Home / Islam / شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات

شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات

ایاز نظامی صاحب تضاد نیتوں اور ذھن میں ھوتا ھے ، قرآن میں کوئی تضاد نہیں ھے – نیت درست ھو تو رستہ دور نہیں ھوتا ، اللہ وھیں رستہ پیدا کر دیتا ھے ! فرعون کے جادوگروں کو اُسی وقت اور اُسی میدان میں رستہ مل گیا تھا جہاں وہ کفر کے دفاع کے لئے آئے تھے ، نیت صاف ھوتے ھی کپڑے تبدیل کیئے بغیر و وضو کیئے بغیر ، جوتے اتارے بغیر کیئے گئے سجدے نے انہیں سیدھا رب کے دربار میں پہنچا دیا تھا ،،
ایاز نظامی صاحب کا قرآن پر اعتراض !
وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَن يُخْلِفَ اللَّـهُ وَعْدَهُ وَإِنَّ يَوْمًا عِندَ رَ‌بِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ ﴿47﴾
ترجمہ: اور (یہ لوگ) تم سے عذاب کے لئے جلدی کر رہے ہیں اور خدا اپنا وعدہ ہرگز خلاف نہیں کرے گا۔ اور بےشک تمہارے پروردگار کے نزدیک ایک روز تمہارے حساب کے رو سے ہزار برس کے برابر ہے ۔
سورۃ السجدۃ میں بیان ہے کہ:
يُدَبِّرُ‌ الْأَمْرَ‌ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْ‌ضِ ثُمَّ يَعْرُ‌جُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُ‌هُ أَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ ﴿سورۃ السجدۃ:5﴾
وہ آسمان سے لے کر زمین تک ہر کام کی تدبیر کرتا ہے پھراس دن بھی جس کی مقدار تمہاری گنتی سے ہزار برس ہو گی وہ انتظام اس کی طرف رجوع کرے گا ۔
ان دونوں آیات کے مقابلے میں اب ایک اور آیت ملاحظہ فرمائیں:
تَعْرُ‌جُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّ‌وحُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُ‌هُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ (سورۃ المعارج: 4)
فرشتے اور اہلِ ایمان کی روحیں اس کے پاس چڑھ کر جاتی ہیں (اور وہ عذاب) اس دن ہو گا جس کی مقدار پچاس ہزار کی ہے.
جرات تحقیق __ تحریر ایاز نظامی صاحب
الجواب ،،،،،،،،
پہلی بات یہ کہ مجھے کبھی یہ غلط فہمی لاحق رھی ھے کہ شاید واقعی آپ کے بقول آپ کبھی مسلمان رھے ھونگے مگر آپ کے اس قسم کے اعتراضات پر اب مجھے شک گزرتا ھے کہ شاید ھی کبھی آپ نے کا مزہ چکھا ھو ،،
یہ تینوں آیات تین مختلف مواقع کے لئے تین مختلف استدلال پیش کرتی ھیں ،لہذا ان کے بتائے گئے Time span کو کوٹ کر کے اس میں سے تضاد ڈھونڈنا جہالت ھی نہیں حماقت ھے ،،
پہلی آیت میں کفار کے جلد عذاب دیئے جانے کے مطالبے کا جواب دیا گیا ھے کہ اللہ پاک کبھی جذباتی فیصلے نہیں کرتا اور نہ ھی اس کے یہاں فیصلے تمہارے دنوں کے حساب سے ھوتے ھیں ،، اس کے فیصلے ھزاروں سال کے پروگرام لے کر چلتے ھیں ، اگر اللہ پاک کسی قوم کو تمہارے حساب سے ھزار سال مہلت دے ( جیسا کہ قومِ نوح کو دی گئ ) تو گویا اس کے اپنے پرواگرام کے مطابق ایک دن کی مہلت دی گئ تھی ،، اس لئے جب وقت آئے گا تو عذاب تمہارے کہنے سے ٹلے گا نہیں جس طرح تمہارے مطالبے پہ نازل نہیں کیا جا رھا ،، اس آیت کا سیاق و سباق دیکھ لیا جائے کہ اس آیت سے پہلے کیا موضوع چل رھا ھے اور اس آیت کے بعد اس موضوع کو کس طرح پایائے تکمیل کو پہنچایا گیا ھے !
وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَن يُخْلِفَ اللَّـهُ وَعْدَهُ وَإِنَّ يَوْمًا عِندَ رَ‌بِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ ﴿ الحج-47﴾
ترجمہ: اور (یہ لوگ) تم سے عذاب کے لئے جلدی کر رہے ہیں اور خدا اپنا وعدہ ہرگز خلاف نہیں کرے گا۔ اور بےشک تمہارے پروردگار کے نزدیک ایک روز تمہارے حساب کے رو سے ہزار برس کے برابر ہے ۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
دوسری آیت سورہ الم السجدہ کی ھے ،،
جس میں کفار کے اس عقیدے کی نفی کی گئ ھے کہ اتنی بڑی کائنات میں اللہ پاک نے دور دراز کے علاقے زمین کو تو کچھ اور ھستیوں کے حوالے کر رکھا ھے جبکہ خود بس آسمانوں کا خدا بن کر بیٹھا ھے ،،
وہ آسمان سے زمین کے فیصلے بھی کرتا ھے ، پھر ان فیصلوں کے نتائج بھی اپنے مرتب ھونے میں اسی کی طرف بلند کیئے جاتے ھیں یعنی Refer کیئے جاتے ھیں ، جہاں وہ تمہاری گنتی کے حساب سے ھزار سال کے فاصلے پہ پیش کئے جاتے ھیں ( جبکہ حقیقتاً وہ پل میں پیش ھو جاتے ھیں )
يُدَبِّرُ‌ الْأَمْرَ‌ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْ‌ضِ ثُمَّ يَعْرُ‌جُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُ‌هُ أَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ ﴿سورۃ السجدۃ:5﴾
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
تیسری آیت میں پھر وھی موقع ھے کہ ایک سوال کرنے والا سوال کرتا ھے کہ آپ ڈراوے تو روز دیتے ھیں مگر بھلا وہ عذاب کب واقع ھو گا جس کی دھمکی سنتے سنتے ھم بوڑھے ھو گئے ھیں ،، ” سأَل سائلۤ بعذابٍ واقع ” اس کا جواب دیا گیا ھے کہ جب وہ آئے گا تو اس کا دفاع کرنے والا یا اس سے تمہیں بچانے والا کوئی بھی نہیں ھو گا ” لیس لہ دافع ”
من اللہ ذی المعارج ” بلندیوں والے اللہ کی طرف سے یہ نازل ھو گا ،، تم اللہ کو بہت ایزی لے رھے ھو وہ تو تمہارے تصور و خیال سے بھی بلند تر ھے ،، اس کے حضور پہنچنے تک تو فرشتوں اور جبریل کو بھی 50 ھزار سال لگتے ھیں ،،،،
تَعْرُ‌جُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّ‌وحُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُ‌هُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ (سورۃ المعارج: 4)
چڑھ کر جاتے ھیں فرشتے اور روح القدس اس کی طرف ایسے دن کہ اس کی مقدار ( تمہارے حساب سے ) 50 ھزار سال کی ھے،،
گویا یہ تین مواقع ھو گئے ،،
1-( عذاب میں مہلت کا فاصلہ ) جلدی مچاتے ھیں عذاب میں کہ عذاب جلد کیوں نہیں آتا – جواب دیا اللہ ھزار سال بھی مہلت دے تو یہ اس کی اسکیم کے تحت جلدی ھی ھے ،گویا ایک دن کے برابر ھے !
2- ( اعمال کی پیشگی کا فاصلہ )تمام تر معاملات اللہ ھی کے ھاتھ میں ھیں ، اس نے اپنی کائنات کا چپہ بھی کسی کو ٹھیکے پر نہیں دیا اور تمہارے اعمال اس کے سامنے تمہاری گنتی سے ھزار سال کے فاصلے پر پیش کیئے جاتے ھیں
3- خود فرشتوں کی حضوری ( Assembly Point) کا فاصلہ ،،،،،،،،،،،
کیا یہ ایک ھی جگہ کے تین فاصلے ھیں جو کہا جائے کہ تضاد ھے یا مختلف موضوعات پر مختلف مواقع کے تین فاصلے ھیں ؟
————————————————————————-
‫#‏اسلام‬ ‫#‏قرآن‬
‪#‎ISLAM‬ ‪#‎QURAN‬ ‪#‎QARIHANIFDAR‬ ‪#‎REALISLAM‬ ‪#‎EDUCATION‬

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *