فرمایا نماز میں ان کے ساتھ شریک ھو جاؤ ، پتھر مارنے میں ان کے ساتھ مت شریک ھو ، کیا تم نے اللہ کا حکم نہیں سنا کہ ” نیکی اور تقوے کے کاموں میں لوگوں کے ساتھ تعاون کرو ، اور گناہ اور زیادتی میں کسی سے تعاون مت کرو ،،
—————————————————————————–
#اسلام #قرآن #وال #اھلحدیث #دیوبندی #بریلوی #شیعہ #زیدی
#ISLAM #QURAN #QARIHANIFDAR #REALISLAM #EDUCATION

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *