ایک شخص اونٹ پر سوار چلا جا رھا تھا ! اونٹ کی دونوں جانب دو بوریاں لٹک رھی تھیں اوپر یہ صاحب براجمان تھے کہ پاس سے ایک پیدل شخص گزرا !! سلام کے تبادلے کے بعد پیدل نے سوار سے پوچھا بھائی جان یہ اونٹ پہ کیا لاد رکھا ھے ؟ بھائی ایک طرف گندم کی بوری ھے اور دوسری طرف مٹی کی پوری ھے،، اچھا یہ مٹی کوئی قیمتی مٹی ھے ،اس میں سونا مکس ھے یا خاک شفا قسم کی کوئی چیز ھے؟ نہیں بھائی جان یہ نارمل مٹی ھے،بس اونٹ پر بیلنس کرنے کے لئے دوسری طرف بھی اسی وزن کی بوری چاھئے تھی،،گندم تو میرے پاس ایک ھی بوری تھی، مجبوراً دوسری بوری مٹی سے بھر کر لادنی پڑی ھے،، یہ سن کر پیدل نے کہا کہ یار تو گندم کو ھی دونوں بوریوں میں برابر تقسیم کر کے نہیں لاد سکتا تھا ، اس طرح وزن بھی بیلنس ھو جاتا اور اونٹ پر وزن بھی کم ھوتا،، اونٹ سوار دوست نے ایک دم اونٹ روک لیا اور حیرانی سے پیدل کو سر سے پاؤں تک دیکھتا رھا،،کہنے لگا یار بات تو تیری بہت ھی معقول ھے ،، مگر میں سوچتا ھوں کہ اگر تو واقعی اتنا دانا ھوتا تو تیرے پاس بھی کوئی سواری ھوتی،، تجھ دانا سے میں نادان اچھا ھوں کہ سواری کے لئے میرے پاس اونٹ تو ھے !
دوستو ، بزرگو یہ دنیا کی فطرت ھے کہ وہ انسان کی کو اس کے پاس موجود وسائل سے ماپتی اور تولتی ھے،جب ھم دنیا پر حکمرانی کرتے تھے، ھمارے خزانے سونے اور اشرفیوں سے بھرے پڑے تھے،ھم جس علاقے مین قدم رکھتے وھاں خوشحالی بارش کی طرح برسنے لگتی،، اس زمانے میں ھم ایک علاقہ فتح کرتے تو اگلے علاقے والے ھمارے لئے چشم براہ ھو جاتے اور ھمیں خوش آمدید کہتے،،ھمارے غلط نظریئے کو بھی یوں پذیرائی ملتی کہ جیسے دنیا کی آخری حقیقت یہی ھے،، ھم جدھر چلتے دنیا ادھر چلتی اور ھم جو کرتے دنیا وھی کرنے پر مجبور تھی ! ایسے ایسے فقہی حقائق جنہیں بعد میں ھم نے خود ھی مسترد کر دیا کبھی دنیا کی سب سے بڑی حقیقت کہلاتے تھے،، عباسی دور میں جب فقہ حنفی حاکم فقہ تھی تو کسی دوسری فقہ کی طرف تحویل قابلِ تعزیر جرم تھا،آج بھی وہ فتاوی ھماری پرانی کتابوں مین موجود ھیں اور نئے پرنٹ کے ساتھ ایشو کیئے جاتے ھیں کہ اگر کوئی فقہ حنفی سے شافعی کی طرف منتقل ھو گا تو ” یعزر ” اسے سزا دی جائے گی کیونکہ افضل سے مفضول کی طرف انتقال مذموم ھے، البتہ اگر شافعی سے حنفی کی طرف منتقل ھو گا تو اسے سزا نہیں دی جائے گی کیونکہ دین میں افضل کی طرف انتقال محمود و مطلوب ھے،،
وقت نے پلٹا کھایا اور بہادر شاہ ظفر کی بادشاھی کے ساتھ ساری فقہیں بھی پیدل ھو گئیں اور دین اسلام کا اسٹیٹس بھی عرش سے فرش پر آ پڑا،، مگر ھم ھیں کہ ھماری رعونت ابھی اپنی جگہ ھے،،گویا ھم ھی دنیا کے حاکم ھیں،، اب چاھئے تو یہ کہ ھم پھر دعوت کی محنت کریں دنیا کو اپنی طرف مائل کریں،ایسے رویئے اپنائیں کہ جس سے نہ صرف پیدل قومیں بلکہ سوار قوموں کے افراد بھی ھماری طرف متوجہ ھوں ،،وھی تالیف قلب کا زمانہ آ گیا ھے جو انتدائی مدنی دور کا تھا ! مگر زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد،، ھمارے بزرگوں کو کون بتائے کہ سرکار عالمگیر صاحب تشریف لے گئے اب عالمگیری کی نہ کرنسی چلتی ھے نہ فتوے،، نئے حقائق کو قبول فرمایئے اور نئ اسٹریٹیجی اپنایئے،، مبادئ کو چھیڑے بغیر ،منزل کو تبدیل کیئے بغیر بس اپنی سپیڈ کم کر لیجئے ،، اور اٹھنے والے سوالوں کا جواب دورِ حاضر کے ان حقائق کے مطابق دیجئے جو آپ کو دستیاب ھیں!
کھانے کو گھر میں روٹی نہ ھو،،کھیلنے کو کھلونے دستیاب نہ ھوں ،عید کے دن پہننے کو نئے کپڑے دستیاب نہ ھوں تو اولاد بھی سے اکیلے میں پوچھتی ھے کہ ” اس کنگلے میں تم نے کیا دیکھا تھا ؟ !
جب وہ ھر کے جواب میں کہتی ھے کہ ” پیسے کوئی نئیں !! تو وہ بھی کہہ دیتے ھیں کہ” کوئی پیسے والا دیکھ لینا تھا،اس کی صرف لمبی ناک ھی دیکھی تھی ؟ ”
ان چیزوں کو بنیاد بنا کر سر پر چڑھتا چلا آ رھا ھے ، اور ھماری سوئی اسی پر اٹکی ھوئی ھے کہ ” غیر مسلم کو ریسٹ ان پیس کہنا چاھئے یا نہیں،، یا ” آدھے بازو والی شرٹ میں نہیں ھوتی ” نوجوانوں کے سوالات پرانے نہیں ،، نئے ھیں اور جواب بھی نئے ھونے چاھئیں،، آج کل کے تیز زمانے میں کہ جب ،فزکس ،کیمسٹری اور میتھی میٹکس ،اسلامیات کے کوئیسچن بینکس بھی ھر سال تبدیل ھو جاتے ھیں،، سیکڑوں سال پرانے فتوؤں سے کسی کا پیٹ نہین بھرتا، امام شافعی کی عراقی فقہ اور ھے اور مصری فقہ اور ھے،،اس سست رفتار زمانے میں فقہ حنفی 80٪ تبدیل ھو جاتی ھے،، مگر آج کے اس تیزترین دور میں وہ کون سی الفی ایجاد ھوئی ھے جس کے زور پر ھمارے بزرگ فقہ کو سیکڑوں سال پیچھے سے اس طرح جوڑ کر بیٹھے ھوئے ھیں کہ،کچھ تبدیل ھو کر نہیں دیتا،، حالانکہ معاشروں میں جتنا انٹر ایکشن زیادہ ھوتا ھے،مسائل اتنی جلدی تبدیل ھوتے ھیں ،، کبھی ٹائی غیر مسلم قوموں کا شعار ھو گی،،مگر آج عالم عرب کے مسلمانوں کی اکثریت کا ھے اور مفتی اور خطیب اسے پہنے پھرتے ھیں اور اس انٹرایکشن کی دنیا میں ھمارا جوان ان سے ملے نہ بھی مگر جب چینل تبدیل کرتا ھے تو کسی نہ کسی مولوی کو ٹائی سمیت منبر پر دیکھتا ھے،پھر جب اپنے علماء کے فتوے دیکھتا ھے تو اسے دو اسلام نظر آتے ھیں ،، اب تشبہ کا فتوی اس پہ نہیں لگتا اور اگر اس حدیث کے ٹکڑے نہ کیئے جاتے تو کسی زمانے میں بھی نہیں لگتا تھا، کونکہ تشبہ سے مراد بہرحال کا تشبہ مراد تھا، مگر ھمارے انڈو پاک کے علماء کو کوئی جا کر کیسے بتائے ؟
کسے پڑی ھے کہ جا سناوے پیارے پی کو ھماری بتیاں !
نہ انگ چیناں نہ نیند نیناں، نہ آپ آنویں نہ بھیجیں پتیاں !
یہ کہا جا سکتا ھے کہ وھاں کے علماء وھاں کے لوگوں کے لئے،، یعنی جیسی روح ویسے فرشتے ،،مگر آج کے دور میں یہ تخصیص کیسے کی جا سکتی ھے جب فتوی تھوڑی دیر میں پوسٹ بن کر سوشل میڈیا میں آ جاتا ھے ،،
ابنِ مریم ھـــــوا کرے کوئی، اس مرض کی دوا کرے کوئی !

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *