Home / History / حدیثِ کساء اور اھل بیت

حدیثِ کساء اور اھل بیت

حدیثِ کساء !
یعنی کمبل کے نیچے لے کر اھل بیت بنانا !!
اس سلسلے کی روایات پر پاک و ھند مین سب سے پہلے مولوی حبیب احمد کیرانوی صاحب( مصنف اظہارِ حق ) نے قلم اٹھایا اور ایک امتی ھونے کا حق ادا کر دیا،، ان ھی کی تحقیق سے استفادہ کرتے ھوئے اسے سلسیس انداز مین پیش کرتا ھوں،ان روایات کی حقیقت جن کا طعنہ دے کر لوگ ھمیں پوچھتے ھیں کہ آپ نے فلاں حدیث نہیں پڑھی !
1- روایتِ ام المؤمنین حضرت ام سلمیؓ !
ابوکریب کو حسن ابن عطیہ ،کو فضیل ابن مرزوق کو عطیہ کو ابو سعید کو ام سلمیؓ نے بتایا کہ نبیﷺ میرے گھر میں تھے کہ یہ آیت نازل ھوئی،،انما یرید اللہ،،،،،آپﷺنے حضرت علیؓ،فاطمہؓ،حسنؓ ،حسینؓ کو بلوایا اور انہیں ایک چادر کے نیچے اکٹھا کر کے دعا کی کہ اللہ یہ میرے اھلبیت ھیں ان سے پلیدی کو دور فرما دےاور انہیں پاک کر،، ام سلمہؓ کہتی ھیں کہ میں دہلیز پر بیٹھی تھی ،میں نے عرض کی کہ کیا میں اھلبیت نہیں،،آپﷺ نے فرمایا تم خیر کی طرف ھو تم ازواج النبی ھو( قرآن مین خطاب بھی ازواج کو ھے ) !
راویوں کی سکروٹنی !
حبیب اللہ کیرانوی لکھتے ھیں،،اس حدیث کا وضع کرنے والا ،محمد بن سائب الکلبی ھے،جسے اسے روایت میں ابو سعید لکھا گیا ھے، اس کا شاگرد عطیہ اس کو ابوسعید کہتا تھا تاکہ لوگ ابو سعید خدریؓ کا دھوکا کھائیں،،یہ محمد بن سائب الکلبی رافضی تھا، اور کذاب تھا، یہ کہا کرتا تھا کہ جبرائیل وحی لائے تو نبیﷺ گھر پر نہیں تھے،،تو وہ حضرت علیؓ پر وحی نازل کر کے چلے گئے،
عطیہ الکوفی،، اسی نے اپنے استاد کلبی کی کنیت ابوسعید رکھی تھی،ابن حبان کہتے ھیں کذاب تھا اور اپنے استاد کی طرح رافضی تھا،
فضیل بن مرزوق ،، یہ بھی کوفی ھے غالی شیعہ ھے، ابو عبداللہ الحاکم کہتے ھیں کہ امام مسلم پر ایک اعتراض یہ بھی ھے کہ انہوں نے اس سبائی بچے سے حدیث لے کر اسے معزز کر دیا،،میزان میں ابن حبان لکھتے ھیں کہ یہ عطیہ سے موضوع روایتیں نقل کرتا ھے،،
اس کے بعد کیرانوی صاحب لکھتے ھیں کہ یہ لوگ اس بات کو بھول جاتے ھیں کہ نبی کریمﷺ عرب تھے اور قرآن عربی میں نازل ھو رھا تھا،، اللہ پاک تو کہہ رھے ھیں کہ یہ احکامات اس لئے نازل کیئے جا رھے ھیں کہ اے نبیﷺ کے گھر والو تم ان پر عمل کر کے پاک صاف رہ سکو، اب نبیﷺ کا کام یہ تھا کہ وہ ان چہار تن کو بلا کر کہیں کہ تم بھی میرے گھر والے ھو لہذا ان احکامات پر چل کر تم بھی پاک صاف ھو جاؤ،،اب اللہ سے دعا کرنے کا مقصد تو یہ ھوا کہ باقی تو عمل کر کے پاک ھوں گے،،ان چار کو عمل سے چھٹی دے دیجئے،،اور خود ھی پاک کر دیجئے !
اگلی سند ملاحظہ فرمایئے !
ام سلمیؓ سے وھی کذاب کلبی ھے،، اس نیچے عطیہ الکوفی رافضی کذاب ھے نیچے اعمش ھے،نیچے مندل ھے،نیچے بکر بن یحی ھے،نیچے محمد بن مثنی ھے،،
روایت کچھ یوں ھے کہ ،،آیتِ تطہیر پنج تن کے بارے میں نازل ھوئی ھے !
سکروٹنی
مندل راوی جائز الحدیث ھے( یہ بھی اھلسنت کی سادہ لوحی ھے جس نے امت کو آگے چل کر گرداب میں پھنسایا ھے ) مگر شیعہ ھے،،( عجلی )
واھی الحدیث ھے( گپیں ھانکتا ھے)( جوزجانی،،) ثقہ نہیں ھے منکر روایتیں بیان کرتا ھے،( ساجی ) مرسل روایت کو مرفوع کر کے بیان کرتا ھے، اور مرفوع میں حافظہ کی خرابی کی وجہ سے کوئی اور بندہ جوڑ دیتا ھے، اس لیئے ترک کیئے جانے کے قابل ھے ( ابن حبان )
کیرانوی لکھتے ھیں یہ کوئی نئی روایت نہیں،اوپر کے راوی وھی کلبی کذاب اور عطیہ کذاب ھیں،، نیچے مندل نے اس کو مختصر کر دیا ھے اور شاید چادر کو چھوٹا دیکھ کر نکال دیا ھے !
تیسری روایت !
ام سلمی ؓ سے وھی محمد بن سائب کذاب ، وھی عطیہ الکوفی،، فضیل بن مرزوق شہر بن حوشب ،عبدالحمید بن بہرام، وکیع ،ابو کدینہ !
سکروٹنی !
ابن جریر نے اسے نقل کیا ھے،مضمون وھی ھے جو پہلی روایت کا ھے،، پہلے دو کذاب رافضیوں سے نیچے راویوں کی حالت کچھ یوں ھے،
شہر بن حوشب،اس کی کنیت بھی ابوسعید ھے،یہ حدیث میں قوی نہین ھے،اس کی حدیث کو نہ دین سمجھا جائے نہ حجت،،( ابن عدی)
ابن منصور نے شہر بن حوشب کے ساتھ حج کیا ،،دورانِ سفر شہر بن حوشب نے ابن منصور کا تھیلا چرا لیا ،، اور یہ کوئی نیا واقعہ نہیں ھے وہ یہ کام اکثر کرتا رھا ھے ) ( یحی القطان) اس کی روایت پر اعتبار نہ کیا جائے ( جوزجانی )
گویا اس روایت میں تین رافضی کذاب (محمد بن سائب-عطیہ الکوفی-فضیل بن مرزوق) اور چوتھا چور بھی شامل ھو گیا ھگلی روایت بھی ام سلمیؓ سے ھے،راوی کچھ یوں ھیں !
ام سلمیؓ-ابو ھریرہؓ- محمد بن سیرین- سعید بن زربی- عبدالحمید بن بہرام- ابو کریب-
روایت کے الفاظ وھی پہلی والی روایت کے ھیں،،مگر ان چاروں کو اپنی کمبلی پر بٹھایا اور پھر کمبلی کے چاروں کونے اکٹھے کر کے انہیں بائیں ھاتھ مین پکڑا اور دائیں ھاتھ سے اللہ کی طرف اشارہ کیا،، اور فرمایا،،،،
سکروٹنی !
سعید بن زربی،، اس حدیث کی سند اور متن بنانے والا سعید بن زربی ھے یہ دونوں چیزیں اس کی اختراع ھیں،یہ عجیب عجیب منکرات روایت کرتا ھے(ابو حاتم ) یہ صاحب العجائب ھے ( امام مسلم ) یہ ثقہ راویوں کے نام سے موضوع احادیث روایت کرتا ھے !
مولوی سراج الحق مچھلی شہری لکھتے ھیں کہ ان حضرات کا گھٹڑی بنا کر بائیں ھاتھ مین پکڑنا واقعی ایک عجیب اور منکر شئ ھے اور اپنے دائیں ھاتھ سے اللہ کی طرف اشارہ کرنا اس سے بھی عجیب کیونکہ اشارہ اسمان کی طرف کیا جاتا ھے اللہ کی طرف نہیں !
اگلی روایت !
یہ بھی ام سلمیؓ سے ھے ،روایت وھی ھے،کپڑے مین لے کر دعا کرنا،،
روای ام سلمہؓ -عبداللہ بن وھب ابن زمعہ ،ھاشم بن عتبہ بن ابی وقاص،موسی بن یعقوب،خالد بن مخلد ابو کریب !
سکروٹنی !!
خالد بن مخلد – یہ روایت اور سند اس خالد بن مخلد کی اختراع ھے،یہ غالی شیعہ تھا اور تشیع میں انتہا کو پہنچا ھوا تھا( ابن سعد)
صحابہ کو اعلانیہ سب و شتم کیا کرتا تھا ،،کسی نے پوچھا صحابہ کے مناقب کی بھی کوئی حدیث تمہارے پاس ھے تو بولا،،ان کی برائیوں کی پوچھو ( جوزجانی ) گویا ابن مخلد جیسا دشمن صحابہ اور موسی بن یعقوب جیسا منکر الحدیث بھی شامل ھے !
اسے مسلمانوں کی بدنصیبی کہیئے یا سوء اتفاق کہ یہ خالد بن مخلد بخاری و مسلم کا راوی بن گیا ھے،، مگر کیرانوی صاحب اس پر بھی جرح کر رھے ھین جو کہ آج کل قابلِ گردن زنی جرم ھے،،اس لحاظ سے منکر حدیث کا ٹائٹل ان کا حق بنتا ھے !
اوپر بیان کردہ پانچ روایتیں اصل مین ایک ھی روایت ھیں،،بس نیچے راوی بدلتے رھے ھیں،جو اپنے اپنے مزاج کے لحاظ سے میٹھا اور نمک ملاتے رھے ھیں ان سے یہ ثابت ھوا کہ تطہیر کے لئے عمل کی نہیں بلکہ کمبل کی ضرورت ھے،، حضرت عائشہ صدیقہؓ کی روایت سمیت دیگر روایتوں پر اگے بحث آ رھی ھے !
اگلی حدیث بھی ام سلمہؓ سے روایت ھے مگر اب کہ مضمون تبدیل ھو گیا ھے،، سچ کہتے ھیں جھوٹے کو یاد نہین رھتا کہ وہ پہلے کیا بیان دے چکا ھے،، دروغ گو را حافظہ نباشد !
ام سلمیؓ فرماتی ھیں کہ نبی اللہﷺ میرے گھر تشریف لائے تو مجھے فرمایا کہ میرے پاس کسی کو نہ انے دینا، علیؓ آئے تو میں نہ روک سکی،پھر فاطمہؓ آئی تو میں ان کو والد کے پاس جانے سے نہ روک سکی،پھر حسنؓ آئے تو میں ان کو بھی نہ روک سکی،،حسین ائے تو میں ان کو بھی نہ روک سکی ( گویا نبیﷺ کے حکم کی نافرمانی کی ) جب یہ سارے نبیﷺ کے بستر پر جمع ھو گئے تو نبیﷺ نے ان کو کمبل اڑایا جسے خود اوڑھے ھوئے تھے،پھر دعا کی کہ یہ میرے اھل بیت ھیں ان سے پلیدی دور کر اور انہیں پاک کر ،، تو جب یہ بچھونے پر اکٹھے ھو گئے تو تب یہ آیت اتری ” انما یرید اللہ” میں نے عرض کیا کہ مجھے بھی شامل کر لیجئے واللہ مجھے چین نہیں آئے گا ،مگر آپﷺ نے فرمایا تم خیر پر ھی ھو( البتہ تمہیں اھل بیت میں شامل کیا تو پنج تن پاک کی گنتی خراب ھو جائے گی)
اس ایت کو ھی اگر کوئی پورا پڑھ لے تو جھوٹ پکڑا جاتا ھے،،صرف درمیان سے ایک جملہ پکڑ کر جھوٹ کا جو قلعہ تعمیر کیا گیا ھے وہ دھڑام سے منہدم ھو جاتا ھے،، اس آیت مین مخاطب ھی نبی کی بیویاں ھیں،، اور ان کو عربی بھی آتی ھے، جب انہیں اللہ نے وہ مقام پہلے ھی قرآن میں عطا فرما دیا ھے تو پھر انہیں نبیﷺ سے بار بار مانگنے کی ضرورت کیوں پڑی؟ کیا انہیں قرآن پر اعتبار نہیں تھا ؟ان دجالوں نے آیت کے دو ٹکڑے کر کے ازواجِ مطہرات کو نکال باھر کیا،، ھمارے علماء تک اس ٹکڑے کو پوری آیت سمجھتے اور جمعے کے خطبے میں آدھے سے ھی شروع کر کے تقریر کرتے ھیں !
رافضیوں کے نزدیک یہاں سے 2000 آیتیں ابوبکرؓ و عمرؓ نے نکلوائی ھیں،، اور اس کے لئے بھی ابو موسی اشعریؓ جیسے صحابی سے کہلواتے ھیں اور اھل سنت کی حدیث کی کتاب میں لکھتے ھیں کہ کسی زمانے میں سورہ الاحزاب سورہ بقرہ جتنی تھی،اب بس اتنی ھے جتنی تم دیکھتے ھو،یعنی 286 میں سے موجودہ 73 آیتیں نکال دیکھئے،ابوبکرؓ و عمرؓ نے کتنی نکالیں ھیں،، اور کس کے نام سے یہ الزام لگایا جا رھا ھے،ابو موسی الاشعرؓی جو قرأت قرآن کے امام تھے اور کوفے کے گورنر تھے ان کی زبان سے کہلوایا جا رھا ھے !
لوگ غـــــیروں کا گلــہ کــــرتے ھیں، ھـــم نے تــو اپنے آزمــائے ھیں !
تم تو کانٹوں کی بات کرتے ھو ھم نے پھولوں سے زخم کھائے ھیں !
1- راوی عبداللہ بن عبدالقدوس ،، جناب کیرانوی صاحب لکھتے ھیں،اس روایت کی یہ شکل عبداللہ بن عبدالقدوس کی اختراع ھے،یہ عبداللہ لا شئ ھے،خبیث رافضی ھے( یحی ابن معین ) ضعیف الحدیث ھے رافضی المذھب ھے ( ابو داؤد ) یہ ثقہ نہیں ( نسائی ) اکثر عجیب و غریب حدیثیں نقل کرتا ھے ( ابن حبان )یہ اکثر اھل بیت کے فضائل پر حدیثیں روایت کرتا ھے ( ابن عدی ) یہ خشبی شیعہ تھا ( ابو معمر ) خشبی شیعہ سے مراد وہ شیعہ تھے جو اس لکڑی کی پوجا کرتے تھے جس پر حضرت امام زید کو سولی دی گئ تھی ،،یہ مزدکی تھا،کسی ابل نہ تھا،یہ پاگل تھا لڑکے اس کے پیچھے شور مچاتے پھرتے تھے،
مولانا کیرانوی لکھتے ھیں یہ موضوع روایت مولوی عاشق الہی صاحب خلیفہ مجاز مولانا رشید احمد گنگوھی نے اپنی حمائل کے حاشیئے میں درج کی تھی،، یہ ھے اھل سنت علماء کی غفلت !
22- محمد بن حمید الرازی — یہ مشہور مؤرخ ھے ابن جریر کا استاد ھے اور یعقوب قمی کا شاگرد ھے،یعقوب بن شیبہ کہتے ھیں یہ بہت منکرات بیان کیا کرتا ھے، ابو زُرعہ کہتے ھیں کہ یہ کذاب ھے ،فضلک الرازی کہتے ھیں کہ میرے پاس اس کی پچاس ھزار احادیث لکھی پڑی ھیں مگر میں ان میں سے ایک بھی بیان کرنا حلال نہیں سمجھتا !
صالح جزرہ کہتے ھیں کہ یہ جھوٹ بولنے میں بہت جری تھا،ھم تو اسے ھر بات میں جھوٹا سمجھتے تھے،بلکہ میں نے جھوٹ بولنے مین اس سے بڑھ کر ماھر کسی کو نہیں پایا،، ( یہ نام یاد رکھ لیں جھوٹی حدیثوں میں یہ جگہ جگہ آئے گا) ابن خراش کہتے ھیں،اللہ کی قسم وہ تو جھوٹ بولتا ھے،
فضلک الرازی کا بیان ھے کہ میں ایک دن ان موصوف کے گھر گیا تو جناب جھوٹی سندات بنانے میں جُٹے ھوئے تھے !
اھلِ بیت کی دو قِسمیں ھیں !
1- قرآنی اھل بیت
،، قرآن حکیم نے حضرت ابراھیم علیہ السلام کے واقعے میں بیان کیا ھے کہ جب اللہ پاک نے انہیں بڑھاپے میں بیٹے اور پوتے کی بشارت سنائی تو ،،ان کی زوجہ جو خواتین کے روایتی تجسس کی بدولت دروازے کے پیچھے سے گفتگو سن رھی تھیں ، حیران رہ گئیں،، اور بے ساختہ اپنے ماتھے کو ھاتھ مار کر بولیں،” قالت یا ویلتی أالد وانا عجوز وهذا بعلی شیخا ان هذا لشیء عجیب ” لو جی اب میں بوڑھی پھونس بانجھ عورت بچہ جنوں گی ! اِنَۜ ھٰذا لشئٓ عجیب،، یقیناً یہ بہت تعجب خیز بات ھے ! اس پر فرشتوں نے ان کی طرف رُخ خطاب بدلا اور کہا،، اتعجبین من امر اللہ، رحمۃ اللہ و برکاتہ علیکم ” اھل البیتِ” ،، کیا اللہ کے کاموں پر تعجب کر رھی ھو ؟ اللہ کی رحمت و برکتیں ھوں تم پر اے گھر والو !( ھود 73 ) پتہ چلا گھر والے یا اھل بیت بیوی ھوتی ھے چاھے اولاد ھو یا نہ ھو،،!
سورہ احزاب میں پورا رکوع اللہ پاک نے نبی ﷺ کی بیویوں سے یا نساء النبی،، اے نبی کی بیویو ! اے نبی کی بیویو کہہ کر پابندیاں لگائیں،، نصحیتیں کیں اور وجہ یہ بیان کی کہ اے اھل بیت اللہ پاک ان پابندیوں کے ذریعے تم سے گندگی کو دور کرنا چاھتا ھے،، انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس ” اھل البیت “و یطہرکم تطہیرا ( الاحزاب 33 ) اس کے بعد بھی خطاب بیویوں سے ھی جاری ھے،،یہ تو تھے قرآنی اھل بیت –
2- روایتی اھل بیت !
جنہیں روایتوں کے ذریعے اھل بیت بنایا گیا !
تفصیل اس اجمال کی کچھ یوں ھے کہ ‘اس آیت تطہیر کی تفسیر میں سید مودودی لکھتے ھیں کہ” یہ آیت جس سیاق و سباق میں نازل ھوئی ھے اس سے صاف ظاھر ھے کہ یہاں اھل بیت سے مراد نبیﷺ کی بیویاں ھیں کیونکہ خطاب کا آغاز ھی ‘ یا نساء النبئ ” سے کیا گیا ھے اور وھی ما قبل و ما بعد کی پوری تقریر کا مخاطب ھیں،،یہ لفظ اس کے علاوہ قرآن مین مزید دو جگہ آیا ھے اور وھاں بھی ٹھیک گھر والوں کے معنی میں ھی آیا ھے ! نیز اصل خطاب ازواج ھی سے ھے اور اولاد مفہوم مین شامل ھے، اسی بنا پر ابن عباسؓ صحابی ،عروہ تابعی اور عکرمہ تابعی کہتے ھیں کہ اس آیت سے مراد ازواج النبیﷺ ھیں ( تفہیم ج 4 )
مگر مفسر کلبی رافضی اور سبائی ٹولہ مدعی ھے کہ یہ آیات پنج تن پاک کے بارے میں نازل ھوئی ھیں،،چھٹا تن اس میں داخل نہیں ھو سکتا،،لہذا نبیﷺ کی ساری دیگر بیٹیاں اور 9 بیویوں جو اس وقت موجود تھیں سب کو اھل بیت سے نکال باھر کیا !
مگر اھل سنت کے قربان جائیے کہ یہ ھمیشہ baby sitterr کا کام کرتے ھیں،، جو بھی حلال حرام کا بچہ ان کے سپرد کر دو یہ بس اپنے چارجز لے کر اس کو پالتے ھیں،،بچے کی اصلیت سے ان کو کوئی لینا دینا نہیں ھے،، ان کو تقریر و تحریر کا مواد چاھئے،،
حق بیان کرنے کے بعد خود مودودی صاحب اب بیک ڈور سے اھل بیت کی نئی کھیپ گھساتے ھوئے لکھتے ھیں کہ ابن ابی حاتم کی روایت ھے کہ حضرت عائشہؓ سے ایک مرتبہ حضرت علیؓ کے بارے مین پوچھا گیا تو فرمایا ” اس شخص کے بارے میں پوچھتے ھو جو نبیﷺ کے محبوب ترین لوگوں میں شامل تھا( اور جس سے میں لڑنے گئ تھی ) جس کی بیوی نبیﷺ کی محبوب ترین بیٹی تھی،، پھر حضرت عائشہؓ نے روایت بیان کی کہ ” حضورﷺ نے حضرت علیؓ،فاطمہؓ حسن ؓ حسینؓ کو بلایا اور ان پر کپڑا ڈال دیا اور دعا کی کہ ائے اللہ یہ میرے اھلِ بیت ھیں ان سے گندگی دور کر اور انہیں پاک کر،،حضرت عائشہؓ فرماتی ھیں کہ میں نے عرض کیا کہ میں بھی تو آپ کے اھلِ بیت میں سے ھوں یعنی مجھے بھی کپڑے میں داخل فرما کر دعا کیجئے،حضورﷺنے فرمایا تم الگ رھو تم تو خیر ھو ھی،،
اس سے ملتے جلتے مضمون کی بکثرت روایات،مسلم،ترمذی، احمد ،ابن جریر،حاکم،بہیقی وغیرہ محدثین نے، حضرت عائشہؓ،انسؓ،ام سلمیؓ،حضرت واثلہؓ اور بعض دوسرے صحابہ سے نقل کی ھیں،جن کے مطابق نبیﷺ نے علیؓ ۔فاطمہؓ اور حسنینؓ کو اھل بیت میں شامل کیا،لہذا جو لوگ ان کو خارج کرتےھیں ان کا خیال درست نہیں ھے،( تفہیم ج4 )
یہ مودودی صاحب پر ھی بس نہیں بلکہ تقریباً سارے ھی اھل سنت مصنفین اللہ پاک کو عربی پڑھانے کی کوشش کرتے ھیں کہ آپ خواہ مخواہ ھر جگہ بیویوں کو اھل بیت قرار دے دیتے ھیں اور عیال کو اس مین شامل نہیں کرتے،، ھم بھی یہ تسلیم کرتے ھیں کہ بچے جب والدین کے گھر ھوتے ھیں تو وہ اھل بیت کے خطاب میں شامل ھوتے ھیں،،مگر جب بچی بیاھی جاتی ھے تو اللہ تو اللہ ھے،، فتح خان نائی بھی شادی شدہ بچی کے بارے میں کہتا ھے کہ جی وہ تو اپنے گھر کی ھو گئی ھے،!
اگر اس خطاب میں نبیﷺ کی دیگر شادی شدہ بچیوں ،رقیہ،کلثوم اور زینب کو بھی شامل کر لیا جاتا تو ھم سید مودودی صاحب سمیت تمام اھل سنت مصنفین کے ھاتھ دھو کر پیتے،،مگر وہ بیٹی جو اجڑ کر نبی ﷺ کے گھر بیٹھی ھوئی تھی،یعنی حضرت زینبؓ،،وہ تو اس خطاب مین شامل نہیں کی گئی،،
ایک شخص نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ھوتا ھے ،تھوڑی دیر بعد اس کا بیٹا آتا ھے وہ اسے چوم کر اپنی گود مین بٹھا لیتا ھے،، پھر اس کی بیٹی آتی ھے، اور وہ اسے چوم کر زمین پر اپنے ساتھ لگا کر بٹھا دیتا ھے اور اللہ کا نبیﷺ تڑپ اٹھتا ھے،، فرمایا تو نے عدل نہیں کیا، تو نے عدل نہیں کیا،، یا تو اسے بھی نیچے بٹھا یا پھر بیٹی کو بھی دوسری ران پر بٹھا،، یہ ھے عدلِ نبوی،،وھی نبی ﷺ اپنی اولاد میں اس طرح کی بے انصافی کیسے کر سکتا ھے،، رافضی تو صرف حضرت فاطمہؓ کو نبیﷺ کی بیٹی مانتے ھیں باقی بیٹیوں کو حضرت خدیجہ کے سابقہ شوھر کی مانتے ھیں،،مگر تم ائے اھل سنت اپنے نبیﷺ سے اس بے انصافی کی توقع کیسے رکھتے ھو ؟
گویا نبیﷺ باقی دنیا کے لئے رحمۃ اللعالمین ھوں تو ھوں،،اپنی اولاد کے ساتھ بے انصاف تھے،،زینب گھر میں تھی،بیمار تھی، اجڑ کر آئی تھی،،اس کی بچی کو اٹھا کر نبیﷺ قیام کرتے جب سجدہ کرتے تو زمین پر رکھ دیتے،جب دوبارہ اٹھتے تو پھر اٹھا لیتے،اسی امامہ کی والدہ کے لئے چادر میں جگہ نہیں تھی،کیونکہ آیت 5 ھ میں نازل ھوئی ھے اور حضرت زینب ؓ بنت محمد ﷺ 2 ھ سے لے کر 8 ھجری تک اپنے والد کے گھر رھی ھیں،،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *