Home / Humanity / سائیں جی کا وضو اور ھمارا میڈیا

سائیں جی کا وضو اور ھمارا میڈیا

اچانک ھی ھمارے میڈیا نے اپنا موقف تبدیل کیا ھے ، وہ جو پہلے چند دن خوشی سے بغلیں بجا رھے تھے کہ فوجی عدالتیں بننے جا رھی ھیں،، پھانسیوں کی رننگ کمنٹری چل رھی تھی ، قیدیوں کی کتنی تعداد کس جیل میں ھے اور وھاں کتنے پولیس والے ھیں اور ان کے پاس کس قسم اسلحہ ھے ،، گویا مجرموں کو مکمل معلومات فراھم کی جا رھی تھیں ا، یہ بالکل ایسا ھی ھے کہ حالتِ جنگ میں آپ دشمنوں کو پاکستان کی نفری اور ان کی پوزیشنیں بتا رھے ھوں ،بلکہ بعض چینلز نے پھانسی سے لٹکتے مجرم تک دکھا دیئے ،، پھر اچانک اسپیشل کورٹس کی مخالفت میں مسابقت شروع ھو گئ ھے ، میں جب بھی پاکستانی چینلز دیکھتا ھوں، خاص کر جیو چینل کی کرامات دیکھتا ھوں تو ایک بزرگ مجھے ٹوٹ کر آتے ھیں ! میں انہیں سائیں جی کہا کرتا تھا، بہت نیک انسان تھے،مردانہ وجاھت کا شاہکار سرخ و سپید،، لمبی سفید ، پر جلال چہرہ،، ھمیں دو چار چلے بھی کرائے تھے،، ھر خوبی کے علی الرغم ایک اخلاقی خرابی پتہ نہیں ان میں کہاں سے در آئی تھی کہ وہ وضو بہت زور سے توڑتے تھے، جمعے میں عین اس وقت جب مولوی صاحب اردو خطاب ختم کرنے والے ھوتے آدھے لوگ اونگھ رھے ھوتے کہ اچانک سائیں جی وضو توڑ دیتے،، مگر اتنے زور سے توڑتے کہ خود ان کی آنکھ بھی کھل جاتی اور باقی لوگوں کی آنکھیں نہ صرف کھل جاتیں بلکہ کھلی کی کھلی رہ جاتیں،، سائیں جی باوقار انداز میں اٹھتے اور گردن تان کر اس شانِ بےنیازی سے وضو خانے کی راہ لیتے گویا کشمیر کے محاذ سے واپس آئے ھیں ،، اس دوران دوسری اذان ھوتی اور عربی خطبہ شروع ھو جاتا ! اصل چیز اس وضو ٹوٹنے کی ٹائمنگ تھی، ٹھیک ایک ھی وقت پر اور ریکٹر پیمانے پر ایک جتنی شدت کے ساتھ ٹوٹتا،، یہانتک کہ چند منچلے اپنی گھڑیاں ان کے وضو کے ساتھ درست کرنے لگ گئے ! مولوی صاحب نے تو اس کو الارم ھی سمجھ لیا تھا ،فورا ً خطبہ ختم کر کے کہتے سنت پڑھ لیں جی ! مگر سارا مسئلہ ھمارے لئے بنا جو ھمیشہ کوشش کرتے کہ سائیں جی کے پہلو میں بیٹھیں تا کہ ان کے انوارات و برکات سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کریں،،اس بد اخلاقی پر ھماری پوزیشن بہت خراب ھو جاتی،، لوگ تمسخر بھری نگاھوں سے ھمیں یوں گھورتے جیسے اس وضو کے ٹوٹنے میں ھمارا کوئی ھاتھ ھے ! اب ھم نے بھی لیٹ آنا شروع کر دیا اور پیچھے جہاں ایکسٹرا صفوں کا ڈھیر لگا ھوتا ان کے پاس چھپ کر بیٹھ جاتے تا کہ لوگوں کی نگاھوں سے محفوظ رہ سکیں! آخر ایک دن ھمارا صبر کا پیمانہ لبریز ھو گیا، یہ کیا حرکت ھے،اتنا شور تو پاکستان کی اسمبلیاں ٹوٹنے پر نہین ھوتا جتنا سائیں جی کے وضو ٹوٹنے پر ھوتا ھے ! ھم نے ان سے پوچھ ھی لیا کہ سائیں جی آپ یہ کیا حرکت کرتے ھیں؟، نہایت معصومانہ انداز مین بولے کونسی حرکت ؟ سبحان اللہ ،، بے ساختہ ھمارے منہ سے نکلا ،جانے نہ جانے گل ھی نہ جانے گاؤں تو سارا جانے ھے،، یہ آپ وضو اتنے زور سے کیوں توڑتے ھیں ؟ پتـر یہ ایک مسئلہ ھے،، انہوں نے سادگی سے جواب دیا،اس دن ھمیں شریعت کی گرفت کا اندازہ ھوا،،یہ شرعی مسئلہ کیسے ھو گیا سائیں جی ؟ بیٹا جی میرا وضو ٹوٹ جاتا تھا اور مجھے یاد نہیں رھتا تھا، کئی دفعہ بغیر وضو پڑھ لی پھر دھرانی پڑی،، کئی دفعہ نماز کا وقت نکل جانے کے بعد یاد آیا کہ نماز کے وقت وضو نہیں تھا،، مولوی صاحب سے مسئلہ پوچھا تھا تو انہوں نے بتایا تھا کہ ،وضو ٹوٹنے پر کسی کو گواہ بنا لیا کریں ! میں نے بات ٹوکتے ھوئے کہا کہ سائیں جی آپ اپنے کسی پوتے کو کان مین بتا دیا کریں کہ بیٹا میرا وضو ٹوٹ گیا ھے ،نماز کے وقت یاد کرا دینا،،اور امانت اس کے پاس رکھا دیا کریں،، اچھا تو پھر اذان کے بعد میں اس پوتے کو ڈھونڈنے نکل جاتا ؟ یا اس کو رسی ڈال کے کھونٹے کے ساتھ باندھ دیتا؟ وہ تھوڑے تلخ ھو کر بولے ،، میں نے مسئلے کا حل یہ ھی ڈھونڈا ھے کہ نہ صرف گھر والے بلکہ بیٹھک والے دکاندار کو بھی گواہ بنا لیتا ھوں،، جونہی گھر سے نکلتا ھوں تو امانت اس سے لے لیتا ھوں -دکاندار سر نفی میں ھلا کے بتا دیتا ھے کہ وضو نہیں ھے،، جمعے میں تو آپ فوراً اٹھ کر وضو کے لئے چل پڑتے ھیں تو وھاں تو کم از کم والیوم کا خیال رکھا کریں، ھم نے نظریں نیچی کر کے التجا کی،، پُتر اب تو عادت ھو گئ ھے ! سائیں جی نے اپنی نوارنی داڑھی پر ھاتھ پھیرتے ھوئے جواب دیا اور چل پڑے !! میں پاکستانی چینلز کا اتنے زوردار انداز سے وضو ٹوٹتا سنتا ھوں تو سائیں جی یاد آ جاتے ھیں،، آخر یہ چینل سب کچھ انڈیا کے پاس امانت رکھوانے کے لئے کرتے ھیں ،ان کے واھیات آئٹم سانگ جنہیں دیکھ کر عورت بھی شرم سے پانی پانی ھو جائے،، مردوں کا کیا حال ھو گا ؟انہیں یاد نہیں رھا کہ ابھی کل ھی تو پشاور خون خون تھا ابھی تو ان بچوں کی کی مٹی بھی نہیں سوکھی ، ابھی تو پوری لاشیں بھی نہیں نکالی جا سکی تھیں،شہر سوگ ڈوبا ھوا تھا اور دھوم مچا دو دھوم ،والا مادر زاد ننگا گانا چلایا جا رھا تھا،،! مگر شاید یہ ناقابلِ علاج ھو چکے ھیں سائیں جی کی طرح انہیں عادت ھو گئ ھے ، وضو زور سے توڑنے کی !!

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *