فقط ساقی بدلنے سے تو مے خانہ نہیں چلتا
شاعر نے بھی کیا خوب بات کہی تھی کہ ؛
بدلنا ھے تو رنــدوں سے کہــو اپنـی ادا بدلیں !!
فقط ساقــی بدلنے سے تو میخـانہ نہیں چلتا !!!
جنہوں نے بدلنا تھا انہیں ایک سجدے نے ھی بدل ڈالا تھا، اور ایسا بدلا تھا کہ ان کے سارے کانسیپٹ ھی بدل گئے تھے،مرنے جینے کے پیمانے بدل گئے تھے، سود و زیاں کے معیارات بدل کر رہ گئے تھے،قرآن جہاں موسی علیہ السلام ذکر کرتا ھے وھاں ان جادوگروں کی عزیمت کا ذکر بھی کرتا ھے،جو چند لمحے پہلے تک اپنی فتح کی صورت میں مال بٹورنے اور عہدے پانے کے لئے مول تول کر رھے تھے،، ءَانۜا لنا لاجراً ان کنا نحن الغالبین ؟ قال نعم و انتم اذا لمن المقربین،، کیا ھمیں بھی فتح کی صورت میں کچھ ملے گا ؟ کیوں نہیں اس صورت میں تم یقیناً مال کے ساتھ تقرب کے اھل بھی قرار پاؤ گے،، موسی علیہ السلام کے سامنے آئے تو آپ کی وجاھت سے متآثر ھو کر با ادب ھو گئے،،صرف ایک جملے نے عرش والے سے فیصلے کروا لیئے،، کہنے لگے موسی آپ پہلے ڈالیں گے یا ھم شروع کریں،، بس یہ ایک جملہ نہیں تھا،، یہ ان کی تقدیر تھا،نبی کا ادب انہیں رب کی نظروں میں سرخرو کر گیا، ھدایت و توفیق کے فیصلے ھو گئے،، حق سامنے آیا تو اس کے سامنے سجدہ ریز ھو گئے، اور پورے دل اور پوری جان سے سجدہ ریز ھو گئے،،
ھـو مبارک تمہـیں سـر جھـکانا،پھـر بھـی اتنی گـزارش کـروں گا !
دل جھکانا بھی لازم ھے زاھد،سر جھکانا ھی سجدہ نہیں ھے !!
قالوا آمنا برب العالمین،، رب موسی و ھارون،،،کہنے لگے ھم لے آئے رب العالمین پر ،، موسی اور ھارون کے رب پر،، اللہ اللہ کیا ادب ھے،، نبیوں کی موجودگی میں رب کو اپنی طرف نسبت دینا بھی گستاخی جانا،، ھم تو گنہگار ھیں، ھم تو اللہ اور اس کے رسولوں کا مقابلہ کرنے آئے تھے،، رب تو ان معصوم نبیوں کا ھے،، پھر تو فرعون اور جادوگروں کے درمیان دما دم مست قلندر ھو گئ،، فرعون کی طرف سے دھمکیوں کی بارش تھی تو ادھر سے ایک بے نیازی کا اظہار تھا،، کہا تمہارے ھاتھ پاؤں آمنے سامنے سے کاٹ کر کھجور کے تنوں کے ساتھ سولی پہ لٹکا دوں گا،، جواب ملا فاقضِ ما انت قاض،، جو فیصلے تو کر سکتا ھے کر لے،تیرے سارے فیصلے اس فانی اور چند روزہ زندگی کے بارے میں ھی تو ھیں،، اصل زندگی کے فیصلے تیرے ھاتھ میں تھوڑے ھیں،انما تقضی ھٰذہ الحیوۃ الدنیا ! ھم تو اس جسارت کے کفارے کے طور پر سب سے پہلے ایمان لائے ھیں کہ اس جرم کی سزا پائیں جو ھم نے رب پر جھوٹ بنا کر تیرے کہنے سے کرنے چلے آئے،،تو جتنا ستائے گا،ھمارے گناھوں کا بوجھ کم ھو گا،، جب ھاتھ پاؤں کاٹے جانے لگے تو وہ اللہ کے بندے منت ترلا کرنے کی بجائے اللہ کی طرف متوجہ ھو گئے،، عرض کیا مالک اب تھوڑے صبر سے کام نہیں چلے گا،افرغ علینا صبراً،، اے اللہ صبر ھم پر انڈیل دے لت پت کر دے ھمیں صبر میں!! جی بات چل رھی تھی کہ جنہوں نے بدلنا ھو انہیں ایک سجدہ ھی کافی ھوتا ھے بدلنے کے لئے،، اور جنہوں نے نہیں بدلنا، وہ یکے بعد دیگرے دس جماعتیں بھی بدل لیں خود کبھی نہیں بدلیں گے،کیونکہ بدلنا ان کے مشن میں شامل ھی نہیں،، انہیں کوئی جماعت نہیں بدل سکتی،، انہیں اللہ بھی نہیں بدلتا،، ان اللہ لا یغیر ما بقومٍ حتی یغیروا ما بانفسھم،، اللہ تب تک کسی قوم کو نہیں بدلتا جب تک وہ قوم اپنا اندر نہ بدلے ! کوئی بھی سکول بچے فیل کرنے کے لئے نہیں لیتا،، مگر ھر اسکول سے سارے بچے پاس بھی نہیں ھوتے،، کوئی بھی جماعت برائی نہیں سکھاتی مگر ساری جماعتوں میں سارے اچھے بھی نہیں ھوتے ! یہ ایک فطری بات ھے،اس کے لئے جماعتیں نہیں افراد ذمہ دار ھیں،، ھدایت کوئی جینٹا مائی سین تو ھے نہیں کہ جماعت کسی کو لگا دے،،جنہوں نے نہیں بدلنا تھا وہ نبیﷺ کے پیچھے پہلی صف میں پڑھ کے بھی نہیں بدلے ، جنہیں بدلنا تھا وہ اک نظر سے ایسے بدلے کہ ایک نماز تک نہیں پڑھی اور نبیﷺ کے قدموں میں جان دے کر جنت کے وارث قرار پائے ! مگر مصنوعی تقوے کے نام پر چھوٹی چھوٹی سنتوں کا خیال رکھنے والے، اکرام کے نام پر دوسروں کے منہ میں لقمے ٹھونسنے والے اور ذرا ذرا سے عمل پر اربوں اور کھربوں کی تعداد میں نیکیوں کی بشارت سنانے والوں کو میں نے عائلی زندگی میں انتہائی سفاک پایا ھے،، گھریلو معاملات میں یہ اتنے بےحس ھوتے ھیں کہ لگتا ھے،اللہ اور رسولﷺ کو جانتے تک نہیں ! یہ معاشرے کے یہ ناکام ترین لوگ ھیں ،جن کے بارے میں اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ خیرکم خیرکم لاھلہ،و انا خیرکم لاھلی،،تم میں اچھا وہ ھے جو اپنے اھل وعیال کے لئے اچھا ھے اور میں تم سب سے اچھا اس لئے ھوں کہ میں اپنے گھر والوں کے لئے تم سب سے بڑھ کر اچھا ھوں ،، یعنی نبوت وھبی چیز ھے ،،میرا اکتساب یا کمائی نہیں،،مگر انسانی سطح پر میرا کمال میرے کردار اور میری سیرت میں ھے،اور سیرت و کردار کا ٹیسٹ انسان کے اھل و عیال ھیں،،یہ لٹمس ٹیسٹ ھے،انسان کی اچھائی یا برائی کے تعین کے لئے ! ایک صاحب ھیں ماشاء اللہ انجینئر ھیں،، اچھی جاب ھے، لو میرج کی ھے،، دیندار ھیں،شکل سے بھی لگتے ھیں،، بیوی بھی تعلیم یافتہ ھے،، طلاق دے دی ھے،، دو سال میں شاید اس نے دو چار دفعہ پیزہ منگوا کے کھا لیا تھا،، سفلی عمل کے ذریعے ان کو اپنا غلام بنا لیا تھا ورنہ یہ کبھی پیزہ منگوا کے نہ کھلاتے،، بہت معقول وجہ ھے طلاق دینے کی !! اس عورت کو جواسکول پرنسپل تھی اور 32000 ماہانہ تنخواہ چھوڑ کر ان کی زندگی کی گاڑی میں سوار ھو گئ تھی اور اب ساری زندگی ان کی جان کو روئے گی ! ایک صاحب ھیں دین کا کام بھی کرتے ھیں ، رمضان میں اعتکاف میں بیٹھ گئے،، جمعۃ الوداع والے دن گھر سے جو کپڑے استری ھو کر آئے ان میں ازار بند ڈالتے ھوئے، شلوار کی جیب آگے کی بجائے پیچھے ھو گئ،، حکم ھوا بہو کو مسجد میں حاضر کیا جائے تا کہ گرم گرم بے عزتی کی جائے ورنہ عید تک ٹھنڈی ھو جائے گی،، مسجد میں بہو کو لعن طعن کر کے گھر بھیجا ،،عید والے دن گھر جاتے ھی بہو سے چند ماہ کی بچی چھین کر والدہ کے پاس بھیج دیا اور چند دن بعد طلاق دے دی،، نہایت معقول وجہ ھے طلاق دینے کی،، اگر یہ چار ماہ نہ لگا کر آئے ھوتے اور اعتکاف میں رب کے اتنا قریب نہ ھوتے اور اللہ کے گھر میں عدالت نہ لگاتے تو شاید گرفت بھی لیٹ ھوتی،،مگر کچھ لوگوں کی فرعونیت کی سزا مالک نقد ھی دے دیتا ھے،، طلاق کے ایک ماہ بعد موٹر سائیکل سوار بیٹے کو کوئی گاڑی کچلتی ھوئی گزر گئ،،
تُو بھی کسی کا پیار نہ پائے خدا کرے،،
تجھ کو تیرا نصیب رُلائے خدا کرے،،
ابن جوزی نے تلبیسِ ابلیس میں لکھا ھے،، بدترین تکبر نیکی کا تکبر ھوتا ھے،، بجائے اس کے کہ بابا جی توبہ تائب کرتے ،لڑکی پر پرچہ کرا دیا کہ اس نے میرا بیٹا مروایا ھے ،،جبکہ وہ بے چاری اس وقت یونیورسٹی میں پیپر دے رھی تھی !
عصر کے بعد ایک کیس آیا،، کرکٹ چل رھی تھی،، گیم آدھے میں ھی تھی، میری باؤلنگ چل رھی تھی،، گھر سے اطلاع آئی گھر کے باھر کچھ لوگ آئے ھوئے ھیں،، کرکٹ کِٹ کے اوپر ھی کندورہ ڈالا اور افراتفری میں حاضر ھو گیا ! بڑے بڑے بزرگ تھے،، پورے پورے تھان کی پگڑیاں، سفید براق داڑھیاں،، سوٹیڈ بوٹیڈ سرخ سپید جوان بھی تھے،، ٹینشن سب کے چہروں پہ تھی ،،ایک دوسرے کی طرف دیکھنے سے بھی اجتناب برتا جا رھا تھا،،! معاملہ گھمیر لگ رھا تھا،،میں نے عرض کیا کہ آپ مسجد والے کمرے میں تشریف رکھیں اور حلیہ درست کر کے پیش ھو گیا،، بڑوں کو ٹھیک طرح سے اردو بھی نہیں آتی تھی،جبکہ جوان جن کو اردو آتی تھی وہ بزرگوں کے سامنے بولنا نہیں چاھتے تھے،، میں نے بزرگوں سے کہا کہ چونکہ آپ بات سمجھا نہیں سکتے اس لئے ذرا ان جوانوں کو میرے ساتھ تخلیہ دیں تا کہ یہ بات کر لیں،، پھر میں آپ سے اس کی تصدیق کر لوں گا ! نوجوانوں نے بتایا کہ ان میں سے ایک لڑکے کے تعلقات ایک فیلپینوں لڑکی سے ھوئے اور بچہ بھی ھے،، لڑکا اس لڑکی سے شادی کرنا چاھتا ھے مگر یہ بزرگ کہتے ھیں کہ یہ لڑکی ھمارے خاندان کا حصہ نہیں بن سکتی،،لڑکی مسلمان ھو چکی ھے،، میں نے بزرگوں سے بات کی اور ان کی رائے پوچھی،، میں نے عرض کی کہ پہلے یہ طے کر لیں کہ پیمانہ کیا ھو گا؟ اگر تو پیمانہ قبائلی روایات ھیں تو میں ان روایات سے واقف نہیں ھوں،، آپ کو ایک قبائلی مفتی صاحب کا فون نمبر دیتا ھوں آپ ان سے ٹائم لے لیں اور ان سے بات کر لیں ،، البتہ اگر بات اللہ اور رسولﷺ کے حکم کے مطابق طے کرنی ھے تو میں حاضر ھوں ،، بزرگوں نے کہا کہ کوئی بین بین کا رستہ نہیں نکل سکتا کہ دونوں چیزیں کور ھو جائیں،، نوجوانوں نے کہا کہ جناب ھم ملک چھوڑ آئے ھیں تو قبائلی سوچ بھی چھوڑ آئے ھیں،، آپ اللہ کا حکم سنائیں کوئی مانے یا نہ مانے ! میں نے انہیں سورہ کی روشنی میں یہی حل بتایا کہ اب اس لڑکی اور لڑکے کے نکاح کے سوا کوئی رستہ نہیں،، اگر یہ اس سے نکاح نہیں کرے گا توزنا کے ساتھ ساتھ اس لڑکی کے ارتداد اور بچے کے قتل کا بھی بوجھ اٹھائے گا یوں اپنی عاقبت خراب کر لے گا، آپ زیادہ سے زیادہ اس سے قطع تعلق کر سکتے ھیں،،، اور بس !! بزرگوں کا فیصلہ تھا،،ھم اس لڑکے کو پہنچتے ھی قتل کر دیں گے،، آگے اس کی مرضی ھے،، لڑکا کہتا ھے وہ فلپین سیٹل ھو جائے گا ،پاکستان جائے گا ھی نہیں،مگر شادی اسی لڑکی سے کرے گا،، بزرگ کہتے ھیں وہ اس سلسلے میں کسی شریعت کو نہیں مانتے ! اگلے جمعے کا پھر ٹائم دیا ھے، دیکھیں کیا فیصلہ ھوتا ھے ! ، اگلے صاحب کا ذکر پہلے کر چکا ھوں ،ان کا بیٹا میرا فیس بک فرینڈ بھی ھے، ایک بیٹا فارغ التحصیل عالم ھے دوسرا حافظ قرآن ھے،، بزرگ کی ساری عمر امارات میں گزری ھے، مرور ایریا میں آ کر ان کا نام لیں،، بچہ بچہ ان کے نام سے واقف ھے، دین کی بہت خدمت کی ھے ، ساری عمر لگا دی ھے،اللہ کی حکمت کہ امتحان بڑھاپے میں لیا ھے،، بڑے عالم بیٹے نے والد صاحب کی مرضی کے خلاف امی جان کے کہنے سے ماموں کے گھر شادی کر لی ھے،، انہوں نے بیوی بھی گھر سے نکال دی اور بیٹا بھی،، لوگوں کے زور دینے پر شرط رکھی کہ بیوی قرآن پر حلف دے کہ وہ بیٹے اور بھائیوں سے تعلق نہیں رکھے گی،،اس پر کسی عزیز نے کہا کہ آپ نے ساری زندگی اللہ کی راہ میں لگا کر یہی لیا ھے کہ اللہ کا حکم توڑنے کے لئے اللہ کی کتاب پر حلف لینا ھے؟ بولے اللہ کو میں جواب دے لوں گا،، بات آگے نہیں چلی تو نیا پتا کھیلا گیا،، بیٹا اور بھائی نہیں چھوڑے گی تو طلاق دے دوں گا،، اسی ٹینشن میں رات کو حافظ قرآن 14 سال کی بیٹی گولیاں کھا کے مر گئ،، بابے کا دل پھر بھی نہیں پسیجا،، آج کل شاید ٹرانزٹ پر تشریف لائے ھوئے ھیں،، عصر کی نماز بالکل میرے پیچھے پڑھتے ھیں اور مین دو دن سے دعا مانگ کر جھٹ سے نکل آتا ھوں کہ سلام دعا نہ کرنی پڑ جائے ! اگلے صاحب،، جو اب فارغ ھو کر پاکستان چلے گئے ھیں،انہوں نے اپنی بیٹی کی شادی کی تھی اپنے بہن کے لڑکے سے،دو سال بعد کسی ذاتی بات پر منگنی توڑ دی ،مگر بیٹی جو حافظ قرآن تھی اور والدہ فوت ھو چکی تھی، سوتیلی تھی جو لڑکی ھی کی عمر کی تھی،، لڑکی نے اس فیصلے کو مسترد کر دیا ، اور پھوپھی کے گھر جا کر لڑکے سے نکاح کر لیا،، اور والد کو بتا دیا،، یہ بیٹی کو ساتھ لے گئے اور گھر کی دوسری منزل سے سر کے بل گرا کر 19 سالہ بچی کو مار کر آ گئے،، فرمایا میرے دین کا بیڑا غرق ھو گیا ھے مگر میں نے ناک بچا لی ھے ! یہ دیگ میں سے نمونے کے چند چاول ھیں،!! لیپا پوتی کا سماج کے لئے زھرِ قاتل ھے ،، دینداری سماج میں پرکھی جاتی ھے، روزمرہ کے سماجی مسائل میں انسان کی خدا خوفی دیکھی جاتی ھے،، صرف ظاھری شکل و صورت کو تبدیل کر کے یہ سمجھ لینا کہ بندہ دیندار ھو گیا ھے، بہت بڑا سراب ھے، اس لیئے اب شادی میں لڑکے والوں کی دینداری دیکھتے ھوئے بھی ڈر لگتا ھے کہ یہ کس کوالٹی کی دینداری ھو گی؟ جب تک دین ھمارے اندر نہیں اترے گا،تب تک ھمارے گھر میں بھی نہیں آئے گا،، اور اگر دین ھمارے گھروں میں نہیں ھو گا تو ایسے المیئے گھر گھر ھوتے رھیں گے

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *