1
کیا کوئی ماں اپنے بچوں کو یہ حکم دیتی ھے کہ جو میرا حکم نہ مانیں انہیں قتل کر دو اور میں تمہیں انعام دونگی ،،؟
2- کافر ھمیشہ جھنم میں کیوں رھیں گے ، اور مومن سزا بھُگت کر ھمیشہ جنت میں کیوں رھیں گے ؟
جواب- 1
یہ غالباً جہاد کے حکم کی طرف اشارہ ھے ،، مگر بات کو غلط الفاظ میں پیش کیا گیا ھے ،، آخر نبئ کریمﷺ نے 13 مکے کی پرتشدد فضاء میں گزارے ھیں جن میں تین سال کی اجتماعی قید کی سزا بھی تھی جو شعب بنو ھاشم میں اس طور گزاری گئ کہ باھر سے کھانے کو کچھ اندر نہیں جانے دیا جاتا تھا اور نہ ھی کسی کو اجازت تھی کہ وہ بنو ھاشم کو کوئی چیز فروخت کر سکیں ،، بھوک سے بچوں کے رونے کی وجہ سے مکے والوں کی نیندیں اچٹ جاتیں ،، چمڑے کو ابال کر پانی کا ذائقہ تبدیل کر کے بچوں کے منہ میں ٹپکایا جاتا تا کہ وہ چپ کر جائیں ،، ان تیرہ سالوں میں نبئ کریم کے ایسے جانثار موجود تھے جو نبئ کریمﷺ کے ایک اشارے پہ کم از کم بڑے سرداروں میں سے چند کو مار دیتے تو باقی دھشت زدہ ھو جاتے ، آخر جس بلالؓ نے اپنے سابقہ آقا عتبہ کو بدر میں مارا وہ اسے مکے میں کیوں نہیں مار سکتا تھا ؟ ان 13 سالوں میں ایک بار بھی نہیں کہا گیا کہ جو میری نافرمانی کریں انہیں قتل کر دو اور میں تمہیں انعام دونگا ،، بلکہ کہا گیا کہ کفوا ایدیکم و اقیموالصلاۃ و آتوالزکوۃ ،،، ھاتھ باندھے رکھو اور نماز اور زکوۃ ادا کرتے رھو،، عبداللہ ابن مسعودؓ نے کسی کے تھپڑ کے جواب میں تپھڑ مار دیا تو بجائے انعام دیے کے حکم دیا گیا کہ اگر برداشت نہیں کر سکتے تو اپنے قبیلے میں چلے جاؤ ،، جب اللہ مجھے غلبہ عطا فرما دے گا تو واپس آ جانا ،،،، اس تمہید کے بعد آیئے ایک حقیقت کی طرف !
پوری سوسائٹی کو ایک فرد کی طرح ڈیل کرتا ھے اور احادیث میں واضح طور پر یہ بات بیان کر دی ھے – ایک ماں کے بچے کا ایک عضو کسی انفیکشن کا شکار ھو جاتا ھے جو اس بچے کے پورے وجود کے لئے خطرہ بن جاتا ھے ،، اس صورت میں اس عضو کو چاھے وہ کتنا ھی اھم اور خوبصورت ھو اس بچے سے الگ کرنا وقت کی ضرورت بن جاتی ھے ،، وہ ماں جگہ جگہ دھکے کھاتی پھرتی ھے کہ کوئی ڈاکٹر کم فیس لے کر اس عضو کو الگ کر دے ،، وہ اس ڈاکٹر کو پیسے بھی دیتی ھے اور شکریہ بھی ادا کرتی ھے کہ اس نے اس کے بچے کی جان بچا لی ،، اسی طرح سوسائٹی میں کچھ افراد گل سڑ جاتے ھیں اور پوری سوسائٹی کے وجود کے لئے خطرہ بن جاتے ھیں تو اس صورت میں ایک ذمہ دار ادارے کو یہ حکم دیا جاتا ھے کہ ان کو سوسائٹی سے الگ کر دے ، اگر مقابلہ کرتے ھیں تو تلوار کے ساتھ ورنہ قید کی صورت میں ،،
یہ بات واضح رھے کہ ایسا حکم نہ تو کسی فرد کو دیا جاتا ھے اگرچہ وہ کتنا ھی نیک کیوں نہ ھو ،، اور نہ ھی کسی گروہ کو یہ حکم دیا جاتا اگرچہ اس میں نبی ھی کیوں نہ ھو جب تک کہ اسے زمین پر اقتدار نہ مل جائے ،، زمین کے کسی ٹکڑے پر ریاست قائم ھوئے بغیر وہ گروہ صرف زبانی دعوت کا مکلف ھے اور باقی معاملہ اللہ کے ذمے ھے ،، مدینے میں مسلمانوں کے تسلط کے بعد جب نبئ کریم ﷺ بطور سربراہ اس میں داخل ھونے والے تھے تو رستے میں مسلمانوں کے ھاتھ کھول دیئے گئے اور انہیں اس ریاست کی حفاظت کی خاطر لڑنے اور اس کے لئے خطرہ بننے والوں کے قلع قمع کرنے کا حکم دیا گیا ،اذن دینے کے ساتھ ھی ریاست کی ذمہ داریوں کا ایک اسکیچ بھی پیش کر دیا گیا ، سورہ الحج میں یہ ساری تفصیل موجود ھے ،، اللہ کے یہ سپاھی اور اسلامی ریاست کے محافظ ، کارروائی کے دوران کسی بچے ، بوڑھے ،عورت کو قتل نہیں کریں گے ، کسی غیر مسلح کو قتل نہیں کریں گے ، قیدی کر لینے کے بعد اسے قتل نہیں کریں گے ،، آج کل کے گروھی قتلِ عام کا دین کے شرعی حکمِ قتال سے کوئی تعلق نہیں ،، یہ گروھی اور قبائلی تعصبات کی جنگیں ھیں ، وھی جو کل تک ایک جھنڈے تلے ھوتے ھیں اگلے ماہ آپس میں لڑ مرتے ھیں ،، یہ زیرِ زمین یا انڈر ورلڈ کے قاتل گروپوں سے مشابہ گینگ ھیں انہیں اسلام کا یا خدا کا نمائندہ نہیں سمجھا جا سکتا ،،
جواب برائے سوال نمبر -2
کافر ھمیشہ جھنم میں اور مومن ھمیشہ جنت میں کیوں رھیں گے ،جبکہ مومن نے اطاعت بھی 60 یا 70 سال کی ھے اور کافر نے کفر بھی 60 یا 70 سال کیا ھے تو اس صورت میں جرم کی نسبت سے سزا بھی 70 سال یا دگنی ھو تو 140 سال ھونی چاھئے تھی ،، لامحدود سزا کا تصور عدل کے خلاف ھے !
اصل میں مومن اپنے ایمان کی وجہ سے جنت کا شہری ھے نہ کہ اپنے اعمال کی وجہ سے ،، وہ اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے جھنم جائے گا بھی تو اسی طرح جس طرح پاکستانی جیل جا کر جب بھی باھر نکلتے ھیں تو اپنے گھر ھی جاتے ھیں اور اگر بیرونِ ملک جرم کریں تو سزا بھگت کر اپنے متعلقہ ملک کو ڈی پورٹ کیئے جاتے ھیں ،، اسی طرح جھنمی اپنے کفر کی وجہ سے جھنم کے شہری ھیں نہ کہ اپنے اعمال کی وجہ سے ، اعمال تو ان کے شمار ھی نہیں کیئے جائیں گے ، وہ تو تلیں گے ھی نہیں اور نہ ھی ان سے نماز روزے کا سوال ھو گا کیونکہ وہ تو ان پر فرض ھی نہیں تھے ، اللہ پاک نے یہ بات قرآن میں واضح طور پر بیان فرما دی ھے ،،
. اولئک الذین کفروا بآیات ربھم ولقائہ فحبطت اعمالھم فلا نقیم لھم یوم القیامہ وزنا۔
یہ وہ لوگ ھیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا تھا ،چنانچہ ان کے اعمال کالعدم قرار دیئے گئے اور ان کے لئے ترازو نہیں رکھا جائے گا
اگر اعمال کی وجہ سے جھنم جاتے تو اس کی مدت بھی محدود ھوتی جیسا کہ ایک مومن اپنے اعمال کی وجہ سے جھنم جائے گا تو اس کی مدت بھی طے کی جائے گی جس کے بعد وہ اپنے اصلی وطن یعنی جنت ڈی پورٹ کر دیا جائے گا ،، مومن بھی اگر جنت اپنے اعمال کی وجہ سے جاتا تو اس کی مدت ھوتی ،مگر وہ وھاں اسی طرح دائمی رھے گا جس طرح کافر جھنم میں دائمی رھے گا اور یہ نیت کا پھل ھو گا ،، کافر کی نیت چونکہ جب تک جیتا کافر رھنے کی تھی لہذا وہ جب تک جیئے گا جھنم میں رھے گا ،،مومن کی نیت چونکہ ھمیشہ مومن رھنے کی تھی کہ جب تک جیئے گا مسلمان رھے گا لہذا وہ جب تک جیئے گا جنت میں رھے گا ،،،
مومن جنت میں اعمال کی وجہ سے نہیں ایمان کی وجہ سے گیا ھے اور جنت کا شہری قرار پایا ھے ،، اعمال کی وجہ سے جنت کی سہولیات میں تو کمی بیشی ھو گی جیسا کچھ پاکستانی محلات میں رھتے ھیں تو کچھ چھونپڑیوں میں مگر ان کی پاکستانیت برابر ھے ، ، اسی طرح اعمال کی وجہ سے جنت اور جنت میں اتنا فرق ھو گا کہ جنتی بھی ایک دوسرے کی جنت پر رشک کریں گے ،، کچھ جھونپڑی نما جنت میں ھونگے کیونکہ اعمال کوئی خاص نہیں تھے البتہ ایمان کی وجہ سے جنتی ٹھہرے ،،
انظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَلَلآخِرَةُ أَكْبَرُ دَرَجَاتٍ وَأَكْبَرُ تَفْضِيلًا ﴿الاسراء۲۱﴾.
اسی طرح کافر اپنے کفر کی وجہ سے جھنم کا شہری ھے اور وھاں بھی اعمال کی وجہ سے عذاب کی ورائٹی اور جھنمیوں کا اسٹیٹس الگ الگ ھو گا ، عام کافر اور فرعون کی جھنم میں بہت فرق ھو گا اس نے نہ صرف خود کفر کیا بلکہ دوسروں کو بھی کفر پر مجبور کیا ،، مگر اسے رھنا اپنے ملک میں ھی ھو گا چاھے اس کی فٹ پاتھ پہ سوئے ،،
ذَٰلِكَ جَزَاؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوا وَاتَّخَذُوا آيَاتِي وَرُسُلِي هُزُوًا (الکہف 106)
البتہ کافروں میں جو نیک اور رحیم لوگ ھیں ان کے لئے یہ سہولت پیدا کر دی جائے گی کہ آگ ان کی زندگی کی ضرورت بنا دی جائے گی جس طرح آج آکسیجن ھے ،، وہ آگ میں خوش رھیں گے ، آگ سے نکالے جائیں تو مر جائیں ،، یوں ان کی آگ ھی ان کی جنت ھو گی ،جس طرح دنیا میں آگ کا کیڑا ھے جو آگ سے نکالا جائے تو مر جاتا ھے ،، چمونا گندگی سے نکل آئے تو مر جاتا ھے ، اسی گندگی میں رھنا ھی اس کی زندگی ھے

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *