Home / Humanity / Family / ازدواجیات ! گھر کی خرابی نہایت ہی معمولی باتوں سے شروع ہوتی ھے

ازدواجیات ! گھر کی خرابی نہایت ہی معمولی باتوں سے شروع ہوتی ھے

گھر کی خرابی نہایت ہی معمولی باتوں سے شروع ہوتی ھے اور نہایت ہی آئستہ آئستہ ہوتی ہے ، یہ چھوٹی چھوٹی باتیں سردیوں کی جھڑی کی طرح گھر کی چھت میں سنچتی رہتی ہیں اور پھر اچانک پتہ چلتا ہے کہ چھت اپنے مکینوں پر گر پڑی ہے ، گھر بستے بھی زبان سے ہیں اور اجڑتے بھی زبان سے ہیں ، یہ زبان نہیں ایک نہایت ہی زہریلا سانپ ہے جس ڈسا پانی نہیں مانگتا مثلاً ؎
شوہر کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ،، بیوی کو بتایا کہ ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے ـ
بیوی کا فوری جواب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ تو ٹھیک ہیں ناں ؟ اللہ کا شکر ہے آپ بچ گئے ہیں ، آپ سلامت ہیں تو سب ٹھیک ہے ، وغیرہ وغیرہ ،، اس وقت شوہر کا دل و دماغ ایسی ہی کوئی بات سننے کو ویسے ہی منہ کھولے کھڑا ہوتا ھے جیسے کیش ڈیپازٹ والی مشین کا منہ کیش وصول کرنے کے لئے کھلا ہوتا ھے ،
مگر اس کُھلے ہوئے دل و دماغ میں جاتا کیا ، آپ کونسا گاڑی آئستہ چلاتے ہیں ، ایف سولہ بنائی ہوئی ھوتی ھے ، کئ بار سمجھایا ہے کہ گاڑی آئستہ چلایا کریں مگر آپ نے قسم کھائی ہوئی ہے کہ میری بات نہیں ماننی میری بات ماننے سے آپ کی شان جو گھٹتی ہے ، آپ کی مردانگی متأثر ہوتی ھے ،، بیوی کو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ شوہر کب کا فون بند کر چکا ہے کیونکہ اس نے جمعے کا خطبہ نہیں سننا تھا ہمدردی کے دو بول سننے تھے ،، اب اس کو فکر لگ گئ ہے کہ اس نے پتہ نہیں میری بات کہاں تک سنی ھے اور باقی کہاں سے سنانی ہو گی ، بیوی اب خود فون کرے گی تا کہ باقی کا زہر بھی انڈیل دے ، شوہر فون کاٹ رہا ہے ،، اب بیوی کو لڑائی کا نیا بہانہ مل گیا کہ شوہر میرا فون اٹینڈ کرنا بھی سمجھتا ہے گویا میں کوئی کتی بلی ہوں ، اس کی بیوی نہیں ہوں ،،
یہی فون وہ اپنی ماں یا بہن کو کرتا ہے کہ میرا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے ، فوراً جواب ملتا ہے ،بیٹا تم تو خیریت سو ہو ناں ، لگی تو نہیں ؟ تم کہاں ہو میں رکشہ کر کے آتی ہوں ، اللہ میرا دل صبح سے پریشان تھا ،، اور وہ ماں تو تسلیاں دے رہا ہے کہ امی کچھ نہیں ہوا گاڑی کو بس تھوڑی سی لگی ہے ،آپ کے آنے کی ضرورت نہیں میں خود تھوڑی دیر میں آ جاتا ہوں ،، کتنا فرق ہے اس زبان میں اور پہلی زبان میں ،،
ہر بیوی کی نظر میں اس کا شوہر دنیا کا ناکام ترین شوہر ہے ، مگر خوش قسمت ہے کہ اس کو ایسی ذہین ترین بیوی مل گئ ہے جس کی وہ قدر نہیں جانتا ،، بزنس ناکام ہو جائے ، کوئی ڈیل کینسل ہو جائے ، کوئی پیسے لے کر بھاگ جائے مگر سب قصور شوہر کا ہو گا ، اگر بیویاں جج ہوں تو شوہر ساری زندگی جیل میں رہے ـ یہ بھی نہیں پوچھیں گی کہ نقصان ہوا کیسے ، تمہاری کوئی کوتاہی بھی ہے یا نہیں ، بس چھوٹتے ہی کہہ دینا ہے کہ یہ بزنس آپ کے بس کی بات نہیں ، آپ کو تو بات کرنے کا ڈھنگ نہیں ، مگر آپ اپنے آپ کو ملک ریاض سے کم تھوڑا ای سمجھتے ہیں ، رہ گئ میری بات تو ،، میری بات ماننا تو آپ نے قسم کھا کر حرام کیا ہوا ہے ،
کرائسس کا زمانہ ایسا ہوتا ھے کہ انسان کو اس وقت نفسیاتی طور پر اٹھنے کے لئے ہمدردی کے دو بول درکار ہوتے ہیں ،بالکل ایسے ہی جیسے بس کی ٹکر کھا کر گرے ہوئے کو کسی کا ہاتھ درکار ہوتا ھے ، اس حالت میں جو بھی اس کی طرف ہمدردی کے دو بول بھیج دیتا ھے وہ اس کا گرویدہ ہو جاتا ہے ، یہ وہی جانتا ہے کہ اس کیٹوٹی ہوئی ہمت کو کس نے سہارا دیا ہے ، کون ہے جس نے اس کو خودکشی سے بچا لیا ہے ،، البتہ گھر والی سے ہمدردی کی بجائے ہمیشہ تنقید کے نشتر ہی برستے ہیں ، اس کو تو موقع چاہئے ہوتا ھے ڈسنے کا ،، آپ ڈرائیونگ لائسنس کی ٹرائی میں فیل ہو گئے ، گھر میں گھستے ہی آپ نظریں چرانا اور ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیتے ہیں مگر بیوی پیچھے پیچھے ہوتی ہے ، ٹرائی کے لئے گئے تھے کیا بنا ؟ ساتھ طنزیہ مسکراہٹ ، اس کو پتہ ہے کہ اگر یہ پاس ہوتا تو نیچے سیڑہیوں سے ہی آواز لگا دیتا ، فیل ہو کے آیا ہے لہذا یہی موقع ہے کہ اس کو بتایا جائے کہ تم زیرو ہو تمہارے کریڈٹ میں بس ایک میں ہی ہوں مگر میری تمہیں قدر نہیں ، ہمارے سامنے آباد کلینک مین ڈاکٹڑ زبیر صاحب تھے ،، وہ جب بھی فیل ہو کے آتے میاں بیوی میں لازم لڑائی ہوتی ،بیوی کہتی تمہیں ڈرائیونگ تو آتی نہیں اور لوگوں کے بچے مارنے کے لئے تم ڈاکٹر بنے بیٹھے ہو ، آخر انہوں نے بیوی کو بتانا ہی چھوڑ دیا کہ کب ٹرائی ہے ، جس دن پاس ہوئے اس دن بیوی کو بتا دیا کہ پاس ہو گیا ہوں ،
ایک اور منظر دیکھ لیجئے ،
شوہر نے فون کیا میں ذرا لیٹ ہو جاؤنگا ، چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے ،، پھر ٹھوک دی ہے کسی کو ؟ نہیں یار کسی نے مجھے ٹھوک دی ہے ،، تم بریک ہی ایسے مارتے ہو اس بیچارے کا کیا قصور ہے ؟ سو دفعہ کہا ہے کہ مجھے لائسنس لینے دو مگر یہ بات تمہاری امی نہیں مانتی ،، اور اپنی بیٹی نے لے رکھا ہے تو اسلام کو کوئی خطرہ نہیں ،، یار اس کے شوہر نے اس کو لینے دیا ہے اس میں امی کا کیا قصور ہے ؟ تیری بہن کا شوہر ہے تو کیا میرا کوئی شوہر نہیں ؟ میرا شوہر کیوں نہیں لینے دیتا ؟ یار تو تھوڑا صبر کر جا ، امی جی کو ایک اسٹروک ہو چکا ہے شاید اگلے میں تیری جان چھوٹ جائے پھر تو بےشک ٹرک کا لائسنس لے لینا ،،
اور یہ ساری گفتگو سڑک سے ہو رہی ہے ،، اب شوہر گھر آ کر کیا کرے گا ، بہتر نہیں کہ وہ کسی ڈھابے سے نان چھولے کھا کر کسی مسجد میں عصر تک قیلولہ کر لے ؟
اگر آپ جاب ڈھونڈنے نکلے ہیں اور سارا دن جوتے گھسا کر بھی کوئی رسپانس نہیں ملا تو آپ کو فکر جاب نہ ملنے کی نہیں ہوتی ، ٹینشن یہ ہوتی ھے کہ اب گھر جا کر بیوی کے کورٹ مارشل کا سامنا کرنا ہو گا ، ماں سب سے پہلے کھانے کا پوچھے گی کہ کھایا یا نہیں کھایا ، بیوی سب سے پہلا سوال ہی یہ کرے گی ملا یا نہیں ملا ؟ اس سوال پر بحث شروع ھو گی اور کھانا کہیں بیچ میں ہی رہ جائے گا ، بیوی نے لسٹ بنائی ہوئی ہو گی کہ بجائے نوکری کے اس کے شوہر کو کیا کرنا چاہئے ،، اور سب سے بڑا یکہ ہو گا ،، میں اپنے ابو سے بات کروں ؟ میں اپنے بھائی سے بات کروں ؟ ایک تمہارا احسان ہی جینے نہیں دے رہا اوپر سے اب ابو اور بھائی کا احسان بھی لادنے چلی ہیں ،، برے حالات میں کبھی بھی تنقید مثبت نتائج نہیں دیتی چاہے وہ کسی کی طرف سے بھی ہو ،، اس وقت ہمدردی درکار ہوتی ہے ، جو بھی دو میٹھے بول بولے بندہ اس کے ساتھ گھنٹوں بات کر کے اپنے عذر پیش کرتا ہے کہ اس کے ساتھ ہوا کیا ،مگر گھر میں بیوی یہی عذر قبول کرنا تو دور کی بات سننے کا موقع بھی نہیں آنے دیتی ، پھر گلہ ہوتا ھے کہ باہر لڑکیوں سے ساری ساری رات بات ہوتی ھے ،،
شوہر تو ایک Pet ہے اس کو اپنا عادی کرنا پڑتا ہے ہلانا پڑتا ہے فطری طور پر وہ عورت کے قریب قریب رہنا چاہتا ،پہلے ماں ہینڈل کرتی ھے، پھر بیوی کو رسی پکڑا دیتی ہے ، اب بیوی اس کو ماں کی طرح نہ پالے ، اس کی خطاؤں سے درگز نہ کرے ، اس کے عذر قبول نہ کرے تو وہ کسی اور عورت کی طرف جا نکلے گا ، بابا آدم علیہ السلام کو بھی سکون جنت میں نہیں بلکہ عورت سے نصیب ہوا تھا ،،تتے توے پر کھڑا کر کے شوہر کو کبھی اپنا نہیں بنایا جا سکتا ـ سارے محلے کے آگے رو لینا ہے مگر شوہر کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہونا ہے کہ کہیں نیچی نہ ہو جاؤں ، میں کہیں ہار نہ جاؤں ، اندر سے ٹوٹ پھوٹ ہو چکی ہے مگر شوہر کے سامنے دیوارِ چین بی کھڑی ہیں ،،
رہ گئے بچے تو بچے عورت کی کمزوری ہوتے ہیں مرد کی کمزوری کبھی نہیں ہوتے اس کو بچوں کی کوئی خاص پرواہ نہیں ہوتی ، جب تک اس کے ہاتھوں میں جان ہے وہ کبھی یہ سوچ نہیں سوچتا کہ اس کو کما کر کھلائے گی ،، عورت یہ سوچتی ہے کہ کب بچے بڑے ہونگے تو میں ٹی ٹی پی کو ان کے باپ کے سامنے کھڑا کر کے کہوں گی کہ کر مقابلہ اب اپنے سے ـ
Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *