Home / Islam /

قصاص اور دیت کا قانون !

September 12, 2013 at 3:59pm

قصاص اور دیت کا قانون !

 

الحمدُ للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ ! پچھلے دنوں شاہزیب قتل کیس میں والدین کے دیت وصول کر لینے کے بعد مختلف آراء کا اظہار کیا گیا،، جن میں ایک رائے جناب محترم جاوید احمد غامدی صاحب کی بھی تھی، جو کچھ احباب کی نظر میں قابلِ اعتراض تھی ! وہ رائے کیا تھی میری وال پر موجود ھے، جو ان کی تحریر کا ایک اقتباس ھے،مگر اعتراض کرنے والے صاحب نے اسے بہت بڑا جرم قرار دیا ھے، جو کہ میرے نزدیک درست نہیں بلکہ غامدی صاحب کا موقف عین اسلام و قرآن کی روح کے مطابق ھے ! چونکہ ھم اس قیامت سے گزر چکے ھیں ،میرا سب سے چھوٹا بھائی اور میرا خالہ زاد،تایا زاد بھائی جو کہ میرا برادرِ نسبتی بھی تھا،29/3/1996 کو 12 بور بندوق سے قتل کر دیئے گئے،، 11 سال مقدمہ بازی میں گزرے،، لطیف کھوسہ ھائیکورٹ میں  فریق مخالف کے وکیل تھے، سپریم کورٹ مین اپیل جسٹس رمدے اور جسٹس فلک شیر صاحب نے سنی اور قاتل کی اپیل رد کر کے پھانسی کی سزا بحال رکھی،، اگرچہ قاتل میرا چچا زاد ھی تھا، مگر ھمیں صلح پر مجبور کرنے کے لئے جوابی مقدمات کی بھرمار کر دی گئی، میرے والد صاحب اور گواھوں کے علاوہ خود مجھ پر جو کہ مقدمے کی پیروی اور مالی اخراجات کر رھا تھا، حبسِ بے جا، اغوا ، مسلح ڈکیتی اور حدود کا کیس 17 ھرابہ یعنی دھشت گردی کے مقدمات بنائے گئے،، میرے والد صاحب جو کہ قاتل کے تایا تھے، فالج کے مریض تھے مگر عدالتوں میں رُل کر اللہ کو پیارے ھو گئے وہ فائرنگ کے کیس کی تاریخ بھگت کر آئے اور رات کو ھارٹ اٹیک میں فوت ھو گئے،، اگر ھمیں صلح پر مجبور کرنے کے لئے اپنے سگے عزیز اتنا کچھ کر سکتے ھیں تو شاہزیب فیملی کے ساتھ کیا ھوا ھو گا،، ھمارے عزیز ھمارے لیول کے لوگ تھے جبکہ وھاں زمین آسمان کا فرق تھا،، اس لئے میں اس معاملے کو بہت قریب سے جانتا ھوں،، آخر ان کو یہ کرنا ھی تھا ! کیونکہ پشت پر ریاست بھی نہیں تھی،، قتل میں سب سے پہلے وکیل سرکار بکتا ھے،، اس کا گھونٹ بھرنے کے بعد قاتل پارٹی پھر ورثاء کے پیچھے لگتی ھے ! اس تمہید کے بعد آیئے اصلی موضوع یعنی قصاص کے بارے میں شرعی حکم کیا ھے ! اللہ پاک نے سورہ النساء میں دیت کے موضوع کو زیرِ بحث لاتے ھوئے جو اسلوب اختیار فرمایا ھے وہ کچھ یوں ھے کہ ” کسی مومن کو زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی مومن کو قتل کرے،لیکن اگر خطا سے ایسا ھو جائے تو تو پھر وہ گردن آزاد کرے کسی مومن کی اور دیت ادا کرے،،،،،،، النساء 92 اگلی آیت میں پھر قتلِ مومن کی شناءت کو اتنے سخت الفاظ میں بیان کیا ھے کہ رونگٹھے کھڑے ھو جاتے ھیں ” اور جو قتل کرے گا کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرنے کی نیت سے،تو بدلہ اس کا جہنم ھے، ھمیشہ رھے گا اس میں اور اللہ کا غضب ھوا اس پر، اور لعنت کی اس پر اللہ نے، اور تیار کر رکھا ھے اس کے لئے عظیم عذاب ( النساء 93 ) ان آیات مین دیت زیرِ بحث ھے، اور مقتول کی مختلف قسمیں بیان ھوئی ھیں اور ادئیگی کا طریقہ وضع کیا گیا ھے ! اب آیئے قصاص کی طرف تو یہاں سورہ بقرہ میں قصاص زیرِ بحث ھے، دیت ضمناً تخفیف یا استثناء کے طور پر ذکر کی گئی ھے،مگر دیت کا ذکر کرنے کے بعد بات کو پھر اس حکم پر ختم کیا گیا ھے کہ تمہاری زندگی قصاص میں مضمر ھے ائے عقلمندو تا کہ تم بچو ! اصل فرض قصاص ھے،، جس کو اسی صیغے میں فرض کیا گیا ھے جس صیغے میں چند آیات آگے چل کر روزے فرض کیئے گئے ھیں،، یا ایہا الذین آمنوا کُتِبَ علیکم القصاص فی القتلی ،، اے ایمان والو قتلِ (عمد) میں تم پر بدلہ لینا فرض کیا گیا ھے،،( البقرہ 178 ) اوریا ایہا الذین آمنوا کُتِبَ علیکم الصیامُ،، ائے ایمان والو روزے تم پر فرض کیئے گئے ھیں ( البقرہ 183 ) حکم کا صیغہ پکار پکار کے فرضیت کا اعلان کرتا ھے،، اور آیت کے دوران ھی معافی کو استثناء اور تخفیف قرار دیتا ھے ” پھر اگر کسی کو اپنے بھائی کی طرف سے معاف کر دیا جائے تو وہ بھی بھلائی کا اتباع کرتے ھوئے اسے اچھے طریقے سے ادا کرے” ذلک تخفیف من ربکم ” یہ تمہارے رب کی طرف سے تخفیف ھے” گویا اصل حکم قصاص کا ھے اور دیت تخفیف ھے مگر بات یہاں ختم نہیں ھوئی بلکہ موضوع کو ختم کرتے کرتے دوبارہ نصیحت کی کہ ‘ ولکم فی القصاص حیاۃٓ یا اولوا الالباب لعلکم تتقون،( البقرہ 179 ) قصاص میں ھی تمہاری زندگی ھے،، صرف دیت کی پریکٹس پیسے والوں کے لئے فیس لے کر غریب کے قتل کا لائسنس دینا ھے، اگر قصاص فرض ھے،جس طرح میں دیگر فرائض ھیں تو پھر استثناء لازم کسی سبب سے ھو گا،،مثلاً اگر وضو فرض ھے تو تیمم پانی کی عدم موجودگی میں ھی مشروع ھو گا،، جب قاتل نادم ھی نہیں بلکہ وکٹری کے نشان بنا رھا ھے قہقے لگا رھا ھے تو ایک غریب شخص کیسے اس وڈیرے کے سامنے کھڑا ھو گا ،جبکہ ریاست ھی اسے باؤلے کتوں کے آگے پھینک کر بے نیاز ھو جائے ؟ کیا یہ قہقے اتباع ٓ بالمعروف ھیں جو دیت کی ایک شرط تھی یا عدل و انصاف کے منہ پر تمانچہ ھیں ؟اب اس مقتول کے تین وارث ھیں،، ایک اس کا خالق جس کا بندہ مارا گیا،، دوسرے اس کے والدین،بیوی بچے بہن بھائی،،جن کا عزیز مارا گیا،، تیسرے ریاست جس کا شہری مارا گیا،، اللہ نے تو اپنے بارے میں فرما دیا کہ،،اس نے قاتل کے لئے جہنم،لعنت،ٖغضب اور عذابِ عظیم تیار کر رکھا ھے،، والدین اور دیگر ورثاء کو اپنا حصہ معاف کرنے کا اختیار دیا ھے،، اور یہ قاتل پر تخفیف ھے کہ وہ اس کی اھمیت کو سمجھے اور اپنے رویئے سے عاجزی کا اظہار کرے،کیونکہ یہ دوبارہ بخشی گئی زندگی اب مقتول کے ورثاء کی عطا کردہ مستعار زندگی ھے،جس زندگی کو ائندہ کبھی بھی ورثاء کے خلاف اسے استعمال نہیں کرنا چاھئے،،جو کہ عموماً ھوتا نہیں ھے،، تیسرا فریق ریاست ھے جس کا شہری مارا گیا ھے اور باقی شہریوں کی جان خطرے میں ھے،،وہ اس نقطہ نظر کے تحت حرکت میں آئے گی اور مجرم کے بارے میں فیصلہ کرے گی،،وہ اسے بستہ ب کے مجرموں میں بھی رکھ سکتی ھے،، اور اس کے روئیے اور ورثاء کے انڈر پریشر ھونے کی صورت میں صلح کو مسترد کر کے پھانسی کا حکم جاری کر سکتی ھے تا کہ ورثاء کو اس پریشر اور جوابی مقدمات سے بچایا جا سکے ،جو معافی کے لئے مجبور کرنے کی خاطر مقتول کے ورثاء پر بنائے جاتے ھیں،،میں یہ سمجھتا ھوں کہ آیت کا آخری حصہ جس میں اھل حل و عقد کو مخاطب کیا گیا ھے، وہ حکومت ھے اور اسے کہا گیا ھے کہ وہ باقی شہریوں کی سلامتی کو مدنظر رکھتے ھوئے حرکت میں آئے،، عموماً دیکھا یہ گیا ھے کہ قاتل بار بار چھوٹتا اور مزید قتل کرتا چلا جاتا ھے،کیونکہ وہ اس صلح کو اپنی جیت اور مقتول کی ذلت سمجھتا ھے،گلیوں میں گریبان کھول کر اور ٹانگیں چوڑی کر کے چلتا ھے،، امارات کی عدالتوں میں فقہ مالکی کے تحت مقتول کے ورثاء کو معافی کا حق دیا گیا ھے،مگر اس حق کا اطلاق یہ دیکھ کر کیا جاتا ھے کہ مجرم کی نفسیات کیا ھیں،عدالت نے کئی کیسیز میں اس حق کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ،کیونکہ مجرم ڈاکٹروں کے پینل کی رائے میں مزید قتل کر سکتا تھا کیونکہ وہ اپنے پہلے فعل پر نادم بھی نہیں تھا اور قتل کی تفصیلات کو بڑے مزے لے لے کر بیان کرتا تھا،، پھر امارات میں مقتول کے لواحقین کو ایک پیسہ بھی نہیں خرچ کرنا پڑتا ،،نہ گواھیوں کا انتظام کرنا پڑتا ھے، اور نہ وکیل کرنا پڑتا ھے،سب ریاست کرتی ھے – ھمارے یہاں بھی عدالتوں نے کئی مقدمات میں صلح کو مسترد کیا ھے ،  اب آخر میں پھر اپنی آپ بیتی پر ختم کرتا ھوں کہ ھم نے قاتل کو صدر کی جانب سے اپیل مسترد ھونے کے بعد بلیک وارنٹ جاری ھو جانے کے بعد اور پھانسی گھاٹ منتقل ھو جانے کے بعد 24 گھنٹے پہلے کے کی بنیاد پر معاف کیا تھا،، بدمعاشی کا رویہ جب تک برقرار رھا،، ھم نے ھار نہیں مانی،،جب انہوں نے لاش کو وصول کرنے کے انتظامات شروع کئے،،گھر کو لاش رکھنے کے لئے چونا وغیرہ کر لیا،، چاولوں کے لئے بڑے ٹب تیار کر لئے اور قاتل کی زبان جب 24 گھنٹے پہلے خوف اور دھشت سے بند ھو گئی وہ بات تک نہیں کر سکتا تھا،،جب انہیں پتہ چل گیا کہ کوئی رستہ نہیں تو انہیں معاف کر دیا ! اور الحمد للہ انہوں نے بھی اس کے بعد اس صلح کو بھائیوں کی طرح نبھایا اور سگے بھائیوں سے بھی زیادہ اچھے ثابت ھوئے

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *