Home / Islam / ملحدین کے مغالطے !

ملحدین کے مغالطے !

ملحدین کے مغالطے !
جوابات صرف اسلام کے ابتدائی لٹریچر سے اور حوالہ جات کےساتھ ہوں۔ اور غیر متعلقہ تمہید نہ ہو۔
کائنات کو 1929 میں Edwin Hubble نے دریافت کیا۔ اس سے پہلے اللہ،نبی یا کوئی مسلمان کیوں نہیں جانتا تھا۔اللہ تو براعظم آسٹریلیا امریکہ انٹارکٹکا کو بھی نہیں جانتا تھا سوائے مڈل ایسٹ کے ساتھ کچھ علاقہ کے؟ تو پھر یہ خالق کائنات کا کلام ہوا یا کسی انسان کا جو وہاں رہتا تھا؟
الجواب ـ
سائنس تو ہمارے وقت تک یہی کہتی رہی کہ سورج ساکن ہے، اور ہم انگلش سے اردو ترجمہ کر کے دو نمبر لیتے رہے کہ ،،
The Sun is Stationary= سورج ساکن ہے
مگر قرآن اس وقت بھی اصرار کے ساتھ فرما رہا تھا کہ ؎
وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ [يس:38]
اور سورج چل رہا ہے اپنے ٹھکانے کی طرف،
یہ طے کردہ نظام ہےزبردست ایکسپرٹ کا ـ
قرآن حکیم میں بےشمار کائناتی حقائق بیان ہوئے ہیں ، بس ان کا مطالعہ خلوص نیت سے ہونا چاہئے ـ
مشرق وسطی والوں کے لئے ان رسولوں اور قوموں کا تذکرہ کیا گیا ہے جن سے وہ بخوبی واقف تھے، ساری دنیا کے رسولوں کا تذکرہ نہیں کیا گیا ، اللہ پاک نے کئ جگہ اپنے رسولﷺ سے فرمایا ہے کہ ہم نے بس کچھ رسولوں کا تذکرہ آپ سے کیا ہے اور کچھ کا نہیں کیا ،، جبکہ سورہ فاطر میں فرمایا ہے کہ کوئی بستی ایسی نہیں جس میں خبردار کرنے والا نہ بھیجا گیا ہو
واللہ الرازقین۔ روزانہ ہزاروں لوگ بھوک سے مر جاتے ہیں۔(ہود6)جھوٹا دعویٰ یا غیر ذمہ داری؟ اگر دوسرے لوگ کھانا روک لیتے ہیں تو اللہ کی قدرت اور طاقت کہاں گئی۔ کیا سب اور لغو نہیں ؟؟
الجواب ـ
انسان کی زندگی کے دو فیز ہیں ، پہلا فیز سرا سر امتحان ہے اور یہ بات قرآن بار بار اور تکرار سے بیان کرتا ہے، امتحان کے ضوابط میں متفق علیہ ضابطہ ہے کہ ممتحن امتحان کے دوران مداخلت اور جبر نہیں کرے گا کہ غلط لکھنے والے کو غلط لکھنے سے روک دے اور صحیح لکھنے پر مجبور کرے ، اگرچہ امتحان دینے والا اس کا بیٹا یا کوئی عزیز ترین شخص ہو ،، اس کمرہ امتحان میں اگر اللہ پاک ایک شخص کو برائی کرنے کا موقع ہی نہ دے تو پھر یہ نیک و بد کا امتحان کیسا اور زندگی کا کھکھیڑ کیسا ؟ اللہ پاک اس قسم کے لا یعنی کام نہیں کرتا ، لہذا برے کو برائی کا کھلا موقع ہے ، لانے یا نہ لانے کا بھی کھلا اختیار ہے ،، زندگی کے اگلے اور حقیقی فیز میں کھانا روکنے والے ہوں یا ذخیرہ اندوز اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والے ہوں سب کو ان کے جرائم کی سزا ٰ ضرور ملے گی ، قاتل ہوں یا ڈاکو سب اپنے اپنے کرتوتوں کو بھگتیں گے، یہ مطالبہ کہ اللہ پاک ہر معاملے میں خود دخل دے کر برے کو برائی کرنے سے روکے ، انسانی تخلیق کے مقاصد اور اللہ پاک کی اسکیم سے ناواقف شخص کا ہی مطالبہ ہو سکتا ہے ـ
اگر اللہ نے ہی سب کو پیدا کیا ہے تو وہ انسانیت کا ایک اہم جز خواجہ سرا یا ہیجڑوں کے حقوق لکھنا کیوں بھول گیا۔ نیز جنت میں ان کے کیا حقوق ہیں اور انہیں کیا ملے گا؟
الجواب ـ
مخنث کے حقوق بھی وہی ہیں جو مرد و زن کے ہیں ، جو مخنث مذکر کے قریب تر ہے وہ مرد کا حصہ پائے گا ، جو مخنث مؤنث کے نزدیک ہے وہ کا حصہ پائے گا ، اور جنت میں بھی ان کو وہی سب کچھ ملے گا جو مرد و زن کو ملے گا ،،
قرآن میں Necrophilia کی کیا سزا ھے؟ کیونکہ لکھا ھے کہ قرآن میں ہر چیز کی وضاحت موجود ھے(اسرا12۔نحل89)
الجواب !
قرآن میں توحید، رسالت اور معاد کے بارے میں ہر تفصیل موجود ہے، ھدایت کے لئے ہر قسم کی مثالوں کو مختلف انداز میں کھول کر بیان کر دیا گیا ہے اور اسی بارے میں دعوی کیا گیا ہے کہ ھدایت کا تمام سامان اس کتاب کے اندر ہے،، کل شئ سے مراد اس فیلڈ کی ہر چیز ہوتی ہے،، مثلاً فرمایا گیا کہ ملکہ سبا کو ہر چیز دی گئ تھی’’ و اوتیت من کل شیء ،،
[إِنِّي وَجَدْتُ امْرَأَةً تَمْلِكُهُمْ وَ أُوتِيَتْ مِنْ’’ كُلِّ شَيْ‌ءٍ‘‘ وَ لَها عَرْشٌ عَظِيمٌ «23ـ النمل ،، اب اس میں ملک چلانے کے تمام اسباب دینے کی بات کی گئ ہے، آپ اس ’’ کُل ‘‘ کے بارے میں یہ سوال کریں کے کیا اس کو داڑھی مونچھ بھی دی گئ تھی، تو آپ کی عقل کا فتور ہو گا ،،
باقی مردے کے ساتھ جنسی عمل کے بارے میں دنیاوی قانون آپ بیان کر دیں کہ کس ملک میں کیا قانون ہے ؟ تا کہ ہم اسلام کے ساتھ اس کا تقابل کر کے جائزہ لے لیں ـ
سورہ نساء11.12۔ میں وراثت کی تقسیم کچھ یوں ھے۔ بیٹیوں کا دو تہائی۔ماں باپ ہر ایک کا چھٹا۔جبکہ بیوہ کا آٹھواں حصہ۔ اگر کسی کی وفات اور قرضوں کی ادائیگی کے بعد 48ہزار بچتے ہیں.
تو 54=32+8+8+6 ہزار بالترتیب بیٹیوں۔ماں۔باپ اور بیوہ کا حصہ۔ اگر قرآن سچا ہے تو 6 ہزار کا فرق کیوں آتا ھے؟
الجواب ـ
میت کا ورثہ = 48000
ورثاء =
باپ، چھٹا حصہ= 4,,,
,فارمولہ ،،4 تقسیم 27 ضرب 48000=7111.11
ماں ، چھٹا حصہ،=4
فارمولہ ،،4 تقسیم 27 ضرب 48000= 7111.11
بیوی۔ آٹھواں حصہ= 3,
فارمولہ،، 3 تقسیم27ضرب 48000=5333.33
دو بیٹیاں، سولہ حصے ۔
فارمولہ16تقسیم27تقسیم2ضرب48000=
14222.22
دونوں بیٹیوں کو 14222.22 فی بیٹی ملے گا، یعنی کل ملا کر 28444.44 روپے ملیں گے،،
اب جمع کریں،،
7111.11+7111.11+5333.33
+14222.22۔14222.22
=47999.99
صرف ایک پیسے کا فرق ہے ، وہ پیسہ اس اعتراض کرنے والے ملحد کو صدقہ کر دیا جائے، واضح رہے کہ یہ جائداد 48 ارب بھی ہو تو سات پیسے سے زیادہ فرق نہیں پڑتا ،،
جو خدا زندگی میں کیے گئے رزق کے(ہود6) حفاظت کے(بقرہ255) اور باقی وعدے پورے نہ کر سکا۔3 خلفاء قتل ہوئے۔ موت کے بعد کئے گئے اسکے وعدوں پر کیسے یقین کیا جائے؟
الجواب ـ
اللہ تعالی نے یہ وعدہ کہاں کیا ہے کہ کسی کے قتل کرنے سے کوئی قتل نہیں ہو گا،؟ یہ وعدہ کہاں کیا گیا ہے کہ سب کو لازم یکساں رزق دیا جائے گا ،اور اگر کوئی کسی کے حصے کا رزق کوئی دوسرا ذخیرہ کر لے تو جبرائیل رات کو گودام کے دروازے توڑ کر وہ رزق غریبوں کے گھر پھینک کر آئے گا ؟ تین خلفاء ہی نہیں کئ نبی بھی قتل ہوئے یہ تو قرآن بھی بتا رہا ہے ،مگر اللہ نے یہ کہاں کہا ہے کہ وہ خلفاء یا انبیاء کو قتل نہیں ہونے دے گا ؟
باشعور سیکولر ممالک نے بیوی،بیٹی،ماں،بہن کو جائیداد کا پورا حصہ، عورت کی مکمل گواہی، مارنے پر پابندی اور مرد کو ایک شادی تک محدود کیا۔ کیا اس کے بالمقابل خدا اور اسلام نے عورتوں اور انکے انسانی حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالا؟
الجواب ،،
سیکولر ممالک نے تو مرد کی مرد سے شادی بھی چرچ میں کرانے کا فیصلہ کیا ہے، اس سے عورتوں کے حقوق پر تو کوئی ڈاکہ نہیں پڑا؟ اسلام میں بھی عورت کی مکمل گواہی ہے ، عدل نہ کر سکنے کی صورت میں ایک ہی شادی پر اکتفاء کا حکم دیا ہے، اور مار صرف لونڈی کے لئے ہے آزاد عورت کو طلاق تو دی جا سکتی ھے مارا نہیں جا سکتا ،، ویسے یہ عجیب بات نہیں کہ مذھب کا مقابلہ ممالک کے قوانین سے کیا جا رہا ہے حالانکہ اصولاً مذھب کا تقابل مذھب سے کیا جاتا ھے ،، اگر عیسائیت اور یہودیت کے ساتھ اسلام کا تقابل پیش کیا جاتا تو خود ملحد صاحب کے ہر مخرج سے دھواں ضرور نکلتا
قرآن میں کہیں بھی غلامی کو منسوخ نہیں کیا گیا۔(نحل75) رسول اور اکثر صحابہ کے پاس اور لونڈیاں موجود تھے۔ جن کو وہ بیچا بھی کرتے تھے(سیرت حلبیہ جلد دوم نصف آخر صفحہ 418۔تاریخ طبری جلد دوم حصہ اول صفحہ231) ۔ تو انسانوں کی خریدوفروخت اور غلامی کو منظم کرنے والا نبی اور مذہب مکمل ضابطہ حیات ہوا یا غلامی کا ضابطہ حیات؟
الجواب ؛؛
یہاں بھی یہودیت اور مسیحیت کا تقابلی جائزہ پیش کیا جانا چاہیئے تھا کہ یہودیت اور عیسائیت نے غلامی کےضمن میں کیا کارنامے کیئے ہیں ؟ قرآن نے سورہ محمد کی آیت چار میں غلام بنانے کی بجائے قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دینے یا احسان کرتے ہوئے چھوڑنے کا حکم دیا ہے ؛؛ بشرطیکہ جنگ بندی ہو جائے،
[ فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّىٰ إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّىٰ تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا
جس قرآن کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے لیا ہے۔ وہ اصل قرآن تو صفحہ ہستی پر موجود ہی نہیں۔ کیونکہ وہ تو اعراب ونقاط کے بغیر لکھا گیا تھا۔ ناکام محافظ خدا کیسے ہو سکتا ھے؟
الجواب
اللہ پاک نے فرمایا ہے [ بل هو آيات بينات في صدور الذين أوتوا العلم وما يجحد بآياتنا إلا الظالمون (49، العکنکبوت] وہ قرآن اھل علم کے سینوں میں موجود ہے، لکھنا ایک اضافی انتظام ہے، رسول اللہ نے جبرائیل سے سنا اور صحابہ نے رسول اللہﷺ سے سنا اور تب سے حرمین میں اور ہر مسجد میں سنایا جارہا ہے، اور جب انسان پڑھتا ہے تو زیر زبر اور پیش سمیت پڑھتا ہے، اگرچہ زیر زبر پیش کی شکل بعد میں لکھی گی ،اسی طرح جس طرح بولنے میں نکی انگریزی اور وڈی انگریزی میں کوئی فرق نہیں ، بعد میں الگ الگ شکلوں میں لکھی گئیں
10۔
اگر کسی خدا، نبی، رسول، کتاب، مذہب، عقیدہ، خلافت یا امام کے بنا منظم زندگی ممکن نہیں۔ اور اخلاقیات صرف مذہب نے سکھائی ہیں۔ تو جاپان ساوتھ کوریا یورپ کینیڈا آسڑیلیا وغیرہ کی اخلاقیات، تعلیم، صحت اور زندگی گزارنے کے منظم اصول مسلمانوں اور اسلامی اصولوں سے بہت بہتر کیوں ہیں؟؟؟
الجواب ـ
قرآن کہتا ہے کہ اللہ پاک نے کوئی بستی ایسی نہیں چھوڑی جس میں خبدار کرنے والا نہ بھیجا ہو لازم ان ممالک میں بھی اللہ کے نمائندے آ چکے ہیں جن کی تعلیمات پر وہ لوگ عمل کر رہے ہیں ،،
[إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا ۚ وَإِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ (24) فاطر
بےشک ہم نے آپ کو بھیجا ہے حق کے ساتھ بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر اور کوئی بستی ایسی نہیں گزری کہ جس میں خبردار کرنے والا نہ ھو گزرا ہو ،
Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *