Home / Humanity / موسم پھر آ گیا ھے کرکٹ وائرس کا

موسم پھر آ گیا ھے کرکٹ وائرس کا

اب لگے گی کی کلیئرنگ سیل !
یعنی جو بچا تھا وہ لُٹانے کے لئے آئے ھیں ،،
اگر ان چند سطروں سے کسی ایک شخص ایمان بھی بچ گیا تو شاید میری بخشش کا ذریعہ بن جائے !!
مہنگی وکٹیں سستے ایمان !
یہ ھے ھمارا !
عالیجاہ بہت ھی سنسنی خیز لمحات ھیں
!
پاکستان کو دنیا میں سربلندی کے لئے
!
سارے غیر ملکی سودی قرضے چکانے کے لئے
!
ساری غیر ملکی ،ملک دشمن ایجنسیوں کو ملک سے بھگانے کے لئے
وار آن ٹیرر کے نام پر ٹیرر اگینسٹ کی تباہ کن جنگ سے نکلنے کے لئے
توانائی بحران پر قابو پانے کے لئے!
علماء میں وسعتِ قلبی اور مذھبی ھم اھنگی پیدا کرنے کے لئے ! طالبان سے مذاکرات کامیاب کرنے کے لئے ! ملالہ فوبیا کو ملک سے مار بھگانے کے لئے !
بلوچستان اور سندھ میں دھشت گردی پر قابو پانے کے لئے
!
میری ٹائم سروس اور اینٹی سمگلنگ فورس کو اختیارات واپس دلانے کے لئے
!
یہ سب کچھ کر کے قوموں کی برادری میں سر اٹھا کر جینے کے لیئے
!
ہمیں صرف اور صرف تین رنز کی ضرورت تھی
!
آپ نے غور سے پڑھا ھے،، ؟
تین سو نہیں ،،،، صرف 3 رنز !
ساری قوم کی نظریں اسکور بورڈ پر لگی تھیں کیوں کہ عرفان کی تو صرف ٹانگیں نظر آ رھی تھیں،اوپر کا موسم کسی کو پتہ نہیں تھا !
ایک مولانا ٹائپ بندہ ! آنکھیں آنسوؤں سے ڈبدبائی ھوئی ! ھاتھ میں سبز کور والا چھوٹا سا قران پکڑے ! گڑگڑا گڑگڑا کر قرآن کو ھلا ھلا کر ! اللہ کو واسطے دے رھا ھے ! صرف تین رنز کا ھے ! واسطے پر واسطے دیئے جا رھے ھیں
،،
خود مداخلت نہیں کر سکتا ! ،،،،،،،،،،،،،،، تـــــــــــــــــــو ،،،،،،،،،،، ان سبز چولے والے بابــــــــــوں کو ھی میــــــــــــدان میں اتار دے ! جنہوں نے 1965 کی جنگ میں انڈیا کے گولے اٹھا کر راوی مین پھینکے تھے ! عمر زیادہ ھو گئی ھے ان کی تو گولے کی بجائے اب چھوٹی سے گیند ھی پھونک مار کے وکٹ سے دور کر دیں،اتنی بھی کمزوری کیا !!!
مگر الٹی ھو گئیں سب تقدیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا ! اور پاکستان جیـــــــــتا ھوا میچ ھـــــــــار گیا،، کوئی بات نہیں یہ تو کھیل میں ھوتا ھے،غلظی کی سزا اگر احد والوں کو مل کر رھتی ھے تو شارجہ کرکٹ گراؤنڈ والے کوئی آسمان سے نہیں اترے ! مگر یہ بات تم کہہ سکتے ھو کیونکہ تم ملک دشمن غدار مولوی ھو، تمہیں کیا پتہ کہ وطن کی محبت کس وبا کا نام ھے ! چلیں اللہ سے دو گلے کر لیتے ھیں ! صبر صبر ذرا پہلے قرآن مجید جیب میں رکھ لوں،کام تو ویسے بھی یہ نہیں آیا،اللہ تو بلیک میل ھوا ھی نہیں ! رب کریم تجھ سے صرف تین رنز ھی مانگے تھے
کوئی قارون کا خزانہ تو نہیں مانگ لیا تھا ؟ کس حال میں میں نے وضو قائم رکھ کر قرآن ھاتھ میں اٹھائے رکھا یہ تو جانتا ھے یا میرا پیٹ ! صرف اتنا بتا دے تجھے پتہ تو ھے ناں کہ یہ ساؤتھ افریقہ والے خوشی مین ابھی شیمپین کی بوتلیں کھولیں گے اور ٹھیک تیرے عرش کی طرف ان کا منہ کر کے اسے اڑائیں گے،،پھــــــــر ٹھیک رھے گا؟ جب تو ھی اپنے اور اپنی عزت کا خیال نہیں کرے گا تو ھم تیری جنگ کہاں کہاں لڑیں گے اور کیسے لڑیں گے؟؟ اس کی بجائے اگر اپنا
عـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــرفان اک سجدہ اس گراؤنڈ میں کــــــر لیتا تو تیری عزت میں کتنا اضافہ ھو جاتا،جبکہ اس کے قد کے حساب سے اس کا سر بھی سدرۃ المنتہی کی بیری کے نیچے پہنچ جاتا ،، صرف تین رنز کا سوال تھا
!
ویسے یہ ھمارے محلے کے مولوی صاحب ھر دن تیری سخاوت اور عطا کے ترانے گاتے رھتے ھیں،مگر جب وقت آیا تو تین رنز بھی خزانے سے نہ نکلے ،یہ رحمٰن کا خزانہ تھا یا پاکستان کا ؟
مورال،،،،
جب کھیل دین بن جائے اور جیت یا ایمان میں سے کسی ایک کو چننے کی نوبت آ جائے تو ایسے کھیل کو چھوڑ دینا چاھئے،، یہ کھیل نہیں یہ ایمان چُوس بلا ھے !
Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *