Home / Hadith / Mozoat / سادگی

سادگی

بعض لوگ اپنی سادگی سے اللہ کے یہاں وہ مقام پا لیتے ھیں جو شاید عبادت گزاروں کو بھی میسر نہ ھو ،،،،،
ایک بابا جی وھاڑی کے ایک چک سے تعلق رکھتے تھے – بڑے ھی خدا خوف تھے ، دیہات کی رسم کو شریعت حکم سمجھ کر اپنی وٹ وانڑی ( پتھر سے پیشاب خشک کرنا ) کو بھی اس طرح پکاتے تھے کہ عبدالقدیر خان نے ایٹم بم کو بھی اس قدر نہ پکایا ھو گا ،، چھوٹا پیشاب کرنے کے بعد بائیں ھاتھ سے پتھر کو جائے مخصوصہ پر رکھتے ھوئے ،دائیں ھاتھ سے تہہ بند کو یوں دبوچے ھوئے جیسے دلہن کی ڈولی کا کپڑے کا پردہ پکڑے نیانڑ ( نائی کی م‍ؤنث ) ساتھ ساتھ چلتی ھے کہ کوئی سلامی دیئے بغیر منہ نہ دیکھ لے ،،،،،،، اس رسم کا نام ” استنجا پکانا ” ھے ،، مولوی صاحب چالیس قدم چلنا بتاتے ھیں ،، اور اسی سے لفظ چہل قدمی بنا تھا ،جو آج کل خواتین بھی بے دھڑک استعمال کرتی ھیں حالانکہ چہل قدمی مرد کی سزا تھی ،،،،،، مگر بابا جی احتراماً کوئی دو میل چہل قدمی کرتے ھوئے جب گاؤں میں گھستے تو جو کوئی بھی سلام کرتا ،،،،، تو بابا علیاں ( علی محمد ) سلام کے لفظ کو عربی ھونے کیے ادب کی وجہ سے پلٹ کر وعلیکم السلام کبھی نہ کہتا ، بلکہ ڈولی کا پلو پکڑے پکڑے ” پُتر مننا واں ” کہہ کر آگے نکل جاتے ،، بابا جی السلام علیکم ،، پتری مننا واں ، پُتر منناں واں( بیٹا مانتا ھوں ) کی گردان کرتے کرتے مسجد جا کر پانی سے استنجا کر کے سلام کا جواب دینے کی پوزیشن میں واپس آتے ،،
عمرے پہ ایک پاکستانی ، خاتون حرم کے ستون کی چار تین چار فٹ اونچی فاؤنڈیشن پہ بیٹھی ھوئی تھی ،، عرب عہدیدار خواتین اسے عربی میں نیچے آ کر بیٹھنے کی تلقین کر رھی تھیں، اس بیچاری کو عربی کی سمجھ نہیں لگتی تھی لہذا نہایت احترام کے ساتھ مثبت انداز میں سر ھلاتی اور زیرِ لب مسکراتی ، جیسے سارا درس قرآن اس کی سمجھ میں لگ رھا ھے ،،مگر نیچے نہ آتی ،، عرب شُرطیاں جو نکوڑے اور پردے میں ھوتی ھیں وہ اب گرم ھونا شروع ھو گئ تھیں ، وہ کہتیں یہ پاگل ھے ؟ اس کا دماغ کام نہیں کرتا ،، یہ ھم سے تمسخر کر رھی ھے ، اور وہ بیچاری بغیر سمجھے صرف عربی ھونے کے ناتے ان کی ھر بات پہ مسکراتی اور سر ھلاتی جا رھی تھی ،، میری گھر والی نے اٹھ کر اسے جا کر سمجھایا کہ خالہ جی وہ کہہ رھی ھیں کہ آپ نیچے آ کر بیٹھیں یہاں اونچی جگہ آپ کی نہیں ھو گی،، خاتون نے میری وائف کی بات کو غور سے سنا اور پھر گولی کی طرح اس کی بغل کے نیچے سے غوطہ لگا کر سیدھی اس کی جگہ پہ جا بیٹھی اور تسبیح ھلانے لگ گئ —— کر لو گل ، اب میری گھر والی کو جگہ کی تلاش تھی،، جس کی خاطر ھمیں اٹھ کر باھر آنا پڑا ،،،

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *