Home / Islam / اعتراض

اعتراض

اسلاف سے کٹ کر دین کو سمجھنا ایسے ہی ہے، جیسے ٹینکی کے بغیر بھی ٹوٹی سے پانی آنے کی امید رکھنا، اصل میں قاری صاحب کے انداز میں لکھنا مجھے نہیں آتا، لیکن جب پوسٹ پڑھ لی جائے تو پھر کچھ اثر تو ہوتا ہی ہے ،،،،
جواب !
انسان باپ سے کٹ کر ھی ماں کے اندر آتا ھے اور ماں سے کٹ کر ھی باھر آتا ھے ،،باپ گدھے چراتا تھا تو بیٹا مرسیڈیز شو روم کھول کر بیٹھا ھے ، اس کو کٹنا کیوں نہیں کہتے ؟ ساری زندگی گدھے چرانا جڑنا نہیں کہلاتا اسلاف کو اس زمانے کا دیا گیا تھا ھمارا حصہ محفوظ تھا ،،خالص ایجینسی کا ھے کوئی کابلی مال نہیں ھے ،، ھم نے اپنی عقل کا جواب دینا ھے ،،، علم کے جتنے ذرائع اور وسائل اور مجموعی ذخائر ھمیں دستیاب ھیں اسلاف تو خواب میں بھی نہیں سوچ سکتے تھے ،، بندے کے پاس موٹر سائیکل ھو تو وہ اس پر سوار ھونے کی بجائے اگر اس لئے صرف گھسیٹ کر لے جا رھا ھو کہ چونکہ میرے ابا نے موٹر سائیکل کی سواری نہیں کی تھی لہذا میرا سواری کرنا گستاخی ھو جائے گی اور میں ابا جی سے کٹ جاؤنگا تو اس کو نادانی کہتے ھیں ،، یہی معاملہ علم کے ساتھ بھی ھے ،،، علم نام کس چیز کا ھے ؟ اللہ اور رسول ﷺ کے احکامات اور انسان کے حالات ضرب کھاتے ھیں تو عمل کا فارمولہ نکلتا ھے ،، اگر ھم واقعات و حالات کو 1400 پہلے کے ساتھ نہیں باندھ سکتے تو علم کو کیسے مجبور کر سکتے ھیں کہ وہ پیچھے کی طرف دوڑے ،، اب Inhaler کے بارے میں پچھلے کیا بتا سکیں گے ؟ بلڈ ٹیسٹ کے بارے میں وھاں سے کیا جواب ملے گا ،، مردہ انسان کا سپرم جو محفوظ کر لیا گیا تھا اس سے بچہ پیدا کرنے کے بارے میں پچھلوں سے کیسے پوچھیں گے ،،؟ دل اور گردے ٹرانسپلانٹ کرانے کے بارے میں وہ کیا جواب دیں گے ؟ کیا ان کے زمانے میں گردے اور آنکھیں ڈونیٹ ھوتی تھیں ،جب یہ سہولت ھی موجود نہیں تھی تو وہ اس کا عملی جواب کیونکر دے سکتے ھیں ،، الغرض بہت ساری چیزیں ایسی ھیں جن میں ھمیں نئے نئے زاویئے تلاش کرنے ھونگے ، ان کے بارے میں اختلاف لازمی ھے کیونکہ یہ علمی رائے ھے جو ایک کی دوسرے سے مختلف ھو سکتی ھے ، اس کے بارے میں کسی کو مجبور کرنا کہ وہ ایک ھی مسلک کی تشریح کو قبول کرے کہاں کا عدل ھے ؟ پھر خود ان ائمہ کے اپنے حالات ھیں جب وہ تین براعظموں پر حکومت کرتے تھے تو ان کے فتوؤں میں بھی امریکن رعونت جھلکتی تھی ، آج جب ھم فرش پہ پڑے ھیں تو فتوے بھی آج کے حالات کے مطابق ھونگے تو عمل میں بھی آئیں گے ورنہ بس کتابوں اور دفتروں میں ھی بند رھیں گے ،،، کل جب وہ ذمی تھے تو ھمارا ان کے ساتھ کھانا پینا یا میل جول رکھنا قابلِ تعزیر جرم تھا ،، آج ھم ذمی ھیں تو فتوی تبدیل ھو گا ،،

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *