Home / Hadith / المیزان

المیزان

مادی اشیاء کے علاوہ کیفیات مثلاً بخار اور درد اور وقت اور بجلی کی طاقت کو ماپنے کے پیمانے بھی بنائے گئے ھیں ، زلزلے کے علاوہ بلندی اور پستی کو ماپنے کے بھی پیمانے بنائے گئے ، علم کے درجات بھی طے کیئے گئے ھیں تا کہ کسی کے علم کو ماپا جا سکے ،،،،
انسان کسی معاملے میں بھی بغیر کسی معیار یا پیمانے کے ٹھیک نتیجے تک نہیں پہنچ سکتا ،،،لہذا کسی دین کو ماپنے کا پیمانہ ھونا بھی بہت ضروری ھے تا کہ اس پیمانے کے ساتھ ماپ کر کسی دین میں کھوٹ اور ملاوٹ کو خالص دین سے الگ کیا جا سکے،،
اللہ پاک نے دین کو ماپنے کا پیمانہ اپنی کتاب اور اپنا کلام قرار دیا ھے ،،اسی کتاب کے پیمانے پر پہلے مسلمان سے لے کر آخری مسلمان کو ماپا جائے گا اور اسی کلام پر سب کے کلام پیش کیئے جائیں گے ، اس کتاب پر سب کتابیں پیش کی جائیں گی ، اور تولی جائیں گی چھانٹی جائیں گی اور مسترد و قبول کی جائیں گی ،، جس طرح اللہ کو صرف مان لینا ایمان باللہ نہیں کہلاتا بلکہ ان صفات اور اس شان اور ان اختیارات کے ساتھ اللہ کو ماننا ایمان کہلاتا ھے جن کے ساتھ خود اللہ نے اپنے آپ کو اپنے کلام میں متصف فرمایا ھے ،، اسی طرح قرآن کو صرف اللہ کی کتاب مان لینے کا نام ایمان بالکتاب نہیں ھے بلکہ اس شان اور اس حیثیت میں ماننا ایمان بالکتاب ھے جس شان اور جس حیثت کے ساتھ اللہ نے اسے پیش فرمایا ،،
اللَّهُ الَّذِي أَنْزَلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ وَالْمِيزَانَ ۗ وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيبٌ
17 الشورى
اللہ وہ ھستی ھے جس نے کتاب حق کے ساتھ نازل فرمائی اور بطور تول ،ترازو نازل کی ،، اور آپ کو کیا پتہ کہ شاید وہ گھڑی قریب آ لگی ھو،، الشوری- 17
اسی سورۃ الشوری میں رسول ﷺ سمیت تمام انسانوں کے ایمان کا منبع اور بنیاد قرآن کو قرار دیا گیا ھے ،،
( وكذلك أوحينا إليك روحا من أمرنا ما كنت تدري ما الكتاب ولا الإيمان ولكن جعلناه نورا نهدي به من نشاء من عبادنا وإنك لتهدي إلى صراط مستقيم ( 52 ) صراط الله الذي له ما في السماوات وما في الأرض ألا إلى الله تصير الأمور ( 53 ) ) الشوری
اور اسی طرح جس طرح تمام رسولوں کی طرف ھم وحی بھیجتے رھے ھیں آپ کی طرف بھی اپنے حکم سے ” روح ” کو بھیجا ،آپ نہیں جانتے ھوتے تھے کہ کتاب کیا ھے اور ایمان کیا ھے لیکن ھم اس وحی کو وہ نور بنایا کہ جس کے ذریعے ھم اپنے بندوں میں سے جسے چاھتے ھیں ھدایت دیتے ھیں اور آپ یقیناً سیدھی راہ دکھاتے ھیں ،،،،،،،،،،،،،
لقد أرسلنا رسلنا بالبينات وأنزلنا معهم الكتاب والميزان ليقوم الناس بالقسط ( الحدید 25)
تحقیق ھم نے بھیجے اپنے رسول واضح دلائل کے ساتھ اور ان کے ساتھ نازل کی کتاب اور میزان تا کہ لوگ حق پر قائم رہ سکیں ،،،
اس کتاب کو اگر پیمانہ اور کسوٹی نہ بنایا جائے تو دین میں باطل کے شامل ھو جانے اور اس میں ملاوٹ کے کھلے امکانات موجود ھیں اور سابقہ ادیان میں کلام اللہ سے دوری کی وجہ ھی سے وہ زوال آیا کہ پھر ان کو ان کے منصب سے ھٹا کر نئ امت لائی گئ ،، کلام اللہ کو کھو دینے کے بعد اس امت کی حالت اندھے بہرے انسان کی سی ھو جاتی ھے جو دوسروں کو راہ دکھانے کی بجائے اب خود راھنمائی کا محتاج ھے ،، یہود کے پاس فقہی تفصیلات آج بھی محفوظ و مامون ھیں مگر کلام اللہ ان سے کھو گیا تو قرآن کو مھیمن بنا کر نازل کیا گیا کہ جس میں ان کتب کی بنیادی تعلیمات بھی محفوظ کر کے قرآن کو ان کا محافظ قرار دیا گیا ھے ،،
المیزان – 2
اللہ پاک نے نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صاف اور واضح طور پر یہ بتا دیا ھے کہ آپ کا اور یہود و نصاری کا جھگڑا شریعت پر نہیں ھے لہذا شریعت کی تفصیلات کو مناظروں کا موضوع نہ بنائیں بلکہ انہیں عقیدے کی دعوت دیں ،، سورہ حج میں دو جگہ ارشاد فرمایا ھے کہ ھم نے ھر امت کو اس کے مناسک سمجھا دیئے ھیں اور وہ ان مناسک پر عمل کر رھے ھیں یعنی عبادات اور قربانی وغیرہ ،، بس عقیدے خراب ھو گئے ھیں
(ولکل أمۃ جعلنا منسکا ہم نا سکوہ، فلا ینازعنک فی الأمر وادع إلی ربک إنک لعلی ھدی مستقیم ،،) الحج
ھم نے ھر امت کے لئے اس کے مناسک ٹھہرا دیئے ھیں جن پر وہ عمل پیرا ھیں چنانچہ آپ ان فروعی جھگڑوں میں مت پڑیں ، اور اپنے رب کی طرف دعوت دیں ، بے شک آپ ھی سیدھی راہ پر ھیں ،،،
فقہی موشگافیوں کے علاوہ عقیدت کے نام پر مختلف شخصیات کو خدائی کے سنگھاسن پر بٹھا دیا گیا تھا اور روایات کے زور پر رسولوں کی کردار کشی کی گئ تھی ،، عیسائی ، اور ملحد یہ اعتراض تو کرتے ھیں کہ قرآن مسلمانوں کی کتاب ھے مگر تذکرے بنی اسرائیل کے رسولوں کے کرتی ھے ، عرض یہ ھے کہ جب بنی اسرائیل نے آپنے رسولوں کے دامن کو داغدار کیا اور اللہ اپنی کتاب میں آخری بار انرسولوں کے دامن کو صاف کر رھا ھے تو تذکرے بھی تو آپ کے نبیوں کے ھونگے،، جب حضورﷺ کی ایک بیوی پر الزام لگا تو اس کی برأت بھی آ گئ ،جبکہ سورہ مریم کی جگہ سورہ فاطمہ یا سورہ خدیجہ یا سورہ آمنہ اس لئے نازل نہیں ھوئیں کیونکہ الزام مریم علیہا السلام پر تھا بدکاری کا ، نہ فاطمہؓ پر تھا اور نہ خدیجؓہ و آمنہ علیہا السلام پر ،،
اللہ کے رسول نے فرمایا تھا کہ تم لوگ یہود کا اتباع کرو گے اور ھر وہ کام کرو گے جو یہود نے کیا ،
آج ھم دیکھ رھے ھیں کہ بالکل وھی دور ھے ،، جوخرافات سابقہ رسولوں کی طرف منسوب کی گئ تھی اور قرآن نے اس کو صاف کیا تھا وہ خود نبئ کریمﷺ کی طرف بھی منسوب کر دی گئ ھیں ، ان کی سنگینی کا یہ عالم ھے کہ صرف ان کا ترجمہ کر کے ایک کتاب میں چھاپ دینے پر یہ مولوی عوام کے ھاتھوں اس بندے کو مروا دیتے ھیں کہ اس نے ھمارے نبیﷺ کی توھین کی ھے ،مگر یہ توھین روایت کرنے والوں کو رحمۃ اللہ علیہ کہتے ھیں ،راج پال ھو یا رشدی ،، یہ سب ترجمے کے مجرم ھیں روایت کے مجرم نہیں ، گستاخ وہ ھیں جنہوں نے ان توھین آمیز واقعات کو اپنی مقدس کتابوں میں درج فرمایا بغیر انہیں قرآن پر پیش کیئے اور بغیر نبئ کریم ﷺ کے مقام و مرتبے کا خیال کیئے ،، آپ اگر ان کے ویدوں اور پرانوں میں سے پھدک پھدک کے ان کے رام کی رنگینیوں کو برآمد کر سکتے ھیں اور پوچھ سکتے ھیں کہ یہ ھے تمہارا گوپیوں والا بھگوان کا اوتار ؟ تو ان کو بھی حق حاصل ھے کہ وہ آپ کے لٹریچر میں سے حوالوں کے ساتھ ذاکر نائیک کی طرح نکال کر دکھائیں کہ ” رسول ایسے ھوتے ھیں ؟ جو حق آپ لیتے ھیں وہ دوسروں کو کیوں نہیں دیتے ؟ رسول ھو یا نبی اسے معصوم اسی لئے پیدا کیا جاتا ھے ،عصمت رسالت کا لازمہ اس لئے قرار دی گئ ھے کہ اللہ کا نمائندہ ھونے کا دعوی کرنے والے میں کوئی عیب کوئی ایسی شرمناک بات نہ ھو کہ جس کی وجہ سے اس کے کردار میں کوئی جھول ثابت ھو اور اللہ کی حجت تمام نہ ھو ،، مسئلہ ماننے والوں کا نہیں مسئلہ ھم تو کہہ سکتے ھیں کہ جیسے بھی ھیں ھمارے رسول ھیں ،جب ھمیں اس کردار کے ساتھ قبول ھیں تو تمہیں کیا اعتراض ھے ، اے کافرو،،،،،،،،،،،،،،
جس طرح کوئی عورت کہے کہ اگر کالا بھی ھے تو شوھر میرا ھے ،جب مجھے قبول ھے تو آپ کو کیوں تکلیف ھے ؟
حقیقت بڑی خوفناک ھے جس سے ھمارے اکابر پہلو تہی فرما رھے ھیں ،، اللہ کے رسولﷺ پوری نوعِ انسانیت کے رسول ھیں اور قیامت تک آنے والے آخری انسان کی طرف بھی رسول ھیں ،، جب وہ قیامت تک رسول ھیں تو پھر قیامت تک انسانیت جتنے بھی اخلاقیات کے معیار طے کرے میرے مصطفی ﷺ کو اس پر پورا اترنا چاھیئے ،، اس لئے کہ آپ ﷺ فرمایا تھا کہ میں اخلاق کے پیمانے مکمل کرنے آیا ھوں ،،،
قال حبيبنا عليه الصلاة والسلام ” إنما بعثت لأتمم مكارم الأخلاق” (صححه الألباني في الصحيحة، عن ابی ھریرۃؓ)
ھم نبئ کریم ﷺ کی امت اجابت ھیں مگر باقی انسانیت نبئ پاک ﷺ کی امت دعوت ھیں ،،جیسا کہ اللہ پاک نے پوری نوعِ انسانیت کو خطاب کیا ھے کہ یہ رسول پوری انسانیت کی طرف بشیر اور نذیر بنا کر بھیجے گئے اور رسول بنائے گئے ھیں
قل يا أيها الناس إني رسول الله إليكم جميعا الذي له ملك السماوات والأرض لا إله إلا هو يحيي ويميت فآمنوا بالله ورسوله
وما ارسلناک الا کافۃ للناسِ بشیرا و نذیرا ،،
اس طرح کا کردار بیان کر کے کیسے انسانیت کے پاس نبی کو رسول اللہ بنا کر پیش کرو گے ،جن باتوں کو صرف افشاء کرنے کی سزا موت ھے ؟
اگر تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور رسول انسانیت کے سامنے پیش کرنا ھے تو پھر انہیں کوہ صفا والے معصوم محمد ﷺ کی طرح پیش کرنا ھو گا ، تا کہ کوئی ان پر انگلی نہ اٹھا سکے جس طرح قریشِ مکہ دم سادھے بیٹھے رھے تھے اور سوائے آپ کی مدح اور ثناء کے اور کچھ نہ کہہ سکے تھے ،،
ھمارے محبین فرماتے ھیں کہ قاری حنیف نے ملحدین کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ھیں اور حدیث کا انکار کر دیا ھے ،، جنابِ عالی میں ملحدین کی ضد میں اپنے نبی ﷺ پر کیچڑ نہیں مل سکتا ،، جس کو میرا ایمان ،میرا حسنِ ظن نہیں مانتا میں وہ کسی کی ضد میں قبول بھی نہیں کر سکتا ،، جسے آپ کمزوری سمجھ رھے ھیں وھی ھمارا ان کے خلاف ہتھیار ھے ،، نوجوانوں کو بتا دیا گیا ھے کہ اگر سمجھو کہ فلاں بات کو مان کر میرا نبی پر ایمان متزلزل ھو رھا ھے تو اسے سانپ سمجھ کر پھینک دو اور اپنے نبی ﷺ سے چمٹ جاؤ مپھر جب حدیثیں بھی وہ ھوں کہ جن پر دو جلیل صحابی جو ماھر قرآن مانے جاتے ھیں اور ان میں ایک خلیفہ راشد عمر الفاروق بھی ھیں ،، ان دو جید صحابہ عمر ابن الخطابؓ اور ابئ بن کعبؓ جس حدیث کو سن کر کہیں کہ واللہ میرے دل میں وہ سیاھی پیدا ھوئی جو زمانہ کفر میں بھی میں اپنے اندر نہیں پاتا تھا ،یا مشائخ آج کے نوجوان کو دوش کیسے دے سکتے ھو ،جہاں نبی ﷺ کے سامنے دو زانو بیٹھ کر ایمان چلا جائے اس پر اگر آج کے نوجوان کا ایمان متزلزل ھو جائے تو اس کا کیا قصور ھے ؟ سورہ فرقان والا قصہ تو آپ کو یاد ھو گا ،نہیں یاد تو پوسٹ میں لگا دونگا ،،
پہلے ان کو پڑھ لیجئے ،،پہلے اردو ترجمہ پڑھ لیجئے عربی متن آخر میں لگایا جائے گا ،
نبئ کریم ﷺ کی عجیب و غریب شادیاں !
ھم صرف چند حدیثوں پر درایت کی رو سے بات کرتے ھیں ،صرف انگلیوں پر گنی جانے والی احادیث پر ،، باقی کی تمام احادیث کے بارے میں ھم امام بخاریؒ اور امام مسلم سمیت دیگر محدثین کی سعی و کاوش کو خراجِ تحسین پیش کرتے ھیں کہ جنہوں نے موضوع و منکر احادیث کے پہاڑ میں سے یہ موتی الگ کیے،، ھم ان کی نیت پہ بھی کوئی شک نہیں کرتے ، خلوص نیت کے باوجود وہ انسان تھے اور ان سے غلطی کا امکان اتنی ھی قوت کے ساتھ موجود تھا جتنا کہ ھما شما سے ھے ، خود ان کو بھی یقین ھو گا کہ دنیا ان کو معصوم نہیں سمجھے گی ،، پھر خود بخاری شریف ابھی اپنی تکمیل کو نہ پہنچی تھی کہ امام بخاری کی رحلت ھو گئ یوں یہ کتاب نظر ثانی کے مرحلے سے نہیں گزری ،، ان کے شاگردوں نے ھر وہ حدیث جو ان کو امام کے ذخیرے میں ملی اسے صحیح بخاری میں شامل کر دیا ،،
چنانچہ ھماری احادیث کی کتابوں میں انتہائی قابلِ اعتراض مواد موجود ھے جس میں نبئ کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس کو نشانہ بنایا گیا ھے ،، خاص طور پہ نبئ کریم ﷺ کی ازدواجی زندگی کو نشانہ بنایا گیا ھے تعجب کی بات یہ ھے کہ صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین میں سے کسی کی شادیاں بھی اس قدر گھٹیا انداز میں بیان نہیں کی گئیں ،، جس قدر خیر البشر ﷺ ایسی ھستی کی بیان کی گئ ھیں کہ جن کی نفاست اور اخلاق کی قسمیں اللہ کھاتا ھے ،، آج تک جس نے بھی گستاخانہ کتاب لکھی یا فلم بنائی اس نے سارا مواد ٹھیک انہیں کتابوں سے حوالے کے ساتھ لیا اور بیان کیا ، یہی کام آج ملحدین کر رھے ھیں ،، ایسی باتیں ھیں کہ جن سے شاید دس لاکھ میں سے کوئی ایک آدمی واقف ھو گا ،، جنہوں نے کتاب لکھی یا فلم بنائی وہ تو کافر ٹھہرے اور قتل کر دیئے گئے ،جنہوں نے یہ واقعات بیان کیئے اور روایت کی کتابوں میں محفوظ کیئے وہ سارے رحمۃ اللہ علیھم اجمعین ٹھہرے ،،
سب سے پہلے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ جناب نبئ کریم ﷺ کے نکاح کو لیتے ھیں ھم نے جو سنا تھا اور اسلامیات کی کتابوں میں پڑھا تھا وہ کچھ یوں تھا کہ حضرت خدیجہؓ نبئ کریم ﷺ کی دیانت اور سوجھ بُوجھ سے بہت متاثر تھیں اور انہوں نے اپنی ایک سہیلی کو درمیان میں ڈالا جس نے نبئ کریم ﷺ سے موافقت حاصل کی اور پھر حضرت خدیجہ کے چچا کی رضامندی کے ساتھ یہ نکاح ھوا ،جناب رسالتمآب ﷺ کی جانب سے بھی چچا ابوطالب شریک ھوئے جنہوں نے خطبہ نکاح پڑھا ،،
مگر یہاں کہانی کچھ اور لکھی گئ ھے ،،،،،،،،،، یہ مسندِ احمد کی روایت ھے ،، اس میں عبداللہ بن عباس راوی ھیں جو ٹھیک اس سال پیدا ھوئے جس سال حضرت خدیجہؓ کا انتقال ھوا ،، یعنی ھجرت سے تین سال پہلے – درایت نام کا ایک اصول بیان تو کیا جاتا ھے مگر شاید یہ پاکستانی آئین کی دفعہ 6 کی طرح بس لکھ کر ھی رکھ لیا گیا کسی نے اس کو استعمال کرنے کی کوشش ھی نہیں کی ،، ،،راوی اپنی پیدائش سے 25 سال پہلے کے واقعات بیان کر رھا ھے اور یہ بتاتا بھی نہیں کہ اس کو یہ بات کس نے بتائی ھے ؟
روایت میں کہا یہ گیا ھے کہ حضرت خدیجہؓ کے والد اس شادی پہ راضی نہیں تھے،، لہذا حضرت خدیجہ نے ان کو کھانے کے ساتھ شراب پلا دی اور جب وہ نشے میں تھے تو ان سے رضامندی لے لی اور ان پر شادی کی رسم کا حلہ ڈال دیا ،،جب خویلد کو ھوش آیا تو اس نے پوچھا کہ یہ میرے اوپر حلہ کس بات کا ڈالا گیا ھے ؟ خدیجہؓ نے کہا کہ آپ نے میری شادی محمدﷺ کے ساتھ طے کر دی ھے ،، اس پہ خویلد نے کہا کہ میں اور ابوطالب کے یتیم کو بیٹی دے دوں یہ تو ھو ھی نہیں سکتا ، اس پہ خدیجہؓ نے اسے ڈرایا کہ اگر تم نے کہا کہ تم نے نشے میں یہ رضامندی دی تھی تو قوم میں تمہاری ناک کٹ جائے گی کہ خویلد نشہ کرتا ھے ،،،، جس پر وہ خاموش ھو گئے ،،،
2846 حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِى عَمَّارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيمَا يَحْسَبُ حَمَّادٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ خَدِيجَةَ وَكَانَ أَبُوهَا يَرْغَبُ أَنْ يُزَوِّجَهُ فَصَنَعَتْ طَعَامًا وَشَرَابًا فَدَعَتْ أَبَاهَا وَزُمَرًا مِنْ قُرَيْشٍ فَطَعِمُوا وَشَرِبُوا حَتَّى ثَمِلُوا فَقَالَتْ خَدِيجَةُ لِأَبِيهَا إِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَخْطُبُنِي فَزَوِّجْنِي إِيَّاهُ فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ فَخَلَعَتْهُ وَأَلْبَسَتْهُ حُلَّةً وَكَذَلِكَ كَانُوا يَفْعَلُونَ بِالْآبَاءِ فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ سُكْرُهُ نَظَرَ فَإِذَا هُوَ مُخَلَّقٌ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ فَقَالَ مَا شَأْنِي مَا هَذَا قَالَتْ زَوَّجْتَنِي مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَنَا أُزَوِّجُ يَتِيمَ أَبِي طَالِبٍ لَا لَعَمْرِي فَقَالَتْ خَدِيجَةُ أَمَا تَسْتَحِي تُرِيدُ أَنْ تُسَفِّهَ نَفْسَكَ عِنْدَ قُرَيْشٍ تُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّكَ كُنْتَ سَكْرَانَ فَلَمْ تَزَلْ بِهِ حَتَّى رَضِيَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيمَا يَحْسَبُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ خَدِيجَةَ بِنْتَ خُوَيْلِدٍ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ”
پہلی بات یہ کہ خویلد تاریخی طور پہ اس شادی سے پہلے فوت ھو چکے تھے ،لہذا ان سے منسوب یہ سارا واقعہ جھوٹ کا پلندہ ھے ، اور کتاب میں شامل کرنے سے پہلے صاحبِ مسند کو اس کی تحقیق کر لینی چاھیئے تھی کیونکہ بات نبی ﷺ کے نکاح اور ان کی آنے والی نسل کی ھے ، اور اگر اتنا وقت نہیں تھا تو کس نے منت کی تھی کہ مسند لکھنے بیٹھ جایئے ،، مسند احمد کی روایات اس قسم کی اور بھی بہت ساری متنازع کہانیون سے بھری پڑی ھے ،،
دوسری بات یہ کہ عرب شراب شوق سے پیتے تھے اور اس کو ایک اچھی اور قابلِ فخر بات جانتے تھے لہذا شرم دلانے والی اس میں کیا بات تھی ؟ عربوں کو سب سے زیادہ تعجب شراب کی پابندی پر تھا کہ یہ بھی قابلِ ممانعت چیز ھے ،، یسئلونک عن الخمر ،،،
اب آگے چلیئے ،،،
ھم یہ بات جانتے ھیں کہ نبئ کریم ﷺ کی صرف پہلی شادی ھی ضرورت کی شادی تھی ،، اور آپ نے حضرت خدیجہؓ کی وفات تک کوئی دوسری شادی نہیں کی اگرچہ وہ عین شباب کا دور تھا ،، باقی ساری شادیاں مجبوری کی شادیاں تھیں ،حضرت سودہؓ سے شادی بچیوں کی پرورش کی مجبوری کی وجہ سے تھی ،، اس دوران حضرت ابوبکر صدیقؓ نے مطعم ابن عدی کو چونکہ جواب دے دیا تھا لہذا حضرت عائشہ صدیقہؓ سے آپ کی شادی اخلاقی مجبوری تھی کیونکہ آپ کی نیت سے ھی مطعم کے بیٹے جبیر ابن مطعم سے رشتے توڑا گیا تھا ،، اس کے بعد عورتوں کی مجبوریوں کی ایک داستان ھے کہ کس طرح وہ اسلام کی خاطر سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑی ھوئیں مگر کسی کا شوھر اسے چھوڑ کر بے دین ھو گیا تو کسی کا شھید ھو گیا ،، ان تمام واقعات مین انسان کا اپنا ضمیر یہ تقاضا کرتا ھے کہ اس جگہ اللہ کے رسول ﷺ کو آگے بڑھ کر ان کو سہارا دینا چاھیئے ،، اور نبئ کریم ﷺ نے بالکل ویسا ھی قدم اٹھایا ،، حضرت صفیہؓ جس طرح لُٹ پٹ کر آئی تھیں یہ ضروری تھا کہ شاھی اور نبوی خاندان کی عورت کو ویسا ھی مقام دیا جائے جس کی وہ مستحق ھیں ،،،، ان 9 شادیوں میں سے ھر ایک کا ایک معقول سبب موجود ھے ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
مگر اپنے وصال سے دو ماہ پہلے جبکہ نبئ کریم ازدواجی ذمہ داریوں سے عہدہ برآء ھونے میں دقت محسوس فرما رھے تھے اور اسی عذر کی وجہ سے آپ ﷺ ام المومنین سودہ بنت زمعہؓ کو طلاق دے دی تھی کہ میں تمہارے حقوق ادا نہیں کر سکتا ،،، اور ان کی طرف سے حقوق معاف کر دیئے جانے پر رجوع کر لیا تھا ،، آپ پر دو ایسی مضحکہ خیز شادیوں کا الزام دھر دیا گیا کہ جس کی کوئی جسٹیفیکیشن کوئی ذی شعور پیش نہیں کر سکتا ،، اگر حضور ﷺ نے حضرت سودہؓ سے سچ بولا تھا اور یقیناً سچ بولا تھا کہ آپﷺ اب حقوقِ زوجیت کی ادائیگی میں دشواری محسوس کر رھے تھے تو پھر ان ایمرجنیسی پلس شادیوں کی تُک نہیں بنتی ،،، اور نہ وہ طریقہ ایک حاکم اور نبی کے شایانِ شان ھے کہ جس طرح کھیتون کھلیانوں میں شادیاں کی گئیں ،،
1- آپ نے سنا بھی ھو گا اور پڑھا بھی ھو گا کہ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ھے کہ عورت کے ساتھ شادی تین وجوھات کی وجہ سے کی جاتی ھے ،اس کے جمال کی وجہ سے یا مال کی وجہ سے یا دین کی وجہ سے ،، تم دین کو ترجیح دو ،،، مگر ان دونوں عیجب و غریب شادیوں میں دین دور دور تک نظر نہیں آتا ،بس حسن و جمال ھی کا دورہ دورہ ھے ،،،، پہلی عورت کو تو یہ ھی پتہ نہیں کہ اس کی شادی جس سے کی گئ ھے وہ اللہ کے رسول ھیں اور نہ اسے یہ پتہ ھے کہ اللہ کا رسول کون ھوتا ھے اور اس کا کیا مقام ھے ،، وہ آپ کو عام آدمی یعنی گرا پڑا سمجھتی ھے اگر سوقہ کا ترجمہ بازاری مرد نہ بھی کیا جائے تب بھی ،، حضور ﷺ کھیتوں کھلیانوں اور درختوں مین سے رستہ بناتے ھوئے کسی دوسرے کے گھر میں وظیفہ زوجیت ادا کرنے جاتے ھیں ( اور ایسا پہلی نو شادیوں میں اس طرح نہیں ھوا کہ نبی ﷺ نے چھپ کر کسی غیر کے گھر بیوی سے ملاقات کی ھو ) آپ نے جاتے ھی نہ سلام نہ کلام سیدھا عورت سے کہا کہ اپنا آپ میرے سپرد کر دے ،،، اس نے کہا کہ بھلا کوئی ملکہ اپنا آپ کسی گرے پڑے کو سونپتی ھے ،، آپ ﷺ نے تب بھی اس کو نہیں بولا کہ مین تیرا شوھر ھوں ،میں رسول اللہ ھوں ،اور تو نکاح کر کے مجھے اپنا آپ سونپنے کا معائدہ کر چکی ھے ،، اور یہ بات کہتے بھی کیسے کیونکہ نکاح تو ثابت ھی نہیں ،،کون اس کا ولی تھا ،کس نے نکاح کا خطبہ پڑھا تھا ،نبئ کریم ﷺ کی طرف سے کس وھاں قبول کیا تھا ،، حدیث شروع ھی یہاں سے ھوتی ھے کہ نبی ﷺ کے دربار میں عرب کی ایک عورت کے حسن و جمال کا چرچا کیا گیا تو آپ نے ابا اسید الساعدیؓ سے فرمایا کہ اس کی طرف بندہ بھیج کر بلوا لو ،،،،،،،،،،،،،، کیا نکاح اس طرح ھوتے ھیں ؟ جس کی بیٹی کی خوبصورتی کا قصہ سنا کہا اٹھا لے آؤ ؟ اور چرچا حسن کا ھوا ھے ،اس کی نماز ،روزے اور تقوے کا نہیں ،، آگے چل کر آپ دیکھیں گے کہ وہ تو رسولﷺ سے واقف تک نہیں تھا اور حضور ﷺ زبردستی شوھر بن رھے تھے جس کو اس نے مسترد کر دیا ،، جو ڈائیلاگ اس پہ ھوئے وہ آگے بیان کرتا ھوں مگر پہلے اس پر بھی غور فرما لیجئے کہ یہ ڈائیلاگ باھر کیسے نکلے ؟ کوئی شخص اپنی بیوی سے اتنی اونچی آواز میں جنسی گفتگو نہین کرتا کہ پورا محلہ سنے ،، باھر باغ میں کھیتوں مین چھپے بندے بھی سن رھے ھیں ،، بلکہ آنکھوں دیکھا حال بھی بیان کر رھے ھیں کہ اس کے سخت جملہ کہہ دینے اور حضور ﷺ کو ” سوقہ ” کہہ دینے کے باوجود آپ نے اپنا ھاتھ اس پر رکھ کر اسے مائل کرنے کی کوشش کی جس پر اس نے گھبرا کر آپ ﷺ سے اللہ کی پناہ مانگ لی ،، اللہ کی اس پناہ سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ وہ رسول اللہ ﷺ پر ایمان بھی رکھتی تھی کیونکہ عرب سارے اللہ کو مانتے تھے ،، پھر ستم بالائے ستم یہ کہ کہہ دیا گیا کہ جناب وہ تو اس بیچاری سیدھی سادی عورت کو حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ نے جھوٹی پٹی پڑھائی تھی کہ اللہ کے رسول ﷺ کو اعوذ باللہ منک ” بہت پسند ھے لہذا جب وہ تیرے قریب آئیں تو تُو جھٹ سے اعوذ باللہ منک کہہ دینا ،، تضاد کا نمونہ دیکھیئے کہ جب وہ حضور ﷺ کو سوقہ یا گھٹیا یا بازاری یا گرا پڑا آدمی کہہ رھی ھے تب فوراً کہہ دیا جاتا ھے کہ بےچاری کو پتہ نہیں تھا کہ یہ رسول اللہ ﷺ ھیں ،اور پھر ساتھ یہ جھوٹ بھی بولتے ھیں کہ ام المومنین حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ اس کو پٹی پڑھا آئی تھیں کہ رسول اللہ ﷺ کو یہ کلمہ بہت پسند ھے ،گویا وہ عورت عرب نہیں تھی اور تعوذ کے معنی بھی اسے نہیں آتے تھے کہ کسی ناپسندیدہ چیز سے ھی اللہ کی پناہ مانگی جاتی ھے ،، :
( ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم امْرَأَةٌ مِنَ الْعَرَبِ ، فَأَمَرَ أَبَا أُسَيْدٍ السَّاعِدِيَّ أَنْ يُرْسِلَ إِلَيْهَا ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا ، فَقَدِمَتْ فَنَزَلَتْ فِي أُجُمِ بَنِي سَاعِدَةَ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ : هَبِي نَفْسَكِ لِي . قَالَتْ : وَهَلْ تَهَبُ الْمَلِكَةُ نَفْسَهَا لِلسُّوقَةِ . قَالَ : فَأَهْوَى بِيَدِهِ يَضَعُ يَدَهُ عَلَيْهَا لِتَسْكُنَ . فَقَالَتْ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ . فَقَالَ : قَدْ عُذْتِ بِمَعَاذٍ . ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : يَا أَبَا أُسَيْدٍ اكْسُهَا رَازِقِيَّتَيْنِ وَأَلْحِقْهَا بِأَهْلِهَا )
وروى أيضا قال : أخبرنا هشام بن محمد ، حدثني ابن الغسيل ، عن حمزة بن أبي أسيد الساعدي ، عن أبيه – وكان بدريا – قال : ( تزوج رسول الله أسماء بنت النعمان الجونية ، فأرسلني فجئت بها ، فقالت حفصة لعائشة أو عائشة لحفصة : اخضبيها أنت وأنا أمشطها ، ففعلن ، ثم قالت لها إحداهما : إن النبي، صلى الله عليه وسلم يعجبه من المرأة إذا دخلت عليه أن تقول أعوذ بالله منك . فلما دخلت عليه وأغلق الباب وأرخى الستر مد يده إليها فقالت : أعوذ بالله منك ،،، جب حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ نے کنگھی کرتے ھوئے یا اس کو بناؤسنگھار کرتے ھوئے بتا دیا تھا کہ اللہ کے رسولﷺ کو اعوذ باللہ منک ” بڑا پسند ھے تو پھر اس عورت نے رسول اللہ ﷺ کو سوقہ کہہ کر کیسی عزت افزائی فرمائی ؟ اب تو یہ عذر بھی باقی نہ بچا کہ وہ جانتی نہیں تھی کہ آپ ﷺ رسول اللہ ھیں اور لوگوں نے اسے بعد میں بتایا ؟ خود محدث اس کہانی میں اتنے مضطرب ھیں کہ کچے آٹے کی طرح بات ان سے سنبھالی نہیں جا رھی کہ کبھی ایک طرف لٹک جاتی ھے تو کبھی دوسری ،، اور ساری باتیں سب سے صحیح کتاب بخاری شریف میں ھیں ،، خود اس عورت پر کسی کا اتفاق نہیں ،،کبھی وہ میزبان ھے اور عورت کو کہیں باھر سے لا کر اس کے باغ میں اتارا گیا ھے اور کہیں وہ خود ھی نکاح کرنے والی ھے ، اگر وہ مدینے کی تھی تو حضورﷺ کی مجلس میں اس کا کے حسن کے چرچے کا کیا مطلب تھا ؟ کیا حضور ﷺ کو یہ بات امھات المومنین کے ذریعے پتہ نہیں چل سکتی تھی جن کے پاس مدینے کی عورتیں ھر وقت چلی رھتی تھیں ؟ پھر کیا صحابہؓ حضورﷺ کے بارے میں کیسا گمان رکھتے تھے کہ وہ لوگوں کی بہو بیٹیوں کے حسن کے چرچے آپ کی مجلس میں کیا کرتے تھے ؟ اور کیا یہ انداز درست ھے کہ فلاں کی بیٹی کے حسن کا چرچا آپ کی مجلس میں کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ارسل الیہا ،،، اس اٹھوا لاؤ ؟ پھر جب وھاں سے عزت کروا کر نکلے تو باھر دوسرا اپنا مال بیچنے کے لئے داؤ لگانے کھڑا تھا کیونکہ اسے بھی معاذ اللہ آپ کی حسن پرستی کے مرض کا پتہ تھا ،، اس نے کہا کہ میرے پاس اس سے بھی خوبصورت دانہ ھے اور حضورﷺ نے اس عورت کے دین اور حسن کے بارے میں تفصیل معلوم کیئے بغیر اعلانِ نکاح فرما لیا کہ ” میں نے نکاح کیا ” کیا نبیوں کے نبی اور تاجدارِ حرم کا نکاح اس طرح گڈے گُڈی کی طرح ھوتا ھے ؟ جبکہ وہ عورت یہ سنتے ھی مرتد بھی ھو گئ کہ آپ ﷺ کا وصال ھو گیا ھے ؟اس کا بھائی بھی مرتد ھو گیا ،، کیا شادی سے متصل قبل جبکہ آپ ﷺ کے جوڑوں کا درد انتہا کو پہنچ گیا تھا اور آپ کو نماز پڑھنے میں بھی دقت محسوس ھوتی تھی یہ بیک وقت دو عجیب و غریب شادیوں کا تحفہ دینا ضروری تھا ؟ جونیہ سے نکاح ثابت نہیں ،، بس اس کو اٹھوا لیا گیا ،جبکہ امام صاحب طلاق ثابت فرما رھے ھیں کہ عورت کو اتنا کہہ دیا جائے گے ” گھر والوں کے پاس چلی جاؤ ” کہنے سے بھی طلاق ھو جاتی ھے ،، قربان اس سادگی کے کہ صرف یہ مسئلہ ثابت کرنے کے لئے کیسی واہیات روایت نبئ کریم سے منسوب کر دی ،،
حضور ﷺ اس کو کپڑوں کا جوڑا دے کر فارغ ھوئے تو رستے میں ایک اور صاحب مورچہ لگائے بیٹھے تھے گویا وہ جانتے تھے کہ رسول اللہﷺ کتنے حسن پرست واقع ھوئے ھیں ، وہ جھٹ آگے بڑھے اور بولے آپ دل چھوٹا نہ کریں ،، میں آپ کو اس سے زیادہ حسین و جمیل اور جاہ و حشم والی عورت بتاتا ھوِں ،، ( یہاں بھی مجال ھے جو دینداری کا ذکر ھوا ھو ) آپ ﷺ نے پوچھا وہ کون ھے ؟ اس نے کہا کہ میری بہن ھے ،، آپ ﷺ نے فرمایا ” میں نے اس سے نکاح کیا ” یعنی نہ سوچا نہ سمجھا ، نہ دیکھا نہ بھالا ،، کہنے والی تو اپنی بیٹی کو خوبصورت کہتے ھی ھیں ، آپ ﷺ نے تو حکم دیا تھا کہ لڑکی دیکھ لیا کرو ،، وہ مشورہ کدھر گیا ؟ خیر اس شادی کا انجام پہلی سے بھی بُرا ھوا ،، وہ بھائی صاحب یمن اپنی بہن لینے گئے اور جب وھاں سے بہن لے کر چلے تو رستے میں ان کو خبر ملی کہ نبئ کریمﷺ کا تو وصال ھو گیا ھے ،، اور وہ دونوں بہن بھائی مرتد ھو گئے ،، ( گویا ام المومنین بھی مرتد ھو گئیں ؟ )
ابن سعد طبقات میں لکہتے ہیں
جب اسماء بنت نعمان نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ کی پناہ مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ سے باہر آگئے تب اشعث بن قیس نے کہا کہ آپ غمگین نہ ہوں میں آپ کا نکاح اس سے نہ کردوں جو اس سے حسب نسب میں کم نہ ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کون اس نے کہا میری بہن قتیلہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے نکاح کرلیا۔ پھر اشعث یمن اسے لینے گئے اور یمن سے آگے بڑہے تو انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر ملی تو یہ دونوں بہن بہائی مرتد ہوگئے۔ پھر قتیلہ نے اور نکاح کرلیا کیوں کہ مرتد ہونے کے ساتھ اس کا نکاح ٹوٹ گیا تھا اور پھر مکشوع مرادی نے ان سے نکاح کیا۔
آگے لکہتے ہیں کہ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب فوت ہوئے تو قبیلہ کندہ کی ایک عورت قتیلہ کے مالک ہوئے تھے لیکن وہ اپنی قوم کے ساتھ مرتد ہوگئی تھی پھر بعد میں اس سے عکرمہ نے نکاح کرلیا یہ بات حضرت صدیق رضہ کو گراں گزری لیکن حضرت عمر رضہ نے انہیں کہا کہ یہ عورت امہات میں سے نہیں ہے نہ آپ نے اس کو اختیار دیا نہ ہی اس کو پردہ کرایا اور اللہ تعالی نے آپ کو اس سے بری کردیا ہے کیوں کہ وہ مرتد ہوگئی ہے،،
ھمیں اس عورت قتیلہ کے ام المومنین ھونے یا نہ ھونے کی بحث سے کچھ لینا دینا نہیں ،، بس یہ طریقہ نکاح جو روایت ھوا ھے کہ ایک خیمے سے عزت کرا کر نکلے ھیں تو گلی میں کھڑے کھڑے دوسرا نکاح کر لیا اور وہ بھی اس عورت سے کہ جو اتنے ایمان والی تھی کہ وفات کا سن کر ھی
هذه القصة صحيحة ، وردت في أحاديث عدة وسياقات يكمل بعضها بعضا :
فروى البخاري رحمه الله في صحيحه (5254) عن الإمام الأوزاعي قَالَ : سَأَلْتُ الزُّهْرِي أَي أَزْوَاجِ النَّبِي صلى الله عليه وسلم اسْتَعَاذَتْ مِنْهُ ؟
قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها : ( أَنَّ ابْنَةَ الْجَوْنِ لَمَّا أُدْخِلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَدَنَا مِنْهَا قَالَتْ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ . فَقَالَ لَهَا : لَقَدْ عُذْتِ بِعَظِيمٍ ، الْحَقِى بِأَهْلِكِ ) .
وروى البخاري أيضا في صحيحه (5255) عَنْ أَبِى أُسَيْدٍ رضى الله عنه قَالَ :
( خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى انْطَلَقْنَا إِلَى حَائِطٍ يُقَالُ لَهُ الشَّوْطُ ، حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى حَائِطَيْنِ ، فَجَلَسْنَا بَيْنَهُمَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم : اجْلِسُوا هَا هُنَا . وَدَخَلَ وَقَدْ أُتِىَ بِالْجَوْنِيَّةِ ، فَأُنْزِلَتْ فِي بَيْتٍ فِي نَخْلٍ فِي بَيْتٍ أُمَيْمَةُ بِنْتُ النُّعْمَانِ بْنِ شَرَاحِيلَ ، وَمَعَهَا دَايَتُهَا حَاضِنَةٌ لَهَا ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ : هَبِي نَفْسَكِ لِي .
قَالَتْ : وَهَلْ تَهَبُ الْمَلِكَةُ نَفْسَهَا لِلسُّوقَةِ . قَالَ : فَأَهْوَى بِيَدِهِ يَضَعُ يَدَهُ عَلَيْهَا لِتَسْكُنَ . فَقَالَتْ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ . فَقَالَ : قَدْ عُذْتِ بِمَعَاذٍ . ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : يَا أَبَا أُسَيْدٍ اكْسُهَا رَازِقِيَّتَيْنِ وَأَلْحِقْهَا بِأَهْلِهَا )
وروى أيضا رحمه الله (رقم/5256) عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ عَنْ أَبِيهِ وَأَبِى أُسَيْدٍ قَالاَ : ( تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أُمَيْمَةَ بِنْتَ شَرَاحِيلَ ، فَلَمَّا أُدْخِلَتْ عَلَيْهِ بَسَطَ يَدَهُ إِلَيْهَا ، فَكَأَنَّهَا كَرِهَتْ ذَلِكَ ، فَأَمَرَ أَبَا أُسَيْدٍ أَنْ يُجَهِّزَهَا وَيَكْسُوَهَا ثَوْبَيْنِ رَازِقِيَّيْنِ ) ثياب من كتان بيض طوال.
وروى أيضا رحمه الله (رقم/5637) عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رضى الله عنه قَالَ :
( ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم امْرَأَةٌ مِنَ الْعَرَبِ ، فَأَمَرَ أَبَا أُسَيْدٍ السَّاعِدِيَّ أَنْ يُرْسِلَ إِلَيْهَا ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا ، فَقَدِمَتْ فَنَزَلَتْ فِي أُجُمِ بَنِي سَاعِدَةَ ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى جَاءَهَا ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا ، فَإِذَا امْرَأَةٌ مُنَكِّسَةٌ رَأْسَهَا ، فَلَمَّا كَلَّمَهَا النَّبِيُ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ. فَقَالَ : قَدْ أَعَذْتُكِ مِنِّى . فَقَالُوا لَهَا : أَتَدْرِينَ مَنْ هَذَا ؟ قَالَتْ : لاَ . قَالُوا هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَاءَ لِيَخْطُبَكِ . قَالَتْ : كُنْتُ أَنَا أَشْقَى مِنْ ذَلِكَ . فَأَقْبَلَ النَّبي صلى الله عليه وسلم يَوْمَئِذٍ حَتَّى جَلَسَ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ ، ثُمَّ قَالَ : اسْقِنَا يَا سَهْلُ . فَخَرَجْتُ لَهُمْ بِهَذَا الْقَدَحِ فَأَسْقَيْتُهُمْ فِيهِ ، فَأَخْرَجَ لَنَا سَهْلٌ ذَلِكَ الْقَدَحَ فَشَرِبْنَا مِنْهُ . قَالَ : ثُمَّ اسْتَوْهَبَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بَعْدَ ذَلِكَ فَوَهَبَهُ لَهُ ) ورواه مسلم أيضا (2007)، الأجم : الحصون .
ثانيا :
اختلف العلماء في اسم هذه المرأة على أقوال سبعة ، ولكن الراجح منها عند أكثرهم هو : ” أميمة بنت النعمان بن شراحيل ” كما تصرح رواية حديث أبي أسيد . وقيل اسمها أسماء .
ثالثا :
لماذا استعاذت المرأة الجونية من رسول الله صلى الله عليه وسلم ؟
يمكن توجيه ذلك ببعض الأجوبة الآتية :
1- قد يقال إنها لم تكن تَعرِفُ رسولَ الله صلى الله عليه وسلم ، بدليل الرواية الأخيرة من الروايات المذكورة أعلاه ، وفيها : (. فَقَالُوا لَهَا : أَتَدْرِينَ مَنْ هَذَا ؟ قَالَتْ : لاَ . قَالُوا هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَاءَ لِيَخْطُبَكِ . قَالَتْ : كُنْتُ أَنَا أَشْقَى مِنْ ذَلِكَ )
يقول الحافظ ابن حجر رحمه الله :
” وقال غيره : يحتمل أنها لم تعرفه صلى الله عليه وسلم ، فخاطبته بذلك .
وسياق القصة من مجموع طرقها يأبى هذا الاحتمال .
نعم سيأتي في أواخر الأشربة من طريق أبي حازم ، عن سهل بن سعد – فذكر الرواية الأخيرة ، ثم قال : –
فإن كانت القصة واحدة فلا يكون قوله في حديث الباب : ( ألحقها بأهلها ) ، ولا قوله في حديث عائشة : ( الحقي بأهلك ) تطليقا ، ويتعين أنها لم تعرفه .
وإن كانت القصة متعددة – ولا مانع من ذلك – فلعل هذه المرأة هي الكلابية التي وقع فيها الاضطراب ” انتهى.
“فتح الباري” (9/358)
2- ويذكر بعض أهل العلم أن سبب استعاذتها من النبي صلى الله عليه وسلم ما غرها به بعض أزواجه صلى الله عليه وسلم ، حيث أوهموها أن النبي صلى الله عليه وسلم يحب هذه الكلمة ، فقالتها رغبة في التقرب إليه ، وهي لا تدري أن النبي صلى الله عليه وسلم سيعيذها من نفسه بالفراق إن سمعها منه .
جاء ذلك من طرق ثلاثة :
الطريق الأولى :
يرويها ابن سعد في “الطبقات” (8/143-148)، والحاكم في “المستدرك” (4/39)، من طريق محمد بن عمر الواقدي وهو ضعيف في الحديث .
والطريق الثانية :
يرويها ابن سعد في الطبقات (8/144) بسنده عن سعيد بن عبد الرحمن بن أبزى قال: (الجونية استعاذت من رسول الله صلى الله عليه وسلم وقيل لها : هو أحظى لك عنده . ولم تستعذ منه امرأة غيرها ، وإنما خدعت لما رؤي من جمالها وهيئتها ، ولقد ذكر لرسول الله من حملها على ما قالت لرسول الله ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إنهن صواحب يوسف ).
الطريق الثالثة :
رواها ابن سعد أيضا في “الطبقات” (8م145) قال : أخبرنا هشام بن محمد بن السائب ، عن أبيه ، عن أبي صالح ، عن بن عباس قال : ( تزوج رسول الله صلى الله عليه وسلم أسماء بنت النعمان ، وكانت من أجمل أهل زمانها وأشبهم ، قال فلما جعل رسول الله يتزوج الغرائب قالت عائشة : قد وضع يده في الغرائب يوشكن أن يصرفن وجهه عنا . وكان خطبها حين وفدت كندة عليه إلى أبيها ، فلما رآها نساء النبي صلى الله عليه وسلم حسدنها ، فقلن لها : إن أردت أن تحظي عنده فتعوذي بالله منه إذا دخل عليك . فلما دخل وألقى الستر مد يده إليها ، فقالت : أعوذ بالله منك . فقال: أمن عائذ الله ! الحقي بأهلك )
وروى أيضا قال : أخبرنا هشام بن محمد ، حدثني ابن الغسيل ، عن حمزة بن أبي أسيد الساعدي ، عن أبيه – وكان بدريا – قال : ( تزوج رسول الله أسماء بنت النعمان الجونية ، فأرسلني فجئت بها ، فقالت حفصة لعائشة أو عائشة لحفصة : اخضبيها أنت وأنا أمشطها ، ففعلن ، ثم قالت لها إحداهما : إن النبي، صلى الله عليه وسلم يعجبه من المرأة إذا دخلت عليه أن تقول أعوذ بالله منك . فلما دخلت عليه وأغلق الباب وأرخى الستر مد يده إليها فقالت : أعوذ بالله منك . فتال بكمه على وجهه فاستتر به وقال : عذت معاذا ، ثلاث مرات . قال أبو أسيد ثم خرج علي فقال : يا أبا أسيد ألحقها بأهلها ومتعها برازقيتين ، يعني كرباستين ، فكانت تقول : دعوني الشقية ) .
وهذه الطرق قد يعضد بعضها بعضا ويستشهد بمجموعها على أن لذلك أصلا .
3- وذكر آخرون من أهل العلم أن سبب استعاذتها هو تكبرها ، حيث كانت جميلة وفي بيت من بيوت ملوك العرب ، وكانت ترغب عن الزواج بمن ليس بِمَلِك ، وهذا يؤيده ما جاء في الرواية المذكورة أعلاه ، وفيها : ( فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ : هَبِي نَفْسَكِ لِي . قَالَتْ : وَهَلْ تَهَبُ الْمَلِكَةُ نَفْسَهَا لِلسُّوقَةِ . قَالَ : فَأَهْوَى بِيَدِهِ يَضَعُ يَدَهُ عَلَيْهَا لِتَسْكُنَ . فَقَالَتْ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ . فَقَالَ : قَدْ عُذْتِ بِمَعَاذٍ . ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : يَا أَبَا أُسَيْدٍ اكْسُهَا رَازِقِيَّتَيْنِ وَأَلْحِقْهَا بِأَهْلِهَا )
يقول الحافظ ابن حجر رحمه الله :
” ( السُّوقة ) قيل لهم ذلك لأن الملك يسوقهم فيساقون إليه ، ويصرفهم على مراده ، وأما أهل السوق فالواحد منهم سوقي . قال ابن المنير : هذا من بقية ما كان فيها من الجاهلية ، والسوقة عندهم من ليس بملك كائنا من كان ، فكأنها استبعدت أن يتزوج الملكة من ليس بملك ، وكان صلى الله عليه وسلم قد خير أن يكون ملكا نبيا ، فاختار أن يكون عبدا نبيا ، تواضعا منه صلى الله عليه وسلم لربه ، ولم يؤاخذها النبي صلى الله عليه وسلم بكلامها ، معذرة لها لقرب عهدها بجاهليتها ” انتهى.
“فتح الباري” (9/358)
هذا ما تحصَّل ذكرُه من أسباب جاءت بها الروايات وكلام أهل العلم ، وكله يدل على كريم أخلاقه صلى الله عليه وسلم ، حيث لم يكن يرضى أن يتزوج مَن يشعر أنها لا ترغبه ، وكان يأبى صلى الله عليه وسلم أن يصيب أحدا من المسلمين بأذى في نفسه أو ماله .
والله أعلم .
5314 حدثنا سعيد بن أبي مريم حدثنا أبو غسان قال حدثني أبو حازم عن سهل بن سعد رضي الله عنه قال ذكر للنبي صلى الله عليه وسلم امرأة منالعرب فأمر أبا أسيد الساعدي أن يرسل إليها فأرسل إليها فقدمت فنزلت في أجم بني ساعدة فخرج النبي صلى الله عليه وسلم حتى جاءها فدخل عليها فإذا امرأة منكسة رأسها فلما كلمها النبي صلى الله عليه وسلم قالت أعوذ بالله منك فقال قد أعذتك مني فقالوا لها أتدرين من هذا قالت لا قالوا هذا رسول الله صلى الله عليه وسلم جاء ليخطبك قالت كنت أنا أشقى من ذلك فأقبل النبي صلى الله عليه وسلم يومئذ حتى جلس في سقيفة بني ساعدة هو وأصحابه ثم قال اسقنا يا سهل فخرجت لهم بهذا القدح فأسقيتهم فيه فأخرج لنا سهل ذلك القدح فشربنا منه قال ثم استوهبه عمر بن عبد العزيز بعد ذلك فوهبه له
2) حضرت عمر نے قتیلہ بنت قیس کو خارج کیا تھا
قتیلہ بنت قیس کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے کہ اس کے ساتھ نکاح کب ہوا اور کچہ تاریخ دانوں نے اس کا زکر تک نہیں کیا۔
چناچہ
Quote
حافظ ابن کثیر لکہتے ہیں کہ
بعض کا کہنا ہے کہ وفات سے دو مہینے پہلے نکاح ہوا اور بعض کا کہنا ہے دوران علالت آپ نے نکاح کیا تھا ۔
اور حافظ ابن کثیر لکہتے ہیں کہ جن عورتوں کو آپ نے نکاح کیا اور گہر لانے سے پہلی طلاق دی تو ان سے کوئی اور مسلمان نکاح کرسکتا ہے ۔ قتیلہ بنت قیس کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں کوئی وصیت نہیں بعض کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دیا تھا کہ چاہے تو پردہ کرے اور امہات میں شامل ہوجائے اور چاہے تو آزاد ہو جائے اور کسی اور سے نکاح کرلے اس نے دوسرے شرط کو قبول کیا اور وہ آزاد ہوگئی۔ (البدایہ والنہایہ)
Quote
یہی بات ابن نے اسد الغابہ میں لکہی ہے
کہ آپ نے ان سے نکاح کیا لیکن نہ تو اس عورت نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکہا اور نہ اس نے حضور کو دیکہا
ایک اور روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اختیار دیا کہ چاہے تو پردہ کرلے اور چاہے تو طلاق دے دیں اور کسی اور سے نکاح کرلے اور حضور نے طلاق دیدی۔اس نے بعد میں عکرمہ سے نکاھ کرلیا حضرت ابو بکر نے انہیں رجم کرنا چاہا لیکن حضرت عمر نے کہا کہ یہ امہات المومنین میں شامل نہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پردے کا حکم نہیں دیا تھا۔ ان کے علاہ دوسری ان خواتین کے بارے میں جن سے دخول کی نوبت نہیں آئی تھی علماء میں زبردست اختلاف ہے۔( اسد الغابہ جلد 3 زکر قتیلہ)
Quote
ابن سعد طبقات میں لکہتے ہیں
جب اسماء بنت نعمان نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ کی پناہ مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ سے باہر آگئے تب اشعث بن قیس نے کہا کہ آپ غمگین نہ ہوں میں آپ کا نکاح اس سے نہ کردوں جو اس سے حسب نسب میں کم نہ ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کون اس نے کہا میری بہن قتیلہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے نکاح کرلیا۔ پھر اشعث یمن اسے لینے گئے اور یمن سے آگے بڑہے تو انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر ملی تو یہ دونوں بہن بہائی مرتد ہوگئے۔ پھر قتیلہ نے اور نکاح کرلیا کیوں کہ مرتد ہونے کے ساتھ اس کا نکاح ٹوٹ گیا تھا اور پھر عکرمہ بن ابی جھل نے ان سے نکاح کیا۔
آگے لکہتے ہیں کہ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب فوت ہوئے تو قبیلہ کندہ کی ایک عورت قتیلہ کے مالک ہوئے تھے لیکن وہ اپنی قوم کے ساتھ مرتد ہوگئی تھی پھر بعد میں اس سے عکرمہ نے نکاح کرلیا یہ بات حضرت صدیق رضہ کو گراں گزری لیکن حضرت عمر رضہ نے انہیں کہا کہ یہ عورت امہات میں سے نہیں ہے نہ آپ نے اس کو اختیار دیا نہ ہی اس کو پردہ کرایا اور اللہ تعالی نے آپ کو اس سے بری کردیا ہے کیوں کہ وہ مرتد ہوگئی ہے اپنی قوم کے ساتھ ۔
Quote
ابن سعد عروۃ بن زبیر کا قول نقل کرتے ہیں کہ وہ کہتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قتیلہ سے نکاح نہیں کیا تھا بلکہ جونیہ کندیہ سے نکاح کیا تھا اور اسے بھی دیکھتے ہی طلاق دے دی تھی
وقيل : إنه طلقها قبل أن يدخل بها ، ثم مات عليه السلام
اور کہا جاتا ہے کہ حضور علیہ السلام نے ان کو طلاق دے دی، اس سے قبل کہ ان سے مقاربت کرتے، اس کے بعد آپ علیہ السلام وفات پا گئے۔
بحار الانوار ج 22 ص 204
صحابہ نے کہا اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں پردہ کروائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی ہوں گی اور اگر نہیں پردہ نہ کروایا تو ام ولد ہوگی پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوار ہونے کا ارادہ کیا تو انہیں پردہ کروایا اور وہ اونٹ کے پچھلے حصہ پر بیٹھ گئیں تو صحابہ کو معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے شادی کی ہے۔
مگر کیا اللہ پاک نے اپنے آخری رسول ﷺ کو لاوارث چھوڑ دیا ھے کہ جہاں چند قال قال مل جائیں پھر جو چاہیں نبی کی طرف منسوب کر دیں ؟
المیزان – 3
نبئ کریم ﷺ کے اخلاق و سیرت کو ھی اللہ تعالی نے حضورﷺ کی رسالت کی دلیل بنایا ھے اور قرآن میں جا بجا اسی دلیل کو کفار کے سامنے پیش کیا ھے ،، نبئ کریم ﷺ میں کوئی بھی اخلاقی عیب ثابت کرنا کہ جو عام آدمی میں بھی ھو تو عیب گنا جائے ،اصل میں نبی ﷺ کی رسالت کو عیب دار کرنا ھے ، ھمارے علماء کا المیہ یہ ھے کہ ان کو صرف مسلمانوں میں ھی کام کرنے کا عملی تجربہ ھے لہذا ان کا دل و دماغ کا سانچا ھی ایسا بن گیا ھے کہ وہ اس سے باھر نکل کر کوئی بین الانسانی سوچ ، سوچ ھی نہیں سکتے ،اور لوگ ان کی اس بیماری کو سمجھ ھی نہیں سکتے ، جس طرح دریائی مچھلی بھی مچھلی ھی کہلاتی ھے اور سمندری مچھلی بھی مچھلی ھی کہلاتی ھے ،، مگر دریائی مچھلی کو سمندر میں ڈال کر دیکھئے وہ مر جاتی ھے ،، وہ کھارے پانی سے آکسیجن کشید نہیں کر سکتی ، اور کھارے پانی والی کو میٹھے پانی میں ڈال کر دیکھئے وہ میٹھے پانی میں مر جائے گی ،،
اسی طرح جن لوگوں کو یہ بزرگ اپنے اداروں میں تیار فرما رھے ھیں وہ بھی کلر بلائنڈ اور میٹھے پانی کی مچھلیاں ھیں ، اپنے ھی مائنڈ سیٹ کے طلباء ساتھیوں میں بیٹھ کر اپنے ھی استادوں سے ھر قسم کی کہانیاں سن کر یقین کر لینے والے بین الاقوامی اداروں میں یہودی،عیسائی ،ھندو ، ملحد سااتھیوں میں شانہ بشانہ بیٹھ کر پڑھنے اور کام کرنے والے لوگوں کے مسائل کو سمجھ ھی نہیں سکتے ،، اپنے ھی لوگوں میں بیٹھ کر حوروں کے میک اپ اور اعضاء کی شاعری اور نثر نگاری کر کر کے سامعین کی رالیں تو ٹپکائی جا سکتی ھیں مگر حقیقی سوالات کا جواب دینا بہت مشکل ھے ،جب آپ سے آپ کے نبی ﷺ کے بارے میں ایک غیر مذھب کا آپ کا دوست ، یا ساتھی جو آپ کا سینئر بھی ھو سکتا ھے ،دیانت اور صداقت ،شرافت اور عملی تعاون سے آپ کو اپنا گرویدہ بھی بنا چکا ھوتا ھے ایک دن سوال کر لیتا ھے اور خود آپ پر اعتماد کرتے ھوئے آپ کے ضمیر کو ھی جج بنا دیتا ھے کہ ” یار تو ھی یہ بتا کہ کیا یہ مناسب بات ھے ؟ چل چھوڑ مجھے میں تو کافر ھوں خود تیرا ضمیر کیا کہتا ھے ،، اس وقت بندے پہ قیامت گزر جاتی ھے ، وہ جھوٹ بول دیتا ھے اپنے ضمیر کی آواز کو جھٹلا دیتا ھے تو کبھی اس آفس میں ،کبھی اس یونیورسٹی میں اپنے دوستوں سے آنکھ ملا کر بات نہیں کر سکتا ،، یہ بہت مشکل کام ھوتا ھے ، یہ وھی جانتا ھے جس کے ساتھ ضمیر ھوتا ھے ،، اس وقت اس مسلمان کا دل چیخ چیخ کر کہتا ھے کہ کاش یہ داغ جھوٹا ھو ،کاش یہ حدیث جھوٹی ھو ، کاش کوئی میرے نبی کو اس تہمت سے بچا لے ، کاش کوئی میرے نبی ﷺ پر میرے ایمان کو بچا لے ،، علماء کے پاس جاتا ھے تو وہ کہتے ھیں کہ میاں مسلمان رھنا ھے تو اس حدیث کو ماننا ھو گا ،، اور وہ اس حدیث کو مان کر مسلمان رہ نہیں سکتا ، نبی کی شخصیت کے بارے میں اس کے دل میں شک کا ائیرلاک پیدا ھو گیا ،، اس وقت اس کے ایمان کا برین ھیمبرج ھو جاتا ھے وہ کومے میں چلا جاتا ھے ۔،، بظاھر چلتی سانس کے ساتھ زندہ مگر زندگی کے وظائف کی ادائیگی سے معذور و عاجز ،، بظاھر مسلمان مگر دینی تقاضے پورے کرنے سے عاجز ،،
اگر نبئ کریم ﷺ ساری دنیا کے رسول ھیں تو پھر ان میں کوئی ایسی صفت بیان نہیں کی جا سکتی کہ جو دنیا کی کسی قوم ،کسی خطے ،کسی نسل اور کسی بھی زمانے میں اخلاقی طور پر غلط ھو ،انسانی ضمیر ایک وحدت ھے جس طرح آدمیت ایک وحدت ھے ، اللہ پاک نے جس طرح کفارِ مکہ پہ نبی ﷺ کو پیش کیا تھا اسی طرح ھر قوم کے سامنے پیش کر کے آپ کے اخلاق کے زور پر ھی رسول منواتا ھے ، نبی کریم ﷺ کے اخلاق و سیرت کے سوا آپ کی رسالت کی کوئی دلیل نہیں کوئی پیمانہ نہیں ،لہذا نبی ﷺ کی سیرت کا عیب آپکی رسالت کا عیب بن جاتا ھے ،، مناظر علماء اس حقیقت سے آگاہ ھیں ھمیں غلام احمد قادیانی کے بارے میں جب تربیت دی جاتی تھی کہ احمدیوں سے کس طرح بات کرنی ھے تو کہا جاتا تھا کہ ” اس کے کردار کو ٹارگٹ کرنا ھے اور اسی سے اس کے دعوئ نبوت کو جھوٹا ثابت کرنا ھے کیونکہ اللہ نے نبی ﷺ کی سیرت کو ھی آپ کی رسالت کی دلیل بنایا ھے ” قفد لبثت فیکم عمراً من قبلہ افلا تعقلون ” جناب یہی کمزوری غیر مسلم بھی ٹارگٹ کرتے ھیں کہ ” کیا یہ کچھ کرنے والا بندہ نبی تو دور کی بات شریف آدمی بھی ثابت ھو سکتا ھے ؟ یہ وہ سوال ھے جس کا جواب ایسی لغویات سے نبی کا دامن پاک رکھنا ھے ،، اور ییہ جس اصول کے تحت ھو گا وہ اصول اللہ پاک نے قرآنِ حکیم میں بیان فرما کر محفوظ فرما دیا ھے ،،
اللہ کو معلوم تھا کہ ھر نبی کے ساتھ اس کے امتی علماء ربیون اور احبار نے کیا کچھ کیا ھے ، اور یہ بھی معلوم تھا کہ محمدﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں اور قرآن کے بعد کوئی کتاب نازل نہیں ھو گی لہذا میرے نبی کی صفائی کس نے دینی ھے ، کس نے ان کی برائت نازل کرنی ھے ، مجھے ھی کوئی بندوبست کرنا ھوگا قرآن کی حفاظت کا دائرہ نبی ﷺ کے کردار کی حفاظت کو بھی شامل ھے ،، صاحب قرآن اگر اپنے کردار سے مخاطب کو اپنی نبوت کے بارے میں مشکوک کر دے ،، تو پھر قرآن محفوظ ھو کر بھی بے اصل ھو جاتا ھے ،، اسی وجہ سے اللہ پاک نے موسی اور ھارون علیھما السلام کو حکم دیا تھا کہ کردار کو نبوت کے مقام سے گرنے نہیں دینا فرعون سے بات نرمی اور اخلاق کے دائرے میں کرنی ھے مبادا وہ ایمان لے آئے اور اگر نہ لائے تو بھی اپنے انکار کے جواز میں تمہاری کسی اخلاقی غلطی کو پیش نہ کر سکے ،، لہذا اللہ پاک نے قرآن میں اپنے نبی اور ان کے گھرانے کے لئے ایک ایسا اصول بنا دیا کہ جس کی بنیاد پر بدری صحابہ کو بھی کوڑے لگ گئے ،، محدثین کے بعد میں طے کردہ اصول کے مطابق حضرت عائشہؓ پر بہتان ایک ایسی صحیح حدیث تھی کہ جس سے ان کے اصول کے تابع رہ کر اس بہتان کا توڑ اور انکار ممکن نہیں تھا کیوں کہ راوی سارے 90 گز کے تھے ،، یہاں تک کہ صدیق کی اپنی بیٹی کے لئے شفقت اور نبی کی اپنی بیوی کے بارے میں محبت و مودت بھی ٹھٹھر کر رہ گئ،، سب بے زبان و بے بس ھو گئے ،، اس مسئلے کے حل کے لئے اللہ پاک نے 40 دن پورے دیئے کہ جو توڑ کر سکتے ھو انسانو کر لو ،، تا کہ جب میں نبی ﷺ اور ان کے گھرانے کے لئے دائمی اصول دوں تو پھر تم پلٹ کر کسی انسانی اصول کو اس کے بالمقابل لانے کی جرأت نہ کرو،،
اب اللہ پاک نے وہ اصول دیا ،،،،،جو ایک سلیم الفطرت انسان کے ضمیر کو کسوٹی بناتا ھے ،،،
1- لولا إذ سمعتموه ظن المؤمنون والمؤمنات بأنفسهم خيرا وقالوا هذا إفك مبين ( النور-12 )
کیوں نہ جب مومن مردوں اور مومنہ عورتوں نے اس بات کو سنا تو اپنے بارے میں اچھا گمان کیا اور کہہ دیا کہ یہ صاف جھوٹ ھے ؟
یعنی عورتوں نے اس بات کو سچ مان کر یہ ثابت کیا ھے کہ اگر ان کو کوئی بندہ اکیلے میں مل جائے تو وہ اس عمل کو کر گزریں گی ،، اور جن مردوں نے اس بات پر یقین کیا ھے انہوں نے یہ ثابت کیا ھے کہ اگر ان کو نبی ﷺ کی بیوی اکیلے ملتی تو وہ یہ عمل کر گزرتے ،، گویا عیب عائشؓہ و صفوانؓ میں نہیں تمہارے اپنے اندر ھے ، اپنے ضمیروں میں ھے ،، اس بات کو مان کر تم نہیں کہہ سکتے کہ نہ نہ ھم تو یہ ھر گز نہ کرتے کیونکہ تم میں کوئی عائشہؓ سے زیادہ نیک نہیں اور صفوانؓ جو بدری صحابی ھیں ان سے زیادہ متقی نہیں ، تم بھلا کس دلیل کی بنیاد پر اپنے کو اب صاف بیان کر سکتے ھو ؟ یہ ایک بہت بڑا سوال تھا جس نے پورے مدینے کو پانی پانی کر دیا ،،،،،،
ایک مشہور صحابیؓ نے اپنی زوجہ پہ یہی سوال پیش کیا کہ اگر تم صفوانؓ کے ساتھ اکیلی ھوتیں تو یہ کام کر گزرتیں جو ام المومنینؓ کی طرف منسوب کیا گیا ھے ،انہوں نے جواب دیا معاذاللہ میں تو یہ کبھی نہ کرتی ،انہوں نے فرمایا کہ پھر عائشہؓ کیسے کر سکتی ھیں جبکہ وہ تم سے زیادہ متقی ھیں ؟ اور بخدا اگر میں صفوانؓ کی جگہ ھوتا تو کبھی ایسا نہ کرتا ،پھر صفوانؓ یہ کیسے کر سکتا ھے جبکہ وہ مجھ سے زیادہ متقی ھے ،،
نبی کریم ﷺ کی طرف اخلاقی پستی پر مبنی واقعات کو منضبط کرنے والوں میں سے کسی نے بھی ان کے ارتکاب کی جرأت نہیں کی ،، اور نہ آج ان کو پڑھانے اور حفظ کروانے والوں میں سے کوئی چھ سال کی بچی کسی 53 سال کے شیخ الحدیث کو دینے کو تیار ھے اور نہ ھی کوئی 53 سالی شیخ 6 سال کی بچی سے شادی کرنے کے لئے تیار ھوتا ھے ،یہ تو ان کی بے ضمیری کا حال ھے ،، گویا یہ ایک ایسا ھار تھا جو صرف بطور باپ صدیقؓ اکبر کے لئے اور بطور شوھر نبئ کریمؓ کے لئے بنایا گیا تھا ،اور نہ کوئی باپ اور نہ کوئی شوھر یہ جرأت کرتا ھے کہ مردہ سنت کو زندہ کرنے کا ثواب لے لے ، بس بیان کر کے ختمِ بخاری کر دیتے ھیں ،،،،،،،،،،،،
2- وَلَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ قُلْتُم مَّا يَكُونُ لَنَا أَن نَّتَكَلَّمَ بِهَٰذَا سُبْحَانَكَ هَٰذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ (16)
جب تم نے اس خبر کو سنا تو اسی وقت ھی کیوں نہیں کہہ دیا کہ ھم تو یہ بات کرنے کے بھی روادار نہیں اے اللہ تو پاک ھے اس عیب سے کہ اپنے نبی ﷺ کے لئے بدکردار بیوی چنے ، یہ تو عظیم بہتان ھے ،،
اس میں راویوں کی ثقاہت کی تحقیق، ان کے قد کاٹھ ،لمبائی چوڑائی ،شانے ،چھاتی ،کمر اور گھیرے ، شلوار کی کے پائنچے کی گولائی کچھ بھی چیک کرنے کو نہیں کہا گیا بلکہ فرمایا گیا کہ اس بات کو اپنے ضمیر پہ پیش کرو کہ کیا تم ایسا کرنے کو تیار ھو ؟ اس بات کو کرنا اپنے شایانِ شان سمجھتے ھو ؟ ،، نبی ﷺ اور اور ان کے گھر والوں کے لئے کوئی عیب دار بات نقل کرنے والے کی کسی چیز کی کوئی اھمیت نہیں ،، نبئ کریم ﷺ کی کوئی بھی حدیث روایت کرنے کے لئے عمر فاروقؓ نے دو گواھوں کی شرط رکھی تھی ،، کاش کہ بعد والے اس کا اھتمام کرتے تو آج ھم اس قسم کے چیلنج سے دوچار نہ ھوتے ،،،
میں آج بھی اپنے بزرگ علماء و مشائخ سے یہی کہتا ھوں کہ اپنے لئے بھی توبہ کریں اور راویوں کے لئے بھی توبہ کریں ،،
يعظكم الله أن تعودوا لمثله أبدا إن كنتم مؤمنين ويبين الله لكم الآيات والله عليم حكيم( 17)
اللہ تمہیں نصیحت کرتا ھے کہ آئندہ پلٹ کر ایسی بات نہیں ھونی چاھئے اگر تم مومن ھو اور اللہ کھُل کر اپنی آیات بیان کرتا ھے اور اللہ دائم علم والا دائم حکمت والا ھے ،،

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *