Home / Islam / The Knowledge of physical Sciences And The Knowledge of Normative Sciences !

The Knowledge of physical Sciences And The Knowledge of Normative Sciences !

دینی اور دنیاوی علوم کا مخمصہ !

اللہ پاک نے جب انسان کو پیدا فرمانے کا اعلان فرمایا تو فرشتوں نے عرض کیا کہ مالک کیا ھم سے عبادت میں
کوئی کوتاھی ھو گئ ھےجو نئی تخلیق کی ضرورت پڑی ،ھم صبح شام آپکی تسبیح و تحمید کر تو رھے ھیں، ارشاد باری تعالی ھوا کہ میں وہ جانتا ھوں جو تم نہیں جانے،، انسان جب بن گیا تو وقت آیا کہ فرشتوں کو ان کے سوال کا عملی جواب بھی دیا جائے کہ نئی مخلوق میں کچھ ایسے فنکشز ھیں جو سابقہ مخلوقات میں نہیں تھے، تخلیق کا یہ نیا شاہکار اپنے اندر پوری کائنات رکھتا تھا،، زمین پر خلیفہ چاھئے تو اُسے زمین پر قابو پانے والا اور قبضہ جمانے والی صلاحیتوں سے مالا مال ھونا چاھئے تھا، علم الاسماء کی کلاس لگی اور فزکس کیمسٹری سب کو ھی پڑھائی گئ مگر،فرشتوں کے تو وہ سر سے ھی گزر گئ اللہ پاک نے فرشتوں سے سوال کیا کہ جو چیزیں اور نام آپ کو پڑھائے گئے تھے ذرا سنا دیجئے، فرشتوں نے سبحان اللہ و بحمدہ سنایا اور کہا کہ ھمیں تو سوائے اس کے جو آپ نے پہلے پڑھایا تھا اور کچھ یاد نہیں- اس پر خالق نے آدم علیہ السلام کی طرف متوجہ ھو کر فرمایا اے آدم ذرا سنا دے ان چیزوں کے نام اور ان کے خواص ان فرشتوں کو، اور آدم علیہ السلام نے سارے فارمولے اور ساری ویلینسیاں سنا دیں،، بَیس اور ایسڈ بھی بتا دیا،، اب اللہ پاک نے فخریہ انداز میں فرشتوں سے خطاب فرمایا کہ میں نے تم سے کہا تھا ناں کہ جو میں جانتا ھوں وہ تم نہیں جانتے؟ حضرات جو علم اللہ پاک نے سب سے پہلے آدم علیہ السلام کو سکھایا تھا وہ وھی مظلوم علم ھے جسے آج کل علماء یہودی علم،کافر علم، دنیاوی علم کہتے اورطرح طرح سے اس کی اھانت اور مخالفت کرتے ھیں،، حالانکہ یہ اس دوسرے علم سے پہلے سکھایا گیا جس پر ھمارے علماء بڑا ناز کرتے ھیں اور اسے مقدس علم کہتے ھیں،، اور اسی علم الاسماء کی وجہ سے آدم علیہ السلامنے فرشتوں پراپنی فوقیت ثابت کی تھی ، فرشتوں اور آدم علیہ السلام کے درمیان مقابلہ دعائے قنوت سنانے یا چھ کلمے سنانے کا نہیں ھوا تھا،نہ غسل اور وضو  کے فرض پوچھے گئے تھے اور نہ نماز کے ارکان و شرائط

علم کی دوسری قسم وہ تھی،جسے حلال وحرام کا علم کہتے ھیں جسے شریعت کہتے ھیں،، اور یہ مقابلہ اب آدم علیہ السلام اور شیطان کے درمیان تھا،، اور ستم ظریفی دیکھئے کہ سائنسدان آدم علیہ السلام شریعت کے پرچے میں چاروں شانے چت ھو گئے،، گویا جس علم میں آدم جیت گئے وہ ھو گیا منحوس ( ھمارے علماء کے نزدیک) اور جس میں ھار گئے آج تک اس کا نتیجہ بدلنے کی سعی کر رھے ھیں ھم لوگ ! اللہ پاک نے واضح کر دیا تھا کہ آدم آپ سائنس کے زور پر علم الاسماء کے زور پر زمین پر قبضہ تو کر سکتے ھو،مگر اس زمین کو عدل و اںصاف سے چلانے کے لئے ایک اور علم کی ضرورت ھے،جسے علم الہدی کہتے ھیں اور ڈاؤن لؤڈ کرنا پڑے گا آپ کو( عربی میں ڈاؤن لوڈ کے خانے میں تنزیل لکھا ھوتا ھے) اب اس شیطان کے مقابلے کے لئے ھر زمانے میں آپ کو ھدایات بھیجی جاتی رھیں گی اور اگر آپ ان اپ ڈیٹس کو انسٹالٹ کرتے رھے تو تمہیں ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں لا خوفٓ علیھم ولا ھم یحزنون !
ان دونوں علوم کو ابن خلدون نے کچھ یوں تقسیم کیا ھے کہ ” علم کی دو قسمیں ھیں جو دونوں مل کر ھی العلم کہلاتی ھیں،،ان میں سے ایک قسم لولا لنگڑا علم ھو گا، العلم نہیں ھوگا،جس طرح انسان جسم اور روح کے مجموعے کا نام ھے،ان میں سے ایک بھی رخصت ھو جائے تو لامحالہ دوسرا اپنی اھمیت کھو دیتا ھے، العلمُ علمان،علم الابدان و علمُ الادیان،، العلم دو علم ھیں دی نالج آف فزیکل سائنسیز اینڈ دی نالج آف نارمیٹو سائنسیز !! دونوں علوم اللہ کے تعلیم کردہ اور مقدس ھیں ایک انسان کے اندر رکھ دیا ھے،جو اس پہ محنت کرتا ھے ،بلاتفریق و ملت وہ اس میں مہارت حاصل کرتا ھے،کیونکہ وہ چاھے کسی مذھب سے تعلق رکھتا ھو وہ بیٹا آدم علیہ السلام کا ھی ھے اور اس مٹی کا حصہ ھے جس میں علم الاسماء ودیعت کیا گیا تھا،،اس علم کے نتائج کو اچھائی اور برائی دونوں کے لئے برابر استعمال کیا جا سکتا ھے،جس طرح اللہ کی تخلیق کردہ دیکھنے، سننے ،بولنے اور سوچنے،پلاننگ کرنے اور عمل کرنے کی صلاحیتوں کو منفی یا مثبت انداز میں استعمال کیا جا سکتا ھے،اگر اللہ ان صلاحیتوں کو پیدا کر کے ان کے منفی استعمال کا الزام اپنے سر نہیں لیتا،اسی طرح سائنسی ایجادات کے منفی استعمال کی بنیاد پر سائنسی علوم کے تقدس کو ختم نہیں کیا جا سکتا، جن لائٹوں سے روم کے جؤا خانے اور کسینو دمک رھے ھیں ،اسی کمپنی کی لائٹوں سے مکی حرم اور مدنی حرم جگ مگ کر رھے ھیں،، جس ساؤنڈ سسٹم سے جاز اور ڈسکو چل رھے ھیں اسی ساؤںڈ سسٹم سے حرمین کی نمازیں اور تراویح کی روح پرور صدائیں ساری دنیا سنتی ھے !

جب بھی کوئی تقسیم جنم لیتی ھے چاھے وہ ملکوں مین ھو یا گھروں میں ھو یا علمی اصطلاحات میں ھو وہ ضرور اپنے سائڈ افیکٹس دکھاتی ھے، علم کی تقسیم کا منظر آپ دیکھ چکے،مگر اس کی بنیاد کس نے ڈالی وہ پہلا مجرم کون تھا ؟ کیونکہ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو ان دونوں علوم کو دینی علوم ھی کہتے ھیں،، نبی کریمؐ نے جب مکے کے قیدیوں سے یہ معاھدہ کیا کہ ان میں سے پڑھے لکھے قیدی اگر ھمارے دس آدمیوں کو پڑھنا لکھنا سکھا دیں تو ان سے فدیہ نہیں لیا جائے گا تو وہ کونسا علم تھا؟ جامعہ بنوریہ والا تو خود حضورؐ کے پاس تھا،، کیا مکے کے مشرکوں نے مسلمان طالبِ علموں کو حدیث کی قسمیں اور اصطلاحات سکھانی تھی یا بغدادی قاعدہ پڑھانا تھا؟؟؟ وہ کون سا علم تھا جس سے مدینے والوں کے سینے منور کرنے کے لئے نبیؐ معاھدہ کر کے اپنی موجودگی کے باوجود کافروں سے وہ علم اپنی امت کو سکھانا چاھتے تھے؟؟ وہ علم جو نبی سکھانے کا معاھدہ کریں ناپاک کیسے ھو گیا ؟ اگر مکے کا مشرک پڑھائے تو نبیؐ کو قبول،مگر مسٹر جارج پڑھائے تو مفتی ایکس وائی زیڈ کو نامنظور ؟ الغرض اللہ کو بھی علم الاسماء پر کوئی اعتراض نہیں اور نبیؐ پاک نے اپنے عمل سے بتا دیا کہ اگر علم الاسماء کافر بھی پڑھائے تو نبیؐ کو کوئی اعتراض نہیں بلکہ انعام میں کافر کو کفر کے باوجود بری بھی کیا جاتا ھے اسلامی تاریخ میں پہلی بار جس شخص نے علومِ شرعی کی اصطلاح استعمال کی وہ کوئی عالم و مفکر نہ تھا، اس کی شہرت کتابیات کے مرتب کے حوالے سے ہے۔ ابو عبداللہ محمد بن احمد بن یوسف الکاتب الخوارزمی نے ‘مفاتیح العلوم’ کے نام سے کتابوں کی ایک فہرست مرتب کی تھی جسے اس نے سہولت کی خاطر دو حصوں میں تقسیم کیا تھا۔ پہلا حصہ العلوم الشرعیہ پر مشتمل تھا اور دوسرے حصے کی تخصیص علوم العجم کے نام سے کی گئی تھی۔ کسے معلوم تھا کہ ایک کاتب اور فہرست ساز کی اس تقسیم کو آگے چل کر اتنا اعتبار مل جائے گا کہ غزالی جیسا حجۃ الاسلام اور نابغہ روزگار شخص بھی علم کو علوم شرعیہ اور علوم غیر شرعیہ کے خانوں میں منقسم دیکھے گا۔ اور پھر یہ التباس فکری ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ذہن کا حصہ بن جائے گا۔ گویا علم کو دو اصطلحات میں بانٹنے کی جو غلطی ایک عام سے شخص نے کی تھی اسے نہ صرف اپنا کر بلکہ اس کو مزید ڈیفائن کر کے حجۃ الاسلام امام غزالی نے اسے اپنی علمی شخصیت کا وزن بھی دے دیا،جس نے کہا ھے سچ کہا ھے کہ ماسٹرز آر مانسٹرز بڑے لوگ ھی وہ عفریت بنتے ھیں جو قوموں کے لئے عفریت بن جاتے ھیں،بڑے کی غلطی بھی بڑی ھوتی ھے،، امام صاحب اگر چاھتے تو اس اصطلاح کو علوم العرب اور علوم العجم کی اصطلاح بھی دے سکتے تھے کیونکہ چیزیں اپنی ضد سے پہچانی جاتی ھیں،شام کی ضد صبح ھے اور دن کی ضد رات ھے علوم العجم کی ضد علوم العرب تھی نہ کہ علوم الشرعیہ تھی،، امام نے اس غلطی کو درست کرنے کی بجائے اس کا غلط آپریشن کیا اور خراب گردے کی بجائے ٹھیک گردہ نکال دیا ،، وہ شرعی کے بالمقابل غیر شرعی علوم کو لے آئے ،یوں علم الاسماء غیر شرعی علم قرار پایا اور پھر یہ تقسیم مذھبی طبقے کا اوڑھنا بچھونا بن گئی، شرعی علوم میں چونکہ دنیا کی کمائی کم تھی لہذا اس کمی کو آخرت کے بارے میں اجر اور اجرت کے نام پر خوب بڑھاوہ دے کر پورا کیا گیا،،پھر ھر مذھبی گھرانے کا بچہ یہ ذھن لے کر پیدا ھونا شروع ھو گیا، میں نے یہ مصیبت گھر میں بھگتی ھے،میرے دادا جان نے دادی جان کو دور سے ڈنڈا پھینک کر مارا جو ان کے اوپر کے ھونٹ پر جا کر لگا اور ناک کے نیچے سے ھونٹ کٹ گیا،سرجری کا زمانہ نہ تھا ھونٹ خود ھی جیسا بھی جڑ سکا جڑ گیا اور وہ نقص جین میں ٹرانسفر ھو گیا، پھر ھم نے ان کے پوتوں اور پوتیوں کو یہ عیب لے کر پیدا ھوتے دیکھا، ٹھیک اسی جگہ ناک کے نیچے سے ھونٹ کٹا ھوا پیدا ھوتے،پھر ھولی فیملی اسپتال سے ان کی سرجری کرائی جاتی،، گویا پہلا ھونٹ تو سبب سے کٹا تھا مگر بعد میں بلا سبب کٹے ھونٹ والے پیدا ھوتے رھے،اس کا نام ارتقاء ھے، اب یہ تقسیم پیدائشی بن چکی ھے کہ قرآن وحدیث کا علم دینی اور مذھبی اور مقدس علم ھے جبکہ اس کے علاوہ تمام علوم دنیاوی ،غیر شرعی اور غیر مقدس ھیں ان علوم کی تحصیل میں راتوں کا جاگنا کوئی اجر و ثواب نہیں رکھتا، اور ان میں مغز کھپانا کوئی عظمت نہیں رکھتا، یہ کانسپٹ بلا دلیل ھے، مذھبی طبقے کی ھٹ دھرمی ھے، اس کے سوا کچھ نہیں –قرآن وحدیث اس معاملے میں ان کی حمایت نہیں کرتے وہ علم الاسماء اور علم الھدی کو برابر کا مقام دیتے ھیں بلکہ سورہ الکہف میں اللہ پاک نے ذوالقرنین کے واقعے میں زمین پر تمکن یعنی قبضہ اور اللہ کی طرف سے فراھم کردہ اسباب کے استعمال پر بار بار ذوالقرنین کی تعریف کی ھے اور اسباب کو استعمال کر کے سدِ سکندری کی تعمیر کو دفع فساد کے لئے موثر قرار دیا ھے،، اور بار بار ثمہ اتبع سبباً پھر اس نے اسباب کو استعمال کیا اور مغرب تک جا پہنچا،،پھر اسباب کو استعمال کیا اور مشرق تک جا پہنچا، یہ ساری بحث اللہ نے اسباب کے حصول اور اس کے استعمال کو تقدس عطا فرمانے کے لئے کیا ،مگر ھر جمعے کو سورہ الکہف کا ورد کرنے والے کبھی اس پر غور نہیں کریں گے – اصطلاح کی دھشتگردی کا یہ پہلا نمونہ تھا کہ بلا سوچے سمجھے کوئی اسطلاح استعمال کر لینا کس طرح قوموں اور امتوں کی ذھنی موت کا سبب بن جاتا ھے، بالکل اسی طرح جیسے کیڑے مار دوا کا کھا لینا بندہ مار دیتا ھے- ستم در ستم یہ ھوا کہ جب شرعی علوم کی تقسیم کی گئ تو اب ایک نئی اصطلاح ایجاد کی گئ جو نہ تو قرآن میں تھی نہ حدیث میں تھی اور نہ ھی صحابہ کے دور میں تھی، فقہا نے جب علم مرتب کرنا شروع کیا تو رسوم کو ایک نام دیا عبادات،، باقی کی تقسیم معاشرت،معاملات ،آداب وغیرہ کی اصطلاحات سے کی،یوں عبادات کے ٹائٹل سے چند ظاھری رسوم کو محدود کر دیا ،اگر آپ ان کو ادا کر دیتے ھیں تو اپ نے بندگی کر دی اور وہ غایتِ تخلیق پوری کر دی جس کے لئے اللہ پاک نے انسان کو تخلیق فرمایا تھا، وما خلقتُ الجن والانس الا لیعبدون،، یوں ایک بے رحم آپریشن کے ذریعے عبادت اور معاملات کو جڑواں بچوں کو الگ کرنے کے آپریشن کی طرح الگ کردیا گیا،، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمان کردار سے تہی دست ھو گیا، پانچ وقتہ نمازی سات وقتہ رشوت خور بن گیا ،کیونکہ وہ مسجد میں بندگی ادا کر کے بندہ بن آیا ھے،ڈیوٹی ادا کر آیا ھے،اب بازار، دکان، کھیت، عدالت،دفتر اور گھر اس کی ایکسٹرا کریکلم ایکٹیویٹیز کا میدان ھے جیسے چاھے گا کرے گا،اس فقہی تقسیم نے مسلمان کے اندر دو کِٹس لگا دیں،جیسے سی این جی اور پیٹرول کی کٹ ھوتی ھے،جب دل کیا سی این جی کا بٹن دبا لیا اور جب چاھا پیٹرول پہ کر لیا،، مسجد کا خدا خوف مسلمان جو شلوار اونچی کر لیتا ھے،ٹوپی نکال کے سر پہ رکھ لیتا ھے،ریح خارج ھو جائے تو صف چھوڑ کے نکل آتا ھے کیونکہ اس کا یقین ھے کہ پبلک کو بےشک پتہ نہ چلے اس کے رب کو پتہ چل گیا ھے کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا ھے، مگر یہی خدا خوف جب مسجد سے نکل کر کسی کا جوتا پہن لیتا ھے،یا کم تولتا اور کم ماپتا ھے، بولتا اور اس پر قسم کھا لیتا ھے،ملاوٹ کرتا ھے تو اسے ایک لمحے کے لئے بھی یہ یقین نہیں ھوتا کہ مسجد والے اتنے الرٹ خدا کو جسے رتی بھر ھوا کا پتہ چل گیا تھا،اس کے ان سارے کرتوتوں کا پتہ چل گیا ھے ،، وہ اسی وضو میں جاکر اگلی نماز پڑھ لیتا ھے،رتی بھر ھوا سے وضو ٹوٹ جاتا ھے مگر دس لیٹر پانی دودھ میں ملا دو وضو نہیں ٹوٹتا،، ایک متشرع شخص کو رشوت لیتے وقت بار بار اصرار سے یہ کہتے سنا اور گھڑی کی طرف بے قراری سے بار بار دیکھتے دیکھا ھے کہ جلدی کرو میری جماعت نکل جانی ھے، اور رشوت لے کر جلدی میں گنی بھی نہیں فوراً جیب میں ڈال لی ھے کہ جماعت نکل جائے گی اور یہ رشوت بھی بی اے کے امتحان میں انگلش کے پیپر پر زیادہ مارکس دینے کے بارے میں تھی ! یہ ھے صرف ایک جھلک اصطلحات کی تباہ کاری کی کہ جس نے بدروحوں پر مبنی ایک معاشرہ اٹھا کھڑا کیا ھے،

دین اور دنیا کے نام پر علم کی غیر منصفانہ تقسیم !

علم تو علم ھے،، اس کا استعمال دینی اور دنیاوی دونوں مقاصد کے لئے کیا جا سکتا ھے،،جو دنیاوی علم کے نام سے ڈاکٹر بنتے ھیں چاھیں تو اس علم کو روٹی کمانے کے ساتھ انسانیت کی خدمت کے لئے استعمال کر سکتے ھیں،، اور جو اس کو دین کے نام پر آٹھ دس لگا کر حاصل کرتے ھیں وہ بھی آخر روٹی ھی کماتے ھیں،، اگرچہ اسے دینی ضرورتوں کے لئے بھی استعمال کرتے ھیں،، سارے حافظ بن کر مسجدوں میں بھی نہیں بیٹھ سکتے،،پھر نہ صرف معاشرے کی دیگر ضرورتیں پوری نہیں ھونگی بلکہ حافظوں کو تنخواہ دینے والے اور مساجد تعمیر کرنے والے بھی نہیں ملیں گے،،یہ بڑی بڑی درسگاھیں اور جامعات دنیا داروں کے سر پر چل رھی ھیں،، شیخ الحدیثوں کے سر پر نہیں،، اس لئے علم کی دینی اور دنیاوی تقسیم کر کے ایک طبقے کو احساسِ کمتری میں مبتلا کرنا اور دوسرے کو ھِز ھولی نیس بنا دینا درست نہیں،، دونوں اللہ کی رضا و مشیئت کو پورا کرتے ھیں،، اب آپ اپنے بچے کی صلاحیت دیکھیں اور اس کے مطابق استعمال کریں،، آج کی دنیاوی تعلیم پرانے زمانے کی طرح نہیں ھے۔۔بلکہ بہت جان مار اور ھمہ جہتی اور ھمہ وقتی کام ھے،، بچہ اسکول پڑھے گا تو بہت مشکل سے اسکول کو ھی کور کر سکے گا،، آدھا یہ آدھا وہ کرنے کا زمانہ گزر گیا،، آج کل ایف اے بی اے کل کے مڈل اور میٹرک کے برابر ھے،، قرآن حفظ کرنا فرض نہیں البتہ اس پر عمل کرنا فرض ھے،، تعلیم گھر سے شروع ھوتی ھے اور پیدا ھوتے ھی بچہ سیکھنا شروع کر دیتا ھے،، یاد رکھئے سچ کتابوں میں پڑھا کر نہیں سکھایا جا سکتا،، سچ بول کر سکھانے کی چیز ھے،، بچہ پیدا ھوتے ھی والدین کو سمارٹ ھو جانا چاھئے اور اپنی بری عادات ختم کر دینی چاھئیں،، اگر اپ چاھتے ھیں کہ بچہ سگریٹ نہ پیئے تو آپ خود مت پیجئے پچہ بھی نہیں پیئے گا،، جھوٹ مت بولیئے،، ایک دوسرے کو گالیاں مت دیجئے،، صلہ رحمی کیجئے،،سسرال کی عزت کیجئے،، والدین کی باتوں کو برداشت کیجئے اور اپنی کے سامنے انہیں برا مت کہیئے،، بچہ گریجوئیٹ ھو جائے تو کسی بھی ادارے سے قران کا تین ماہ کا کورس کر لے تو جمعہ جماعت کرانے کے قابل ھو جائے گا اور یوں جاب کے ساتھ ساتھ اس طرف کی صلاحیت بھی بڑھاتا رھے گا،، اپنی روٹی خود کما کر بغیر تنخواہ لیئے جو بھی جمعہ پڑھانے گا، بےخوف ھو کر حق بیان کرے گا ،، ورنہ روٹی کی مجبوری اسے حق سے روکے رکھے گی اور وہ صرف دنیا کا بن کر رہ جائے گا،، فمثلہ کمثل الکلب، ان تحمل علیہ یلھث او تترکہ یلھث ،، غیروں کی روٹی پہ حق کا تبیان کتنا مشکل کام ھے یہ وھی جانتے ھیں جو ایک سال میں دس مسجدیں بدلتے ھیں یوں ان کے بچے تعلیم سے بھی محروم رھتے ھیں ! دوسرا طریقہ یہ ھے کہ بچے کو میٹرک کے بعد کسی اچھی سی جامعہ میں ڈال دیں،،اور اسے عالم بننے دیں،مگر پھر بھول جائیں کہ اس سے دنیا کی کمائی کرانی ھے،اس کو کوئی بزنس وغیرہ کرا دینا جہاں سے اس کی روٹی چلتی رھے،، میرا ذاتی خیال یہ ھے کہ جامعات کو خام مال جہاں سے ملتا ھے وہ ایک ندی کی طرح خود بخود انکی طرف رواں دواں ھے اور یونیورسٹیوں کو جہاں سے خام مال ملتا ھے ان کی ندی بھی ان کی طرف رواں دواں ھے،، دینی مدارس والے بچے آتے ھی ان گھرانوں سے ھیں جہاں پیاز اور لسی چٹنی کے ساتھ بھی روٹی بخوشی کھا لی جاتی ھے،اور یہی کچھ آج کل مدارس سے نکلنے والوں کو ملتا ھے 99 فیصد،،! اب کل ایک بھائی کے بچے پراڈو میں پھریں اور دوسرے کے سائیکل چلائیں تو بھائی ھوتے ھوئے بھی آپس میں رشتے ناتے کرنا مشکل ھو جاتا ھے،یوں خاندان بھی بکھر جاتا ھے،، یہ کوئی ایک بچے کا مسئلہ نہیں،، بہتر یہ ھے کہ اگر آپ اسے ڈاکٹر یا انجینئر بنا سکتے ھیں تو بنا دیں،، دین کورسز کی صورت سیکھا جا سکتا ھے ! عام طور پر علماء کی جانب سے طنز کیا جاتا ھے کہ پھر جنازہ اور نکاح بھی اسی مولوی سے پڑھاتے ھو،، یا نکاح اور جنازہ بھی بش سے یا ٹونی بلیئر سے پڑھوا لینا ! تو جناب نکاح اور جنازہ دونوں مولوی کے بغیر پڑھائے جا سکتے ھیں،، کورٹ میں نکاح ھو سکتا ھے چاھے جج یا میجیسٹریٹ عیسائی ھی کیوں نہ ھو،، خطبہ نکاح کے فرائض میں سے نہیں اور خطبہ نکاح کا مقصد دونوں میاں بیوی کو ان کے حقوق و فرائض بتانا ھوتا ھے جو کہ لوگ بتاتے ھی نہیں اور عربی پڑھ کر چل دیتے ھیں،، جنازہ وارث کو پڑھانا چاھئے یعنی بیٹے یا پھر بھائی یا باپ کو ،، عربی میں دعا نہیں آتی تو اللہ کی تعریف اپنی زبان میں بھی کر سکتا ھے،درود نماز والا پڑھ سکتا ھے اور دعا بھی اپنی زبان میں کر سکتا ھے ! مگر پلٹ کر کوئی یہ کہہ دے کہ سرکار پھر آپ بھی مدرسے مفتی فلاں صاحب اور فلاں شیخ الحدیث سے بنوا لینا،، ایک ایک کروڑ کی چھت بھی یہی دنیا دار اور بزنس مین ھی ڈلوا کر دیتے ھیں جن کی دنیا داری کو آپ حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ھیں،، کہتے ھیں منہ کھائے اور آنکھیں شرمائیں،، مگر ھمارے ساتھیوں کی آنکھیں بھی نہیں شرماتیں،، کہ ان ھی کے آگے تنخواہ بڑھانے کی درخواست بھی پیش کرتے ھیں اور اپنی مجبوریاں بھی گڑگڑا کر بیان کرتے ھیں،، مگر اگلے جمعے ان کے پیچھے بھی لگے ھوتے ھیں،، اوپر والا ھاتھ نیچے والے ھاتھ سے بہتر ھے،، دین کا علم اور دنیا کا علم بجلی کے نیگیٹیو پازیٹیو تاروں کی طرح ھیں،، دونوں سے دین اور دنیا چل رھے ھیں،،اور کوئی ان میں برا نہیں،، جس کی صلاحیت بچے میں ھو وہ اس کی پسند اور خواھش پر چھوڑ دیں ! اس ساری کہانی کے پیچھے ایک غلط فہمی ھے کہ دنیا کمانے کا ھنر سیکھنا ایک گھٹیا کام ھے اور دنیا داری ایک بری بات ھے اور دنیا ایک آلائش ھے،، جبکہ یہ قرآن کے خلاف سوچ ھے،، قرآن تو مال کو خیر اور اللہ کے فضل سے یاد کرتا ھے،ان ترک خیراً اگر اس نے خیر چھوڑی ھے یعنی مال چھوڑا ھے،، اور جمعے کے بعد جاؤ اللہ کا فضل ڈھونڈو،، مال اپنی ذات میں خیر ھی خیر ھے البتہ اس کا استعمال اچھا بھی ھے برا بھی ھے،، میں جب کہتا ھوں کہ ھمارے مولوی حضرات جب دنیا کی مذمت کچھ زیادہ ھی شد و مد اور بغیر کسی استثناء کے کرتے ھیں وہ اصلاً ایک جزبہ رقابت کے تابع کرتے ھیں ،،کہ چونکہ ھمیں نہیں ملی اس لئے بری ھے، ورنہ نبی پاک ﷺ کا غزوہ تبوک پر بار بار یہ اعلان کہ کون ھے جو سو اونٹ تیار کر کے دے اور جنت لے لے اور چھ بار حضرتِ عثمان کا اٹھ کر اعلان کرنا کہ میں سو اونٹ دیتا ھوں یوں چھ سو اونٹ انہوں نے اللہ کی راہ میں دیئے یہانتک کہ خود حضور ﷺ نے فرمایا کہ بس کر عثمان جنت تیری ھی ھے ! اسی طرح بینکنگ کے معاملات میں بھی ھم حقائق سے نظریں چرا کر فتوی لگاتے ھیں کہ جو شخص بینک میں کام کرتا ھے اس کی دعوت کھانا حرام ھے،، سوال یہ ھے کہ جس بزنس مین نے تقی صاحب کی جامعہ کے وضو خانے جو ایک کروڑ کی لاگت سے تیار ھوئے تھے،،مفتی رفیع صاحب کی ناگواری کی وجہ سے کیونکہ انہیں وہ پسند نہیں ائے تھے،،دوبارہ خرچہ کر کے تڑوا کر پھر ایک کروڑ کے خرچے سے بنا کر دیئے،، کیا وہ بزنس بینک کے ذریعے نہیں کرتا ھو گا ؟ آج کل کونسا ایسا بزنس ھے جس میں ایک بندہ اربوں کما رھا ھے اور بینک کو استعمال نہیں کرتا ھو گا ،، دعوت چونکہ چھوٹے درجے کا گناہ ھے اس لئے ناجائز ھے، البتہ جامعہ پہ کروڑوں لگا دے تو پھر بینکنگ حلال ھے ! ڈاکٹر اور انجینئر بن کر لاکھوں کما کر مساجد اور مدارس بنا کر بھی صدقہ جاریہ بنایا جا سکتا ھے،، صرف حفظ نہیں بلکہ حفظ کے انتظامات کر کے بھی سارے حافظوں جتنا اجر کمایا جا سکتا ھے،، یتیموں کی کفالت جس کی بشارت نبیﷺ نے دی ھے کہ اس کی جنت میری جنت سے یوں جڑی ھو گی جس طرح شہادت کی انگلی درمیان کی انگلی سے جڑی ھے ،وہ بھی اپنی کمائی کرنے والا ھی کر سکتا ھے،، مولوی صاحب نہیں،، پھر کفالت بھی اس طرح کہ اسے جیب کترا نہیں بنانا بلکہ تعلیم دلا کر ایک مفید انسان بنانا ھے،، یہ یتیموں اور بیواؤں کی کفالت بھی یہی دنیا دار ھی کر سکتے ھیں،، اپنے بچے کو کھلانے والا شہباز بنائیں،،

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *