Home / Islam / مشاجراتِ صحابہؓ اور ہمارا غیر فطری،غیر منطقی رویہ ـ

مشاجراتِ صحابہؓ اور ہمارا غیر فطری،غیر منطقی رویہ ـ

مشاجراتِ ؓ یعنی کے آپس کے جھگڑوں کے بارے میں ہم نے جو رویہ اپنا رکھا ہے وہ فائدہ مند ھونے کی بجائے ضرر رساں ثابت ہو رہا ہے، دنیا کے کسی مذھب کی کوئی شخصیت کلاسیفائڈ نہیں ، اور نہ ہو سکتی ہے ـ خود رسول اللہ ﷺ نے کوہ صفا پر کھڑے ہو کر اپنی ذاتی زندگی کو ان کلاسیفائیڈ کیا اور اپنے دشمن قبائل سے پوچھا کہ تم میری زندگی ،میرے کردار کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ واضح رہے اس سوال کے جواب پر ہی آئندہ کی دعوت و تبلیغ کی بنیاد ہے ،، اگر مجرد ایک فرد بھی اٹھ کر کہہ دیتا کہ آپ نے ہم سے [معاذ اللہ] فلاں معاملے میں جھوٹ بولا تھا یا دھوکہ دیا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے نہ ان کے سامنے اعلانِ نبوت کرنا تھا اور نہ قرآن پیش کرنا تھا ، اگرچہ وہ دشمن قبیلے کا ہوتا، لوگ کہتے سرکار پھر آپ نے یہ دعویٰ دشمنوں کے سامنے کیا ہی کیوں تھا اپنے امتیوں کے حلقے میں کر لیتے۔
اللہ پاک نے کسی رسول کی کسی کوتاہی پر پردہ نہیں ڈالا ، نہ کلاسیفائڈ قرار دیا ،یونس علیہ السلام بغیر اللہ کے حکم کے بستی چھوڑ کر چل دیئے تو اللہ پاک نے فرمایا کہ اس نے گمان کیا تھا کہ یہ معمولی بات ہے اور اس پر ان کی گرفت نہ کی جائے گی ،مگر نبوت کی ذمہ داری میں یہ بہت اہم معاملہ تھا ، رسول کا گھر اللہ کی طرف سے دیوان یا سرکاری دفتر قرار دیا جاتا ھے ،کوئی نبی اللہ کے حکم کے بغیر دفتر خالی نہیں کر سکتا ،نبی کو بچانا اللہ پاک کی ذمہ داری ہے ، رسول اللہ ﷺ سے بار بار مدینے والوں نے ھجرت کی اپیل کی مگر آپ نے فرمایا کہ مجھے ابھی حکم نہیں ہوا ، اور جب حکم ہوا تو دن دیہاڑے ابوبکر صدیقؓ کے گھر جا کر بتا دیا کہ مجھے ھجرت کا حکم دیا گیا ہے ،، یونس علیہ السلام نے قوم کو عذاب کی وعید سنا کر اس کے نتیجے کا انتظار نہیں کیا بلکہ بستی سے نکل گئے ،جب بستی والے توبہ کرنے پہنچے تو سرکاری دفتر یا سیکریٹریٹ میں بندہ ہی کوئی نہ تھا، خدا خود سکیرٹریٹ میں بیٹھ گیا اور اپنی سنت کو ترک کرتے ہوئے عذاب کو دیکھ لینے کے بعد پہلی اور آخری امت یونس علیہ السلام کی قوم بن گئ کہ اللہ پاک نے ان کی توبہ براہ راست قبول فرمائی اور عذاب کو ہٹا دیا ،دوسری جانب یونس علیہ السلام کو سمندر میں پھنکوا دیا ، اللہ پاک چاہتا تو اس قصے کو چھپا لیتا ، مگر چھپایا نہیں بلکہ بطور عبرت قیامت تک قرآن کا حصہ بنا لیا ـ حضرت داؤد علیہ السلام کی غلطی، رسول اللہ ﷺ کا کسی چیز کو حرام کر لینا وغیرہ سب کچھ اللہ پاک نے بیان کر دیا ،
پھر ہم نے خود سے ایک نسل کو کلاسیفائڈ کیوں کر لیا ؟ کیا اللہ پاک نے صحابہؓ کی غلطیوں کو قرآن میں بیان نہیں کیا ؟ کیا قرآن نے کہا ہے کہ صحابہؓ کی زندگی کے واقعات کو ڈسکس کرنا یا ان کی غلطیوں پر بات کرنا کفر ہے ؟ و عصی آدم ربہ فغوی، اور آدم اپنے رب کی نافرمانی کر بیٹھا اور بھٹک گیا [ طہ] ثم اجتباہ ربہ فھدی، پھر اس کے رب نے اس کو چن لیا اور سیدھی راہ دکھائی یعنی توبہ کی راہ،، اس سے زیادہ سخت جملہ کوئی کسی کے بارے میں کہہ سکتا ہے ؟ یہ کتنا عجیب لگتا ہے کہ آپ ساری دنیا پر تبصرے کرتے پھریں مگر اس پر پابندی لگا دیں کہ فلاں نسل پر کوئی بات نہیں کرنی ،، کیا آپ کو ان کے کردار کے بارے میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،اس لئے یہ زبان بندی ہے ؟ اپنی بیٹی کی شادی کے تذکرے کسی کو برے نہیں لگتے بلکہ انسان خود بھی ان میں شریک ہو کر انجوائے کرتا ہے،مگر کسی کے ساتھ بھاگ جانے والی بیٹی کی بات کرنے پر آپ مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں اور اس کو اپنی غیرت پر حملہ سمجھتے ہیں کیونکہ یہ واقعہ آپ کے لئے شرمندگی کا باعث ہوتا ھے ـ کیا واقعی صحابہؓ کی سیرت اس قدر باعثِ شرمندگی ہے کہ آپ مرنے مارنے پر تُل جاتے ہیں ؟ کہیں آپ کی اپنی perceptions ہی تو غلط نہیں ؟، ایک طرف آپ نے ان کو نبوت سے بھی بالا مقام پر جا بٹھایا اور پھر ان کی انسانی اور بشری غلطیوں کو اپنے لئے گالی سمجھ لیا ،،
ان کی سیرت میں کچھ بھی شرمناک نہیں ہے ،اگر آپ ان کو دیوتا اور معصوم نہ سمجھیں ـ جن واقعات کو ہم شرمناک سمجھتے ہیں وہ صحابہؓ کے متعلق ہیں ہی نہیں ، وہ تو ان لوگوں سے متعلق واقعات ہیں ہیں جن،عراقی، مصری اور شامی قوموں کو تلوار کے زور پر فتح کیا گیا، مسلمان کیا گیا اور ان کے نزدیک تلوار ہی ہر مسئلے کا حل تھی ـ صحابہؓ تو گرداب میں پھنس گئے،اگر بارہ صحابہ اسی ھزار میں پھنس گئے تو فیصلے تو وہی اسی ھزار نو مسلم کر رہے تھے ،بعض دفعہ ہم کو بھی ان حالات سے گزرنا پڑتا ہے کہ جہاں آئیڈلز ساتھ رکھتے ہوئے بھی فیصلے آئیڈیلز نہیں کیئے جا سکتے ،، کیا محمد رسول اللہ ﷺ کا صلح حدیبیہ میں اپنے نام سے رسول اللہ ہٹا دینا آئیڈیل فیصلہ تھا ؟ وہ حالات کا تقاضا تھا ، جب حضرت علیؓ نے رسول اللہ ﷺ مٹانے سے انکار کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ علی تجھے بھی یہ کرنا پڑے گا اگرچہ تجھے کتنا بھی ناگوار ہو ،، لہذا جنگ صفین کے بعد جب معاہدہ لکھا جانے لگا تو کہا گیا کہ یہ معاہدہ امیر المومنین علی ابن ابی طالب اور ،،، تو مخالف وفد نے کہا کہ صبر کیجئے ، طے یہ ہوا تھا کہ وہ بات لکھی جائے گی جس پر دونوں فریق رضامند ہونگے، اگر ہم علی کی امارت پر راضی ہوں تو پھر جنگ کس بات کی ؟ آپ لکھئے یہ علی ابن ابی طالب اور فلاں فلاں کے درمیان معاہدہ ہے ،، اس پر جب ابوموسی الاشعری رضی اللہ عنہ نے حضرت علیؓ سے مشورہ کیا تو حضرت علیؓ کو رسول اللہ ﷺ کا حدیبیہ کا وہ قول یاد آیا کہ علی تجھے بھی یہ ماننا پڑے گا اگرچہ تجھے کتنا ناگوار ہو،تو آپ نے صدق رسول اللہ ﷺ فرما کر اجازت دے دی کہ اگر صلح کے لئے رسول اللہ کاٹا جا سکتا ھے تو امیر المومنین بھی ہٹایا جا سکتا ہے ـ
تاریخ میں درج ہی کیوں کیئے گئے ؟ لوگوں کے منہ بند کرنے کی بجائے اس تاریخ کو ہی Disown کیوں نہیں کیا جاتا ؟ ہم سے زیادہ نیک اور رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے قریب کے لوگوں نے ان راویوں اور مؤرخین کے ہاتھ نہیں کاٹے ،جنہوں نے ان واقعات کو درج کیا ، ہم ساری تاریخ اس لئے نہیں جلاتے کیونکہ اسی میں ہمارے ممدوح ھستیوں کی بے جا اور جھوٹی تعریفوں کے پُل باندھ کر ان کو آسمانی مخلوق ثابت کیا گیا ہے ، لہذا ہمیں تاریخ کا وہی حصہ ناگوار اور کلاسیفائڈ لگتا ھے جس میں ہمارے ممدوح صحابہ کے بارے میں کوئی ناگوار قصہ بیان ہوا ہے، جبکہ اسی تاریخ میں چند صفحے بعد جہاں ہمارے ممدوح کے حق میں لکھا گیا ہے وہ ہمیں قرآن کی طرح لا ریب لگتا ہے ،،
چنانچہ جن احادیث اور روایات سے حضرت ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنھم اجمعین کی تنقیص آپ کو قرآن لگتی ھے ، حدیث اور تاریخ کی انہی کتابوں کے ابواب میں حضرت علیؓ کے بارے میں واقعات آپ کو کفر کیوں لگتے ہیں ؟ سورس تو سب کا ایک ہی ہے ، آدھا پاک اور آدھا پلید کیوں ہے ؟
تمام صحابہؓ اس امت کے بہترین انسان تھے، ان کا ایمان ،جہاد وقتال اور انفاق سب کچھ ہم سے افضل ہے، ھمارا ہمالیہ کے برابر دیا گیا سونے کا ڈھیر صحابہؓ کی مٹھی بھر دی گئ کجھوروں کے برابر نہیں اور نہ نصف کے برابر ہے ، لیکن اس کے باوجود وہ انسان ہی تھے اور ان سے ہر گناہ کے صدور کا امکان موجود تھا ، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زانی اور زانیہ صحابی اور صحابیہ کو متفرق واقعات میں سنگسار کرنے کے بعد یہ نہیں فرمایا کہ انہوں نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر تمام اھل مدینہ پر تقسیم کی جائے تو سب کی بخشش کے لئے کافی ہو جائے،؟ کیا اللہ پاک نے صحابہؓ کی دو جماعتوں کے درمیان قتال کا امکان ظاھر نہیں کیا،اور کیا ایک کو زیادتی کرنے والا گروہ قرار دے کر اس کے ساتھ بھی عدل کرنے کا حکم نہیں دیا ، اور دونوں کو فاسق یا فاجر یا کافر قرار نہیں دیا بلکہ فرمایا کہ وہ ھدایت یافتہ لوگ ہیں کہ ایمان جن کے دلوں میں ٹھونک دیا گیا ہے یعنی محبوب بنا دیا گیا ہے،اور کفر و عصیان ان کے لئے مکروہ بنا دیا گیا ،مگر پھر بھی حالات کے پیش نظر یہ آپس میں قتال بھی کر سکتے ہیں ، اور اس قتال کے باوجود وہ آپس میں بھائی بھائی ہیں لہذا تم اپنے بھائیوں میں صلح صفائی کرا دو ـ؟
[ وَاعْلَمُوا أَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ اللَّهِ ۚ لَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ مِّنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الرَّاشِدُونَ (7) فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَنِعْمَةً ۚ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (8) وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا ۖ فَإِن بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَىٰ فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّىٰ تَفِيءَ إِلَىٰ أَمْرِ اللَّهِ ۚ فَإِن فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا ۖ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (9) إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (10) الحجرات
یہ واقعات بیان کرنے اور ان پر ڈسکس کرنے سے منع کرنے اور برا منانے کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے صحابہؓ کو مافوق الفطرت ہستیاں بنا کر پیش کیا ،اور جب ان کے بارے میں کوئی انسانوں والی بات سامنے آتی ہے تو ہم چِڑ جاتے ہیں ، یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ اپنے بیٹے کے سامنے کسی بچے کی بہت تعریفیں کریں، پھر اس بچے کے بارے میں کوئی خلاف توقع بات سامنے آ جائے اور آپ کا بیٹا اس کو بیان کرنے لگے تو آپ کھانا چھوڑ کر جوتا لے کر اس کے پیچھے دوڑ پڑیں کیونکہ آپ اس کو اپنی ذات پر حملہ سمجھیں کہ بیٹا مجھے جھوٹا ثابت کرنے کے لئے یہ واقعہ ہائی لائٹ کر رہا ہے ،یہی کام ہمارے علماء کرتے ہیں ، پہلے تو صحابہؓ کو انسانوں میں سے نکال کر معصوم بنایا پھر ان کے بارے میں کسی بھی انسانی فطرت کے مطابق واقعے کے بیان پر پابندی لگا دی مبادا صحابہ کرام بھی انسان ہی نہ ثابت ہو جائیں ، جبکہ اس میں امت کے لئے وسعت اور خوش خبری یہ ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ کے قریب کے زمانے کے بہترین لوگ حالات کے بھنور میں پھنس کر کچھ کوتاہیوں کا شکار ہو سکتے ہیں تو ہمیں کافی ساری چھوٹ ملنے کے چانسز ہیں کیونکہ ہم تو صدیوں کا فاصلہ اور نسلوں کی دوری رکھتے ہیں ـ اور اگر وہ ان کوتاہیوں کے باجود اللہ پاک کی گواہی کے مطابق ایمان و اخلاص کے پہاڑ اور الرشدون ہیں تو ہم بھی تھوڑے بہت مشاجرت کے تذکرے کے ساتھ کافر اور مرتد نہیں ہوتے ،،
یہ گلاسنوسٹ اور کھلے پن کا دور ہے ، اب کسی بھی صحابیؓ کو کلاسیفائڈ نہ کر پائیں گے ، تاریخ کا ہر پنا پڑھا جائے گا اور ہر صحابی کے بارے میں احادیث کی کتابوں میں درج واقعات کوٹ کیئے جائیں گے ، خلفائے ثلاثہ کے بارے میں تاریخ بیان کی جائے گی تو خلیفہ چہارم کے معاملے کو بھی کارپٹ کے نیچے نہیں دبایا جا سکتا ،؎ بقول شاعر ،،
ذکر جب چھڑ گیا قیامت کا ـ
بات پہنچی تیری جوانی تک ـ
جب تاریخ کا ذکر ہو گا تو سب کے لئے یکساں ہو گا کیونکہ ہم تمام صحابہؓ کو انسان سمجھتے ہیں ، کسی کو بھی خدا یا معصوم نہیں سمجھتے ـ

قاری حنیف ڈار گستاخوی ـ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *