Home / History / عدل و انصاف کے پیمانے !

عدل و انصاف کے پیمانے !

اللہ پاک کسی کا رشتےدار نہیں ہے اور نہ ہی اس کا تعلق کسی خاص قوم یا قبیلے کے ساتھ ہے، لہذا یہ بات تو سوچی بھی نہیں جا سکتی کہ وہ ایک خاص قبیلے کی حکومت پسند کرتا ہے ، اور اس قبیلے کے مخالفین پر لعنت کرتا ہے ـ
ہر شخص اللہ پاک کو اپنی سطح پر لانے کے درپے ہے، پاکستان اور بنگلہ دیش کا میچ ہو تو پاکستانی اللہ پاک کو پاکستانی بن کر سوچنے کی دہائی دیتے ہیں ، اور بنگہ دیش والے بھی ہاتھ اٹھا اٹھا کر اس کو بنگالی کی سوچ سوچنے پر آمادہ نظر آتے ہیں ،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ سب کا خالق ہے ، اور ساری مخلوق اس کے لئے یکساں ہے وہ عدل پر فیصلے کرتا ھے اور ہمیں بھی عدل ہی کرنے کا حکم دیتا ہے ،
دو مسلم گروہوں میں قتال ہو جائے تو اس کے بارے میں اللہ پاک کا واضح حکم موجود ہے کہ دونوں میں صلح کرانے کی کوشش کرو ـ اگر ان میں سے کوئی ایک گروہ بھی آمادہ پیکار نظرآئے تو پھر سب مل کر اس کی لڑنے کی حسرت پوری کردو تا آنکہ اس کا لڑائی والا کیڑا مر جائے اور وہ صلح پر آمادہ ہو جائے ، پھر جب وہ صلح پر آمادہ ہو جائے تو تم ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرو، یعنی ہو سکتا ھے کہ جو آمادہ پیکار تھا وہ حق پر ہی ہو اور اپنا حق لڑ کر حاصل کرنا چاہتا ھو، پھرجب وہ صلح پر مجبور کر دیا گیا تو اب تم اس بہانے سے کہ تمہاری بھڑکائی گئ جنگ کی آگ میں سیکڑوں یا ھزاروں مسلمان مارے گئے ہیں لہذا تمہارے تمام حقوق معطل ہو گئے ہیں اور تم پر ہی ساری سزائیں اور جرمانے لاگو ہونگے ، یہ بات درست نہیں ، یہ تو جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا معاملہ ہو جائے گا ، بہتر ہے حقدار کو اس کا حق دلاؤ ـ
فتنے کی ابتدا شھادتِ عثمان سے ہوئی ہے، مگر ہم نے رافضیوں کو قاتلینِ عثمانؓ پر لعنت کرتے نہ سنا نہ کہیں پڑھا ،حالانکہ وہ متفق علیہ خلیفہ تھے اور انہوں نے اپنی خلافت کے دفاع میں کسی کی نکسیر بھی نہیں پھوڑی اور روزے کی حالت میں قرآن کی تلاوت فرماتے ہوئے افطاری سے تھوڑی ہی دیر پہلے شھید کر دیئے گئے ـ ہم نے اس پر بھی رافضیوں کی طرف سے عثمان رضی اللہ عنہ کے صبر کی نہ تو کوئی تعریف کہیں پڑھی ، نہ سنی اور نہ ہی کوئی کلمہ خیر ان کے بارے میں کہا گیا ـ پھر یزید پر رافضیوں کی لعنتوں کا کوئی جواز نہیں بنتا ـ یزید نے تو حضرت عثمانؓ کی بجائے حضرت علیؓ کی سنت پر عمل کیا اور اپنی حکومت کے دفاع میں اقدام کیا ،
یزید کے ہاتھ پر حضرت علیؓ سے زیادہ صحابہؓ نے بیعت کی تھی ، چار پانچ صغار الصحابہ نے اس کی بیعت نہیں کی ، باقی سب یزید کی بیعت میں داخل تھے ، جبکہ حضرت علیؓ کی بیعت بقول روافض صرف چھ صحابہؓ نے کی تھی اور وہی ان کے نزدیک مسلمان ہیں ، باقی سارے صحابہؓ حضرت علی کی بیعت نہ کر کے مرتد ہو گئے تھے ، نعوذ باللہ من ذالک ـ
یزید کی بیعت جبر کے ساتھ لی گئ ،،بفرض محال یہ بات مان بھی لی جائے تو حضرت علیؓ کی بیعت بھی مالک بن اشتر کی خون ٹپکاتی تلوار کے سائے میں ہی ہوئی تھی ، اور وہ بلوائیوں کے ہی کنڈیڈیٹ تھے ، ان کی خلافت اسی لمحے اپنی مصداقیت کھو بیٹھی تھی جب بلوائیوں نے ان کے اس حکم کو ماننے سے انکار کر دیا تھا کہ، عثمانؓ راہ سے ہٹ گئے ہیں لہذا ان کا مطالبہ پورا ھو چکا ہے ، وہ اپنے اپنے علاقوں کو واپس چلے جائیں ، مگر بلوائیوں نے مدینہ چھوڑنے سے انکار کر دیا ، اور حضرت علیؓ کو ساتھ لے کر ہی مدینے سے نکلے ـ پھر جب خلافت کا قبضہ لینے میں پانچ سالہ خانہ جنگی کے دوران چھیاسی ھزار سے زیادہ لوگ مار دیئے گئے تویہ سب قتلِ عام جائز تھا ، یزید نے اپنی خلافت کے دفاع میں بہت کم خون بہایا ہے ، یزید اگر قرآن پڑھتے ہوئے امام حیسنؓ اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھوں اپنا سر بھی کٹا دیتا تب بھی ملعون ہی رہنا تھا ـ کسی نے اس کی تعریف نہیں کرنی تھی ـ یزید کے تعین کردہ گورنر کو کوفے سے بھگا کر کوفے والوں نے جب مسلم بن عقیلؓ کے ہاتھ پر امام حسینؓ کے حق میں بیعت لے لی اور حضرت امام حسین اس خلافت کا قبضہ لینے کوفے کی جانب رواں دواں تھے ، اگر وہ بخیر و خوبی کوفے پہنچ بھی جاتے تو کیا اس سے امن و امان قائم ہو جاتا ؟ ہر گز نہیں ، وہ یقینا اپنے حامیوں کو لے کر شام کا قبضہ لینے نکلتے تا کہ اپنی خلافت کو مکمل کریں ـ شام فتح ہو جاتا تو وہ ابن زبیر سے خلافت کا قبضہ لینے جاتے ،، اگر ابن زبیر خلافت ان کو دینے کے لئے تیار ھوتے تو ان کو مکے سے ہی نہ آنے دیتے ہیں اپنا عمامہ ان کے قدموں میں رکھ کر بیعت کر لیتے اور کہتے کہ ہمارے ماں باپ آپ پر قربان یہ بنی بنائی خلافت قبول کیجئے اور ہمیں ساتھ لے کر چلئے ،، ابن زبیر نے امام حسینؓ کو مکے میں رہائش رکھنے کا تو مشورہ دیا کہ یہاں آپ کو امن و امان حاصل رہے گا ، لیکن خلافت کی بیعت اپنا حق ہی رکھی ، لہذا امام حسینؓ اور ابن زبیرؓ میں اسی قسم کی جنگیں ہوتیں جیسی بعد میں علویوں اور عباسیوں میں جاری رہیں ، اور علوی یا آل علی خلافت اپنا حق سمجھ کر دعوے کرتے رہے اور عباسیوں کے ھزاروں جنگجو تہہ تیغ کر کے خود بھی مارے جاتے رہے ـ بلکہ جس بےدردی کے ساتھ عباسیوں نے علویوں کو کچلا ، بنو امیہ اتنا سوچ بھی نہیں سکتے تھے ـ کیونکہ امام حسین کی شھادت کے بعد یزید نے جو مثالی حسنِ سلوک آل علیؓ کے ساتھ کیا وہ گواہ ہے ، مدینے کی بغاوت کچلنے میں بھی آل علیؓ نے زید کی مدد کی اور یزید کو باقاعدہ خط لکھ کر اپنی وفاداری کا یقین دلایا امام زین العابدین نے ـ اسی بات کی طرف حضرت عمرؓ نے ابن عباسؓ کو رستے میں چلتے ہوئے اشارہ کیا تھا کہ بنو ھاشم میں آپس میں بھی ٹینشن تھی ، ویسی ہی ٹینشن جیسی اوس و خزرج میں تھی اور اوس نے خزرج کو خلافت سے محروم رکھنے کے لئے مھاجرین کو خلافت کا موقع دے دیا ـ
اس لئے اب بڑے بڑے نام لے کر لعنت کے جواز پیدا کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، آیت (( و من یقتل مومنا متعمدا ،، )) کا اطلاق پھر سب حکمرانوں پر ہوتا ھے جس نے اپنی حکومت کے دفاع میں قتلِ عام کیا ہے ـ قرآن سب کے لئے ہے !

قاری حنیف ڈار ـ

فیس بک پوسٹ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *