Home / Hadith / Mozoat / سادگی

سادگی

یو اے ای آ کر ھم نے شیمپو دیکھا ،، سبحان اللہ ھر رنگ ،، دیکھ کر دل خوش ھو گیا ، ھم اسے تیل سمجھ کر خرید لائے اور سارا دن تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد سر پہ لگاتے رھے ، لگاتے وقت بہت کُولا کُولا کر دیتا تھا بالوں کو ،مگر تھوڑی دیر بعد پھر اکڑ جاتا ،، والد صاحب چھٹی کر کے آئے اور کھانا کھا رھے تھے کہ ھم وہ تیل اٹھا لائے اور پیچھے سے آ کر ان کے سر پر لگا کر سرپرائز دیا ، ابا دیکھیں کیسا تیل ھے بال کتنے کُولے کر دیتا ھے ،، ابا اس کی خوشبو سے سمجھ گئے تھے کہ یہ کیا بلا ھے ،، انہوں نے پوٹھواری کی چند نئ گالیاں محبت کے شیرے میں مربہ ڈال کر ھمیں دیں اور روٹی چھوڑ کر بڑ بڑاتے ھوئے حمام کی طرف چلے گئے ،، ھم نے بھی ان کے بعد اپنے بال دھو کر جان چھڑائی لگتا تھا صبح سے کسی نے دونوں ھاتھوں میں جکڑے ھوئے تھے !
ھمیں امارات میں سب سے زیادہ کمی مٹی کی محسوس ھوئی ،یہاں ھر طرف ریت ھی ریت تھی ،بجلی کی عدم موجودگی میں ساری بستی رات کو چٹائیاں لے کر ریت کی چوٹیوں کا رخ کرتی ،اور ایک بستی آباد ھو جاتی ، بالکل رائے ونڈ اجتماع کا سا منظر ھوتا ،، لوگ اپنے مسائل ڈسکس کر رھے ھوتے ، بعض دفعہ میاں بیوی میں نوک جھونک مار کٹائی تک بھی پہنچ جاتی اور دوسرے لوگ جھٹ دوڑ کر صلح کراتے ، رات کو ریت ٹھنڈی ھو جاتی ھے اور ھوا کے لطیف جھونکے تھپکیاں دے کر سلاتے ھیں ،مگر جب یہی جھونکے ذرا تیز ھوتے تو ھم صبح آدھے آدھے ریت میں دفن ھوتے ،،،،،،
عرض کر رھا تھا کہ ھمیں امارات میں سب سے بڑی کمی مٹی کی محسوس ھوئی کیونکہ یہاں کھانے کو مٹی نہیں تھی ،، اور ہمیں مٹی اور کاغذ کھانے کا نشہ تھا ،، مٹی کھانے کی لت تو خدمتِ خلق کے سائڈ ایفیکٹ کی وجہ سے پڑی تھی ، حاملہ خواتین کو پتہ نہیں کیا دورہ پڑتا ھے کہ وہ مٹی کھانا شروع کر دیتی ھیں،، شاید مٹی سے انسان بناتی ھیں ،، ھماری بھولی بھالی صورت کے صدقے برادری میں ایسی خواتین کو مٹی کی سپلائی کی وزارت ھمارے سپرد تھی ،، ایک دفعہ ھم نے سوچا کہ یار چیک تو کرو آخر اس مٹی میں کیا مزہ ھے جو خواتین پاگل ھوئی جاتی ھیں ،، بس جناب یہ ایسی غلطی تھی کہ جس کا خمیازہ ھم نے کافی سالوں بھگتا ،، ھم نے ٹول ٹیکس لگا دیا تھا اور خواتین کی مٹی میں سے ھی اپنی ضرورت بھی پوری کر لیا کرتے تھے ،، ھماری ایک رشتے دار خاتون تو پورا توڑا منگوا کر چھت پر رکھ لیا کرتیں تھیں ،، آخر ان کے داماد نے جو کہ مسجد تھے ان کو مٹی چھڑانے کا فارمولہ آزمایا ،انہوں نے اس خاتون کو بتایا کہ انہوں نے خواب دیکھا ھے جس میں انہوں نے اپنی ساس کے گھر ایک مردہ دیکھا ھے جس کا صرف ایک بازو نہیں تھا ،، تعبیر یہ بتائی کہ آپ اتنی مٹی کھاتی ھیں کہ صرف ایک بازو کم ھے ورنہ پورا مردہ کھا چکی ھیں ،، اور کے دن اس مردے میں آپ کو جان ڈالنی پڑے گی ،، انہیں داماد پر بہت غصہ آیا ،انہوں نے کہا کہ میں نے تو بہت ساری گائے اور بکریاں بھی کھائی ھیں تو کیا میں ان میں بھی جان ڈالوں گی ؟ نئیں ،نئیں ،، وہ تو اللہ نے حلال کی ھیں ،مولوی صاحب نے جواب دیا ،، تو یہ مٹی اللہ نے کہاں حرام کی ھے ؟ اب تو مولوی صاحب کے بغلیں جھانکنے کی باری تھی،خیر انہوں نے مٹی نہ چھوڑنی تھی نہ چھوڑی،،،
کاغذ کھانے کی عادت ھمیں پیر صاحب آف بھنگالی شریف پیر عبداللہ شاہ صاحب نے ڈالی تھی ،، ھمیں ان کی بیعت کرائی گئ اور پیر صاحب کو بتایا گیا کہ لڑکا تعلیم کی طرف خاطر خواہ توجہ نہیں دیتا ، اور مغرب کے بعد چھت پہ لیٹ کر سینے پہ ریڈیو رکھ کر گانے سنتا ھے لہذا اس کو دم کریں ،، پیر صاحب نے کچھ وظائف بتائے اور تین مٹھیاں بھر کر ھمیں پرنٹیڈ تعویز دیئے جو ھم نے کھانے تھے ،،، وھی تعویز وہ کا دودھ زیادہ کرنے کے لئے بھی دے رھے تھے اور بیوی سے ناراض شوھر کو فوج سے چھٹی دلوانے کے لئے بھی ،،
ان تعویزوں نے جزوی کام کیا ،تعلیم کی طرف ھم نے توجہ دینی شروع کر دی ،مگر مغرب کے بعد والا کام جاری و ساری رھا ،، البتہ تعویز کھا کھا کر ھمیں کاغذ کھانے کی عادت پڑھ گئ ،، ھم قرآن مجید کا جو صفحہ پڑھ لیتے وہ اسی دن کھا بھی لیتے ، والد صاحب دبئ سے بہت خوبصورت قرآن لے کر گئے تھے جو انہیں شارجہ کے شیخ سلطان بن محمد نے دیا تھا ،والد صاحب اس کے قصر میں کام کرتے تھے ،، والد صاحب جب سال کے بعد پاکستان واپس آئے تو پڑھنے کے لئے وھی قرآن مانگا ،، ھم ٹوٹے قدموں کے ساتھ گئے اور بغدادی قاعدے جتنا قرآن ان کے سامنے رکھ کر آرام سے باھر باھر نکل گئے اور ڈر کے مارے شام تک گھر ھی نہ آئے ،، اس کے علاوہ انگلش ٹیسٹ پیبر معاشرتی علوم اور دیگر کتب اور کاپیوں کا بھی یہی حال تھا چونکہ مانیٹر تھے لہذا اپنی کاپی کبھی پیش ھی نہیں کی ،بچوں کی اکٹھی کر کے ماسٹر صاحب کے آگے رکھ دیتے ،، چھٹیوں کا ھوم ورک کرتا ضرور تھا ،مگر اس کو دکھانے سے زیادہ کھانے کا شوق غالب رھتا اور چھٹیاں ختم ھونے سے پہلے کاپی ختم ھو جاتی ،، لوگ سفر میں کھانا ساتھ لے کر چلتے تھے اور ھم کاپی ،، کھوئیرٹہ سے آھدی تک ایک کاپی کافی ھوتی تھی ،،
جاری ھے !

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *