Home / Humanity / Family / تینوں حصے مکمل

تینوں حصے مکمل

joint family system=A social cancer,مشترکہ خاندان ایک سماجی سرطان
اللہ تعالی نے انسان کو نر اور مادہ سے پیدا فرمایا اور پھر ان میں سے ان گنت جوڑے پیدا فرمائے
ان جوڑوں میں صلاحیتوں کے لحاظ سے فرق و تفاوت رکھا،اور دو بھائیوں اور دو بہنوں میں بھی یکساں معاملہ نہیں کیا،
جب ایک نیا جوڑا بنتا ھے،تو ایک نیا یونٹ وجود میں آتا ھے ،جس کے دونوں افراد اپنے کچھ خواب رکھتے ھیں جن کو وہ مستقبل میں پورا کرنا چاھتے ھیں،،ان کی کچھ محرومیاں ھوتی ھیں جن سے وہ اپنی اولاد کو محفوظ رکھنا چاھتے ھیں ،عورت اپنی ماں کے گھر سے یہ سنتی آتی ھے کہ”تم اپنے گھر جا کے یہ کر لینا،،تو اپنے گھر میں یہ سجا لینا مگر جب وہ اپنے گھر آتی ھے تو پتہ چلتا ھے کہ یہ گھر بھی اس اپنا نہیں ھے وہ صرف یہاں روٹی کپرے کی ملازم ھے،،ھمارے یہاں ایسے گھروں کو مشترکہ خاندانی نظام یا جائنٹ فیملی سسٹم کہا جاتا ھے ،، یہ نظام ظلم پر مبنی اور سماجی کینسر ھے ،جس میں نفرتیں اگتی اور نفاق پنپتا ھے ،حسد ،حقد،بے انصافی اور ظلم کا دور دورہ ھوتا ھے ،لوگ اس کو محبت کی علامت سمجھتے ھیں مگر حقیقت میں یہ نفرت کی بھٹی ھوتی ھے ،،ظلم یہ ھے کہ ایک انسان جب کمانے لگتا ھے تو باقی بھائیوں کو پالنے لگ جاتا ھے ،انکی ضروریات کو (جو کہ دن بدن لامحدود ھوتی جاتی ھیں) پورا کرنے میں اس طرح جُت جاتا ھے ،کہ بھول جاتا ھے کہ اس کی اپنی اولاد بھی ھے ،جس کی تعلیم و تربیت اسکی پہلی ذمہ داری ھے،،ان کے مستقبل کا سوچنا اس کا اور اخلاقی فرض ھے،،اس مرحلے پر عورت جس کو اللہ نے کے معاملے میں کچھ زیادہ ھی حساس بنا دیا ھے ،وہ مداخلت کرتی ھے اور شوھر کا احساس دلانے کی کوشش کرتی ھے کہ اس کے اپنے بچے بھی ھین اور انکی ضروریات مقدم ھیں،،نیز یہ کہ انسانوں کے اس میلے اور چڑیا گھر نما حویلی میں ،بچوں کا تعلیم حاصل کرنا ناممکن ھے،،اپنا ایک گھر ھونا چاھئے جہاں پر کہ بچوں کے سونے ،جاگنے، کھیلنے،اور پڑھنے کے اوقات ھونے چاھییں ،،یہ ایک ایسا مطالبہ ھے کہ جس کے بعد قیامت کا آنا لازمی ھے،،یہ کوئی عام مطالبہ نہیں ھے بلکہ مولانا حالی کے الفاظ میں
” وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوتِ ھادی ! عرب کی زمیں جس نے ساری ھلا دی !!
اب اسلام بھی خطرے میں پڑ جاتا ھے اور ماں باپ کی عزت و توقیر کا مسئلہ بھی درپیش ھوتا ھے ،،
جائنٹ فیملی سسٹم کی شرعی حیثیت،
اسلام میں مشترکہ خاندانی نظام کا سرے سے کوئی تصور نہیں ھے،،نبی کریمﷺ نے اپنی 9 بیویوں کو الگ رکھا ھے،جہاں ایک بیوی کو یہ اجازت نہیں ھوتی تھی کہ وہ دوسری کے حجرے میں اسکی اجازت کے بغیر سالن تک بھیجے،جس کے حجرے میں نبی ﷺ کی باری ھوتی تھی اسی کی پسند نبیﷺ کو کھانی ھوتی تھی ، مشترکہ خاندان میں خود خاندان کی تباھی کا جو سامان ھے اس کے مدِۜ نظر یہ ممکن ھی نہیں کہ آسمان والی شریعت اس کو قبول کرے،، اصلاً یہ راجپوتانہ نظام ھے،، اور اس کا مداوہ بھی شاید ھندو راجپوتانہ نظام میں رکھا گیا ھے،کہ چونکہ بڑا بھائی ھی قربانی کا بکرا بنتا ھے،اور چھوٹے کی تک خاندان کا بوجھ اُٹھاتا ھے،لہٰذا ساری جائداد کا مالک بھی بڑا بیٹا ھوتا ھے،، اب جب آپ راجپوتانہ نظام کو اسلام کے ساتھ ری میکس کرتے ھیں تو دشمنیاں جنم لیتی ھیں،، مثلاً بڑے بیٹے پر ذمہ داریاں تو راجپوتوں والی ڈال دی گئیں ،مگر جائداد کی تقسیم اسلامی طریقے سے کرنے کا مطالبہ کر دیا ،تو اس صورت میں ظلم کی بدترین صورت نے جنم لیا ،،اسلام میں تو اولاد اپنے باپ کی جائداد میں وارث ھے،،مگر ھمارے سسٹم میں وہ بھائی کی جائداد میں وارث بن جاتی ھے،ایک تو پورا خاندان پالو ،، جو کما کے بھیجو وہ ابا جی کمائی والے کی بجائے اپنے نام کی جائداد بناتے ھیں ،اور اس طرح ظلم کے ذریعے دوسری اولاد کو اس میں وارث بناتے ھیں،،قبائلی نظام میں بھائی کے نام کی جائداد میں بھی بھائی شریک ھوتے ھیں،جو کہ اولاد کی موجودگی میں کسی طور شرک نہیں ھو سکتے ،نیز اس سلسلے میں عموماً ایک حدیث فوراً بیان کر دی جاتی ھے کہ “تو اور تیرا مال تیرے والد کے ھو ” حدیث تو صحیح ھے مگر یہ غیر شادی شدہ کے لئے ھے شادی شدہ کے لئے نہیں،،ورنہ جب انسان مر جاتا ھے،اور اسکا مال اللہ کی کسٹڈی میں چلا جاتا ھے اور اللہ خود تقسیم فرماتا ھے،تو باپ کو تو سارا نہیں دیتا ؟اس کو صرف چھٹا حصۜہ دیتا ھے؟ ماں کو بھی چھٹا دیتا ھے،بیوی کو آٹھواں اور باقی سارا اولاد کا؟ بس عقلمند کے لئے اتنا ھی کافی ھے کہ وہ سمجھ لے کہ صاحب اولاد کی جائداد میں بھائیوں کا سرے سے کوئی حق نہیں ،اور ماں باپ کا چھٹا،چھٹا ھے،سارا نہیں ھے،،
جائنٹ فیملی سسٹم کے تباہ کن سماجی نتائج
جو عورت جتنی باشعور اور سوچ سمجھ والی ھوتی ھے وہ اتنا جلدی پاگل ھوتی ھے،وہ نسلوں کی تباھی کھلی آنکھوں سے دیکھ رھی ھوتی ھے،اولاد کے بارے میں اس کے کچھ خواب ھوتے ھیں ،جن کو وہ حقیقت میں بدلنا چاھتی ھے،مگر شوھر صاحب اس کو ماں باپ کی نافرمانی اور اسلام کے خلاف سمجھتے ھیں کہ کوئی الگ گھر لے کر اولاد کو رکھا جائے اور ان کی تعلیم کا کوئی سامان کیا جائے ، ایک حویلی میں جب دو درجن بچے کھیل رھے ھوں اور باھر شور مچا ھو ،، تو اندر کوئی بچہ کیسے توجہ سے پڑھ سکتا ھے، اس کے اندر کے بچے کی توجہ تو باھر لگی ھوتی ھے ،،نتیجہ یہ ھوتا ھے کہ ان پڑھوں کی ایک نئی کھیپ تیار ھو کر سسٹم مین داخل ھو جاتی ھے،، عورت کے روز روز کے تقاضے میاں بیوی کے تعلقات میں کشیدگی پیدا کر دیتے ھیں اور نتیجہ طلاق یا پاگل پن یا خودکشی کی صورت میں نکلتا ھے،، کمیونزم کے خلاف 25،30 جنگ لڑنے والوں کے گھروں میں کمیونزم کی بد ترین شکل نافذ ھے ،،جہاں کمانے والا اور سارا دن چرس پینے والا ایک پلڑے میں تلتے ھیں ،،جو اٹھارہ گھنٹے کام کرتا اور پھر ٹیکسی ھی میں سو جاتا ھے،اس کے بچے اور سارا دن لڑکیوں کے کالج کے باھر کھڑے کھڑے گزار دینے والے بھائی کے بچے برابر کی سہولیات سے استفادہ کرتے ھیں،،بلکہ شاید پردیس ھونے کی وجہ سے اسکے بچے وہ کچھ حاصل نہیں کر پاتے جو موقعے پر موجود باپ اپنی اولاد کو دے دیتا ھے،،اس سے بھی بڑا ظلم یہ ھے کہ ، ایک عورت کو ڈیلیوری کیس میں اس لئے اسپتال لے کر نہیں جانا کہ دوسرے بھائی کی بیوی کی ڈیلیوری گھر میں نارمل ھوئی تھی تو یہ کوئی نواب کی بچی ھے کہ اس کو اسپتال لے جایا جائے،؟ حالانکہ یہ سب جانتے ھیں کہ یہ کیس ٹو کیس فیصلہ ھوتا ھے،بعض صورتوں میں شوگر کی وجہ سے بچہ زیادہ وزنی ھوتا ھے اور بعض دفعہ اُلٹا ھو جاتا ھے،اور آپریشن لازمی ھوتا ھے،،مگر جب چھوٹے کی بیوی نے گھر جنا ھے تو دبئی والے کی اسپتال کیوں جائے ؟؟ بیوی اور بچہ دونوں مر گئے ، چار بچے بغیر ماں کے رہ گئے،،شوھر کو نئی بیوی مل جائے گی مگر بچوں کو ماں نہیں ملے گی ، یوں محروم نسلوں کا سامان کر دیا گیا،،
اس سے پہلے کہ آگے چلیں چند مثالیں سن لیں تا کہ واضح ھو جائے کہ جس مشترکہ خاندان کی بات کر رھا ھوں وہ کیا بلا ھے ! نوروز خان کو امارات میں آئے ھوئے 40 سال ھو گئے ھیں، وہ جب امارات میں آیا تھا تو اس کے منہ پر مونچھ کے نام پر کوئی بال نہ تھا،آج جب وہ کام سے فارغ ھوا ھے تو اس کے سر پر بال نام کی کوئی مخلوق نہیں پائی جاتی ،،وہ اپنے بھائی کے ساتھ مسئلہ پوچھنے آیا تھا کہ ،اسکی کمپنی کی طرف سے جو ڈیوز ملے ھیں ،ان پر اس کے بھائیوں کا حق ھے یا نہیں؟ بقول اس کے اس نے آج تک جو کمایا وہ باپ کو بھیجا ، وہ 5 بہن بھائی تھے ،کہ والدہ فوت ھوگئیں ،والد کو بولا کہ شادی کر لو مگر اس عمر کی کرو کہ آگے اولاد پیدا نہ ھو مگر والد صاحب نے چھوٹی بیٹی کی عمر کی لڑکی سے شادی کر لی ،اس میں سے 4 بھائی ھیں گویا ٹوٹل 9 بہن بھائی ھوگئے ،ساری زندگی جو کمایا وہ والد صاحب کو دیا،والد صاحب نے جو جائداد بنائی دوسرے بیٹوں کے نام بنائی ،،اس کا بیٹا بیمار ھوا ،کسی نے اسپتال تک لے جانے کی زحمت گوارہ نہیں کی وہ گھر میں ایڑیاں رگڑ کر فوت ھو گیا، باقی بچوں اور بیوی کو یہاں بلایا تو گویا قیامت ھوگئی اور والد سمیت سب کہتے ھیں کہ بےغیرت اور جورو کا غلام ھو گیا ھے، اب نوکری گئی ھے تو وہ کہتے ھیں کہ دیگر 8 بہن بھائیوں میں بھی تقسیم ھو گی ،ورنہ گاؤں میں قدم نہیں رکھ سکتے ! ساتھ دوسری ماں میں سے جو بھائی تھا وہ کھڑا مونچھوں پر ھاتھ پھیر رھا تھا ،میں نے اسے جواب دیا کہ اسلام آپ کو بالکل نہیں کہتا کہ اپنی کمائی اندھے کنویں میں پھینکو ،،ان مسٹنڈوں کا تمہارے ان پیسوں میں کوئی حصہ نہیں ھے ،اولاد کی موجودگی میں بھائی وارث بھی نہیں ھوتے،، دوسرے جہانزیب خان صاحب ھیں،،وزارت داخلہ کی بہت اھم اور حساس پوسٹ پر ھیں،25 ھزار درھم تنخواہ لیتے ھیں ،مگر جوائنٹ فیملی سسٹم کا شکار ھیں ، مردان اور ھنگو میں بہترین زرعی زمین مربعوں کے حساب سے خریدی ھے،مگر والد نے اپنے نام سے خریدی ھے، والد کے انتقال کے بعد ساری زمین پر بھائیوں نے قبضہ کر لیا ھے ،، اس کے بعد انہوں نے اپنے نام سے زمین لینا شروع کی ،،یہ لے کر واپس آتے اور بھائی قبضہ کر لیتے ، ایک بھائی کرائے کا قاتل اور اغوا برائے تاوان کا مجرم ھے، پیسے دے کر میں جہاں چاھو بندہ مروا لو ،یہ اس کے خلاف ایف آئی آر اور عدالتی کارروائی کی کاپیاں دیکھ کر کہہ رھا ھوں جو انہوں نے مجھے دکھائیں ،، ان پر بھی بھائیوں نے فائرنگ کی اور یہ علاقہ چھوڑ کر اسلام آباد منتقل ھوئے ،،ایک کوٹھی لی ،،بھائی وھاں بھی پہنچ گئے ،کرائے داروں کو دھمکا کر نکالا اور قبضہ کر لیا، آخر کسی کو اونے پونے داموں بیچ کر جان چھڑائی ،،میرے دوست ھیں ننکانہ صاحب سے یہ پولیس میں فارماسسسٹ ھیں،،بھائی کو بلا کر جیولری کی دکان ڈال کر دی ،بھائی صاحب رنڈیوں کے چکر میں 5 لاکھ درھم کی دکان کھا کر اور مزید 1 لاکھ درھم کا قرض لے کر پاکستان بھاگ گیا ، پاکستان گئے تو دونوں چھوٹے بھائیوں نے پکڑ کر تسلی سے مارا اور ابا جی نے بھی مارنے میں اخلاقی مدد فرمائی ان کو اپنے ھی بنائے گئے گھر سے نکال دیا گیا ،رات کو کسی کے گھر بستر مانگ کر رھے اور اگلے دن واپس آگئے، جائداد پہلے ھی ابا جان اپنے نام اور دوسرے بیٹوں کے نام لیتے رھے تھے لہٰذا ان کے پاس اب سوائے نوکری کے کچھ نہیں !! دبئی کے صاحب ھیں جن کی بیوی کا پرسوں فون تھا،، بدقسمتی سے سب سے بڑے ھیں،مگر اپنی اولاد کے لئے کچھ نہیں ،،بھائیوں کے مکان پہلے بنیں گے پھر اپنا دیکھیں گے، وہ کہہ رھی تھیں زندگی کا بھروسہ نہیں،ابھی صرف چھوٹے کا مکان بنا ھے اور اس نے پہلا کام یہ کیا ھے کہ الگ ھو گیا ھے،، الغرض یہ دس میں سے آٹھ آدمیوں کا فسانہ ھے،نفرتیں اندر ھی اندر کینسر پھوڑے کی طرح اکٹھی ھوتی رھتی ھیں،،اور قرآن کے الفاظ میں،،تحسبُھم جمیعاً و قلوبھم شتیۜ ،،تم ان کو اکٹھا سمجھتے ھو جبکہ ان کے دل دور دور ھیں،
کرنا کیا چاھئے؟ !
ھونا یہ چاھئے کہ اگر ایک بھائی نے شادی کی ھے تو اسے سب سے پہلے اگر ممکن ھے تو اپنے بیوی بچے اپنے پاس رکھنے چاھییں ،،اگر ممکن نہیں ھے تو اپنی بیوی کو ایک کمرہ الگ سے بنا کر دینا چاھئے،،کمرہ سے مراد کچن ،باتھ مکمل سیٹ ھے،،اور اگر یہ بھی ممکن نہیں ھے تو پھر شادی ھی نہیں کرنی چاھئے،، اکثر شادی گھر کے کام کاج کے لیئے ایک روٹی کپڑۓ کی ملازم خاتون کی ضرورت کے تحت کی جاتی ھے،اور نکاح صرف اس گھر میں اس کے رھنے کا ایک شرعی جواز پیدا کرنے کا نام ھے،،نکاح کے تحت اس کے حقوق کی ادائیگی سرے سے کسی کے ایجنڈے میں شامل ھی نہیں ھوتی،لہذا ایسی کسی چیز کا مطالبہ ایک جرم سے کم نہیں ھوتا، اگر والدین کے ساتھ بہن بھائی چھوٹے ھیں تو اس صورت میں ماں باپ اور بہن بھائیوں کو بیوی کے ساتھ رکھنے میں کوئی حرج نہیں،نہ کہ بیوی کو ماں باپ کے ساتھ رکھے ،بظاھر یہ عجیب بات لگتی ھے کہ”والدین کا بیوی کے ساتھ رھنا اور بیوی کا والدین کے ساتھ رھنا ” ایک ھی تو بات ھے؟ جی نہیں ! زمین آسمان کا فرق ھے،،، اسی بس میں ڈرائیور بھی ھوتا ھے اور سواریاں بھی ،،مگر اسٹئیرنگ کا فرق ھوتا ھے،،ماں باپ بیوی کے ساتھ رھیں گے ،مگر آئینی سربراہ کے طور پر اور گھر کو کس طرح چلانا ھے،،بچے کس اسکول میں ڈالنے ھیں اور گھر کے قواعد و ضوابط عورت طے کرے گی ،کیونکہ وہ حالات سے زیادہ واقف ھے،بنسبت امی جی کے ،،جب کہ بیوی والدین کے ساتھ رکھنے کا مطلب ھے،،کہ وہ مہمان اداکارہ کے طور پر رھے گی اور قانون اماں جی کا چلے گا !! حقیقت یہ ھے کہ اماں جی اپنی اینگز کھیل چکی ھیں اور جو کچھ انہوں نے بنانا تھا اپنی اولاد کو وہ بنا چکی ھیں،،اب کریز خالی کر دیں،،اپنے روٹی کپڑے سے مطلب رکھیں اوراللہ اللہ کریں نماز روزہ کریں اور پچھلے بخشائیں ! اگر بیٹے زیادہ ھیں تو امی جان گھر بدلتی رھیں کبھی ایک بیٹے کو حج کا موقع دیں اور کبھی دوسرے کو،مگر اس میں بھی احتیاط کریں ،،ایک بیٹے کے گھر کی باتیں اور کمزوریاں دوسری بہو کو نہ بتائیں اور جاسوس کا کردار ادا نہ کریں ورنہ سب بہو بیٹوں کی نظر سے گر جائیں گی،، بہو اور بیٹوں کو اپنی اولاد کے فیصلے کرنے میں فری ھینڈ دیں ،، جتنی مداخلت کم کریں گی اُتنا ان کی عزت اور احترام میں اضافہ ھو گا،،مرتے دم تک حکومت کرنے کی ھوس گھروں کو برباد کر دیتی ھے،،ساس اپنا رویہ نہیں بدلتی بہوئیں بدلتی رھتی ھے ، مگر ھر آنے والی شوھر کا مطالبہ کرتی ھے اور اجڑ جاتی ھے،،تا آنکہ ساس کے انگوٹھے باندھ کر قبر میں نہ رکھ دیا جائے،،بیوی کے ساتھ اچھے تعلقات عموماً زن مریدی کی دفعہ کے تحت آتے ھیں ،ساس اس معاملے میں بہت حساس ھوتی ھے کہ اس کا بیٹا کہیں بیوی کے “تھلے” نہ لگ جائے ،اور بھول جاتی ھے کہ اس نے جس کو ساری زندگی “تھلے ” لگا کر رکھا ھے وہ بھی کسی ماں نے نو ماہ پیٹ میں رکھا تھا،،گھریلو معاملات میں جب بھی حالات نازک ھو جائیں والد سے کریں وہ صبر کی تلقین کرے گا،اور گھر بسانے کی بات کرے گا،، اور کبھی کبھی سچ کہہ بھی دیتا ھے کہ،،تیری ماں کوئی کم نہیں تھی،،میں نے بھی تو گزارہ کیا ھے !! والدین کے حقوق اور گھریلو ذمہ داریوں میں بیلنس بنا کر رکھنا چاھئے اور والدین کے حقوق کے نام پر کسی کے حقوق کو پائمال نہیں کرنا چاھئے،ظلم کرنا کبھی بھی والدین کے حقوق کا حصہ نہیں رھا،اور عدل کو ترک کرنا کبھی بھی اولاد کے فرائض میں شامل نہیں رھا،،آخر سورہ النساء ھی کو اس حکم کے لئے کیوں چنا گیا کہ
“اے ایمان والو! اللہ کے لئے کھڑے ھو جاؤ ڈٹ کر حق کی گواھی کے لئے چاھے وہ اپنے آپ کے خلاف پڑے یا والدین کے خلاف ھو یا قریبی رشتہ داروں کے خلاف ھو؟(النساء 135 )

چھوڑ کر تو مر گیا ھے،ایک درجن نونہال !
بیـــوہ کیسے ان یتیموں کی نگــہبانی کرے ؟
جس طرح جلتی ہوں میں،تُو بھی سدا جلتا رہے!
آسـمــاں لــحد پہ تــیری آتــــش فشــانی کـــرے!


مشترکہ خاندان میں دین پر عمل سب سے بڑا مسئلہ ھوتا ھے،ایک گھر میں اگر انسان کو صرف اپنے نفس سے لڑنا پڑتا ھے تو مشترکہ خاندان میں پورے خاندان
کے مفادات سے جنگ کیئے بغیر اسلام کا نفاذ ایک خواب ھی ھے جو کم ھی شرمندہ تعبیر ھوتا ھے ، میرے درسِ قرآن میں ایک صاحب اپنے 3 جوان بچوں کے ساتھ شریک ھوا کرتے تھے،ھماری مسجد کے مستقل نمازی اور محلے کی مسجد کے امیر بھی تھے،مگر گھر میں بھائیوں سے بیوی کو نہیں کرواتے تھے اور حسبِ رواج بیوی اپنے دیوروں سے ھاتھ بھی ملاتی تھی، سورہ نور کا درس ھو رھا تھا،درس سن کر گھر گئے تو بیٹوں نے باپ سے کہا کہ درس کے دوران سر تو آپ بہت ھلاتے ھیں مگر قرآن پر عمل کیوں نہیں کرتے؟ آئندہ بھائیوں کو بتا دو کہ صرف ڈرائنگ روم تک محدود رھیں،اور ھم ان کو چائے پانی پیش کریں گے،،ھماری ماں نہ تو ان سے ھاتھ ملائے گی اور نہ چہرہ دکھائے گی بلکہ وھی پردہ کرے گی جو قرآن کہتا ھے،،اب تو گھر میں زلزلہ آ گیا ،،باپ نے بہت شور مچایا مگر لڑکے بھی بنگش تھے،،انہوں نے صاف کہہ دیا کہ جو اللہ حکم دیتا ھے وھی ھو گا،چاھے آپکے بھائی نہیں سارا قبیلہ ناراض ھو جائے ،، باپ ھار گیا،چچا صاحبان نے غصے سے گھر آنا چھوڑ دیا مگر کوئی سال بعد حالات سے سمجھوتہ کر لیا، بچے تو اب بھی مسجد آتے ھیں مگر ابا میری مسجد میں نہیں آتے،کہ اس نے ھمارے گھر میں فساد ڈلوایا ھے،،تو جناب اندازہ لگائیں یہ وہ علاقہ ھے جہاں ما شاء اللہ اسلام کا چرچا سب سے زیادہ ھوتا ھے، اور اسلام صرف داڑھی اور نماز تک محدود ھے،،عورت کا دیور،جیٹھ سے پردہ نہ کرنا،بازار میں پردہ نہ کرنے سے برا ھے،کیونکہ بازار والا تو پل بھر دیکھتا ھے اور گزر جاتا ھے،مسئلہ اس کا ھے جو بھیڑیا ھر وقت گھر میں ھے،حضورﷺ سے پوچھا گیا کہ ائے اللہ کے رسول کیا جیٹھ سے بھی پردہ ھے،،؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جیٹھ تو موت ھے،،اب سوال یہ ھے کہ بازار میں پردہ نہ کرنا اور گھر میں دیور سے پردہ نہ کرنا دونوں برابر ھیں تو پھر اسلام آباد والوں پر کفر کا فتوی کیوں جبکہ مرد سے ھاتھ ملانا تو شاید کراچی جیسے شہر میں بھی ممکن نہیں؟ اللہ کے حبیبﷺ نے فرمایا تیرا شانہ گندگی سے لتھڑے خنزیر سے چھُو جائے ،یہ اس سے بہتر ھے کہ کسی نامحرم سے چھُوئے،،پھر شانے پر تو کپڑا بھی ھوتا ھے،اور ھاتھ تو ننگا اور گرم ھوتا ھے !! اب اس رواج کو توڑنے کا مطلب ھے کہ آپ کو الگ گھر لینا پڑے گا ؟ تو گویا اسلام اور جوائنٹ فیملی کے مفادات کا ٹکراؤ ھو گا،،،جس میں اکثر اسلام ھار جاتا ھے ،یہ وجہ ھے کہ ھمارے علماء بھی بازار والے پردے پر تو زور دیتے ھیں،،مگر گھر والے کو ران کے نیچے دبا لیتے ھیں ، پھر مزید مسائل اس وقت جنم لیتے ھین جب بچوں کی شادی کا وقت آتا ھے،، خاندان کا ھر فرد یہ چاھتا ھے کہ شادی میں اس کا مشورہ مانا جائے ،اس طرح بھینسوں کی لڑائی میں عموماً درختوں کی تباھی کا سامان ھوتا ھے،جبکہ بچی کی شادی میں بچی،اس کے والد اور ماں کا مشورہ ھونا چاھئے،،چچا لوگ اپنا گھر دیکھیں،، آپ اپنا گھر لیں ،بہن بھائیوں کے حقوق کا خیال رکھیں،،مشکل میں ان کی مدد کریں،ماں باپ کے خرچے برچے کا دھیان رکھیں،بہنوں کی شادی میں انکی مالی مدد کریں،،جائداد بنانے کی بجائے اولاد کو پڑھانے کی طرف توجہ دیں،،معاشرے کو ایک پڑھا لکھا مہذب انسان دے جانا بہتر ھے اس جائداد سے جسکی خاطر بھائی ایک دوسرے کے گلے کاٹیں،،

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *