علیکم
قاری صاحب ہمارے پڑوس میں ایک اکیلی رہیتی ہے. وہ سکول میں صفائی کام کرتی ہے. جب ہم گهرمیں کچه بناتے ہیں تو تحفتا اسے بهی دیتے ہیں. وہ کہتی ہے کہ آپکی طرح میرا بهی دل چاہتا ہےکہ میں بهی آپ کو تحفتا کچه دوں. ہم تو اس لیے دیتے ہیں کہ وہ بوڑهی اور اکیلی ہے اور اس سے اس کی کچه مدد بهی ہو جاتی ہے، کچه ماه پہلے اس کا ہاته ٹوٹ گیا،ہم نے حسب توفیق اسکا ساته دیا.اسی دوران اس نے مدد کے لیے خیریه میں درخواست دی جو کہ کچه دنوں بعد منظور ہو گئ، اب خیریه والوں نے اسکو راشن وغیره دیا ہے. جس میں سے اس نے کافی سارا سامان میری بیگم کو یہ کہہ کر تهما دیا کہ میں تو اکیلی ہوتی ہوں یہاں آپ لوگ ہی میری فیملی ہو اس لیے اس میں سے کهائو اور جو کچه بنائو تو مجهے بهی دے دیا کرو.
خیریہ والے تو ہمارے خیال میں زکات صدقات اور عطیات وغیرہ بانٹتے ہیں. اس وجه سے کوشش کرتے ہیں کہ ہم اس میں سے نہ ہی لیں کچه. لیکن اب وه اصرار کر کر کہ سامان پکڑا جاتی ہے بیگم کو. اور وه بهی اس کے ساته زیادہ انکار نہیں کرتی کہ وہ برا نہ منا لے.
آپ سے پوچهنا تها کہ اس سارے معاملے میں ہم کیا کریں؟ رہنمائی فرمادیں کہ کیا ہم وه چیزیں اس کے ساته مل کر یا اپنے گهر میں اکیلے کها سکتے یا استعمال کر سکتے ہیں ؟
الجواب !!
وہ جو بھی دیتی ھے وہ بخوشی قبول کریں وہ آپ کے لئے تحفہ ھے ،صدقہ خیرات یا زکوۃ اس کے لئے ھے، حضورﷺ نے اپنی لونڈی بریرہؓ کو دیئے گئے صدقے کے گوشت کو کھایا ھے اور فرمایا ھے صدقہ بریرہ کے لئے تھا ھمارے لئے تحفہ ھے،،

Visit to Read Books and Articles of Dr. Muhammad Hamidullah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *