Home / Humanity / دنیا کی زندگی کی حقیقت قرآن کی نظر میں

دنیا کی زندگی کی حقیقت قرآن کی نظر میں

1- دنیا کی زندگی اصل زندگی نہیں بلکہ اصل زندگی کے لئے ٹرائلز مرحلہ ھے ،، جو اس میں کامیاب ھوا وہ اصل زندگی سے نوازا جائے گا !
و ما ھذہ الحیوۃ الدنیا الا لھو و لعب و ان الدار الاخرۃ لھی الحیوان لو کانوا یعلمون : سورۃ العنکبوت :٦٤
ترجمہ :- اور یہ دنیا کی زندگی تو کھیل تماشا ہے ۔آخرت کی زندگی ہی اصل زندگی ہے ۔کاش وہ اس حقیقت کو جانتے ۔
ارشاد باری تعالی ہے :”” اعلموا أنما الحياة الدنيا لعب ولهو وزينة وتفاخر بينكم وتكاثر في الأموال والأولاد كمثل غيث أعجب الكفار نباته ثم يهيج فتراه مصفرا ثم يكون حطاما وفي الآخرة عذاب شديد ومغفرة من الله ورضوان وما الحياة الدنيا إلا متاع الغرور “” سورۃ الحدید : ٢٠
ترجمہ : جان رکھو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشا اور زینت اور تمہارے آپس میں فخر اور مال و کی ایک دوسرے سے زیادہ طلب ہے ۔( اسکی مثال ایسی ہے ) جیسے بارش کہ ( اس سے کھیتی اگتی اور ) کسانوں کو کھیتی بھلی لگتی ہے ۔پھر وہ خوب زور پر آتی ہے ۔پھر ( اسے دیکھنے والے ) تو اس کو دیکھتا ہے کہ یہ ( پک کر ) زرد پڑ جاتی ہے پھر چورا چور ہوتی ہے ۔اور آخرت میں کافروں کے لیے ) عذاب شدید اور ( مومنوں کے لیے ) خدا کی طرف سے بخشش اور خوشنودی ہے اور دنیا کی زندگی تو متاع فریب ہے ۔
ارشاد باری تعالی ہے :”” یا ایھاالناس ان وعد اللہ حق فلا تغرنکم الحیوۃ الدنیا ولا یغرنکم باللہ الغرور : سورۃ فاطر : ٥
ترجمہ :- اے لو گو ! بے شک اللہ کا وعدہ برحق ہے ،لہذا دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ وہ بڑا دھوکے باز تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکا دینے پائے ۔
فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے : ” آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال ایسے ہے جیسے تم سے کوئی شخص اپنی انگلی سمندر میں ڈبوئے تو پھر دیکھو کہ وہ کتنا پانی اپنے ساتھ لا تی ہے ۔”” صحیح : کتاب الجنہ و صفتہ نعیمہا ،باب فنا الدنیا
2- دنیا کی زندگی امتحان ھی امتحان ھے ،، یہ امتحان اس بات کا ھے کہ عمل سے ثابت کیا جائے کہ حقیقی زندگی کا حقدار کون ھے ؟
اللہ پاک نے کسی کو جھوٹے لارے نہیں لگائے اور نہ سبز باغ دکھائے ھیں کہ جونہی تم ایمان لاؤ گے تو تمہارے گھر سونا چاندی برسنا شروع ھو جائے گا ، کوئی مصیبت اور تنگی تکلیف تمہارے پاس سے نہیں گزرے گی ، جو مانگو گے وہ ملے گا ،تمہیں نہ تو کوئی بیماری لاحق ھو گی اور تمہارے یہاں اولاد کی کمی ھو گی ، تم جب چاھو جتنے چاھو بچے پیدا کر لو گے ،، میں میں ھمیشہ تمہاری کال پہ رھوں گا ، ادھر تمہارے 32 دانتوں سے نکلے گا اُدھر میں تمہاری فرمائش پوری کر دوں گا ۔۔
بلکہ یہاں تو معاملہ بالکل ھی الٹ ھے !
ولنبلونكم بشيء من الخوف والجوع ونقص من الأموال والأنفس والثمرات وبشر الصابرين (البقرہ-155) الذين إذا أصابتهم مصيبة قالوا إنا لله وإنا إليه راجعون (156)
اور ھم یقیناً آزمائیں گے تمہیں کچھ خوفناک حالات کے ساتھ اور بھوک یعنی فاقوں کی کیفیت اور جان و مال ، اور پھلوں کے نقصان کے ساتھ اور خوشخبری سنا دیجئے صبر کرنے والوں کو جنہیں جب بھی کسی مصیبت سے پالا پڑے تو کہتے ھیں ( ھم نے کونسا یہاں سدا رھنا ھے ) یقیناً ھم اللہ کی طرف سے آئے ھیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ھیں ،،
أمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ.
کیا تم نے یہ حساب لگا رکھا تھا کہ تم ایسے ھی جنت میں جا گھسو گے اور تمہیں وہ حالات پیش نہیں آئیں گے جو تم سے پہلوں کو پیش آئے ،،، انہیں تنگیوں اور تکلیفوں نے گھیرے رکھا ،اور وہ ھلا مارے گئے یہانتک کہ رسول اور اس کے ساتھیوں نے کہا کہ اللہ کی مدد کب آئے گی ؟ جان لو کہ اللہ کی مدد بہت قریب ھے !
أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنْكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ (آل عمران 142)
کیا تم نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ تم یونہی ( ٹھنڈے ٹھنڈے ) جنت میں داخل ھو جاؤ گے حالانکہ اللہ نے ابھی تم میں سے جہاد کرنے والوں اور صبر کرنے والوں کو چھانٹا نہیں ھے !
أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ (2) وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۖ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ (3) العنکبوت
کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ھے کہ انہیں چھوڑ دیا جائے گا صرف یہ کہہ دینے پر کہ ھم ایمان لائے ۔۔ اور ان کو آزمایا نہ جائے گا ؟ بےشک ھم ان سے پہلوں کو بھی آزمایا ھے ،پس اللہ چھانٹ کر رھے گا ان لوگوں کو جو سچے ھیں اور چھانٹ کر رھے گا ان کو جو جھوٹے ھیں ( دعوئ ایمان میں )
3- دنیا کا مال و متاع اور اس کی تقسیم کا تعلق کبھی بھی مومن اور کافر ، نیک اور بد ، متقی اور فاسق کی بنیاد پر نہیں ھوتا ،، نہ اللہ پاک نے اس قسم کا کوئی وعدہ فرمایا ھے ! دنیا کی تقسیم ، مال و اولاد کی فراوانی کبھی تو دنیا کا نظام چلانے کے سلسلے میں ھوتی ھے ، کبھی امتحان کے طور پہ ھوتی ھے ، غریب کا بھی امتحان اور امیر کا بھی امتحان ،، جب بھی کوئی بھوکا سوتا ھے تو اس کے پڑوس والا فیل ھو جاتا ھے ،،
ولو بسط الله الرزق لعباده لبغوا في الأرض ولكن ينزل بقدر ما يشاء إنه بعباده خبير بصير ( شوری 27 )
اگر اللہ اپنے سب بندوں کا رزق کھول دے ( تو اللہ کے خزانوں میں تو کوئی کمی نہ ھو مگر ) دنیا میں انارکی پھیل جائے ،، یعنی کوئی کسی کا حکم نہ مانے ، نہ کوئی کسی کے جوتے گانٹھے ، نہ کپڑے دھوئے ، نہ کوئی کپڑے سیئے ، نہ کوئی تندور پہ روٹیاں پکائے اور نہ مستری مزدور دستیاب ھو ، میں بھی رانی تو بھی رانی کون بھرے گا پانی والی کیفیت ھو جائے!
دنیا میں مال و دولت اور اولاد کا ھونا کسی کی کامیابی کی دلیل نہیں ، بلکہ یہ بھی ایمان والوں کا امتحان ھے کہ وہ آخرت کی موعودہ زندگی پر یقین رکھتے ھوئے اس دنیا کو حقارت سے دیکھتے ھیں یا نہیں ،، اور کیا انہیں اللہ سے گِلے شکوے ھوتے ھیں یا نہیں ؟؟ اللہ پاک کے نزدیک مال فسق و فجور کی طرف مائل کرتا اور برائی کے لئے ٹینشن دیتا ھے ، شیطان بھی اس پر زیادہ محنت کرتا ھے ،، پراپرٹی ایجنت ھمیشہ موٹی اسامی کو ٹائم دیتا ھے کیونکہ اسے معلوم ھے کہ اگر یہ راضی ھو گیا تو گناہ کمانے کے اسباب اس کی جیب میں موجود ھیں ، جبکہ غریب کو 12 گھنٹے چابی دے کر گناہ کے لئے راضی کر بھی لیا تو آخر میں پتہ چلے گا کہ نہ ٹیکسی کا کرایہ ھے اور نہ ٹکٹ کے پیسے ،، اس لئے اللہ پاک فرماتا ھے کہ اگر مجھے یہ خدشہ نہ ھوتا کہ تمام لوگ ھی کافر ھو جائینگے تو میں کافروں کی چھتیں ،سیڑھیاں دروازے اور بیڈ سونے چاندی کے بنا دیتا تا کہ وہ خوب خوب گناہ کر لیں اور اس دولت میں گم ھو کر رب سے غافل ھو جائیں ،، اگر یہ سب کچھ کافروں کو دے بھی دیا جائے تو بھی ھے تو اسی چند روزہ زندگی کا سامان ؟ عاقبت تو پھر تقوے والوں کے لئے ھے !
” ولولا أن يكون الناس أمة واحدة لجعلنا لمن يكفر بالرحمن لبيوتهم سقفا من فضة ومعارج عليها يظهرون، ولبيوتهم أبوابا وسررا عليها يتكئون وزخرفا وان كل ذلك لما متاع الحياة الدنيا، والآخرة عند ربك للمتقين”[الزخرف33،34،35].
کیا مومن پر مصیبت نہیں آتی ؟ سب سے زیادہ آتی ھیں کیونکہ وہ کمرہ امتحان میں ھوتا ھے ، تو ظاھر ھے کمرہ امتحان میں بیٹھے اور باھر گلی میں کھڑے کے درمیان فرق تو ھو گا ، اندر والا متفکر ھو گا ،، غور و فکر میں مشغول ھو گا ،، سورہ الانبیاء میں اللہ پاک نے تمام نبیوں کے مصائب بیان فرمائے ھیں پھر ان کی ذکر کی ھیں پھر ان کی مدد کے بارے میں بیان فرمایا ھے ،،
ایک شخص نے جب عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ میں آپ سے بہت محبت کرتا ھوں ! تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ھو تو پھر لنگوٹ کس لو ،کیونکہ جو ھم سے محبت کرتے ھیں مصائب ان کی طرف یوں لپکتے ھیں جیسے سیلاب کا پانی اونچی زمین سے نیچی زمین کی طرف لپکتا ھے !!
گویا اگر امتحان کے اصول کو ذھن میں رکھا جائے تو دنیا کے بارے میں کبھی بھی غلط فہمی پیدا نہیں ھوتی ،، دنیا کی زندگی سیمپل ھے جو فری میں سپلائی کیا جاتا ھے ،مگر جب آپ اس سیمپل کو پسند فرما لیتے ھیں تو پھر قیمت وصول کر کے آرڈر سپلائی کیا جاتا ھے ،، اھل و عیال کی محبت کو فری میں چکھ لیا ھے اب اگر تم چاھتے ھو کہ تمہیں سدا کے لئے مل جائیں تو اس کے لئے کچھ تمہیں محنت کرنی ھو کچھ اللہ کا فضؒ شاملِ حال ھو گا اور بیڑہ پار ھو جائے گا ! اسی دنیا کی زندگی اسے آخرت کی زندگی کمانی ھے ،، اگر یہ تمہارے ھاتھ میں رھی تو ختم ھو جائے گی کیونکہ تم بھی فانی اور تمہارے ھاتھ کی ھر چیز بھی فانی ،، ما عندکم ینفد ،، وما عنداللہ باق ،، اور جو اللہ کے پاس منتقل کر دو گے وہ بچ جائے گا ،، جب اس اصول کے تحت انفاق فی سبیل اللہ کرو گے تو اللہ پر احسان کا کیڑہ مر جائے گا ،،

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *