Home / Humanity / قندِ مکرر

قندِ مکرر

میں لکھ کر بھول بھی جاتا ھوں مگر لوگ کمنٹ کر کے پھر سامنے لے آتے ھیں ،،
بڑا بھائی !
آپ شاید سمجھے ھوں گے کہ میں کراچی کی بات کرنے لگا ھوں، ایسا نہیں ھے بلکہ میں اس مظلوم مخلوق کی بات کرنا چاھتا ھوں جو ھر مذھب میں بکثرت پایا جاتا ھے،، اور اس کے معدوم ھونے کے امکانات بالکل نہیں ھیں ! بلکہ ھر کوشش کر کے پہلے بڑا بھائی ھی پیدا کرتی ھے چاھے دیر سویر ھو جائے مگر یہ بڑا بھائی پیدا ھونے سے انکار نہیں کر سکتا !
بڑے بھائی کی سب سے زیادہ اھمیت ھندو مذھب میں ھوتی ھے، جو کراؤن پرنس ھوتا ھے، والد کی ارتھی کو آگ بھی وھی دیتا ھے اور اس کے بعد باپ کی ساری منقولہ و غیرمنقولہ جائداد وارث بھی وہی اکیلا ھوتا ھے، باقی سارے بھائی بہن لیگ بائی کے ھوتے ھیں،، وہ سب بھائی بہنوں کی ذمہ داری اٹھاتا ھے،چونکہ دوسرے بھائیوں اور بہنوں کو جائداد میں سے دھیلا نہیں ملتا لہذا قانوناً بھی اور اخلاقاً بھی بہنوں کو جہیز وغیرہ دینا اور بیاھنا اسی کی ذمہ داری بنتی ھے،پھر گھر بار بھی چونکہ اسی کو ملتا ھے لہذا لازماً دوسرے بہن بھائیوں کو رھنا بھی اس کے ساتھ ھی ھوتا ھے،،یوں بھان متی کا کنبہ بنتا ھے جو بہت مشہور ھے !
جب ھمارے باپ دادا نے مغلوں کے گھوڑں کو دانہ پانی کھلاتے پلاتے اور ان کی مٹھی چاپی کرتے کرتے اچانک ھونے کا فیصلہ کیا تو وہ ھندو بڑا بھائی بھی ساتھ لے آئے اور مسلمان بڑا اور ھندو بڑا بھائی ملا کر مظلوم بڑا بھائی تخلیق کیا ! ھندوؤں کا بڑا بھائی تو تمام خدمات کے عوض ساری جائداد کا مالک بنتا تھا ،،مگر مظلوم بڑا بھائی وہ ساری خدمات بجا لاتا ھے جو ھندو بڑا بھائی بجا لاتا تھا،یعنی وہ بہن بھائیوں کی فوج بھی پالتا ھے،بہنوں کو بیاھتا بھی ھے،جہیز بھی دیتا ھے،چھوٹے بھائیوں کو پالتا بھی ھے ،خود ان پڑھ رہ کر ان کو پڑھاتا بھی ھے، اگرچہ اس کی وجہ سے اس کی اپنی اولاد ان پڑھ رہ جائے،ان کو کاروبار سیٹ کر کے دیتا ھے،، ان کو الگ مکان بنا کر دیتا ھے،وہ سارے ایک ایک کر کے پھُر کرتے جاتے ھیں ،البتہ بڑے کو الگ ھونے کی اجازت نہیں اور نہ ھی بڑے کی بیوی اس چڑیا گھر سے نکل سکتی ھے، وہ اپنے سامنے اپنے بچوں کے منہ کا نوالہ چھن کر دوسروں کے منہ میں جاتا دیکھتی ھے مگر کر کچھ نہیں سکتی ،اس سے طاقتور تو مرغی ھے جو اپنے بچوں کی خاطر اپنے مالک پر بھی جھپٹ پڑتی ھے،، جب یہ سارے بیاھے جا چکے ھوتے ھیں ،اپنی اپنی حوریں لے کر سیٹل ھو جاتے ھیں،، ان کے بچے پڑھ جاتے ھیں،وہ دھرم پورے سے بحریہ ٹاؤن منتقل ھو جاتے ھیں تو ،،، بڑے بھائی سے حساب کتاب کرنے پہنچ جاتے ھیں،، جائداد تقسیم کر لی جاتی ھے،مکان جس میں ان کو پالا گیا تھا، وہ بڑا جو بیوی کے بار بار کہنے پر الگ مکان نہیں لے رھا تھا،، گن پؤائنٹ پر اس مکان سے اس طرح نکالا جاتا ھے کہ اس کے پاس رات کو سونے کے لئے بستر تک نہیں ھوتا ،،پڑوسی ترس کھا کے بستر دیتے ھیں اور وہ کرائے کے مکان میں شفٹ ھو جاتا ھے ، چھوٹے بہن بھائیوں کا ایک جتھہ ھوتا ھے ،وہ آپس میں ھی رشتے ناتے کرتے ھیں بڑے کے بچے نہ کوئی کرتا ھے نہ دیتا ھے کیونکہ وہ ان پڑھ ھیں،،
ھم نے تو وہ بڑے بھی دیکھے ھیں جنہوں نے بھائیوں کو بلایا لاکھوں درھم لگا کر جیولری کی دکانیں ڈال کر دیں بھائی وہ دکانیں بڑے ھوٹلوں میں ناچنے والیوں پر وار کر گھر سدھار گئے، میں ان کے بچے بھی بڑا پالتا رھا،مرغی خانے بھی ڈال کر دیئے اور جب پاکستان گیا تو تنیوں چھوٹے بھائیوں نے اس کو پکڑ کر لمبا ڈال کر خوب پھینٹی لگائی اور والدین بھی چھوٹوں کے ساتھ تھے ! اصل ظلم یہی ھوتا ھے کہ جن کی دعاؤں کے لئے بڑا بھائی یہ سب کچھ کرتا ھے وہ جب بھی کوئ کرائسس پیدا ھوتا ھے تو انصاف کرنے کی بجائے چھوٹے بھائیوں کے ساتھ کھڑے ھوتے ھیں اور بڑے کو بدعائیں دیتے ھیں، گویا خدا ھی ملا نہ وصالِ صنم ! یہ تو پنجابی مظلوم بھائی تھا !
پٹھان بڑا بھائی تو اور بھی زیادہ مظلوم ھوتا ھے !
ایک تو ان میں دو دو شادیاں کرنے کا بہت رواج ھوتا ھے،نتیجہ ظاھر ھے،بہن بھائی بھی بہت سارے ھوتے ھیں مگر ستم بالا ستم یہ ھے کہ وہ تینوں ماؤں سے پیدا ھونے والوں کا بڑا بھائی ھوتا ھے،، وہ پردیس میں کماتا ھے اور گانے سن سن کر جوانی گزار دیتا ھے،، چار پانچ سال بعد گھر جاتا ھے،، پیچھے چھوٹے بھائی چرس پیتے اور بیچتے ھیں،، کبھی موڈ ھوا تو قتل بھی کر دیتے ھیں،، اس بھائی کا کام ان کی ڈالی ھوئی دشمنیاں بھگتانا اور مقدمے لڑنا ھوتا ھے،،اگر پیسہ دے کر قتل کرانا ھو تو بھی پیسہ اسی کو بھیجنا ھوتا ھے کیونکہ یہ بڑا ھے ! اس دوران جو بھی جائداد خریدی جاتی ھے وہ ابا جی کے نام خریدی جاتی ھے،یوں ابا جی کا زیادہ تر کام نئ شادیاں کرنا ھی ھوتا ھے،کیونکہ کا بکرا جو ملا ھوا ھے۔،، ایک صاحب ناوقت تشریف لائے، اس قسم کے مہمانوں پہ غصہ تو بہت آتا ھے کہ آپ گاڑی کے نیچے گھسے آئل تبدیل کر رھے اور سر منہ تیل میں بھرا ھے اور باھر ٹنا ٹن بیل بج رھی ھے،مگر کیا بھی کچھ نہیں جا سکتا کیونکہ اسپتال اور مولوی کا گھر تو ایمرجینسی سروسز میں شامل ھیں،، پتہ نہیں کون کس لمحے کیا کر بیٹھے؟؟ جن دوستوں کی طرف سے مسائل زیادہ آتے ھیں میں انہیں رمضان میں مسیج کر کے پوچھ لیتا ھوں کہ کسی ایمرجینسی کا پروگرام تو نہیں میں سونے لگا ھوں ! وہ بھائی بتانے لگے کہ ” یارا قیری صاحب ھمارا ایک مسئلہ ھے، ھمارا باپ ھے یارا وہ پاگل ھو گیا ھے ! عرض بھائی جان اسپتال لے جائیں،فرمانے لگے وہ والا پاگل نہیں،، ھمارا ماں فوت ھو گیا تو ھم باپ کو بولا کوئی بڑا عمر کا عورت سے کرو،، تمہارا بھی کام چلے گا،بچہ بھی پیدا نہیں کرو،مگر یارا وہ ھمارا بہن سے بھی چھوٹا بیوی لے کر آ گیا،، ابھی ھم بڑا بھائی ھے ھم نے 6 اپنا بہن بھائی پالا ھے ھم کو تیس سال ادھر ھو گیا ھے،، ایک بہن ھے پانچ بھائی،، ابھی باپ نے 7 دوسرا سے پیدا کیا،، چلو ھم نے وہ بھی پالا،ابھی ھمارا سر دیکھو ،، انہوں نے اپنے سر سے پرنا ھٹایا تو دروازے کے آگے روشنی دگنی ھو گئ ،، جناح ٹرمینل کے رن وے کی طرح لش لش کرتا سر تھا،، ابھی ھمارا یہ حال ھو گیا،،ھمارا نوکری ختم ھے،، ھمارا باپ بولتا ھے تمہارا جو گریجویٹی تم کو ملا ھے اس کو بھی سب میں بانٹو یا ادھر گھر میں واپس نہیں آؤ،،ساتھ وہ دو سوتیلے بھائی بھی لے کر آیا ھوا تھا،، تا کہ حکم وہ بھی سن لیں،، میں نے کہا کہ جو جائداد آپ باپ کے نام لگا چکے ھیں اس میں تو سارے حصہ دار ھیں،، اگرچہ یہ باپ کے نام نہیں لگنی چاھئے تھی،، لیکن آپ کے اس پیسے پر جو آپ کو سروس ختم ھونے پر ملا ھے،تمہارے باپ یا تمہارے بہن بھائیوں کا کوئی حق نہیں ھے !
اسلام اور بڑا بھائی !
اسلام میں سارے بھائی برابر ھیں ،چھوٹے بڑے کی کوئی تفریق نہیں سوائے احترام کے کہ بڑا بھائی احترام میں والد کی جگہ رکھتا ھے، بچے پالنے میں والد کا ھاتھ بٹانا چاھئے اور سب بھائیوں کو یہ کام کرنا چاھئے کہ جو بھی کام پر لگتا جائے اپنا حصے کا بوجھ اٹھائے، اس دوران اگر بڑے کی شادی ھو جاتی ھے تو اب وہ والدین کی خدمت اور مدد کرے گا ،مگر بچ بچا کر،پہلے اپنے بچوں کی سوچ سوچے گا پھر والد کے بچوں کی سوچ سوچے گا،، وہ والد صاحب کے نان نقے کا ذمہ دار ھو سکتا ھے، اور ھونا چاھئے ، اپنے بھائیوں کے اللوں تللوں پہ اڑا کر اپنے والدین کی خوشنودی حاصل کرنے کی بجائے اپنے بچوں کی تعلیم اور ضروریاتِ زندگی کو ترجیح دے !
والد کی وفات کے بعد جائداد سب بہن بھائیوں میں حسبِ شریعت تقسیم کر کے سب کو فارغ کر دینا چاھئے چاھے وہ لاکھ ھو یا ھزار ھو یا سو روپیہ،، قل منہ او کَثُر ،، قرآن کہتا ھے تھوڑی ھے یا زیادہ مگر تقسیم کرو،، تقسیم کے بعد سارے اپنا مقدر آزمانے نکل جائیں کوئی امیر ھو جاتا ھے تو یہ اس کا مقدر ھے کوئی غریب رھتا ھے تو اپنا مقدر،،کوئی محل بناتا ھے تو اس کا مقدر کوئی جھونپڑی میں رھتا ھے تو اس کا مقدر مگر کِھنڈ پُھنڈ جاؤ،، بہن بیاہنی ھے تو جس طرح جائداد میں سارے وارث تھے اس بوجھ کو بھی سارے مل کر اٹھاؤ،،، بھائی جوان ھو گیا ھے تو کمائے اور شادی کے لئے جمع کرے،،بڑا بھائی کسی کی شادی کا ذمہ دار نہیں ،سوائے اس کے کہ وہ بہن کی شادی میں جائز حصہ ڈالے ،کسی قسم کی غیر شرعی رسموں اور ڈھائی تین لاکھ یا پانچ لاکھ کے لہنگے جو صرف ایک رات پہنے جاتے ھیں خریدنے میں بالکل مدد نہ کرے کیونکہ شریعت کو اس قسم کے اسراف سے بالکل کوئی دلچسپی نہیں ! بلکہ یہ حرام ھے !
سب سے بری حالت بڑی بھاوج کی ھوتی ھے،وہ کہیں آ جا بھی نہیں سکتی،، شوھر دبئ سے یا سعودیہ سے چھٹی آیا ھے تو کہیں گھومنے بھی نہیں جا سکتے کہ ساتھ پوری فیملی لے کر جانا ھو گا،، وہ صاحب فرماتے ھیں کہ اگر جاؤں گا تو سارے بھائیوں کی بیویاں ساتھ لے کر جاؤنگا،، بھائی جان وہ پیچھے اپنی بیویوں کے ساتھ گھومتے پھرتے رھے ھیں ،، اکیلی تو تیری ڈوہ ڈوہ کرتی پھرتی رھی ھے،، اب اگر چار دن تو ذرا اسے اور بچوں کو باھر لے کر نکل جائے گا تو اسلام کو کوئی خطرہ نہیں،،اپنے بچوں کے لئے کچھ نہیں لیں گے،کیونکہ یا تو میں سارے بھتیجے بھتیجیوں اور بھانجوں بھانجیوں کے لئے لوں گا اگر اس کی استطاعت نہیں تو پھر میں اپنے بچوں کے لئے بھی کچھ نہیں لونگا،،یوں دوسروں کے جرائم کی سزا اپنی اولاد کو دینا،، اس کے نتیجے میں ایسا باپ اپنی اولاد کی نظر میں بھی دشمن،، بیوی کی نگاہ میں بھی مجرم اور آخرکار جب بھائیوں کی طرف سے بھی جواب ملتا ھے تو کسی طرف کا نہیں رھتا،پھر چلتے پھرتے دورے پڑتے رھتے ھیں اور دیواروں سے باتیں کرتے ھیں !

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *