ایک سابقہ طالبِ علم کی فریاد

میری مسجد نمبر تین جس کا نام مکی مسجد ہے وہ دس مرلے کی تھی اس وقت صرف دس مرلے کی رہاشی علاقے کے درمیان میں مسجد میں ہی بچے پڑھتے تھے اور اس مسجد کا استاد سمجھو فضل اللہ ہی تھا اتنا ظالم کے چنگیز شرما جائے اپنے اکلوتے منڈے کو وہ سب سے زیادہ مارتا تھا اب خود حساب لگا لیں کیا چیز ہوگا وہ… جو بچہ دو چار چھٹی کر لے اسے زنجیر لگا دیتا تھا اور مزے کی بات کہ کسی نمازی کو کبھی کانوں کان خبر تک نہیں ہوئی نہ ہی کبھی والدین تک یہ بات پہنچی
کیسا نیٹ ورک ہوتا ہے ان کا القاعدہ کی طرح خفیہ ؟

Leave a Comment