متشددین نے کس کس چیز کو لوگوں کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ بنا کر رکھ دیا ھے!
T shirt ya half sleeve kameez pehn namaz ho jati hai?
الجواب !
ناف سے لے کر گھٹنے سے چار انگل نیچے تک اگر بدن ڈھکا ھو تو ستر کی شرط پوری ھو جاتی ھے اور نماز ھو جاتی ھے ،، چاھے ایک دھوتی میں ڈھکا ھو یا برمودا شاٹس کے ذریعے ،،
اب اگلی بات یہ کہ اللہ پاک نے ھر نماز کے وقت زینت اختیار کرنے کا حکم دیا ھے ،
” اے آدم کی اولاد ھر دفعہ مسجد میں زینت اختیار کر کے آؤ ، یا ھر نماز میں زینت اختیار کرو ،، { يَا بَنِي آدَم خُذُوا زِينَتكُمْ عِنْد كُلّ مَسْجِد ،، )
اب انسان جس لباس میں خوبصورت لگتا ھے وھی لباس پہنے گا اور جس ھیئت میں خوبصورت لگتا ھے وھی اختیار کرے گا ،، لباس کا تعلق زینت کے ساتھ ھے ،یا موسم کے ساتھ ھے ،، ھر علاقے میں موسم اور کلچر کے حساب سے لوگ لباس پہنتے ھیں ، پاکستان کے عیسائی بھی شلوار قمیض پہنتے ھیں اور ھندو ،مسلمان بھی ،یورپ کے عیسائی پینٹ شرٹ پہنتے ھیں تو مسلمان بھی ،، جو لباس جس سوسائٹی میں اس کے بہترین لوگ پہنتے ھیں وھی لباس مسلمان کا لباس بھی ھے ،، وہ ستر ڈھانپنے والا ھو ، خوبصورت لگتا ھو ، اور حلال کے پیسوں سے خریدا گیا ھو ،، شلوار قمیص پانچ نمازوں کے ساتھ نہیں اتاری گئ یہ ھندوستان کے لوگوں کا لباس ھے ،، نہ کہ مسلمانوں کا ، قراقلی ،جیکٹ ،شیروانی ، وی پی سنگھ ، واجپائی ، چوھدری چرن سنگھ راجپوتوں کا لباس ھے ،صحابہ کا نہیں ھے ،، اور ھمارے علماء صحابہ کے مشابہ نہیں ھیں بلکہ راجپوتوں کے مشابہ ھیں ،، اگر ایک آدمی Half Sleeve شرٹ میں اپنے آپ کو خوبصورت سمجھتا ھے اور سر کو ننگا رکھ کر خوبصورت لگتا ھے تو پھر ضمیر کی آواز کا تقاضہ یہ ھے کہ وہ سر پر پٹھے کی میل سے بھری پھٹی پرانی ٹوپی پہن کر مولوی صاحب کے ڈر سے کارٹون بن کر نہ کھڑا ھو ، بلکہ اللہ سے ڈرے اور نارمل لباس میں نماز پڑھے ، یا پھر ایسی خوبصورت ٹوپی کا ذاتی طور پہ بندوبست کرے جسے پہن کر مھذب مجمعے میں جا سکے ، اپنے دفتر بھی جا سکے ،، نہ کہ مسجد میں رس کے ٹوکرے میں پڑی گندی ٹوپی استعمال کرے ، ٹوپی یا عمامہ لباس کی سنت ھے ، نماز کی سنت نہیں ھے ،، نبئ کریم ﷺ نے ھر وقت سر ڈھکنے کا بندوبست کیا ھے ،، اگر مقتدی نماز میں پینٹ شرٹ استعمال کرتے ھیں جیسا کہ یورپ اور کنیڈا وغیرہ میں ھوتا ھے تو پھر امام صاحب کو تھری پیس سوٹ کا اھتمام کرنا چاھیئے تا کہ وہ سب میں معزز اور امامت کے قابل نظر آئے ،، یا اس کا جو بھی لباس ھو وہ قیمتی ھونا چاھئے جس سے اس کی حقارت لوگوں کے دل میں نہ آئے ،،

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *