Home / Hadith / صحیح بخاری -> کتاب الصیام

صحیح بخاری -> کتاب الصیام

باب : سفر میں روزہ رکھنا اور افطار کرنا
حدیث نمبر : 1941
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن أبي إسحاق الشيباني، سمع ابن أبي أوفى ـ رضى الله عنه ـ قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر فقال لرجل “انزل فاجدح لي”. قال يا رسول الله الشمس. قال “انزل فاجدح لي”. قال يا رسول الله الشمس. قال “انزل فاجدح لي”. فنزل، فجدح له، فشرب، ثم رمى بيده ها هنا، ثم قال “إذا رأيتم الليل أقبل من ها هنا فقد أفطر الصائم”. تابعه جرير وأبو بكر بن عياش عن الشيباني عن ابن أبي أوفى قال كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق شیبانی نے، انہوں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے ( روزہ کی حالت میں ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب ( بلال رضی اللہ عنہ ) سے فرمایا کہ اتر کر میرے لیے ستو گھول لے، انہوں ے عرض کی یا رسول اللہ ! ابھی تو سورج باقی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اتر کر ستو گھول لے، اب کی مرتبہ بھی انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ ! ابھی سورج باقی ہے لیکن آپ کا حکم اب بھی یہی تھا کہ اتر کر میرے لیے ستو گھول لے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طرف اشارہ کرکے فرمایا جب تم دیکھو کہ رات یہاں سے شروع ہو چکی ہے تو روزہ دار کو افطار کرلینا چاہئے۔ اس کی متابعت جریر اور ابوبکر بن عیاش نے شیبانی کے واسطہ سے کی ہے اور ان سے ابواوفی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھا۔
تشریح : حدیث اور باب میں مطابقت ظا ہر ہے، روزہ کھولتے وقت اس دعا کا پڑھنا سنت ہے اللہم لک صمت و علی رزقک افطرت یعنی یا اللہ ! میں نے یہ روزہ تیری رضا کے لیے رکھا تھا اور اب تیرے ہی رزق پر اسے کھولا ہے۔ اس کے بعد یہ کلما ت پڑھے ذہب الظما و ابتلت العروق و ثبت الاجر ان شاءاللہ یعنی اللہ کا شکر ہے کہ روزہ کھولنے سے پیاس دور ہو گئی اور رگیں سیراب ہو گئیں اور اللہ نے چاہا تو اس کے پاس اس کا ثواب عظیم لکھا گیا۔ حدیث للصائم فرحتان الخ یعنی روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں پر حضرت شاہ ولی اللہ مرحوم فرماتے ہیں کہ پہلی خوشی طبعی ہے اور رمضان کے روزہ افطار کرنے سے نفس کو جس چیز کی خواہش تھی وہ مل جاتی ہے اور دوسری روحانی فرحت ہے اس واسطے کہ روزہ کی وجہ سے روزہ دار حجاب جسمانی سے علیحدہ ہونے اور عالم بالا سے علم الیقین کا فیضان ہونے کے بعد تقدس کے آثار ظاہر ہونے کے قابل ہوجاتاہے، جس طرح نماز کے سبب سے تجلی کے آثار نمایاں ہو جاتے ہیں۔ ( حجۃ اللہ البالغہ )
حدیث نمبر : 1942
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن هشام، قال حدثني أبي، عن عائشة، أن حمزة بن عمرو الأسلمي، قال يا رسول الله إني أسرد الصوم.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے باپ عروہ نے بیان کیا، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ ! میں سفر میں لگاتار روزہ رکھتا ہوں۔
حدیث نمبر : 1943
حدثنا عبد الله بن يوسف، أخبرنا مالك، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة ـ رضى الله عنها ـ زوج النبي صلى الله عليه وسلم أن حمزة بن عمرو الأسلمي قال للنبي صلى الله عليه وسلم أأصوم في السفر وكان كثير الصيام. فقال “إن شئت فصم، وإن شئت فأفطر”.
( دوسری سند امام بخاری نے کہا کہ ) اور ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہیں امام مالک نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد نے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عر ض کی میں سفر میں روزہ رکھوں؟ وہ روزے بکثرت رکھا کرتے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر جی چاہے تو روزہ رکھ اور جی چاہے افطار کر۔
تشریح : اس مسئلہ میں سلف کا اختلاف ہے بعضوں نے کہا کہ سفر میں اگر روزہ رکھے گا تو اس سے فرض روزہ ادا نہ ہوگا پھر قضا کرنا چاہئے اور جمہور علماءجیسے امام مالک اور شافعی اور ابوحنیفہ رحمہم اللہ یہ کہتے ہیں کہ روزہ رکھنا سفر میں افضل ہے اگر طاقت ہو اور کوئی تکلیف نہ ہو اور ہمارے امام احمد بن حنبل اور اوزاعی اور اسحق اور اہل حدیث یہ کہتے ہیں کہ سفر میں روزہ نہ رکھنا افضل ہے بعض نے کہا دونوں برابر ہیں روزہ رکھے یا افطار کرے، بعض نے کہا جو زیادہ آسان ہو وہی افضل ہے۔ ( وحیدی ) حافظ ابن حجر نے اس امر کی تصریح فرمائی ہے کہ حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے نفل روزہ کے بارے میں نہیں بلکہ رمضان شریف کے فرض روزوں ہی کے بارے میں دریافت کیا تھا فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی رخصۃ من اللہ فمن اخذ بہا فحسن و من احب ان یصوم فلا جناح علیہ ( فتح الباری ) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جواب دیا کہ یہ اللہ کی طرف سے رخصت ہے جو اسے قبول کرے پس وہ بہتر ہے اور جو روزہ رکھنا ہی پسند کرے اس پر کوئی گناہ نہیں۔ حضرت علامہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ لفظ رخصت واجب ہی کے مقابلہ پر بولا جاتا ہے اس سے بھی زیادہ صراحت کے ساتھ ابوداؤد اور حاکم کی روایت میں موجود ہے کہ اس نے کہا تھا کہ میں سفر میں رہتا ہوں اور ماہ رمضان حالت سفر ہی میںمیرے سامنے آجاتا ہے اس سوال کے جواب میں ایسا فرمایا جو مذکور ہوا۔
صحیح بخاری -> کتاب الصیام
باب : جب رمضان میں کچھ روزے رکھ کر کوئی سفر کرے
حدیث نمبر : 1944
حدثنا عبد الله بن يوسف، أخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابن عباس ـ رضى الله عنهما ـ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج إلى مكة في رمضان فصام حتى بلغ الكديد أفطر، فأفطر الناس. قال أبو عبد الله والكديد ماء بين عسفان وقديد.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے او رانہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( فتح مکہ کے موقع پر ) مکہ کی طرف رمضان میں چلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے تھے لیکن جب کدید پہنچے تو روزہ رکھنا چھوڑ دیا۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ علیہ نے کہا کہ عسفان اور قدید کے درمیان کدید ایک تالاب ہے۔
تشریح : امام بخاری نے یہ باب لاکر اس روایت کا ضعف بیان کیا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب کسی شخص پر رمضان کا چاند حالت اقامت میں آجائے تو پھر وہ سفر میں افطار نہیں کرسکتا، جمہور علماءاس کے خلا ف ہیں وہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کا قول مطلق ہے فمن کان منکم مریضا او علی سفر فعدۃ من ایام اخر ( البقرۃ : 184 ) اور ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کدید میں پہنچ کر پھر روزہ نہیں رکھا حالانکہ آپ دسویں رمضان کو مدینہ سے روانہ ہوئے تھے اب اگرکوئی شخص اقامت میں روزہ کی نیت کرلے پھر دن کو کسی وقت سفر میں نکلے تو اس کو روزہ کھول ڈالنا درست ہے یا پورا کرنا چاہئے اس میں اختلاف ہے مگر ہمارے احمد بن حنبل اور اسحق بن راہویہ یہ روزہ افطار کرنے کو درست جانتے ہیں، اور مزنی نے اس کے لیے اس حدیث سے حجت لی حالانکہ اس حدیث میں اس کی کوئی حجت نہیں کیوں کہ کدید مدینہ سے کئی منزل پر ہے۔ ( وحیدی )
حدیث نمبر : 1945
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا يحيى بن حمزة، عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، أن إسماعيل بن عبيد الله، حدثه عن أم الدرداء، عن أبي الدرداء ـ رضى الله عنه ـ قال خرجنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في بعض أسفاره في يوم حار حتى يضع الرجل يده على رأسه من شدة الحر، وما فينا صائم إلا ما كان من النبي صلى الله عليه وسلم وابن رواحة.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا، ان سے ابوعبدالرحمن بن یزید بن جابر نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن عبید اللہ نے بیان کیا، اور ان سے ام درداءرضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابودرداءرضی اللہ عنہ نے کہا ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر کر رہے تھے۔ دن انتہائی گرم تھا۔ گرمی کا یہ عالم تھا کہ گرمی کی سختی سے لو گ اپنے سروں کو پکڑ لیتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی شخص روزہ سے نہیں تھا۔
معلوم ہوا کہ اگر شروع سفر رمضان میں کوئی مسافر روزہ بھی رکھ لے اور آگے چل کر اس کو تکلیف معلوم ہو تو وہ بلاتردد روزہ ترک کر سکتا ہے۔
صحیح بخاری -> کتاب الصیام
باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا اس شخص کے لیے جس پر شدت گرمی کی وجہ سے سایہ کر دیا گیا تھا کہ
ليس من البر الصوم في السفر
سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔
حدیث نمبر : 1946
حدثنا آدم، حدثنا شعبة، حدثنا محمد بن عبد الرحمن الأنصاري، قال سمعت محمد بن عمرو بن الحسن بن علي، عن جابر بن عبد الله ـ رضى الله عنهم ـ قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر، فرأى زحاما، ورجلا قد ظلل عليه، فقال “ما هذا”. فقالوا صائم. فقال “ليس من البر الصوم في السفر”.
ہم سے آدم بن ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمن انصاری نے بیان کیا، کہا کہ میں نے محمد بن عمرو بن حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر ( غزوہ فتح ) میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک شخص پر لوگوں نے سایہ کر رکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا کہ ایک روزہ دار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سفر میں رو زہ رکھنا اچھا کام نہیں ہے۔
تشریح : اس حدیث سے ان لوگوں نے دلیل لی جو سفر میں افطار ضروری سمجھتے ہیں۔ مخالفین یہ کہتے ہیں کہ مراد اس سے وہی ہے جب سفر میں روزے سے تکلیف ہوتی ہو اس صورت میں تو بالاتفاق افطار افضل ہے۔
:
صحیح بخاری -> کتاب الصیام
باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم ( سفر میں ) روزہ رکھتے یا نہ رکھتے وہ ایک دوسرے پر نکتہ چینی نہیں کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر : 1947
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن حميد الطويل، عن أنس بن مالك، قال كنا نسافر مع النبي صلى الله عليه وسلم فلم يعب الصائم على المفطر، ولا المفطر على الصائم.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے، ان سے حمید طویل نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( رمضان میں ) سفر کیا کرتے تھے۔ ( سفر میں بہت سے روزے سے ہوتے اور بہت سے بے روزہ ہوتے ) لیکن روزے دار بے روزہ دار پر اور بے روزہ دار روزے دار پر کسی قسم کی عیب جوئی نہیں کیا کرتے تھے۔
باب اور حدیث میں مطابقت ظاہر ہے اور یہ بھی کہ سفر میں کوئی روزہ نہ رکھے تو رکھنے والوں کو اجازت نہیں ہے کہ وہ اس پر زبان طعن دراز کریں۔ وہ شرعی رخصت پر عمل کر رہا ہے کسی کو یہ حق نہیں وہ اسے شرعی رخصت سے روک سکے اور ہر شرعی رخصت کے لیے یہ بطور اصول کے ہے۔
صحیح بخاری -> کتاب الصیام
باب : سفر میں لوگوں کو دکھا کر روزہ افطا کر ڈالنا
حدیث نمبر : 1948
حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا أبو عوانة، عن منصور، عن مجاهد، عن طاوس، عن ابن عباس ـ رضى الله عنهما ـ قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم من المدينة إلى مكة، فصام حتى بلغ عسفان، ثم دعا بماء فرفعه إلى يديه ليريه الناس فأفطر، حتى قدم مكة، وذلك في رمضان فكان ابن عباس يقول قد صام رسول الله صلى الله عليه وسلم وأفطر، فمن شاء صام، ومن شاء أفطر.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہو ںنے کہا ہم سے ابوعوانہ نے، ان سے منصور نے، ان سے مجاہد نے، ان سے طاؤس نے او ران سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( غزوہ فتح میں ) مدینہ سے مکہ کے لیے سفر شروع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے تھے، جب آپ عسفان پہنچے تو پانی منگوایا اور اسے اپنے ہاتھ سے ( منہ تک ) اٹھایا تاکہ لوگ دیکھ لیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ چھوڑ دیا یہاں تک کہ مکہ پہنچے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سفر میں ) روزہ رکھا بھی او رنہیں بھی رکھا اس لیے جس کا جی چاہے روزہ رکھے او رجس کا جی چاہے نہ رکھے۔
یہ اصحاب فتویٰ و قیاد ت کے لیے ہے ان کا عمل دیکھ کر لوگوں کو مسئلہ معلوم ہو جائے اور پھر وہ بھی اس کے مطابق عمل کریں جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے دکھلایا۔ سفر میں روزہ رکھنا نہ رکھنا یہ خود مسافر کے اپنے حالات پر موقوف ہے۔ شارع علیہ السلام نے ہر دو عمل کے لیے اسے مختار بنایا ہے، طاؤس بن کیسان فارسی الاصل خولانی ہمدانی یمانی ہیں۔ ایک جماعت سے روایت کرتے ہیں۔ ان سے زہری جیسے اجلہ روایت کرتے ہیں۔ علم و عمل میں بہت اونچے تھے، مکہ شریف میں 105ھ میں وفات پائی۔ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *