Home / Humanity / سماجی رویوں کے انحطاط کے اسباب۔

سماجی رویوں کے انحطاط کے اسباب۔

ھم جب بیرون ملک سے واپس اپنے وطن جاتے ھیں تو ائیرپورٹ لاؤنج سے نکلتے ھی ایک دو بندے آپ کی ٹرالی کے دائیں بائیں لگ جاتے ھیں ،،
حالانکہ ٹرالی آپ خود چلا رھے ھیں ،مگر وہ کبھی تو آپ کے صندوق کی بودی سنوارنے کی کوشش کرتے ھیں ،
کبھی پھُو پھُو کر کے خیالی دھول اس پر سے جھاڑتے ھیں تو کبھی اس کو ھلکا سا دھکیل کر دائیں بائیں کرنے کی کوشش کرتے ھیں ،،
آپ کو رستہ نظر آرھا ھو گا مگر وہ آپ کو رستہ دکھانا اپنا فرض سمجھتے ھیں کہ ” بھائی جی تھوڑا سجے کر لو ،، بھائی جی ذرا بچ کے ٹرالی لگ نہ جائے ،،
آپ جب بکسہ اٹھا کر کیری ڈبے یا سوزوکی پر رکھنے لگیں گے تو وہ بکسے کو بس ھاتھ لگا کر اتنا سا دبا دیں گے جتنا دبا کر آپ منڈی میں ٹماٹر چیک کرتے ھیں کہ ” پَولا ” تو نہیں ،،
مگر جونہی سامان لوڈ ھو جائے گا تو وہ ھاتھ آگے کر دیں گے کہ بھائی جی مزدوری تو دیتے جائیں
اور آپ منہ کھلے کا کھلا رہ جائے گا کہ بھائی صاحب کام تو سارا میں نے خود کیا ھے ،
مزدوری کس چیز کی ؟
پہلی دوسری بار جانے والا بندہ تو مروت میں کچھ دے دیتا ھے ، کچھ وہ ضد سے نکلوا لیتے ھیں ،، مگر ھمارے جیسا 40 سالہ تجربہ رکھنے والا ان کے کان بھی کھول دیتا ھے کہ بھائی صاحب بھیک مانگنی ھے تو بھیک والے رولز کے مطابق مانگو ،، اس قسم کا فراڈ مت کرو ،،
آج کل دینی جماعتین یہی واردات کر رھی ھیں ،
جہاں کہیں کوئی دھواں نکلتا دیکھا جھٹ پھُوکنی لے کر پہنچ گئے اور پھُو پھُو کر کے اس کو دہکا کر انگارہ بنا دیتے ھیں
اور پھر کہتے بھائی جی ھماری مزدوری نکالو ،،
کوئی ان سے پوچھے کہ آپ پہلے 60 سال کا حساب تو دیں کہ جو بچے آپ کو پڑھانے سکھانے کے لئے دئے تھے کہ ان کو ایجوکیٹ کرو ، ان میں آگہی پیدا کرو ،، مارشل لاء ھو یا ایمرجینسی پلس تمہارے جمعے کے اجتماع پر کوئی مائی کا لعل پابندی نہیں لگا سکتا ،
اور مسجد کے اندر اللہ کے رسول نے خطبے کے دوران نفل پڑھنے سے بھی منع کر دیا کہ اس کی بات غور سے سنو ،،
ان تمام خطبوں میں آپ نے 60 سال میں امت کو کیا دیا ؟
اور عوام کو کیا سے کیا بنا دیا ؟
سیاستدان بھی مجرم ھونگے مگر وہ فقط اداروں کو تباہ کرنے کے مجرم ھونگے ،
انسانوں کو تباہ کرنے والے آپ ہیں ،،
اخلاقیات آپ کے خطبات کا موضوع تھا ، سماجیات تمہارا موضوع تھا ،
تم نے سماج کو کیا سے کیا بنا دیا اور اخلاقیات کو ناپید کر کے رکھ دیا ،،
اور منہ رکسونا صابن سے دھو کر پھر صاف ستھرے ھو کر آ جاتے ھو
دوسروں کو ملامت کرنے سے پہلے اپنی کمائی تو پیش کرو ،،
مدارس تمہارے 400 گنا زیادہ ھو گئے ھیں ،
مساجد تمہاری 800 گنا زیادہ ھو گئ ھیں ،،
لوگ تو میڈیکل کالج اور یونیورسٹیاں نہ ھونے کا رونا رو سکتے ھیں ،
آپ یہ بہانہ بھی نہیں کر سکتے ،، جو زکوۃ بھوکے ننگے عوام کا حق تھی وہ 100٪ آپ کے مدارس مین چلی گئ ھے ،
سیاستدان اگر پیسہ باھر لے گیا ھے تو آپ بھی پیسہ عوام سے چھین کر مدارس کے نام پر لال قلعے تعمیر کرنے میں خرچ کر رھے ھیں.
اور عوام زھر کھا کر مرنے پر مجبور ھو گئے ھیں ،،
جبکہ ریٹرن کے طور پر آپ نے عوام کو نفرت ، تفرقہ بازی د ا ع ش اور ٹی ٹی پی اور قتل و غارت کے تحفے دیئے ھیں۔
Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *