Home / Islam / قندِ مکرر

قندِ مکرر

آج کچھ درد میرے دل میں سوا ھوتا ھے !
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے زمانے کا واقعہ ھے کہ ایک بچہ کھیلتے کھیلتے ایک غار کے منہ کے پاس چلا گیا ،، اس غار کے دوسری طرف کا منہ کھلا تھا جہاں ایک گہری کھائی تھی اور اس میں گر کر بچنا ایک معجزہ ھی تھا !
بچے کے والدین اور دیگر لوگوں نے اتنا شارپ ری ایکشن دیا ،، اتنا ڈانٹا اس بچے کو کہ بچہ مزید غار کے اندر چلا گیا ،، وہ جتنا ڈانٹتے بچہ اُتنا ھی آگے کھسکتا جاتا ، یہاں تک کہ بچے اور غار کے کھلے دھانے کے درمیان ،، بہت کم فاصلہ رہ گیا کہ خوش قسمتی سے امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا گزر اس طرف سے ھوا ، آپ نے جھانک کر بچے کو دیکھا ،،پھر شور مچاتے لوگوں کو ڈانٹ کر چپ کرا دیا اور فرمایا کہ تم لوگ اس بچے کو مار کر ھی رھو گے ؟
اس جیسا ، اس کا ھم عمر بچہ لاؤ ،، ایک بچہ لایا گیا جسے آپ نے غار کے منہ کے آگے بٹھا دیا اور چند چیزیں اس کے آگے کھیلنے کے لئے رکھ دیں ،، اور لوگوں کو حکم دیا کہ جاؤ چھٹی کرو ، اپنے اپنے گھروں کو جاؤ اور جمگھٹا ختم کرو ، ماحول کو نارمل کر دو ،، غار میں پھنسا بچہ دلچسپی کے ساتھ اپنے ھم عمر بچے کو کھیلتے ھوئے دیکھتا رھا ،پھر اس نے واپس کھسکنا شروع کیا اور غار سے نکل کر اس بچے کے ساتھ بیٹھ کر کھیلنے لگا ،، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اب اسے پکڑ لو !
آج کا نوجوان غار میں پھنسا معصوم بچہ ھے ، جسے ھمارے علماء دوستوں کا شور و غوغا اور فتوی بازی کا طوفان مزید اس کونے کی طرف دھکیل رھا ھے جس کے سامنے کی گہری کھائی ھے ، ضرورت اس امر کی ھے کہ علماء اپنا جبہ دستار ، اور کُلہ شریف اتار کر اپنے مقام سے نیچے آئیں اور اس نوجوان کی سطح پہ آ کر اس کی دین اور دین داروں کے ساتھ دلچسپی بحال کریں تا کہ وہ ان کو خدا سمجھ کر ڈرے نہ بلکہ اپنے جیسا سمجھ کر ان کے قریب آئے ! اس وقت نوجوان الگ Kingdom میں ھیں اور علماء الگ Kingdom کے باسی ھیں دونوں کی دنیائیں ھی نہیں بلکہ احساسات و جذبات سب کچھ 180 ڈگری ایک دوسرے کے خلاف ھیں ! میں دو سے اس بیماری کا نام ڈھونڈ رھا تھا ، شکر ھے آج ایک ساتھی نے اس کا نام افشاء کر دیا ،،
ان کے بقول علماء شعائر اللہ میں سے ھیں اور ان سے مذاق ، شعائراللہ سے مذاق ھے ،،
شعائراللہ میں کوئی شعائراللہ سوء اور شعائراللہ حق کی تقسیم نہیں ھوتی ،، شعائراللہ پہ بُت بھی رکھے ھوں تو شعائراللہ سوء نہیں ھوتا ،، چاھے وہ صفا مروہ ھو یا بیت اللہ ھو ،، مگر علماء میں علماء حق بھی ھیں اور علمائے سوُء بھی ھیں جن کو اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا تھا کہ اس آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ھوں گے ، کتاب اللہ کو اس طرح منہ میں گھمائیں گے جس طرح بیل گھاس گھماتا ھے اور قرآن سے اس طرح کھائیں گے جس طرح بھوکا بیل کھاتا ھے !
علماء شعائراللہ نہیں عام انسانوں کی طرح کے انسان ھیں اور عام انسانوں کی طرح گنہگار بھی ھیں ،، بلکہ ان کے گناہ کی Intensity بہت زیادہ ھے کیونکہ ان کا جھوٹ مسجد میں بولا جاتا ھے ، ان کی غیبت مسجد میں منبر کے اوپر ھوتی ھے ، ان کی گالی مسجد میں ھوتی ھے ، ان کا حسد مسجد کے اندر حسد ھوتا ھے یہانتک کہ دیگر کارنامے بھی اللہ کے گھر میں ھوتے ھیں ،، بہتر ھے کہ وہ دیانت کے ساتھ اپنے مقام کا تعین کریں ، اور حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی بننے کی بجائے عام لوگوں میں آ بیٹھیں تا کہ نوجوان ان کے ساتھ اسی بے تکلفی کے ساتھ بات کر سکیں جس بے تکلفی کے ساتھ وہ کالج میں اپنے پروفیسر سے بات کرتے ھیں اور انہیں کفر کے فتوے کا ڈر نہیں ھوتا !!
میں جب بھی قلم اٹھاتا ھوں تو موضوع علمائے سوء ھی ھوتے ھیں علمائے حق تو خواہ مخواہ چور کی میں تنکا والا معاملہ کرتے ھیں، یوں اپنے آپ کو علمائے سوء کے ساتھ نتھی کر لیتے ھیں !
اذان چینل نوجوانوں اور علماء کے درمیان مکالمہ کرانا چاھتا تھا بہت سوچ بچار اور مشوروں کے بعد مشہورِ زمانہ عالم جو دین کی ھر شاخ کو پڑھنے کے بعد قانون کی تعلیم بھی لے رھے ھیں اور شاید ایل ایل بی مکمل کر چکے ھیں ،، انگلش میں بھی ماسٹر کیا ھوا ھے ،،، ھائے رھے مصیبت ان کے اندر کا شعائراللہ ابھی تک اسی طرح قائم و دائم ھے ،، اسٹوڈنٹس نے جواب اور کراس کویسچنز جو کئے تو ان کے اندر کا شعائراللہ اچھل کر باھر نکل آیا ،، وہ کہہ آئے ھیں کہ دوبارہ اس اور اس جیسی کسی مجلس میں نہیں آئیں گے کیونکہ ان کی یہاں ” Due Respect” نہیں کی گئ ،، اب آپ ان صاحب کی لیمنیشن کروا لیں ،پلاسٹک کور چڑھا لیں تا کہ ان کا شعیرہ ،، یا شیرہ کہیں ڈُھل نہ جائے ،، جب علماء اتنے حساس ھونگے ، اپنے گرد “Electromagnetic “دائرہ بنا کر بیٹھیں گے تو نوجوان کہاں جائے گا ؟
کیا بات کہی تھی بصیر بھائی نے !
حدیں وہ کھینچ رکھی ھیں اھلِ حرم نے !
کہ بن مجرم بنے پیغام بھی پہنچا نہیں سکتے !
یعنی اھل حرم کے در پہ آنا ھے تو اھلِ کلیسا کی طرح” Confession Box ” پہ آؤ آنکھیں نیچی کر کے آؤ کہ ” مولوی صاحب بیوی کو طلاق دے بیٹھا ھوں،، تیسری رکعت میں وضو ٹوٹ گیا تھا ،، آدھی التحیات نہیں بیٹھا ،، یعنی کوئی جرم کیئے بغیر تمہارا اور مولوی کا مکالمہ یا انٹر ایکشن ممکن نہیں ھے !
میں تو اس کوشش میں ھوں کہ احترام کی اس مصنوعی دیوار کو دیوارِ برلن کی طرح توڑ کر پھینک دوں ،، میں اپنی آپ بیتیاں شیئر کرتا ھوں،، لطیفے اور شعر و شاعری بھی شیئر کرتا ھوں ، تاکہ لوگ مجھے اپنے جیسا سمجھیں ،، میرے قریب آئیں اپنے دل و دماغ کھولیں ،، وساوس کی پوٹلیاں میرے ساتھ شیئر کریں اور مجھے اپنے جیسا گنہگار سمجھ کر ان گناھوں سے نکلنے کا طریقہ سیکھیں ،،، دوسری جانب میری وال پر موجود ” علماء کرام یعنی شعائر اللہ ” کو رہ رہ کر دورے پڑتے ھیں اور کچیچیاں چڑھتی ھیں ،، کہ اس نے ھماری ناک کٹا دی ھے ،،

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *