Home / Islam / غلام قادیانی کے تضادات

غلام قادیانی کے تضادات

1… ’’ام یقولون بہ جنۃ بل جاء ھم بالحق واکثرھم للحق کارھون (مؤمنون:۷۰)‘‘
لہٰذا حق یعنی نبوت اور جنون میں تضاد ہے جو کبھی جمع نہیں ہوسکتے۔ اسی لئے آنحضرت علیہ السلام سے اس کی نفی کی گئی۔ ’’ما انت بنعمۃ ربک بمجنون (القلم:3)‘‘
2… ’’مابصاحبکم من جنۃ (سباء:46)‘‘ نبی کی عقل کامل ہونی چاہئے۔
جنون غضب الٰہی ہے۔ (حاشیہ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۳۱، خزائن ج۱۷ ص۶۷)
3… ’’ملھم کے دماغی قوی کا نہایت مضبوط اور اعلیٰ ھونا ضروری ہے۔‘‘ (ریویو ستمبر۱۹۲۹ء)
4… ’’ملھم کا دماغ نہایت اعلیٰ ہوتا ہے۔‘‘ (ریویو جنوری؍۱۹۳۰ء)
مرزاقادیانی باقرار خود مراقی تھے۔ مرزاقادیانی نے کہا کہ: ’’مجھے مراق کی بیماری ہے۔‘‘ (ریویوج۲۴ نمبر۴ص۱۸۱، اپریل ۱۹۲۵ء)
۲… ’’مجھ کو دو بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی۔ یعنی مراق اور کثرت بول۔‘‘
(بدر ج۲ نمبر۲۳ ص۴ مورخہ۷جون 1906ء، ملفوظات ج۸ص۴۴۵، تشحیذ الاذہان ج۱ نمبر۲ص۵)
’’مرزا غلام احمد قادیانی کو ہسٹیریا کا دورہ بھی پڑتا تھا۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج۲ ص۵۵ روایت نمبر۳۶۹)
’’مالیخولیا جنون کا ایک شعبہ ہے اور مراق مالیخولیا کی ایک شاخ ہے۔ ‘‘
(بیاض نور الدین ص۲۱۱)
نتیجہ ظاہر ہے کہ: ’’ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو ہسڑیا مالیخولیا یا مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعوے کی تردید کے لئے پھر کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ ‘‘ (ریویو ج۲۵نمبر۸ ص۲۸۶،۲۸۷ اگست ۱۹۲۶ئ)
۲… ’’لوکان من عند غیر اﷲ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا! ’’اس شخص کی حالت ایک مخبوط الحواس انسان کی حالت ہے۔ جو ایک کھلا کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۸۴، خزائن ج۲۲ ص۱۹۱)
’’ایک دل سے دو متناقض باتیں نہیں نکل سکتیں۔ کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق‘‘ (ست بچن ص۳۱، خزائن ج۱۰ ص۱۴۳)
۱… ’’میں مسیح موعود ہوں۔‘‘ (تحفہ گولڑویہ ص۹۶، خزائن ج۱۷ ص۲۵۳)
’’میں مسیح موعود نہیں۔‘‘ (ازالہ ص۱۹۲، خزائن ج۳ ص۱۴۳)
۲… ’’ابن مریم نبی نہ ہوگا۔‘‘ (ازالہ ص۲۹۲، خزائن ج۳ ص۲۴۹)
’’کیا مریم کا بیٹا امتی ہوسکتا ہے۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۲۹، خزائن ج۲۲ ص۳۱)
۳… ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ۱۲۰برس کی عمر ہوئی تھی۔‘‘
(راز حقیقت ص۲، خزائن ج۱۴ ص۱۵۴ حاشیہ)
’’آخر سری نگر میںجاکر ۱۲۵ برس کی عمرمیں وفات پائی۔‘‘
(تبلیغ رسالت ج۷ ص۶۰، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۱۴۹)
۴… ’’قرآن شریف میں فرمایاگیا ہے کہ وہ کتابیں محرف مبدل ہیں۔‘‘
(چشمہ معرفت ص۲۵۵، خزائن ج۲۳ ص۲۶۶)
’’یہ کہنا کہ وہ کتابیں محرف، مبدل ہیں۔ ان کابیان قابل اعتبار نہیں۔ ایسی بات وہی کہے گا جو خود قرآن سے بے خبر ہے۔‘‘ (چشمہ معرفت ص۷۵، خزائن ۲۳ ص۸۳)
’’باوجود یکہ رسول اﷲ علیہ السلام نے بھی توریت وانجیل کے محرف ہونے کی خبر دی ہے۔‘‘
(مشکوٰۃ ص۲۵)
۳… ’’انما یفتری الکذب الذین لا یومنون باٰیات اﷲ (النحل :۱۰۵)‘‘
’’لعنۃ اﷲ علی الکاذبین (آل عمران :۶۱)‘‘
۱… ’’نبی کے کلام سے جھوٹ جائز نہیں۔‘‘ (مسیح ہندوستان میں ص۶۱، خزائن ج۱۵ ص۲۱)
۲… ’’جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔‘‘ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۲۰، خزائن ج۱۷ ص۵۶ حاشیہ)
۳… ’’جھوٹ بولنے سے بدتر دنیا میں اور کوئی برا کام نہیں۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص۲۶، خزائن ج۲۲ ص۴۵۹)
۱… ’’حدیث میں ہے کہ جب کسی شہر میں وبا نازل ہوتو اس شہر کو بلا توقف چھوڑ دیں۔‘‘
(ریویو قادیان ج۶ ش۹ ماہ ستمبر ۱۹۰۷ء ص۳۶۵)
۲… ’’حضور علیہ السلام نے فرمایا قیامت سو برس تک آجائے گی۔‘‘
(ازالہ ص۲۵۳، خزائن ج۳ ص۲۲۷)
۳… ’’حدیث میں ہے کہ:یخرج فی آخر الزمان دجال (بالدال) یختلون الدنیا بالدین! یعنی آخری زمانہ میں ایک گروہ دجال کا نکلے گا۔ ‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص۸۷، خزائن ج۱۷ ص۲۳۵)
باوجود یہ کہ حدیث میں رجال (بالراء ہے) مگر دھوکا دہی کی غرض سے بالدال نقل کیا ہے۔
۴… ’’ہذا خلیفۃ اﷲ المہدی بخاری کی حدیث ہے۔‘‘
(شہادت القرآن ص۴۱، خزائن ج۶ ص۳۳۷) ( یعنی حدیث میں رجال کی خوژخبری دی گئ تھی جسے ھم مسلمانوں نے دال کے ساتھ بدل کر ” رجال کی بجائے دجال” بنا کر غلام قادیانی کی راہ کھوٹی کی ،،،
۵… ’’مجدد صاحب سرہندی لکھتے ہیں کہ امت کے بعض افراد مکالمہ ومخاطبہ الٰہیہ سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے اور اس کو نبی کہتے ہیں۔ ‘‘
(حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶)
باوجود یہ کہ (مکتوبات ج۲ ص۹۹) میں یوں ہے کہ: ’’اذا کثر ہذا القسم من الکلام من واحد منہم سمی محدثاً‘‘ (ازالہ ص۹۱۵، خزائن ج۳ ص۶۰۰)
’’براہین احمدیہ‘‘ کے معاملہ میں جس گندم نمائی اور جو فروشی کا مظاہرہ کیا وہ کسی سے مخفی نہیں۔ چونکہ جھوٹ کی فہرست لمبی ہے۔ اس لئے دوسرے مقام پر دیکھیں:
۴… ’’وما اسئلکم علیہ من اجر ان اجری الا علی رب العالمین وما من نبی دعا قومہ الی اﷲتعالیٰ الا قال لا اسئلکم علیہ اجراً (یواقیت ج۲ ص۲۵)‘‘
مگر مرزاقادیانی نے تبلیغی چاٹ لگا کر بہت سا روپیہ جمع کیا۔ جیسا کہ لکھتے ہیں کہ: ’’یہ مالی امداد اب تک پچاس ہزار روپیہ سے زیادہ آچکی ہے۔ بلکہ میں یقین کرتا ہوں کہ ایک لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے۔‘‘ (براہین ج۵ ص۵۷، خزائن ج۲۱ ص۷۴)
’’اس قدر بھی امید نہ تھی کہ دس روپیہ ماہوار آئیںگے… اب تک ۳لاکھ کے قریب روپیہ آچکا ہے۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۲۱۲، خزائن ج۲۲ ص۲۲۱)
جو کچھ میری مراد تھی سب کچھ دکھا دیا
میں اک غریب تھا مجھے بے انتہا دیا
دنیا کی نعمتوں سے کوئی بھی نہیں رہی
جو اس نے مجھ کو اپنی عنایت سے نہ دیا
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۰، خزائن ج۲۱ص۱۹)
قادیانیوں سے مطالبہ: کسی نبی سے مذہب کی آڑ میں دنیا کمانا اور تبلیغی چندہ کو اپنی ضرورتوں میں خرچ کرنا ثابت کرو؟۔
۵… ’’ان اﷲ لا یحب الخائنین (انفال:۵۸)‘‘ ’’وہ لوگ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دوبارہ دنیا میں لاتے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ وہ بدستور اپنی نبوت کے ساتھ دنیا میں آئیں گے اور برابر ۴۵سال تک جبرائیل علیہ السلام وحی نبوت لے کر آتا رہے گا۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص۵۲، خزائن ج۱۷ ص۱۷۴)
نقل حدیث میں خیانت کی۔ اصل مذہب یہ ہے کہ: ’’ان عیسیٰ علیہ السلام وان کان بعدہ واولی العزم وخواص الرسل فقدزال حکمہ من ہذا المقام بحکم الزمان علیہ الذی ہو لغیرہ فیرسل ولیًا ذا نبوۃ مطلقۃ ویلہم بشرع محمد علیہ السلام ویفہمہ علی وجہہ کالاولیاء المحمدیین (یواقیت ج۲ ص۸۹)‘‘
اور ایسا ہی مدارج النبوۃ میں ہے۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام اگرچہ نبی ہوں گے۔ مگر ان پر وحی نبوت نازل نہ ہوگی۔ اسی لئے ان کے ساتھ نبیوں جیسا معاملہ نہ ہوگا۔ بلکہ وہ اس امت کے اولیاء اﷲ کی طرح ہوںگے۔
۲… ابن عباسؓ امام مالک رحمۃُ اللہ علیہ اور ابن حزم رحمۃُ اللہ علیہ وغیرہ کی طرف وفات مسیح کے عقیدہ کی نسبت کرنا باوجود یہ کہ وہ آخری زمانہ میں مرنے یا مر کر دوبارہ زندہ آسمان پر مرفوع ہونے کے قائل ہیں۔
مطالبہ: تبلیغی روپیہ کو گورنمنٹ کی اغراض کی اشاعت میں کس شرعی حکم کی وجہ سے خرچ کیا ہے۔ کیا کوئی ایسے چندہ کی مدد کی جا سکتی ہے؟۔
۶… ’’ولا تطع من اغفلنا قلبہ واتبع ھواہ ولا تطع الکافرین (کھف:۲۸)‘‘
مرزاقادیانی جس حکومت برطانیہ کو دجال کا گروہ کہتے ہیں۔ اس کی غلامی پر فخر کرتے اور: ’’سلطنت ممدوح کو خداتعالیٰ کی ایک نعمت سمجھیں اور مثل اور نعماء الٰہی کے اس کا شکر بھی ادا کریں۔‘‘ (براہین ص ب، خزائن ج۱ ص۱۴۰)
۷… ’’وکلاً جعلنا صالحین وجعلناھم ائمۃ یھدون بامرنا واوحینا الیھم فعل الخیرات واقام الصلوٰۃ وایتأء الزکوٰۃ (الانبیاء:۷۳)‘‘
مرزاقادیانی کی سوانح حیات میں کذب بیانی وعدہ خلافی تلبیس اور دھوکا دہی چندہ کا ناجائز تصرف، حرص وطمع دنیوی، نصاریٰ کی حمایت وغیرہ۔ عیوب کھلے طور پر نظر آرہے ہیں۔
۸… ’’وقفینا علی آثارھم بعیسیٰ ابن مریم مصدقا لما بین یدیہ‘‘ (مائدہ:۴۶) ’’
۹… ’’الذین یبلغون رسالات اﷲ ویخشونہ ولا یخشون احداً الا اﷲ (احزاب:۳۹)‘‘
مگر مرزا قادیانی حکومت سے ڈر کر بعض الہامات کے ظاہر نہ کرنے کا عدالت میں عہد کر آتے ہیں۔
۱۰… ’’الذین اتخذوا دینھم لعباً ولھواً وغرتھم الحیوۃ الدنیا (انعام:۷۰)‘‘
مرزا قادیانی دنیا داروں کی طرح دنیوی شہرت اور مال دولت کے جمع ہونے پر فخر کرتے ہوئے اس کو اپنی بڑی کامیابی سمجھتے ہیں۔ ملاحظہ ہو۔
جو کچھ میری مراد تھی سب کچھ دکھادیا
میں ایک غریب تھا مجھے بے انتہا دیا
(براہین ص۱۰ حصہ۵، خزائن ج۲۱ ص۱۹)
اس زمانہ میں ذرا سوچو کیا چیز تھا
جس زمانہ میں براہین کا دیا تھا اشتہار
(براہین حصہ۵ ص۱۱۲، خزائن ج۲۱ ص۱۴۲)
پھر ذرا سوچو کہ اب چرچا میرا کیسا ہوا
کس طرح سرعت سے شہرت ہوگئی ہر سو یار
(براہین حصہ۵ ص۱۱۲، خزائن ج۲۱ ص۱۴۲)
ادھر آنحضرت علیہ السلام کا یہ ارشاد ہے کہ: ’’الانبیاء اشد بلآءً الامثل فالامثل (کنز العمال ج۳ ص۳۲۷ حدیث ۶۷۸۳)‘‘
۱۱… ’’والشعراء یتبعہم الغاون (الشعراء :۲۲۴)‘‘
’’وما علمناہ الشعرو ما ینبغی لہ (یٰسین:69)‘‘
مگر مرزاقادیانی کی شعر سازی کا مرزائیوں میں بڑا چرچا ہے۔
مطالبہ: کوئی نبی شاعر پیش کرو؟
۱۲… ’’یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو۔ جس کو وہ سمجھ بھی نہ سکتاہو۔‘‘
(چشمہ معرفت ج۲ ص۲۰۹، خزائن ج۲۳ ص۲۱۸)
مگر مرزا قادیانی خود اس کے قائل ہیں۔ ’’بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں بھی ہوتے ہیں۔ جس سے مجھے کچھ واقفیت نہیں۔ جیسے انگریزی، سنسکرت یاعبرانی وغیرہ۔‘‘
(نزول مسیح ص۵۷، خزائن ج۱۸ ص۴۳۵)
۱۳… ’’ولقد ارسلنا من قبلک رسلاً الیٰ قومھم فجاؤھم بالبینات (الروم :47)‘‘
’’فان مدعی النبوۃ لا بدلہ من نبوۃ (بیضاوی ج۲ ص۱۰۵)‘‘
’’تمامی انبیاء ورسل راصلوات اﷲ علیہم معجزات است وہیچ پیغمبرے بے معجزہ نیست‘‘ (مدارج ج۱ ص۱۹۹)
اس آیت کی تفسیر میں علامہ بیضاوی فرماتے ھیں کہ ھر نبی کے لئے معجزہ لازم ھے !
غلام قادیانی کا دعوی ھے کہ اسے تمام انبیاء سے زیادہ معجزات دیئے گئے ھیں ،، مگر وہ معجزے کیا ھیں اور کہاں ھیں ؟؟
کیا ایک شخص کا یہ کہنا کہ وہ عورت بن گیا ھے یعنی مریم ،، پھر اسے حمل ھو گیا ھے جس کی مدت بھی تحریر کی کہ وہ کتنا عرصہ رھا ،، اور پھر خود ھی اس حمل میں سے عیسی بن کر نکل آیا ،، یا للعجب ،، دنیا میں کوئی جاندار بھی اس طرح پیدا نہیں ھوتا کجا کہ انسان خود ھی ماں ھو اور حمل اٹھائے رکھے اور پھر خود ھی حمل میں سے نکل آئے ،، جو مرد عورت بنا تھا اور جس کو حمل ھوا تھا وہ مرد اور عورت کہاں چلے گئے ؟
ختم نبوت فورم

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *