Home / Q & A / اسلام میں عورت کا مقام (سوالات)

اسلام میں عورت کا مقام (سوالات)

ماشاء اللہ اسلام میں کا بڑا مقام ہے لیکن جو لوگ مندرجہ ذیل سوالات کرتے ہیں اس کے بارے میں کیا خیال ہے
1 لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر میں سے کوئی عورت نبی بنا کر کیوں نہیں بھیجی گئی؟
الجواب۔ عورت کو پیغمبری سے اعلیٰ مشن سونپا گیا ہے،وہ پیغمبر پیدا کرتی اور ان کی دیکھ بھال کرتی ہے۔
عورت کو جنت میں کیا ملے گا اس کے بارے میں میں قرآن میں کیوں کوئی واضح انعامات نہیں؟
الجواب۔
اس لئے کہ جنت میں مرد و زن سب کو ایک جیسی سہولیات دستیاب ہو گی۔ جیسے دنیا میں سب مرد و زن پر برابر فرض ہے لہذا عورتوں کو الگ سے عبادت کا حکم نہیں دیا گیا۔
عورت کی گواہی مرد سے آدھی کیوں ہیں؟
الجواب ۔
عورت کی گواہی آدھی نہیں بعض صورتوں میں تو چار مردوں کے مقابلے میں اکیلی دائی کی گواہی طاقتور ہوتی ہے۔ کیا ڈبل بینچ کا فیصلہ آدھا ہوتا ہے؟ یا چار ججز کے بینچ کا فیصلہ چوتھائی ہوتا ہے؟
عورت کا وراثت میں حصہ مرد سے کم کیوں رکھا گیا؟
الجواب۔
باپ اپنی بیٹیوں کو ساری جائداد بھی دے دے تو جائز ہے۔ ایک بیٹی کو دو بیٹوں کے برابر بھی دے سکتا ہے،شریعت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ اگر کوئی لاعلمی کی وجہ سے بیٹیوں کے نام لگائے بغیر مر جائے تو پھر ماں اور باپ کو برابر چھٹا حصہ ملتا ہے کیا ماں عورت نہیں؟ بیٹے کو ڈبل اس لئے کہ ایک اس کا اور ایک اس کی بیوی پالنے کا، جبکہ بیٹی نے شوھر پالنا نہیں الٹا شوھر سے نان نفقہ لینا ہے لہذا اس کو سنگل دیا گیا ہے۔
عورت کو منحوس کیوں کہا گیا میں؟
الجواب۔
عورت کو منحوس قرآن نے ہر گز نہیں کہا،بلکہ برکت والی کہا ہے کہ جس کے پاس کھڑے ہو کر پیغمبر زکریا علیہ السلام نے مانگی تو رب نے قبول کر لی۔ روایت میں بھی یہی کہا گیا ہے کہ اگر نحوست نام کی کوئی چیز ہوتی تو فلاں فلاں میں ہوتی،(مگر نہیں ہے )
یہ “اگر” کہہ رہی ہے کہ نحوست کوئی چیز نہیں،جیسے اللہ پاک فرماتا ہے کہ قل ان کان للرحمن ولد فانا اول العابدین،کہہ دیجئے کہ”اگر” رحمان کا بیٹا ہوتا تو میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرنے والا ہوتا، ( مگر نہیں ہے )
اسلام میں عورتوں کا مقام صرف باتوں میں ہیں مثلا جنت ماں کے قدموں تلے ہیں حقیقت میں وراثت میں اس کا حصہ بیٹے یا باپ جتنا نہیں۔
الجواب۔
وراثت میں ماں کا حصہ باپ جتنا ہی ہے یعنی چھٹا حصہ۔ وراثت ذمہ داریوں کی نسبت سے تقسیمِ کی گئی ہے مقام و مرتبے طے کرنے کے لئے نہیں۔
قاری حنیف ڈار۔
سوالات سلمان راجپوت

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *