Home / Q & A / خضر علیہ السلام ۔ سورہ الکہف سورہ نمبر اٹھارہ کی آیات 74,80,81

خضر علیہ السلام ۔ سورہ الکہف سورہ نمبر اٹھارہ کی آیات 74,80,81

سوال ۔
السلام علیکم و رحمت الله و برکاتہ ۔
میرا سوال قرآن مجید فرقان حمید کے ایک بہت اھم اور پر اسرار مقام سے متعلق ہے ۔یہ ہیں سورہ الکہف سورہ نمبر اٹھارہ کی آیات 74,80,81
ان آیات کریمہ میں یہ واقعہ بیان فرمایا گیا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام اور علیہ السلام کے درمیان پیش آیا ۔یوں تو یہ مکمل واقعہ ھی انتہائی پر اسرار ہے لیکن جو گفتگو ان تین آیات مبارکہ میں نقل فرمائی گئی وه بالکل ھی سمجھ سے باہر ہے ۔
ان آیات کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام جب ایک جگہ پہنچے تو وہاں ایک بچہ یا ایک کم عمر لڑکا موجود تھا جسکو حضرت خضر علیہ السلام نے قتل کر ڈالا اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام جو انتہائی بلند مرتبہ صاحب شریعت رسول ہیں وه بھی تڑپ اٹھے اور حضرت خضر علیہ السلام سے فرمایا کہ آپ نے ایک بالکل معصوم بچے کو قتل کر ڈالا حالانکہ اسنے کسی کو قتل بھی نہ کیا تھا یہ تو آپ نے انتہائی خوفناک حرکت کر ڈالی ۔اس پر حضرت خضر علیہ السلام نے یہ جواب عنایت فرمایا کہ جس لڑکے کو میں نے قتل کیا تھا اسکے والدین مومن تھے ۔اور اگلی بات مزید حیران کن فرمائی کہ انکو یہ شک تھا کہ یہ لڑکا بڑا هو کر کفر اور سرکشی کرے گا اور اپنے نیک والدین کو بھی کفر پر مجبور کرے گا ۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ بات بذات خود علماء کے درمیان شدید اختلافی ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام صرف ولی الله تھے یا نبی بھی تھے ۔بہر حال بیشک وه ولی ھوں یا نبی ھوں یہ بات سمجھ سے بالکل بالا تر ہے کہ ایک بچہ یا لڑکا جسکو اللّه نے اختیار دے کر پیدا کیا کہ نیک بنے یا بد بنے اور اسکے والدین تھے بھی انتہائی نیک مؤمن ۔ابھی وه بچہ یا لڑکا بالکل معصوم بے گناہ بھی تھا لیکن محض یہ شبہ اور خوف پیدا ھونے کی بنا پر کہ شاید یہ جوان هو کر کافر بن جائے گا اسکو بغیر کوئی سوال پوچھے فورا قتل ھی کر دینا کیونکر سمجھ آ سکتا ہے ؟؟؟گزارش ہے کہ عظیم ترین مستند اکابر مفسر آئمہ اور اکابر مستند آئمہ تصوف و معرفت نے ان آیت کو جیسے سمجھایا وه سب آرا بھی بحوالہ آسان اردو ترجمہ لکھ دیجیۓ گا ۔گزارش ہے کہ اپنے قیمتی علمی فتویٰ کو پی ڈی ایف فائل کی صورت میں درج ذیل وھاٹس ایپ نمبر اور ایمیل پر بھی ارسال فرما دیجیۓ گا جزاک اللہ الخیر
المستفتی
سید علی الاحسن نقوی راولپنڈی پاکستان
00923230511895
الجواب ۔
آپ خضر نام نکال دیں، یہ کہانی کاروں کی کاوش ہے قرآن میں نہ خضر کا نام ہے نہ اس کو نبی کہا گیا ہے حتیٰ کہ انسان ہونے کی تصریح بھی نہیں کی گئی۔ وہ میرے بندوں میں سے ایک بندہ یعنی کار سرکار کے کارندوں میں سے ایک کارندہ تھا جو یہ تین ٹارگٹ دے کر بھیجا گیا تھا، جو کہ اس نے بحقِ سرکار ادا کیئے۔ جیسے تارا مسیح نے بھٹو کو مارا مگر کوئی اس کو قاتل نہیں کہتا۔ اس فرشتے نے موسیٰ علیہ السلام کے سامنے ان سے متعلق جو رائے قائم کی یہ اس کی ذاتی رائے تھی، اور فرشتے ایسی ہی رائے آدم علیہ السلام کی خلافت کے بارے میں بھی دے چکے ہیں ۔
جس خدا نے اس بندے کے ذریعے اس بچے کو مروایا اسی خدا نے موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے محل سے مدین کی بستی تک پہنچانے کے لئے موسیٰ علیہ السلام سے قتل خطا کروایا تا کہ موسیٰ محل سے بھاگیں۔ اور یو سکتا ہے کہ مکا تو موسی علیہ السلام نے مارا مگر جان اسی فرشتے نے لی ہو جس نے بچے کی جان لی، موسی علیہ السلام کے دل سے خلش دور کرنے کے لئے اللہ پاک نے اپنے مافوق الفطرت نظام کی جھلک دکھائی ہے
Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *